برائی کے بدلے بھلائی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں انسانوں کو مسخر کرنے کی جو تدبیر بتائی گئی، وہ خلق عظیم (68:4) ہے۔ یعنی برابر کا اخلاق نہیں، بلکہ برتر اخلاق۔ یہ اخلاق کی وہ قسم ہے جب کہ آدمی ردّعمل سے اوپر اٹھ کر لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کا معاملہ کرتا ہے۔ چنانچہ حکم دیا گیا کہ لوگ تمہارے ساتھ برا کریں تب بھی تم ان کے ساتھ اچھا کرو۔ تم برے سلوک کے جواب میں بھی اچھے سلوک پر قائم رہو۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں، اور یہ بات اسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیبہ والا ہے۔(41:34-35)

اس آیت کی تشریح حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس طرح کی ہے کہ اللہ نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ غصہ کے وقت صبر کریں۔ وہ جہالت کے وقت بردباری اختیار کریں۔ وہ برائی کرنے والے کو معاف کر دیں۔ جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کو شیطان سے بچا لے گا اور ان کے دشمن کو ان کے لیے زیر کر دے گا، گویا کہ وہ ان کا قریبی دوست ہے:أَمَرَ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ بِالصَّبْرِ عِنْدَ الْغَضَبِ، وَالْحِلْمِ عِنْدَ الْجَهْلِ، وَالْعَفْوِ ‌عِنْدَ ‌الْإِسَاءَةِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمَهُمُ اللهُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد7،صفحہ181)

جس طرح آگ بجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ اس کے اوپر پانی ڈالا جائے۔ آگ پر پٹرول ڈالنے سے آگ نہیں بجھتی۔ یہی معاملہ انسانی تعلقات کا ہے۔ انسانوں کے درمیان بھی برائی ختم کرنے کا اصول یہی ہے کہ برائی کو بھلائی کے ذریعہ ختم کیا جائے۔ فطرت کے قانون کے مطابق برائی کبھی برائی کے ذریعہ ختم نہیں کی جا سکتی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی ربّانی اصول کا عملی نمونہ ہے۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار مدینہ کے ایک یہودی سے کچھ قرض لیا۔ اس کے بعد یہودی ایک روز آپ کے پاس آیا اور برے انداز میں قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس نے یہ اشتعال انگیز جملہ بھی کہہ دیا کہ آلِ مُطّلب سب کے سب نادہند ہوتے ہیں۔

یہودی کی اس بدتمیزی پر صحابہ کو غصہ آگیا۔ انہوں نے اس کو مارنا چاہا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ آپ نے کہا کہ اس کو چھوڑ دو، کیوں کہ جس آدمی کا ہمارے اوپر بقایا ہو، اس کو کہنے سننے کا بھی حق ہے:دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ ‌مَقَالًا۔ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 793؛ مسند احمد، حدیث نمبر 9390)

یہودی نے واضح طور پر بدسلوکی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس وقت اگر آپ ردّعمل کا انداز اختیار کرتے اور اس کی بدسلوکی کا جواب بدسلوکی سے دیتے تو اس کا غصہ اور بڑھ جاتا۔ اس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا کہ قرض پر عناد کا اضافہ ہو جائے۔ مگر جب آپ نے اس کی بدسلوکی کا جواب اس طرح دیا کہ اس کے ساتھ اچھے سلوک کا مظاہرہ فرمایا تو وہ نہایت متاثر ہوا۔ اس کا دل آپ کے آگے جھک گیا۔ یہاں تک کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ جو شخص اس سے پہلے اپنی دولت کے صرف ایک جزئی حصے کے بارے میں تاخیرِ ادائیگی پر راضی نہ تھا، اب اس کا یہ حال ہوا کہ اس نے اپنے آپ کو بھی اسلام کے حوالے کر دیا اور اپنے تمام اموال کو بھی۔

اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے یہاں آپ کا ایک اور واقعہ نقل کیا جاتا ہے۔ مکہ کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا تھا۔ انہوں نے کسی سبب کے بغیر آپ کو ہر قسم کی اذیتیں پہنچائی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ کو اپنا وطن مکہ چھوڑ کر مدینہ چلا جانا پڑا۔ وہ لوگ اس کے بعد بھی خاموش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آپ کے خلاف خونی جنگیں چھیڑ دیں، جن کی تفصیل سیرت اور تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔

اس کے بعد وہ وقت آیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مدد فرمائی اور مکہ فتح ہوگیا۔ اس وقت مکہ کے لوگ بیت اللہ میں آپ کے پاس لائے گئے۔ یہ لوگ ظالم بھی تھے اور جنگی مجرم بھی۔ عام رواج کے مطابق ان کا انجام یہ ہونا چاہیے تھا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ لوگ اسی انجام کے اندیشے کے تحت آپ کے سامنے اپنی گردن جھکائے ہوئے کھڑے تھے۔

مگر آپ نے ان ظالموں اور جنگی مجرموں کو کسی بھی قسم کی کوئی سزا نہ دی۔ حتیٰ کہ ان سے ملامت کا کوئی کلمہ بھی نہیں کہا۔ آپ نے سب کو بلاشرط یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ جاؤ تم سب کے سب آزاد ہو:‌اذْهَبُوا ‌فَأَنْتُمْ ‌الطُّلَقَاءُ ۔ (سيرت ابن ہشام،جلد2،صفحہ412)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ان دشمنوں کے ساتھ اسی طرح برا سلوک کرتے جو انہوں نے آپ کے ساتھ کیا تھا تو وہ بدستور دشمن کے دشمن بنے رہتے۔ اگر آپ انہیں قتل کر دیتے تب بھی ان کی اولادوں میں انتقام کا جذبہ بھڑکتا۔ مکہ کی بستی کبھی بھی منفی جذبات اور تخریبی کارروائیوں سے خالی نہ ہو سکتی۔ مگر جب آپ نے ان سب کو کسی شرط یا کسی ملامت کے بغیر معاف کر دیا تو گویا آپ نے مکہ میں تاریخ کا نیا ورق کھول دیا۔

اہل مکہ کو اس طرح آزاد کر دینا کوئی معمولی واقعہ نہ تھا۔ یہ انہیں دوبارہ نئی زندگی دینے کے ہم معنی تھے۔ یہ ان کے ساتھ اتنا بڑا احسان تھا کہ اس کے بعد وہ سرکشی اور دشمنی کا تحمل نہیں کر سکتے تھے۔ اس کے بعد وہ خود اپنی اندرونی نفسیات کے تحت مجبور ہوگئے کہ آپ کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیں۔ چنانچہ راوی کہتے ہیں کہ وہ وہاں سے اس طرح نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، اور وہ اسلام میں داخل ہوگئے:فَخَرَجُوا كَأَ نَّمَا ‌نُشِرُوا ‌مِنَ ‌الْقُبُورِ فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ ۔ (السنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 18275)

برائی کے جواب میں برائی مسئلہ کو بڑھانے والی ہے۔ اس سے نفرت اور دشمنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر برائی کے جواب میں بھلائی کی جائے تو اس سے نفرت اور دشمنی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ ایسی روش اپنے اندر بے پناہ تسخیری طاقت رکھتی ہے۔ اور پیغمبر اسلام نے اسی تسخیری طاقت سے اپنے دشمنوں کو فتح فرمایا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion