دعوت شاہ کلید
دعوتی عمل کی حیثیت شاہ کلید یا کامل ضرب(master stroke) کی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو پوری زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جو ہر اعتبار سے انقلاب برپا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ داعی جب دعوت کے لیے اٹھتا ہے تو اس کا پورا ماحول اس کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن جاتا ہے۔ یہ چیلنج اس کی صلاحیتوں کو جگاتا ہے۔ وہ اس کی فکری اور اخلاقی تربیت کرتا چلا جاتا ہے۔
1۔ دعوت کا کام بظاہر دوسروں کے اوپر کیا جاتا ہے مگر اس سے پہلے وہ خود داعی پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔ وہ داعی کے ایمانی شعور کو جگاتا ہے۔ اور اس کے سوئے ہوئے ایمان کو زندہ ایمان بنانے کا سبب بنتا ہے۔
جب ایک شخص ایک پیغام لے کر اٹھتا ہے اور اس کودوسروں تک پہنچاتا ہے تو لازماً داعی اور مدعو کے درمیان گفتگو اور بحث چھڑتی ہے۔ سوالات اور اعتراضات پیدا ہوتے ہیں، یہ چیز داعی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے پیغام کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرے۔ وہ اپنے آپ کو فکری اور نظریاتی اعتبار سے زیادہ سے زیادہ مسلح کرے۔ اس طرح دعوت آدمی کو مطالعہ اور تیاری کی طرف لے جاتی ہے۔ اس کا یہ مطالعہ اور تیاری اس کے ایمان کو بڑھاتا ہے اور مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا جاتا ہے۔
2۔ دعوت آدمی کو پرسکون دنیا سے نکال کر مقابلے کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ دعوتی مہم کے نتیجے میں بے شمار عملی تقاضے پیدا ہوتے ہیں۔ آدمی مجبور ہوتا ہے کہ وہ عملی اعتبار سے سوچے، عملی پروگرام بنائے۔ اس طرح وہ دن بدن ایک باعمل انسان بنتا چلا جاتا ہے۔ اس کے اندر وہ صفات پیدا ہونے لگتی ہیں جو عملی انسان کی صفات ہیں۔ مثلاً حقیقت پسندی، منصوبہ بندی، صبر و اعراض، تدریجی جدوجہد، حال کے ساتھ مستقبل کو دیکھنا، مسائل سے زیادہ مواقع پر دھیان دینا، وغیرہ۔
3۔ دعوتی عمل کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ آدمی کو دوامی ارتقا کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ داعی اور مدعو کے درمیان ٹکراؤ داعی کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذہنی اور عملی اعتبار سے مدعو کے مقابلے میں فائق تر ثابت کرے۔ اس کے دلائل فریق ثانی کے دلائل سے زیادہ قوی ہوں۔ اس کی عملی تدبیریں فریق ثانی کی عملی تدبیروں پر سبقت لے جانے والی ہوں۔ یہ صورت حال داعی کو مستقل طور پر ایک قسم کے علمی اور عملی ارتقا کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔
4۔ دعوتی عمل کا ایک نہایت اہم اخلاقی فائدہ یہ ہے کہ وہ داعی کو ساری انسانیت کا خیر خواہ بنا دیتا ہے۔ اس کے تجربات بتاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو محبت اور شیریں کلامی کے ذریعے جیت سکتا ہے ، نہ کہ نفرت اور تلخ گوئی اور مشتعل مزاجی کے ذریعہ۔ یہ چیز اس کو لوگوں کے حق میں سراپا شفیق اور خیر خواہ بنا دیتی ہے۔ اس کا دعوتی عمل اس کے لیے عظیم اخلاقی تربیت بن جاتا ہے۔
ایک تاجر تجارت کرتا ہے تو اس کا تجارتی عمل عین اپنی فطرت کے نتیجے میں اس کو بردبار اور شیریں کلام بنا دیتا ہے۔ یہی معاملہ داعی کا ہے۔ جب ایک شخص دعوتی میدان میں داخل ہوتا ہے تو اس کام کے تقاضے کے تحت وہ اپنے آپ حسن اخلاق کا نمونہ بنتا چلا جاتا ہے، کسی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ خدا تجارت کو اپنا مبلغ بناتا ہے:
‘‘God is making commerce His missionary.’’
5۔ دعوت کے عمل کا ایک عظیم الشان فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے نئے نئے افراد کھنچ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں، اس طرح مسلم گروہ کو مسلسل وہ قیمتی چیز ملتی رہتی ہے جس کو نیا خون (new blood) کہا جاتا ہے۔
پانی اگر کسی گڑھے میں رک جائے تو کچھ دنوں کے بعد اس میں بدبو پیدا ہو جائے گی۔ مگر جاری پانی ہمیشہ تازہ پانی رہتا ہے، اس میں کبھی بدبو نہیں پیدا ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹھہرا ہوا پانی یکساں پانی ہوتا ہے۔ جب کہ چشمہ یا دریا کے جاری پانی میں ہر وقت پرانے پانی میں نیا پانی شامل ہوتا رہتا ہے۔
یہی معاملہ انسانی جماعت کا ہے۔ مسلمانوں کا کوئی گروہ اگر محدود قوم کی صورت اختیار کر لے تو وہ دھیرے دھیرے جامد گروہ بن جائے گا جو اعلیٰ انسانی اوصاف سے خالی ہوگا۔ مگر جب اس میں پرانے افراد کے ساتھ نئے افراد ملتے رہیں تو وہ مسلسل طور پر زندہ اور فعال گروہ بنا رہتا ہے۔ اب وہ بند گڑھا نہیں رہتا، بلکہ بہتا ہوا دریا بن جاتا ہے جس کی تازگی کبھی ختم نہ ہو، جس کی حرکت اور فعالیت ہمیشہ باقی رہے۔
