دو عملی نمونے
یہ گویا دو رول ماڈل (نمونہ— عمل) ہیں۔ ایک حسنؓ بن علی کا، اور د وسرا حسینؓ بن علی کا۔ اوپر جو روایتیں نقل کی گئیں ، وہ واضح طور پر ثابت کرتی ہیں کہ اسلامی طریق کار کے اعتبار سے صحیح رول ماڈل (role-model) وہ ہے جو حسنؓ بن علی کا ہے۔ اگر آدمی واقعی امر حق کا طالب ہو تو اس معاملےمیں اس کو کوئی شبہ لاحق نہیں ہو سکتا۔
مزید یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام کی صراحت کے ساتھ حسنؓ بن علی ؓکے رول ماڈل کے حق میں اپنا پیشگی فیصلہ دے دیا ہے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوبکرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا اور حسنؓ بن علی آپ کے پہلو میں تھے۔ آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور کبھی حسنؓ کی طرف۔ اور فرماتے کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے۔ اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح قائم فرمائے گا:
إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔(صحيح البخاري، حدیث نمبر 2557)
اس حدیث میں امام حسنؓ کے جس فعل کی تحسین ہے وہ یہی ہے کہ انہوں نے سیاسی نزاع کے میدان سے اپنے آپ کو ہٹا لیا۔ بخاری کی یہ روایت امام حسنؓ کے رول ماڈل کی پیغمبرانہ تصدیق ہے۔
