ایک جائزہ
پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت شدت کے ساتھ بار بار یہ ہدایت دی تھی کہ اگر تم حکمرانوں میں سیاسی بگاڑ دیکھو تو ہرگز ان سے ٹکراؤ نہ کرو، بلکہ اپنے ممکن مواقع کے دائرے میں اپنی جدوجہد جاری رکھو۔
اپنے ممکن دائرے میں جدوجہد کرنا عمل ہے اور حکمرانوں سے ٹکرانا ردّعمل۔ اور اسلام اپنے تعمیری اور دعوتی مزاج کی بنا پر عمل کا طریقہ پسند کرتا ہے۔ اس کو ردّعمل سے قطعاً کوئی دلچسپی نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تعلیم کا اثر نہ صرف علماء اورعوام پر گہرا تھا بلکہ اس نے خود حکمرانوں کو بھی کافی متاثر کیا۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ تقریباً ہزار سال تک اسلام کی ترقی بلاانقطاع جاری رہی۔ ترقی اور اشاعت کا یہ غیر معمولی سلسلہ صرف موجودہ زمانے میں اس وقت رکا ہے جب کہ پُرجوش اسلام پسندوں نے اس حکمِ نبوی کی خلاف ورزی شروع کر دی۔
