نمائندہ گروہ

واقعات بتاتے ہیں کہ امت کے نمائندہ طبقہ نے اللہ اور رسول کے مذکورہ منشا کو سمجھا۔ اور اس کو پوری طرح پکڑ لیا۔ اس کے بعد امت کی تاریخ اسی رخ پر چل پڑی۔ اور ہزار برس تک مسلسل اسی رخ پر چلتی رہی۔ موجودہ زمانے کی نام نہاد اسلامی انقلابی تحریکوں سے پہلے اس کی خلاف ورزی کی مثال کہیں نہیں ملتی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کا پہلا نمائندہ طبقہ وہ ہے جس کو صحابۂ کرام کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد تابعین ، تبع تابعین ، محدثین ، فقہاء ، علماء ، صوفیا ء کا درجہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو امت میں نمائندہ گروہ کی حیثیت حاصل ہے۔ ان میں سے کسی بھی گروہ نے کبھی مذکورہ بالا ہدایت کے خلاف روش اختیار نہیں کی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ تمام لوگ  حسنؓ کے رول ماڈل پر چلتے رہے، نہ کہ حسینؓ کے رول ماڈل پر۔

بنو امیہ کے زمانےمیں جب امت کے سیاسی ادارےمیں بگاڑ پیدا ہواتو ہزاروں کی تعداد میں صحابہ موجود تھے۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ انہوں نے سیاسی بگاڑ کے خلاف اس  قسم کا کوئی ہنگامہ نہیں کھڑا کیا جس کا نمونہ موجودہ زمانےکی نام نہاد اسلامی جماعتوں نے پیش کیا ہے۔

اس کے برعکس، انہوں نے یہ کیا کہ وہ ایشیا اور افریقہ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام کرنے لگے۔ اسی کا نتیجہ وہ جغرافی واقعہ ہے جس کو عرب دنیاکہا جاتاہے۔ صحابہ کی انہیں ’’غیر سیاسی‘‘ کوششوں کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام نہ صرف عرب کے چاروں طرف پھیلا بلکہ ایک وسیع خطے میں اسلام کو ابدی طور پر تہذیبی غلبہ حاصل ہو گیا۔

صحابۂ کرام اگر ’’سیاسی اصلاح‘‘ کے نام پر حکمرانوں سے ٹکراتے تو یقینی تھا کہ ان کا انجام وہی ہوتا جو امام حسینؓ کا اور ان کے ساتھیوں کا کربلا کے میدان میں ہوا۔ ایسی حالت میں زمین پر ایک وسیع دنیائے کربلا تو ظہور میں آ سکتی تھی مگر یہ ناممکن تھا کہ ایک وسیع دنیائے اسلام ظہور میں آئے۔

تابعین اور تبع تابعین کی ایک بڑی تعداد نے بھی ایسا ہی کیا۔ ان کے زمانے میں حکمرانوں کا بگاڑ پوری طرح ظاہر ہو چکا تھا مگر انہوں نے حکمرانوں سے ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ کر حدیث کی تدوین کاکام شروع کر دیا۔ انہوں نے وہ فن تخلیق کیا جس کو علم حدیث کہا جاتا ہے۔

دوسری طرف انہوں نے رات دن کی محنت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حدیثوں کو جمع کیا اور ان کو کتابی شکل میں مرتب کر دیا تاکہ وہ قیامت تک کی نسلوں کے لیے    رہنمائی کا کام کرتا رہے۔

محدثین کا گروہ اس کے بجائے اگر یہ کام کرتا کہ وہ اسلامی سیاست کے نام پر حکمرانوں سے لڑائی شروع کر دیتا تو حدیث کی تدوین کاکام انجام نہیں پا سکتا تھا۔ یہ بلاشبہ اتنا بڑا نقصان ہوتا جس کی تلافی قیامت تک نہ ہو سکے۔

انہیں تابعین اور تبع تابعین کا ایک گروہ وہ ہے جو فقہ کی تدوین میں لگ گیا۔ انہوں نے کتاب و سنت کے نصوص میں قیاس اور اجتہاد کے ذریعے بے شمار احکام مستنبط کیے ۔ انہوں نے نہ صرف علم فقہ کووجود دیا بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کے لیے مکمل قانونی نظام مرتب کر دیا۔

یہ فقہاء اگر اپنے زمانے کے ’’ظالم‘‘ حکمرانوں سے اصلاح کے نام پر جنگ اور ٹکراؤ    شروع کر دیتے تو فقہ کی تدوین کاوہ عظیم الشان کام انجام نہیں پا سکتا تھا جو ان حضرات کے ذریعہ انجام پایا۔

اس کے بعد علماء کا وہ طویل سلسلہ ہے جو صدیوں کے درمیان اسلام کی علمی اور تعمیری خدمت کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ان حضرات نے بھی یہی کیاکہ حکمرانوں کے بگاڑ کے خلاف سیاسی تحریک چلانے کا طریقہ چھوڑ کر دوسرے ممکن میدانوںمیں سرگرم ہو گئے۔ اسی کاایک نتیجہ وہ عظیم الشان علمی سرمایہ ہے جس کو اسلامی کتب خانہ کہا جاتا ہے۔ آج ہمارے پاس عربی زبان میں تفسیر حدیث ، سیرت ، تاریخ اسلام ، علم کلام، فقہ اور دوسرے اسلامی موضوعات پر بے شمار نہایت قیمتی کتابیں موجود ہیں۔ وہ اسلام کے علمی مطالعے کے لیے ابدی طور پر کافی ہیں۔ تاہم یہ ناقابل بیان حد تک قیمتی کام اسی وقت ممکن ہو سکا جب کہ علماء اسلام نے سیاسی تصادم کو چھوڑ کر پرامن تعمیری میدان کو اپنی کوششوں کا مرکز ومحور بنایا۔

یہی معاملہ صوفیاء کا بھی ہے۔ صوفیا ءکے زمانے میں بھی ہر طرف ظالم حکمراں موجود تھے۔ مگر صوفیاء نے ان سے براہ راست ٹکراؤ نہیں کیا۔ وہ ان حکمرانوں سے الگ رہ کر خالص غیر سیاسی دائرہ میں سرگرم ہو گئے۔ انہوں نے ’’اصلاح سیاست‘‘ کے بجائے ’’اصلاح  افراد‘‘ کو اپنا نشانہ بنایا۔

صوفیاء اگر حکمرانوں سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرتے تو اس کے سوا اور کچھ نہ ہوتا کہ ان میں سے ہر ایک کے نام کے ساتھ لفظ شہید کا اضافہ ہو جائے جیساکہ موجودہ زمانہ کے بہت سے رہنماؤ ں کی مثال میں نظر آتا ہے۔ مگر جب انہوں نے سیاست گاہ کے بجائے خانقاہ کو اپنا مرکز عمل بنایا تو وہ لاکھوں لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بن گئے حتیٰ کہ خود حکمرانوں کی اصلاح کا ذریعہ بھی۔

انہیں صوفیاء کی کوششوں کا یہ نتیجہ ہے کہ آج برصغیر ہند میں کروڑوں کی تعداد میں مسلمان پائے جاتے ہیں۔ بھارت کے علاوہ ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلم ملک زیادہ تر صوفیاء ہی کی بدولت وجود میں آئے ہیں۔ حکمرانوں سے ٹکراؤ کرنے والوں کے ذریعہ کبھی اس قسم کا مثبت واقعہ ظہور میں نہیں آیا۔

ہندستان میں جو صوفیاء گزرے ہیں، ان کے حالات اور ان کے ملفوظات کو پڑھیے تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ انہوں نے ملک کے غیر مسلموں میں براہ راست تبلیغ کاکام کیا ہو۔ یا اس کا پروگرام بنایا ہو، اس کے باوجود یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ ہندستان کے لاکھوں بلکہ کروڑوں غیر مسلم ہیں جنہوں نے انہیں صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا ہے۔

حضرت خالد بن ولید کوتبلیغ کے لیے یمن میں بھیجا گیا۔ وہ وہاں پہنچے تو وہ اونٹ پر بیٹھ کر لوگوں کے درمیان بلند آواز سے کہتے پھرتے تھے کہ:قُولُوا:‌لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللهُ، ‌تُفْلِحُوا (لوگو، لاالہ الا اللہ کہو، تم کامیاب ہو گے)۔ صوفیاء کے متعلق ثابت نہیں کہ وہ اس طرح لوگوں کے درمیان تبلیغ کی کوشش کرتے ہوں۔ اصل یہ ہے کہ لوگ بطور خود اسلام کی طرف مائل ہوتے تھے اور اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے تھے۔ پھر جب وہ اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیتے تو وہ اپنے علاقے کے کسی مسلمان بزرگ کے پاس آتے اور ان سے کہتے کہ ہم کو اسلام میں داخل کر لیجیے ۔ اس طرح صوفیاء بالواسطہ طور پر اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بنے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion