جنّت کیا ہے
جنّت ایک انتہائی حیرت انگیز دنیا ہے جو خدا نے اپنے خاص بندوں کے لیے بنائی ہے۔ وہاں خدا کی صفات کمال اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ گَر ہیں۔ جنت کے بارے میں قرآن میں ہے کہ وہاں نہ حزن ہوگا اور نہ خوف۔ یہ ناقابل قیاس حد تک انوکھی صفت ہے۔ کیوں کہ دنیا میں ہم جانتے ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا دولت مند یا حکمراں اس پر قادر نہیں کہ وہ غموں اور اندیشوں سے خالی زندگی اپنے لیے حاصل کر لے۔ جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہاں ہر طرف’’سلام سلام‘‘ کا چرچا ہوگا۔(56:26) اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایسے بلند انسانوں کی آبادی ہے جو ہر قسم کی منفی جذبات سے خالی ہوں گے۔ ان کے دلوں میں دوسروں کے لیے سلامتی اور خیر خواہی کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ جنت کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہاں آدمی جو غذا کھائے گا اور جو مشروبات پئے گا وہ بول وبراز کی شکل میں نہیں خارج ہوگا بلکہ ایک خوشبودار ہوا نکلے گی اور اس کے ذریعہ تمام کثافت خارج ہو جائے گی۔(صحیح مسلم، حدیث نمبر 2835) اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت ایسا لطیف مقام ہے جہاں غلاظت بھی بہ شکل خوشبو خارج ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ جنت میں نیند نہیں ہوگی ۔(المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 8816)جب کہ وہاں آدمی کی ہر خواہش پوری کی جائے گی۔ (فصلت، 41:31)اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اتنی لذیذ جگہ ہے کہ آدمی ایک رات کی نیند کے بقدر بھی اس سے جدا ہونا پسند نہ کرے گا حالاں کہ وہ اس کے اندر کھرب ہا کھرب سال سے بھی زیادہ مدت تک رہے گا۔ کیسا عجیب ہوگا جنت کا پڑوس اور کیسی عجیب ہوگی جنت کی زندگی۔ پھر ان سب سے بڑھ کر یہ کہ جنت وہ مقام ہے جہاں آدمی اپنے خدا کو دیکھ سکے گا۔ (القیامۃ،75:23) وہ خدا جو ہر قسم کی ناقابل قیاس خوبیوں کا مالک ہے۔ وہ خدا جس نے عدم سے وجود کو پیدا کیا۔ وہ خدا جو آسمان کی عظمتوں کا خالق ہے۔ وہ خدا جس نے سورج کو چمکایا۔ وہ خدا جو درختوں کی سرسبزی اور پھولوں کی مہک میں ظاہر ہوا۔ ایسا خدا کیسا عظیم اور کیسا حسین ہوگا اس کا تصوراتی قیاس بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ جس جنت میں ایسا نفیس ماحول ہو، جہاں کائنات کے رب کا دیدار حاصل ہوتا ہو اس کی لذتوں اور راحتوں کو کون بیان کر سکتا ہے۔
