داعیانہ جذبہ
آخر میں ایک واقعہ نقل کرنا چاہتا ہوں جو اس معاملے میں ہمارے لیے مہمیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ واقعہ مرے گل مان کا ہے جو ایک امریکی سائنس داں ہے اور جس کو 1969 میں فزکس کا نوبل انعام دیا گیا تھا:
‘‘Winner of the 1969 Nobel Prize for Physics for his work in bringing order to man`s knowledge of the seemingly chaotic profusion of subatomic particles.’’ (Encyclopedia Britannica, IV/453)
مرے گل مان کو جب وہ دریافت ہوئی جس پر اس کو نوبیل انعام کا مستحق سمجھا گیا تو اس کے اندر اس بات کی بے پناہ تڑپ جاگ اٹھی کہ وہ اپنی اس دریافت سے لوگوں کو باخبر کرے۔ اس مقصد کے لیے اس نے ایک انوکھی تدبیر کی۔ اس نے امریکہ کے ایک شہر آسپن(Aspen) میں کیبرے کی ایک تقریب کا انتظام کیا۔ اور اس میں تعلیم یافتہ لوگوں کو مدعو کیا۔ لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ تقریب شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے شباب پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد ایک دھماکہ خیز واقعہ ہوا۔ جو رپورٹر کے الفاظ میں یہ تھا:
‘‘Near the end of the show, physicist Murray Gell-Mann jumped up from the audience, dashed to the stage and exclaimed, ‘‘Stop everything. I have to explain to you the theory of the universe. I understand how everything works.’’ (p.36)
کیبرے شو کے آخر میں فزکس کا عالم مرے گال مان حاضرین کے درمیان سے کود کر نکلا۔ وہ تیزی سے اسٹیج تک پہنچا اور چلّا کر کہا۔ ہر چیز کو روک دو۔ مجھے آپ لوگوں کے سامنے کائنات کے نظریہ کی وضاحت کرنی ہے۔ میں نے یہ جان لیا ہے کہ ہر چیز کس طرح عمل کرتی ہے۔
کسی آدمی پر ایک بڑی حقیقت کا انکشاف ہو جائے تو وہ اس کا تحّمل نہیں کر سکتا کہ وہ اس کا اعلان نہ کرے۔ وہ ہر قیمت پر اس کا اعلان کرے گا۔ اس وقت تک اس کو چین نہیں آئے گا جب تک وہ دنیا والوں کو اس سے باخبر نہ کر دے۔ دریافت ایک بھونچال ہے۔ دریافت آدمی کو داعی بنا دیتی ہے۔
یہی معاملہ اسلامی دعوت کا بھی ہے۔ اگر ہم کو اس حقیقت کا واقعی شعور ہو جائے کہ آج دنیا کی قومیں کہاں پہنچ چکی ہیں۔ اور اسلام کی دعوت کو عام کرنے کے کتنے زیادہ امکانات پیدا ہو چکے ہیں تو ہم لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے بے تاب ہو جائیں گے۔ ہمارا حال مزید شدت کے ساتھ وہی ہو جائے گا جو مرے گل مان کا ہوا۔ ہم کود کر لوگوں کے سامنے آ جائیں گے، اور پکار اٹھیں گے کہ ہر کام کو بند کرکے میری بات سنو، کیوں کہ میرے پاس تم کو سنانے کے لیے وہ اہم ترین پیغام ہے جس کی آج تمہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جس کے بغیر تمہاری دنیا بھی برباد ہے اور تمہاری آخرت بھی برباد۔
