نوآبادیاتی زمانہ

انیسویں صدی کا نصف ثانی اور بیسویں صدی کا نصف اول مسلمانوں کے لیے بے حد اہم زمانہ ہے۔ عمومی طور پر ساری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اور خصوصی طور پر برصغیر ہند کے مسلمانوں کے لیے یہ سو سال گویا تشکیل ذہن کے سو سال ہیں۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کمزور ہوئی اور ان کی حکومتیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر مغربی قوموں کے قبضےمیں چلی گئیں۔ اس وقت مسلمانوں میں سیاسی مصلحین اُٹھے۔ جمال الدین افغانی (1897-1838)سے لے کر ابو الکلام آزاد  (1958-1888)تک ہزاروں چھوٹے بڑے رہنما ہیں جو اس دور میں نمایاں ہوئے۔ ان لوگوں کی ساری توجہ مسلم اقتدار کے دَور کو واپس لانے پر لگی ہوئی تھی۔ ان کی تمام کوششوں کا واحد مرکز یہ تھا کہ مغربی غلبہ ختم ہو اور مسلمانوں کا غلبہ دوبارہ لوٹ آئے۔

اس نوعیت کے کام کے لیے جہاد و قتال کی باتیں زیادہ موزوں تھیں۔ چنانچہ تمام رہنماؤں پر کامل طور پر یہی ذہن چھایا رہا۔اس نوعیت کے کام کے لیے امام حسنؓ کا رول ماڈل موزوں نہ تھا۔ بلکہ امام حسینؓ کا رول ماڈل موزوں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ یہی وہ زمانہ ہے جب کہ اسلامی تاریخ میں پہلی بار حسینؓ کے رول ماڈل کو مبالغہ آمیز طور پر نمایاں کرنے کا کام کیا گیا۔ حسینؓ کے کردار کو اتنا زیادہ گلوریفائی کیا گیا کہ وہ ہر دوسری چیز پر چھا گیا۔ اس پوری مدت میں حسنؓ کے رول ماڈل پر، میرے علم کے مطابق ، کوئی ایک بھی قابل ذکر کتاب یا مضمون شایع نہ ہو سکا۔ جب کہ اسی مدت میں حسینؓ کے رول ماڈل پر بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں کتابیں ، مضامین اور اشعار لکھے گئے۔ حسینؓ کو ایک خیالی ہیرو کے روپ میں پیش کیا گیا جس کا تاریخی حسینؓ سے کوئی تعلق نہ تھا۔

اس عمل پر اب کئی نسلیں بیت چکی ہیں۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی موجودہ پوری نسل حسینؓ کے رول ماڈل کے سحر میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ہر آدمی ہر وقت لڑنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ وہ اپنی بے معنی لڑائی کو جہاد اور بے معنی موت کو شہادت سے کم نہیں سمجھتا۔ کسی شاعر کا یہ شعر موجودہ مسلمانوں کی نفسیات کے بارے میں نہایت صحیح ہے:

گھیر لیتا ہے جب ان کو باطل کہیں     دل کے اندر سے کہتا ہے کوئی بزن

موجودہ مسلم نسل کے ذہن کے اس بگاڑ کی ذمہ داری موجودہ دور کے تمام مسلم رہنماؤں پر ہے جنہوں نے مفروضہ ’’شہادتِ کُبریٰ ‘‘کو اس قدر گلوریفائی کیا کہ مسلمانوں کے سامنے اب اس کے سوا اور کوئی فکر یا اور کوئی رول ماڈل باقی ہی نہ رہا جس پر وہ سوچیں اور جس پر عمل کرنے کے لیے ان کے اندر تڑپ پیدا ہو۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion