الجامعۃ الاسلامیۃ

)مدینہ منورہ(

29 فروری 1984 کی صبح کو میں دہلی کی مسجد کی اذان پر فجر کی نماز کے لیے اٹھا تھا۔ اگلے دن یکم مارچ کی صبح کو میں مدینہ منورہ کے موذن کی اذان پر فجر کی نماز کے لیے اٹھا اور مسجد نبوی کے امام کے پیچھے ’’بین اقوامی جماعت‘‘ میں شریک ہو کر فجر کی نماز ادا کی۔

ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ ’’راتوں رات‘‘ طے ہونے کا واقعہ بظاہر اتنا ہی عجیب ہے جتنا چودہ سو سال پہلے:سُبْحانَ الَّذِي أَسْرى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى (17:1)۔ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک— کا واقعہ لوگوں کو عجیب معلوم ہوا تھا۔ مگر آج کا انسان چونکہ تیز رفتارکاروں اور ہوائی جہازوں کے زمانے میں ہے اس لیے ایسی خبر سن کر آدمی کے اوپر حیرانگی طاری نہیں ہوتی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے ’’اسراء‘‘ کا واقعہ بھی اتناہی غیر عجیب تھا جتنا موجودہ زمانے کا واقعہ۔ آج کا’’ اسراء ‘‘ جس نظام اسباب کے تحت ہوتا ہے وہ چونکہ انسان کے سامنے کھلا ہوا ہے اس لیے اس پر انسان کو حیرانی نہیں ہوتی۔ مگر چودہ سو سال پہلے کا ’’اسراء‘‘جس نظام اسباب کے تحت ہوا تھا وہ انسان کی نظروں سے اوجھل تھا اس لیے انسان اس کو سمجھ نہ سکا۔ تاہم قیامت میں اس دوسرے نظام (خدائی نظام) سے پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت انسان جان لے گا کہ اسراء خداوندی بھی اسی طرح عین ممکن تھا جس طرح آج اسراء مشینی با لکل ممکن نظر آتا ہے۔

’’بیل گاڑی‘‘ کے دور میں انسان کے لیے ’’ہوائی جہاز‘‘ ایک ناقابل یقین چیز تھی۔کیوں کہ اس وقت ہوائی جہاز مستقبل کے پردہ میں چھپا ہوا تھا۔ اسی طرح موجودہ زندگی میں ابھی آخرت کا دور انسان کی نظروں سے چھپا ہوا ہے۔ پردہ ہٹنے کے بعد عالم غیب کی باتیں بھی آدمی کے لیے اسی طرح قابل فہم بن جائیں گی جس طرح عالم شہود کی باتیں آج قابل فہم بنی ہوئی ہیں۔

غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے میرے پروگرام کی قطعی اطلاع الجامعۃ الاسلامیۃ (مدینہ) کو نہیں دی جا سکی تھی۔ میری روانگی کے بعد 29 فروری کی دوپہر کو جامعہ کے نام دہلی سے ٹیلکس کیا گیا جب کہ اسی دن شام کو میں مدینہ پہنچنے والا تھا۔ ظہران اور ریاض ہوتا ہوا مدینہ ایئر پورٹ پر پہنچا تو جامعہ کا نمائندہ وہاں معاونت کے لیے موجود تھا— موجودہ زمانے میں مواصلات کی ترقی نے انسان کے لیے کس قدر آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ اس کے باوجود انسان خدا کا شکر ادا نہیں کرتا۔

مدینہ ائیر پورٹ سے ہم الجامعۃ الاسلامیۃ کے نمائندہ کے ساتھ چلے۔ یہاں تک کہ ہم لوگ فندق النخیل میں پہنچا دیے گئے۔ یہاں ہمارا قیام کمرہ نمبر901 اور902 میں تھا۔ اگلے دن ہم الجامعۃ الاسلامیۃ لے جائے گئے۔ وہاں رئیس الجامعۃ دکتور عبد الله صالح العبید اور دوسرے ذمہ داروں سے ملاقات ہوئی۔ذمہ داروں کے مشورے کے بعد محاضرات کا پروگرام ترتیب دیا گیا۔ پروگرام کی تفصیل اگلے صفحہ پر موجود ہے۔

مدینہ کا یہ سفر الجامعۃ الاسلامیۃ (مدینہ منورہ) کی دعوت پر ہوا۔ جمادی الاوّل 1404ھ میں جامعہ میں الموتمر الثانى للدعوة الاسلامیہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں دنیا کے مختلف حصوں سے دعاۃ اور اہل علم بلائے گئے تھے۔ مجھے بھی اس موتمر میں شرکت کی دعوت دی گئی۔ مطبوعہ پروگرام میں میرا نام شامل کیا جا چکا تھا۔ مگر اس وقت میں بعض اسباب کی بنا پر سفر نہ کر سکا۔ تاہم جامعہ مجھ کو بلانا چاہتی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے ایک ہفتہ کا مستقل پروگرام بنایا جس میں جامعہ کے طلبہ اور اساتذہ سے ملاقاتیں تھیں اور ہر روز شام کو جامعہ میں میرا ایک محاضرہ (لکچر) رکھا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت یہ سفر ہوا۔

2 مارچ کو جامعہ کے بڑے ہال میں پہلا محاضرہ تھا۔ اصل محاضرہ عربی میں تھا اور اس کا موضوع تھا:التضا من والدعوة الاسلامية۔ وسیع ہال بھرا ہوا تھا۔ ابتدائی کارروائی کے بعد میں نے مقالے کے چند صفحات پڑھے اور پھر یہ کہہ کر اس کو مولانا صفی احمد صاحب کو دے دیا اور انہوں نے بقیہ صفحات پڑھ کر مقالہ کو مکمل کیا۔

arabic

3مارچ کو جامعہ کی مسجد میں پروگرام تھا۔ یہ مسجد بہت بڑے ہال کی مانند ہے اور انتہائی سادہ ہونے کے با وجود انتہائی شاندار ہے۔ یہ دوسرا محاضرہ انگریزی میں تھا۔ میں نے اصل انگریزی محاضرہ کا کچھ حصہ بطور خلاصہ پڑھا اور اس کے بعد کہا:

هٰذِهِ خُلَاصَةُ مَقَالَتِي، وَسَيُلْقِيهَا مُفَصَّلَةً بِاللُّغَةِ الْعَرَبِيَّةِ فَضِيلَةُ الْأُسْتَاذِ مُحْيِي الدِّينِ الْعَرَبِيِّ

محی الدین عربی ایک مصری عالم ہیں۔ انہوں نے پہلے سے میرے انگریزی مقالہ کا عربی ترجمہ تیار کر رکھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے مکمل ترجمہ خالص عربی لہجہ میں پڑھ کر سنایا۔

4مارچ کو دوبارہ جامعہ کے بڑے ہال (قاعۃ المحاضرات) میں پروگرام تھا۔ محاضرہ کا عنوان تھا:امكانيات جديدة للدعوة۔ یہ مقالہ عربی میں تھا۔ میں نے خود پورا مقالہ پڑھ کر سنایا۔ بعد کو لوگوں نے کہا کہ آپ کے پڑھنے کا طریقہ بہت اچھا تھا۔ اور آئندہ آپ کو اپنا مقالہ خود ہی پڑھنا چاہیے، خواہ وہ عربی میں ہو یا انگریزی میں۔

 اس کے بعد تین دن کا وقفہ تھا۔ اگلا پروگرام 11 مارچ کو دن میں ہوا۔ اصل مقالہ انگریزی میں تھا۔ میں نے ابتداء ً کچھ کلمات خلاصہ کے طور پر کہے۔ اس کے بعد محی الدین عربی نے اس کا مکمل عربی ترجمہ پڑھ کر سنایا۔ شام کو نماز مغرب کے بعد حوار مفتوح (سوال و جواب) کا پروگرام تھا۔ میں نے تمہید کے طور پر کچھ ابتدائی کلمات عربی میں کہے۔ اس کے بعد طلبہ کے سوالات کا غذ پر لکھے ہوئے آنا شروع ہوئے۔ کافی سوالات آئے اگر چہ بعض سوالات میرے ذوق کے خلاف تھے۔ تاہم میں نے تمام سوالات کے جوابات دیے۔ اس کی شکل یہ ہوئی کہ ایک ایک سوال پڑھ کر سنایا جاتا اور میں اس کا جواب دیتا۔

 یہ مجلس کافی دلچسپ رہی۔ لوگ آخر تک نہایت دلچسپی کے ساتھ سنتے رہے۔ اساتذہ اور ذمہ داروں کی بھی ایک تعداد ہال کے اندر تھی۔

6مارچ کی شام کو نماز عشا کے بعد جامعہ اسلامیہ کے ہندستانی طلبہ بڑی تعداد میں ہوٹل کے کمرہ میں آگئے۔ ان کی خواہش پر میں نے بتایا کہ میرا حاصل مطالعہ کیا ہے اور میں نے اب تک کے مطالعہ سے کیا پایا ہے۔ یہ گفتگو زیادہ تر اسلامی دعوت کے جدید امکانات کے پہلو پر تھی۔ اس مجلس میں جامعہ کے بعض استاد بھی شریک تھے۔ مزید میں نے کہا کہ سورہ یوسف سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی دنیا میں یہ بھی ممکن ہے کہ جہاں لوگ آپ کی تاریخ ختم کرنا چاہتے ہوں وہاں سے آپ کے لیے ایک نئی تاریخ کا آغاز ہو جائے۔ آپ کا اسوء القصص احسن القصص میں تبدیل ہو جائے۔ مگر اس عظیم خدائی انعام کو پانے کی دو لازمی شرطیں ہیں ، تقویٰ اور صبر (یوسف، 12:90)۔

7 مارچ کی شام کو ایک صاحب کے مکان پر ہندستانی طلبہ کا اجتماع ہوا۔ یہاں میں نے اس موضوع پر اظہار خیال کیا کہ ’’مومن‘‘ ہونے کا مطلب کیا ہے اور جنت میں داخلہ آدمی کو کس طرح ملے گا۔ آخر میں کچھ لوگوں نے خواہش ظاہر کی کہ آپ اپنے مرکز کے مقاصد کے بارے میں کچھ بتا ئیں۔ میں نے اس سلسلے میں ضروری تفصیلات عرض کیں۔

مجھ کو ایک عجیب تجربہ یہ ہوا کہ اگر الاسلام یتحدی کی قسم کی سائنس والی باتیں کی جائیں تو لوگ خوب خوش ہوتے ہیں اور ھل من مزید کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر حمد خداوندی کی باتیں کی جائیں، اگر جنت اور جہنم کا تذکرہ کیا جائے، اگر رزق ربانی کے نغمے چھیڑے جائیں تو لوگوں کو کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ پہلا اسلام ان کی پہچان والا اسلام ہے۔ جب کہ دوسرا اسلام ان کی پہچان والا اسلام نہیں۔ آج مسلمانوں نے اسلام کو اپنے لیے سرمایہ فخر بنارکھا ہے۔ اس لیے پہلی قسم کی باتیں ان کو اسلام کا سائنسی قصیدہ معلوم ہوتی ہیں۔ ان کو سن کر ان کی نفسیاتِ فخر کو تسکین ملتی ہے اور وہ خوش ہو جاتے ہیں۔مگر دوسری قسم کی باتیں ان کو اجنبی معلوم ہوتی ہیں۔ کیوں کہ اسلام کے نام سے وہ اس قسم کی کسی چیز کو جانتے ہی نہیں، اسلام ان کے لیے قومی فخر کا عنوان ہے، نہ کہ اصلاح ذات کا عنوان۔ فخر والی بات کی جائے تو وہ اس میں اپنے لیے غذا پا لیتے ہیں۔ مگر اصلاح ذات والی باتیں کی جائیں تو وہ اس سے متوحش ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اس کا مطلب اپنی نفی ہے۔ اور کون ہے جواپنی نفی کی قیمت پر حق کا اعتراف کرے۔

  المعہد العالى للدعوة الاسلامیہ (مدینہ) کی طرف سے ایک ماہانہ پر چہ نکلتا ہے جس کا نام ہے رسالۃ المعہد۔ اس کے نمائندہ محمد ضیاء الدین صاحب نے 5 مارچ کی شام کو رسالۃ المعہد کے لیے انٹرویو لیا۔ محمد ضیاء الدین صاحب نوجوان ہیں اور حلب (شام) کے رہنے والے ہیں۔ اس وقت وہ مدینہ میں وزارة الاعلام کے تحت کام کر رہے ہیں۔ رسالۃ المعہد کے جوابات کا اردو ترجمہ یہاں بطور نمونہ نقل کیا جاتا ہے۔

1۔    دعوت اسلامی کا مطلب میرے نزدیک دعوت الی اللہ ہے۔ موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کو جو چیلنج در پیش ہے وہ میرے نزدیک الحادی فکر کا غلبہ ہے۔ اس لیے دعوت اسلامی کی راہ ہموار کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دنیا سے الحادی فکر کا غلبہ ختم کیا جائے۔

قدیم زمانے میں مادی مظاہر کو خدا قرار دے کر انسان نے خدا کو چھوڑ دیا تھا۔ موجودہ زمانے میں مادی مظاہر کے پیچھے کام کرنے والے سلسلۂ اسباب کو خدا قرار دے دیا گیا ہے اور اسی کا نام الحاد ہے۔ جب تک اس فکری ڈھانچہ کو توڑا نہ جائے کوئی دوسرا کام نہیں کیا جاسکتا۔

2۔    موجودہ زمانے کے داعیوں کا اصل مسئلہ وہ ہے جو داخلی ہے۔ وہ ابھی تک دعوت اور قومیت کو اور اسی طرح دعوت اور سیاست کو الگ الگ نہیں کر سکے ہیں۔ جس دن وہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں کامیاب ہوں گے اسی دن ان کے مسائل کے خاتمہ کا بھی آغاز ہو جائے گا۔

3۔    صحافت یقیناً اسلامی دعوت کے لیے نہایت اہم ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ مسلمان ابھی تک صرف قومی صحافت کو جانتے ہیں، وہ عالمی صحافت کے میدان میں داخل نہیں ہوئے۔ عالمی صحافت کے لیے موضوعیت (objectivity) لازمی طور پر ضروری ہے اور مسلمان موضوعیت سے محروم ہیں۔

4۔     میری زندگی کسی ’’حادثہ‘‘ کے نتیجہ میں نہیں بنی۔ میں نے اسلامی علوم اور غیراسلامی علوم کا تقریباً 40 سال تک مطالعہ کیا ہے۔ میری شخصیت اسی مطالعہ کے ذریعہ بنی ہے۔

5۔    جدید علمی انکشافات کو تفسیر قرآن میں استعمال کرنا میرے نزدیک عین درست ہے، شرط صرف یہ ہے کہ معیار اصلی قرآن ہو، نہ کہ جدید انکشافات۔ یعنی جدید انکشافات کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے، نہ کہ قرآن کو جدید انکشافات کی روشنی ہیں۔

علمی نظریات کے بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دور اوّل میں جب قرآن نے کہا کہ زمین و آسمان کی نشانیوں پر غور کرو تو انسان نے اپنی اس وقت کی معلومات کی روشنی میں زمین و آسمان پر غور کیا۔ آج بھی یہی ہوگا کہ انسان اپنی موجودہ معلومات کی روشنی میں آیات پر غور کرے گا۔ اس کی وجہ سے نہ پہلے کوئی اعتقادی خرابی پیدا ہوئی اور نہ آج ہوسکتی ہے۔

