جدید انقلاب کی اسلامی اہمیت

جدید مغربی انقلاب، اپنی عمومی حیثیت میں، خود اسلام کا پیدا کردہ تھا۔ اس کے نتائج اسلامی نقطۂ نظر سے بے حد اہم تھے۔ اس انقلاب نے دنیوی اعتبار سے اس دعا کی تکمیل کر دی تھی جس کو خدا نے ان الفاظ میں ہمیں تلقین کیا تھا:اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تونے پچھلے لوگوں پر ڈالا(البقرہ،2:862) اس انقلاب کے نتیجے میں زندگی کے نظام میں ہمارے موافق جو تبدیلیاں ہوئیں وہ خاص طور پر یہ تھیں:

1۔قدیم زمانے کے بادشاہ لوگوں میں یہ عقیدہ بٹھا کر حکومت کرتے تھے کہ وہ سورج دیوتا یا چاند دیوتا کی اولاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں توحید کی دعوت فوراً سیاسی اقتدار کی حریف بن جاتی تھی اور مشرک بادشاہوں کے ظلم کا نشانہ بنتی تھی۔ شرک کی تردید کو وہ اپنے حقِّ حکمرانی کی تردید کے ہم معنی سمجھتے تھے۔ ا سلامی انقلاب کی تکمیل کے طور پر یورپ میں جو جمہوری انقلاب آیا ہے اس نے اس نزاکت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ کیوں کہ آج کا حکمراں عوامی رائے سے حکمرانی کا حق حاصل کرتا ہے ، نہ کہ خدا کے ساتھ اپنا مفروضہ اُلوہی رشتہ جوڑ کر۔ اس تبدیلی نے تاریخ میں پہلی بار یہ امکان کھول دیا کہ توحید کی تبلیغ اس اندیشے کے بغیر کی جائے کہ پہلے ہی مرحلہ میں غیر ضروری طور پر اس کا ٹکراؤسیاسی ادارہ سے ہو جائے اور وہ اس کو کچل کر رکھ دے، جیسا کہ اسلام سے پہلے ساری تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔

2۔ قدیم زمانے میں مظاہر فطرت(سورج، چاند، دریا وغیرہ) کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔ توحید کی بنیاد پر ہونے والے اسلامی انقلاب اور اس کے زیر اثر پیدا ہونے والے مغرب کے سائنسی انقلاب کے بعد یہ ہوا کہ فطرت کے واقعات خدائی مظاہر کے بجائے عام مادی مظاہر سمجھے جانے لگے۔ جو چیز پہلے پوجنے کی چیز سمجھی جاتی تھی وہ اب تحقیق و تجسس کی چیز بن گئی۔ اس کے نتیجے میں جدید سائنسی اور تکنیکی انقلاب پیدا ہوا جس نے بے شمار نئی طاقتیں انسان کے قبضہ میں دےد یں۔ اس انقلاب کے ذریعہ تیز رفتار سواریاں وجود میں آئیں اور جدید ذرائع ابلاغ(پریس، ریڈیو وغیرہ) تک انسان کی دسترس ہوئی۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوگیا کہ کسی عقیدہ کی تبلیغ عالمی اور بین اقوامی سطح پر کی جا سکے۔ خدا کے دین کی دعوت مقامی دعوت کے مرحلے سے گزر کر عالمی دعوت کے مرحلے میں داخل ہوگئی۔

3۔ اس انقلاب کے ذریعہ کائنات کے وہ چھپے ہوئے حقائق سامنے آئے جو توحید اور اس سے متعلق نظریات کے حق میں اعلیٰ علمی دلائل فراہم کر رہے ہیں۔ جنہوں نے قرآن کے کائناتی اشاروں کو کھول کر ہر ایک کے لیے انہیں قابل فہم بنا دیا ہے۔ اس طرح تاریخ میں پہلی بار وہ دور آیا جب کہ کائناتی نشانیاں معجزہ کا بدل بن جائیں۔ دینی حقیقتوں کو مشاہداتی دلائل کی سطح پر ثابت کیا جا سکے۔

4۔ پھر اسی انقلاب کے ذریعہ تاریخ میں پہلی بار معاملات پر غور و فکر کا سائنسی، بالفاظ دیگر، واقعاتی نقطۂ نظر پیدا ہوا۔ کائنات کا علم صرف اسی وقت حاصل ہو سکتا تھا جب کہ انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں اس پر غور کیا جائے۔ اس لیے اس کے اثر سے علمی دنیا میں یہی عام ذہن بن گیا۔ اب واقعات کو واقعات کی رو سے دیکھا جانے لگا ، نہ کہ خوش عقیدگی یا توہمات کے اعتبار سے۔ اب یہ فضا پیدا ہوئی کہ مذاہب کی خالص علمی اور تاریخی تحقیق کی جائے۔ اسی اندازِ مطالعہ کا یہ نتیجہ تھا کہ موجودہ زمانے میں علمی سطح پر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ اسلام کے سوا جتنے مذاہب ہیں سب کے سب غیر تاریخی(اور اس بنا پر ناقابل اعتبار) ہیں۔ مذاہب کے درمیان جس مذہب کو تاریخی اعتباریت کا درجہ حاصل ہے وہ صرف اسلام ہے۔ )ملاحظہ ہو:دی بائبل، دی قرآن اینڈ سائنس(

Maulana Wahiduddin Khan
Book :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion