دعوت کا میدان
مسلمانوں کے لیے ساری د نیا میں کرنے کا کام صرف ایک ہے، اور وہ دعوت الیٰ اللہ ہے۔ مسلمانوں کو پہلے بھی یہی کام کرنا تھا، مگر اب تو آخری طور پر وہ وقت آگیا ہے کہ مسلمان ٹکراؤ کے میدان سے واپس ہو کر دعوت کے میدان میں اپنا عمل جاری کریں۔ وہ دوسری قوموں کو دشمن کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انہیں اپنے مدعو کی نظر سے دیکھیں۔ وہ ’’تلوار‘‘ کے بجائے قرآن کو لے کر اٹھیں اور اقوامِ عالم کے اوپر اپنی داعیانہ ذمہ داریوں کو ادا کریں۔ اسی میں ان کی دنیا کی بھلائی ہے اور اسی میں ان کی آخرت کی بھلائی بھی۔
نارتھ امریکہ میں مسلمانوں کی ایک پرانی تنظیم ہے جو مختصر طور پر اسنا(ISNA) کے نام سے مشہور ہے۔ اس کا 26واں اجلاس اوہایواسٹیٹ میں ستمبر1989 کے پہلے ہفتہ میں ہوا۔ اس اجلاس کی خاص تھیم یہ تھی کہ اسلامی دعوت کو لے کر باہر نکلو:
‘‘Preaching out with Islam’’
اسلامی عمل کے لیے یہ ایک صحیح عنوان ہے۔ تاہم اس جملے میں مجھے حریفانہ نفسیات کی بو آتی ہے۔ جب کہ اسلامی دعوت سرتاپا ایک نصیحت کا عمل ہے۔ وہ دوسروں کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں ہے، بلکہ دوسروں کی خیر خواہی کے لیے خدا کے حکم کے تحت متحرک ہونا ہے۔
آج ساری دنیا میں ایسی مسلم کانفرنسیں ہو رہی ہیں جن کا عنوان دعوت ہوتا ہے۔ ان میں سے بہت سی کانفرنسوں میں مجھے خود بھی شرکت کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر میں نے پایا ہے کہ ان کانفرنسوں میں اگر ایک طرف’’دعوت‘‘ کی بات کی جاتی ہے تو اسی کے ساتھ ان میں ’’عداوت‘‘ کی باتیں بھی پرجوش طور پر جاری رہتی ہیں۔ حالانکہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
موجودہ زمانے میں ہمارے لکھنے اور بولنے والے کثرت سے دعوت اور داعیانہ مقام کے الفاظ لکھنے اور بولنے میں مصروف ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ ہر ایک کے یہاں احتجاج اور فریاد، غصہ اور نفرت، حتٰی کہ ٹکراؤ اور تصادم کی باتیں بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہیں۔ حالانکہ دونوں چیزوں میں اتنا زیادہ دوری ہے کہ جہاں ایک چیز ہو وہاں کبھی دوسری چیز جمع نہیں ہو سکتی۔
اس تضاد اور ذہنی انتشار کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں کے یہاں دعوت ان کی قومی مہم کے ضمیمہ کے طور پر آئی ، نہ کہ حقیقتاًپیغمبرانہ ذمہ داری کے طور پر۔ مسلمان ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت سے احساس شکست میں جی رہے تھے۔ اپنے ’’دشمنوں‘‘ کے خلاف ان کی تمام لڑائیاں یک طرفہ طور پر مسلمانوں کی بربادی پر ختم ہو رہی تھیں، وہ محسوس کر رہے تھے کہ دوسری قوموں نے انہیں علمی، تہذیبی، اقتصادی، سیاسی، ہر اعتبار سے بہت زیادہ پیچھے دھکیل دیا ہے۔
ایسی حالت میں کچھ مسلمانوں کو اسلام کی نظریاتی برتری میں اپنی قومی نجات نظر آئی۔ وہ دعوت اور داعی کے الفاظ بول کر یہ تسکین حاصل کرنے لگے کہ ہم دوسری قوموں سے پیچھے نہیں ہیں، بلکہ ان سے بہت آگے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک طبقے میں دعوت کا جو رحجان پیدا ہوا ہے، وہ حقیقتاداعیانہ ذہن کے تحت نہیں بلکہ قومی ذہن کے تحت پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے دعوت کی صورت میں اپنے فخر(pride) کو دریافت کیا ہے۔ انہوں نے دعوت کی صورت میں اپنی ذمہ داری(responsibility) کو دریافت نہیں کیا جو کہ دعوت کا اصل خلاصہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ جب دعوت کے موضوع پر بولتے ہیں تو ایسی باتیں کہتے ہیں جن کا قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو ریولیوشن اور نیٹڈ (revolution-oriented) ہونا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو پالیٹکس اورینٹڈ، (politic-oriented) ہونا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ دعوت کو سسٹم اورینٹڈ (system-oriented) ہونا چاہیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا ایک ہی صحیح طریقہ ہے۔ اور وہ یہ کہ وہ آخرت اورینٹڈ (akhirat-oriented) ہو۔ یعنی قرآن کے الفاظ میں، یوم آلازفہ (المؤمن،23:18) سے ڈرانا۔ موت کے بعد آنے والے سنگین مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنا۔ یہی دعوت الی اللہ کا اصل مقصد ہے۔ اس کے سوا اگر کچھ ہے تو وہ اس کے اضافی اجزاء ہیں ، نہ کہ اس کے حقیقی اجزاء۔
ان مسلمانوں کا معاملہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ’’داعی‘‘ ہونے کو جانا مگر انہوں نے دوسروں کے ’’مدعو‘‘ ہونے کو دریافت نہیں کیا۔ وہ اپنے حقوق کی فہرست سے مبالغہ آمیز حد تک واقف ہیں، مگر فریق ثانی کے بارے میں وہ ضروری حد تک بھی اپنی ذمہ داریوں کو نہیں جانتے۔
یہی وجہ ہے کہ ان کی دعوت ذاتی فخر کا اظہار تو ہے مگر وہ صبر و اعراض کا جہاد نہیں۔ اس میں اپنی برتری کی تسکین ہے مگر اس میں تواضع کی نفسیات نہیں۔ اس میں دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کا جوش ہے مگر اس میں دوسروں کو ہدایت طلبی کی تڑپ نہیں۔ اس کے اندر’’میں‘‘ کی پوری رعایت پائی جاتی ہے مگر اس ک اندر’’وہ‘‘ کی کوئی رعایت موجود نہیں۔
ایسا عمل ایک قومی عمل تو ہو سکتا ہے، مگر وہ کوئی دعوتی عمل نہیں۔ ایسے عمل سے ان نتائج کی امید نہیں کی جا سکتی جو ایک حقیقی دعوتی عمل کے لیے خدا کی طرف سے مقرر کی گئی ہیں۔
ایک سفر میں میری ملاقات کچھ لوگوں سے ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ موجودہ زمانےکے مسلمانوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ یہ جانیں کہ ان کا تعلق دوسری قوموں کے ساتھ داعی اور مدعی کا ہے ، نہ کہ حریف اور رقیب کا۔ ایک صاحب نے میری بات سن کر کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ آج کل تو سبھی لوگ داعی اور دعوت کی باتیں کر رہے ہیں۔ موجودہ مسلمان اس کی اہمیت سے غافل نہیں۔
میں نے کہا کہ جن لوگوں کی بابت آپ فرما رہے ہیں وہ اس معاملے میں ابھی صرف آدھی بات سے واقف ہیں۔ انہوں نے ’’داعی‘‘ کے معاملے کو تو جانا ہے، مگر انہوں نے ’’مدعو‘‘ کے معاملے کو ابھی تک نہیں جانا۔ میں نے کہا کہ دعوت کوئی تقریری نمائش یا قومی فخر کے اظہار کا نام نہیں۔ دعوت ایک انتہائی سنجیدہ عمل ہے۔ دعوت کی اصل بندوں کی خیر خواہی ہے جس کو قرآن میں نصیحت کہا گیا ہے۔(الاعراف،6:68-69)
موجودہ زمانے کے مسلمان ایک بے برداشت قوم ہیں۔ جب کہ داعی از اول تا آخر ایک برداشت کرنے والی شخصیت ہوتا ہے۔ موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمام قوموں کو اپنا حریف اور رقیب بنائے ہوئے ہیں۔ ایسی حالت میں کسی حقیقی دعوتی عمل کا وجود میں آنا ممکن نہیں— مدعو کو اپنا محبوب بنانا پڑتا ہے، اس کے بعد ہی دعوت کے عمل کا آغاز ہوتا ہے۔