 ایک غیر عرب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عالم تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قرآن پر ایک تحقیقی کتاب لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ قرآن کے مطالعہ میں گزارا ہے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ اپنے مطالعہ کی روشنی میں بتائیے کہ قرآنی تعلیمات کا خلاصہ کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا ’’اس حیثیت سے میں نے زیادہ غور نہیں کیا۔ میرے لیے یہ سوال اچانک ہے۔ اس لیے مجھے سوچ کر بتانا ہو گا‘‘۔ اسی طرح ایک اور صاحب ملے انہوں نے کہا کہ میرا موضوع قرآن ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے خود قرآن میں پائی ہو ، جو آپ کی اپنی دریافت ہو۔ مگر وہ قرآن سے کسی ایسی حقیقت کی نشاندہی نہ کر سکے جو انہوں نے خود دریافت کی ہو— کیسے عجیب ہوں گے وہ قرآن کو پڑھنے والے جن کے ذہنی ا ثا ثہ خانہ میں قرآن نے کسی نئی چیز کا اضافہ نہ کیا ہو۔

اس سفر کے دوران ایک عرب ملک کی ایک بڑی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ عرب امام نے کافی لمبا خطبہ دیا۔ اس خطبہ میں ’’بیع ‘‘کے مسائل نہایت تفصیل سے بیان کیے گئے تھے۔ تاہم ان مسائل میں اکثر ایسے تھے جن کا آج کے حالات سے کوئی تعلق نہیں۔  ایسا محسوس ہوا کہ وہ بس کتاب کی باتوں کو دہرائے چلے جارہے ہیں۔

مثلاً انہوں نے کہا کہ جو لوگ مسلمانوں سے جنگ کریں ان کو ہتھیار بیچنا حرام ہے (بَيْعُ السِّلَاحِ عَلَىٰ مَنْ يُحَارِبُ الْمُسْلِمِينَ حَرَامٌ )۔ یہ مسئلہ صلیبی جنگوں کے زمانے کا ہے۔ اس زمانے میں عراق وشام کے علاقہ میں دنیا کے بہترین ہتھیار بنتے تھے۔ چنانچہ جنگ کے وقفوں میں یوروپی تاجر یہاں آکر ہتھیار خرید یتے تھے۔ چو نکہ یہ اندیشہ تھا کہ یہ ہتھیار وہ یورپی قوموں کے ہاتھ بیچیں گے اور وہ ان کو اگلی صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے۔ اس لیے اس وقت کے علما نے فتویٰ دیا کہ جو لوگ مسلمانوں سے بر سر جنگ ہوں ان کو ہتھیار فروخت کرنا حرام ہے۔

یہ مسئلہ خود بتا تا ہے کہ وہ ایسے وقت سے متعلق ہے جب کہ مسلمان ہتھیار فروخت کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ مگر موجودہ زمانے میں تو مسلمان صرف اس کے خریدار ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج ہتھیاروں کی صنعت پوری طرح ’’کافروں‘‘ کے ہاتھ میں جا چکی ہے۔ اور خود مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ وہ ان سے ہتھیار خریدے بغیر اپنے دشمنوں سے اپنا دفاع نہیں کر سکتے۔ ہمارے اکثر بڑے بڑے خطیبوں کا یہ حال ہے کہ جب وہ بولتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتاہے کہ وہ ’’بیسویں صدی میں نہیں بول رہے ہیں‘‘ بلکہ ’’صلاح الدین کے منبر ‘‘پر کھڑے ہو کر اقوام عالم کو خطاب کر رہے ہیں۔

5 مارچ کود و پہر کا کھانا رئیس جامعۃ اسلامیہ دکتور عبداللہ صالح العبید کی طرف سے تھا۔ انہوں نے میرے اعزاز میں مدینہ کے ہوٹل میں ظہرانہ دیا۔ اس ظہرانہ میں چنی ہوئی اعلیٰ شخصیتیں موجود تھیں۔جس میں وزارت تعلیم کے وکیل بھی تھے۔ اسی طرح ایک اور صاحب نے ایک خصوصی دعوت کی جس میں رابطہ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل کے پی اے استاد اسامہ خلیفہ بھی شریک تھے۔

