ایک اہم سبق
صوفیاء کی مذکورہ تاریخ نے بالواسطہ انداز میں ایک عظیم الشان کام انجام دیا ہے۔ اس نے اسلام کی دعوتی طاقت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اس تاریخ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اگر نفرت اور کشیدگی کی فضا کو ختم کر دیا جائے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگتا ہے۔
تمام مذاہب میں اسلام کی یہ امتیازی خصوصیت ہےکہ وہ ایک مسلّمہ مذہب ہے۔ وہ تاریخی طور پر ثابت شدہ دین بن چکا ہے۔ اور جب ایک مذہب اس طرح ایک مسلّمہ حقیقت بن جائے تو اس کے اندر اپنے آپ پھیلنے کی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ ا نسانی فطرت سے موافقت کا زور ہی اس بات کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنانے لگے۔ اب اس کی راہ کی رکاوٹ صرف یہ ہوتی ہے کہ مدعو اقوام کے درمیان اسلام سے بیزاری اور نفرت کی فضا پیدا ہو گئی ہو۔ اگر ایسی فضا نہ ہو تو لوگ خود اپنی اندرونی آواز کے زیر اثر اس کی طرف مائل ہوں گے۔ اور اپنے آپ اسے قبول کر لیں گے۔
اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ صوفیاء اس حقیقت کا شعوری ادراک رکھتے ہوں۔ تاہم ان کے عمل کا یہ فائدہ یقیناً اسلام کو حاصل ہوا۔ صوفیاء کا خاص کارنامہ یہ ہےکہ وہ محبت اور امن کا پیغام لے کر اٹھے۔ چشتیہ سلسلہ کی کتاب نافع السالکین میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے طریقہ میں یہ ہے کہ مسلمان اور ہندو دونوں سے صلح رکھنی چاہیے (درطریق ماہست کہ با مسلمان و ہند و صلح بایدداشت) اسی طرح شاہ کلیم اللہ جہاں آبادی اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں کہ نوّاں یہ کہ ہندو اور مسلمان دونوں کے ساتھ صلح رکھی جائے (تاسعاً آنکہ صلح باہندو و مسلمان سازند)۔ اپنے اسی مسلک کی بنا پر صوفی حضرات دوسروں پرتنقید نہیں کرتے تھے ، وہ دوسرے راستوں کے خلاف تنقید کو سخت ناپسند کرتے تھے۔
صوفیاء نے اسی انداز پر کام کیا۔ انہوں نے اپنے مسلسل عمل سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان کشیدگی کی فضا ختم کر دی۔ ا س کا دعوتی فائدہ براہ راست اسلام کے حصے میں آیا۔
صوفیاء کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مذہب و ملت کی تمیز کیے بغیر ہر ایک کو امن اور محبت کا پیغام دیتے تھے۔ وہ اپنے تمام معاملات میں ہمیشہ رواداری کا طریقہ برتتے تھے۔ حتیٰ کہ ان کی درگاہ میں جو لنگر تیار کیا جاتا تھا ، وہ بھی ’’ویجیٹیرین‘‘ ہوتا تھا ، تاکہ ہندو اور مسلمان دونوں یکساں طور پر اس کے کھانے میں شریک ہو سکیں۔
ہندستان کے اسلامی سیاست دانوں کے نظریہ کو اگر مختصر طور پر بیان کرنا ہو تو اس کو علامہ اقبال کے اس شعر میں بیان کیا جا سکتا ہے:
مصلحت در دینِ عیسیٰ غار و کوہ مصلحت در دین ماجنگ و شکوہ
صوفیاء حضرات کا نظریہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ وہ جنگ کے بجائے صلح کا تھا۔ ایک فارسی شاعر نے صوفیاء کے نظریۂ حیات کو چند لفظوں میں اس طرح بیان کیا ہے:
ماقصۂ سکندر و دارانہ خواندہ ایم از مابجز حکایت مہر و وفا مپرس
صوفیاء کے نظریۂ حیات کو تفصیل کے ساتھ سمجھنے کے لیے ان کے ملفوظات اور ان کے حالات کامطالعہ کرنا چاہیے۔ یہاں ہم مختصر طور پر دو قصے نقل کریں گے جس سے صوفیاء کے طریق کار کا اندازہ ہوتا ہے۔
خواجہ فرید الدین گنج شکر مشہور بزرگ ہیں۔ وہ 12 ویں صدی عیسوی (چھٹی صدی ہجری) سے تعلق رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مرید ان کے پاس قینچی لے کر آیا۔ اس کے شہر میں قینچیاں بنتی تھیں۔ اس لیے اس نے شیخ کے تحفہ کے لیے قینچی کا انتخاب کیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جب میں شیخ کے سامنے اپنے شہر کا یہ خصوصی تحفہ پیش کروں گا تو وہ خوش ہوں گے اور مجھے دعائیں دیں گے۔ مگر جب اس نے شیخ کے سامنے قینچی پیش کی تو انہوں نے اس کو د یکھ کر کہا کہ یہ تو ہمارے کام کی چیز نہیں۔ ہمارا کام کاٹنا نہیں ، ہمارا کام تو جوڑنا ہے۔ اور یہ کام قینچی کے ذریعے نہیں ہوتا۔ تم کو اگر تحفہ لانا تھا تو ہمارے لیے سوئی لے آتے۔ کیوں کہ سوئی سینے اور جوڑنے کی چیز ہے ، اور قینچی کاٹنے اور پھاڑنے کی چیز۔
خواجہ فرید الدین کے ہم عصراور خلیفہ حضرت نظام الدین اولیاء تھے۔ انہوں نے اپنی مجلس میں فرمایا کہ عام لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ سیدھے کے ساتھ سیدھا اور ٹیڑھے کے ساتھ ٹیڑھا۔ لیکن ہمارے بزرگ کا یہ کہنا ہے کہ سیدھوں کے ساتھ سیدھا، اور ٹیڑھوں کے ساتھ بھی سیدھا۔ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے کانٹا ڈالے اور ہم بھی کانٹا ڈالیں تو کانٹے ہی کانٹے ہو جائیں گے۔ اگر کسی نے کانٹا ڈالا ہے تو تم اس کے سامنے پھول ڈالو۔ پھر پھول ہی پھول ہو جائیں گے۔