ان مواقع پر ذمہ دار لوگوں سے باتیں ہوئیں۔ شیخ محمدعمر فلاتہ سے اسلامی مرکز کے موضوع پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ہم سیاست سے دور رہ کر خالص دعوت کے میدان میں کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں میری زبان سے نکلا کہ ہندستان کے حالات میں موثر کام کرنے کے لیے سیاست سے دور رہنا ضروری ہے۔ شیخ محمدعمر فلاتہ نے فوراً کہا کہ ہندستان ہی میں نہیں بلکہ ہرملک میں ضروری ہے۔ سیاست میں مشغول ہو کر کوئی موثر کام نہیں کیا جاسکتا۔

 رئیس الجامعہ دکتور عبداللہ صالح العبید سے میں نے پوچھا کہ آپ نے الاسلام یتحدیٰ پڑھی ہے۔ انہوں نے فوراً کہا:کس نے نہیں پڑھی ہے۔ اکثر لوگ مجھ سے یہ پوچھتے ہیں کہ الاسلام یتحدیٰ کے بعد دوسری تصنیفات کیا ہیں اور وہ عربی میں منتقل ہوئیں یا نہیں۔

یہاں جس جگہ بھی جانا ہوایا جس سے بھی ملاقات ہوئی اس نے یہی بتایا کہ اس نے الاسلام یتحدیٰ پڑھی ہے۔ بعض نے کہا کہ میں نے اس کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ اور اس کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ الجامعۃ الاسلامیۃ میں انڈونیشیا کے ایک طالب علم نے بتایا کہ انڈونیشی زبان میں بھی الاسلام یتحدیٰ کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے میرا پتہ لیا اور کہا کہ اس کا ایک نسخہ میں آپ کو ڈاک سے روانہ کروں گا۔

10مارچ کی شام کو شیخ محمد عمر فلا تہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے الجامعۃ الاسلامیۃ کے بعض عجیب واقعات سنائے۔ انہوں نے بتایا کہ میں جامعہ کے تحت ایک سفر کے دوران کیمرون گیا۔ وہاں جامعہ کے ایک فارغ طالب علم سے ملاقات ہوئی تو وہ بار بار جامعہ کے ایک مستخدم (ملازم) کے بارے میں سوال کرتا اور اس کا حال پوچھتا۔ میں نے پوچھاکہ تم جامعہ کے شیوخ سے زیادہ مستخدم کے حالات دریافت کر رہے ہو، کیا بات ہے۔ اس کے بعد اس نے بتایا کہ میں تعلیم کی غرض سے جامعہ گیا۔ میں اپنے ساتھ کوئی رقم نہیں لے گیا تھا۔ کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ ساری کفالت جامعہ کی طرف سے ہوگی۔ جب وہ مدینہ کے ا یئر پورٹ پر اترا تو اس کو یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ وہاں کوئی گاڑی اس کی مدد کے لیے موجو د نہیں ہے۔

نوجوان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ٹیکسی کرے۔ اگرچہ اس کی جیب میں کوئی رقم موجود نہ تھی۔ تاہم اس نے ٹیکسی کی اور اس کے ذریعہ ایئر پورٹ سے جامعہ پہنچا۔ یہاں جب ٹیکسی والے نے کرایہ (پندرہ ریال) مانگا تو نوجوان نے کہا کہ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس پر ٹیکسی والا غصہ میں آگیا۔ اور نوجوان کو دھوکہ باز، شیطان وغیرہ کہنے لگا۔

نوجوان بے بسی کے انداز میں ٹیکسی والے کی سخت کلامی کو سن رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ اتنے میں جامعہ کا ایک مستخدم شور سن کر وہاں آگیا اور ٹیکسی والے سے کہا کہ تم کیوں اس طالب علم کو پریشان کر رہے ہو۔ اس نے کہا کہ یہ دھوکے باز ہے۔  مجھ کو ا یئر پورٹ سے لایا اور اب کرا یہ دینا ہے تو کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ نہیں۔ مستخدم نے کہا کہ اپنی زبان روکو، یہ ضیوف الرحمٰن ہیں اور یہ مجھ سے اور تم سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔

اس کے بعد مستخدم نے اپنی جیب سے پندرہ ریال نکالے اور اس کو ٹیکسی کے مالک کے حوالے کیا۔ اس کے بعد یہ مستخدم نوجوان کو لے کر دفاتر میں گیا۔ ضروری کا رروائی کرائی اور اس کے سامان کو اس کے کمرہ تک پہنچایا۔ آخر میں جب وہ رخصت ہونے لگا تو اس نے دوبارہ اپنی جیب سے 20 ریال نکالے اور طالب علم کے حوالہ کر کے باہر چلا گیا۔

ایک ہندستانی طالب علم سے میں نے عربوں کے بارے میں ان کے تجربات پوچھے۔  انہوں نے کہا کہ میں نے عربوں میں ایک خاص بات یہ د یکھی کہ ان کے اندر توسع کا مزاج ہوتا ہے جو ہندستان اور پاکستان جیسے علاقوں میں دیکھنے میں نہیں آتا۔ ہم لوگ کسی محفل میں ایک تقریر کرتے ہیں یا کسی موقع پر ایک سوال کا معمولی جواب دیتے ہیں تو ہمارے اساتذہ فراخ دلی کے ساتھ احسنت احسنت کہتے ہیں۔ ان کا مزاج ہوتا ہے کہ جو خوبی ہے اس کا بھر پور اعتراف کیا جائے اور جو کمی ہے اس کو نظر انداز کیا جائے۔

5مارچ کی صبح کو ہم دو فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ مدینہ کے تاریخی آثار دیکھنے کے لیے نکلے۔ تقریباً نصف دن گزرا۔ مصطفےٰ شاور (فلسطینی ثم اردنی) کو آثار عرب کے بارے میں خاصی معلومات ہیں۔ چنانچہ وہ رہنمائی کرتے رہے۔ مدینہ میں رسول اللہ اور صحابہ کے زمانے کے اصل آثار اب بہت کم باقی ہیں۔ ان آثار کی ایک حیثیت تاریخی تھی اور دوسری یہ تھی کہ لوگ ان کو مقدس قرار دے کر یہاں آکر مشرکانہ افعال کرتے تھے۔ ذمہ داروں نے ان کی دوسری حیثیت کی بنا پر انہیں ختم کر دیا۔ اس وقت جو آثار ہیں ان میں اکثر وہ ہیں جہاں نئی تعمیرات کھڑی ہیں۔ مثلاً ایک شخص آپ کو بتائے گا کہ یہاں سقیفہ بنی ساعدہ تھا۔ مگر آج وہاں صرف کھجور کے درخت نظر آتے ہیں۔ مسجد الجمعہ اور مسجد قبا آج موجود ہیں، مگر ان کی تعمیرات وہ نہیں ہیں جو ابتدا میں تھیں۔

تاہم کچھ چیزیں آج بھی اپنی ابتدائی شکل میں موجود ہیں۔ مثلاً بئررومہ جس کو حضرت عثمان نے ایک یہودی سے خرید کر عام مسلمانوں کے لیے وقف کیا تھا۔ اسی طرح کعب بن اشرف کا قلعہ نما مکان بھی کھنڈر کی صورت میں ابھی تک موجود ہے۔ ہم نے یہ مقامات دیکھے۔ ان کو دیکھ کر عجیب عبرت حاصل ہوئی۔

 پھر ہم احد پہاڑ کو دیکھنے گئے۔ یہاں دیگر آثار کے علاوہ وہ شق (غار) بدستور موجود ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے شکست کے بعد پناہ لی تھی۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر غار میں داخل ہوا اور ان پتھروں پر دیر تک بیٹھارہا جہاں حسب روایت رسول اللہ ﷺ زخمی ہونے کے بعد بیٹھے تھے۔ اس وقت طبعیت پر عجیب اثر ہوا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے تاریخ کا درمیانی وقفہ حذف ہو گیا ہے اور میں براہ راست رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پہنچ گیا ہوں۔

ایک عرب عالم نے کہا کہ میں نے آپ کی کتاب الاسلام یتحدیٰ پڑھی، الدین فی مواجہتہ العلم پڑھی، الاسلام والعصر الحدیث پڑھی یہ سب کتابیں مجھے پسند آئیں۔ ان کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحمت کا دروازہ کھولا ہے۔ مگر اس کے بعد میں نے آپ کی کتاب ’’حکمۃ الدین‘‘ پڑھی تو وہ پسند نہیں آ ئی۔ اس میں آپ نے اخوان المسلمین کی سیاست پر تنقید کی ہے۔ یہ زمانہ ایسا ہے کہ دشمنان اسلام ہمارے اختلاف سے فائدہ اٹھانے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ہم کو صرف وہی باتیں کرنی چاہئیں جس سے اتفاق پیدا ہو۔

اس قسم کی باتیں اور بھی کئی بار سننے کو ملی ہیں۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ یہ کیسا عجیب مطالبہ ہے۔ جن جماعتوں پر میں نے تنقید کی ہے، وہ موجودہ زمانے میں باہمی اختلاف کا سب سے بڑا سبب ہیں۔ انہوں نے مسلم ملکوں میں مسلمانوں کو حکمراں اور غیر حکمراں کے دو طبقوں میں بانٹ رکھا ہے اور دونوں کے درمیان زبر دست ٹکراؤ جاری کر دیا ہے۔ میں تو زیادہ سے زیادہ صرف علمی تنقید کرتا ہوں۔ جب کہ دوسرے لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اختلاف سے گزر کر مسلمانوں کو باہمی تصادم میں ڈال دیا ہے۔ پھر بھی اختلاف پیدا کرنے کا الزام میرے اوپر ہے۔

تاہم عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود کسی آدمی سے محبت کر سکتے ہیں۔ عرب نوجوانوں کی بڑی تعداد اخوانی تحریک سے متاثر ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ میں اخوانی تحریک کا ناقد ہوں۔ اس کے با وجود الاسلام یتحدیٰ کی بنیاد پر وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ محمد ضیا ءالدین ملا جفجی (حلب، شام) اخوانی نوجوان ہیں اور اخوانیوں کے بارے میں میرے خیالات کو جانتے ہیں۔ مگر وہ نہایت احترام اور محبت کے ساتھ مجھ سے ملتے رہے۔ وہ دوسری بار آئے تو بتایا کہ میں نے شام میں اپنے والد سے ٹیلیفون پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت میں خود نہیں آسکتا۔ تم شیخ وحید الدین کو میرا سلام کہو اور میری طرف سے ان کے ہاتھ کا بوسہ دو (قَبِّلْ يَدَهُ بِالنِّيَابَةِ عَنِّي

12مارچ 1984 کو مسجد نبوی میں فجر کی نماز پڑھی۔ یہ مسجد نبوی میں ہماری آخری نماز تھی۔ نماز سے فارغ ہوکر جب میں باہر نکل رہا تھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلاخدایا یہ وہ مقام ہے جہاں تیرے پیغمبر نے نمازیں پڑھی ہیں۔ جہاں پیغمبر کے اصحاب کے قدم پڑے ہیں۔ جہاں ان لوگوں کی مجلسیں قائم ہوئی ہیں جن کو تو نے جنت کی بشارت دی ہے۔ خدایا مجھے بھی اس مجلس میں شریک ہونے والوں میں شامل فرما۔ خدایا، جس طرح تو نے انھیں بخشا اسی طرح مجھے بھی اپنی رحمت سے بخش دے۔

12 مارچ کی دو پہر کو ہم مدینہ سے ریاض پہنچے۔ (الرسالہ، جولائی 1984)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion