میں نے اِس مجلس میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں ایک ایسے گروہ (عصابۃ) کا ذکر ہے جو ہند میں غزوہ کرے گا۔ اس گروہ کے لیے حدیث میں جہنم کے عذاب سے نجات کی خوش خبری دی گئی ہے۔ اِس حدیث میں ’’غزوہ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں:عِصَابَة تَغْزُو الهِنْدَ (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175 )۔ یہاں غزوہ سے مراد مسلح جنگ نہیں، بلکہ پُرامن دعوتی عمل ہے۔ اس کے تحت اقوام عالم کے درمیان تعارفِ اسلام کی اہمیت کو بیان کیا۔ آخر میں میں نے کہا کہ ’’عصابہ‘‘ کی نسبت سے جو بات میں نے کہی ہے، وہ کوئی فخر یا فضیلت یا ادّعاکی بات نہیں ہے۔ اس عصابہ کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں نے جو بات کہی، اس کی حیثیت صرف ایک ذمے داری کی تشخیص کی ہے۔ اِس تشخیص کا تقاضا ہے کہ آپ حضرات اب مزید یقین کے ساتھ اِس عمل  میں ہمہ تن سرگرمِ عمل ہوجائیں۔

9 جون 2010 کے پروگرام کے بعد عصر کی نماز مسجد میں پڑھی گئی۔ نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ جامعہ کے کلیہ ہال میں گئے۔ وہاں ایک خطاب کا پروگرام تھا۔ اِس کا موضوع تھا:آخرت رخی زندگی۔ یہ ایک گھنٹے کا خطاب تھا۔ میں نے کہا کہ آخرت رخی زندگی کا فارمولا حدیث کے مطابق، یہ ہے:حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَزِنُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوزَنُوا (مسند الفاروق، جلد 2، صفحہ618 )۔

اصل یہ ہے کہ اِس دنیا میں زندگی کی دو صورتیں ہیں— ایک ہے وہ زندگی جو مبنی بر حبِّ عاجلہ (القیامۃ، 75:20) ہو، یعنی صرف آج کی بنیاد پر منصوبہ بندی۔ اور دوسری زندگی ہے مبنی بر آجلہ، یعنی حیات بعد الموت کو لے کر زندگی کا نقشہ بنانا۔ اِس کے بعد میں نے رسول اور اصحاب رسول کے مختلف واقعات سنائے جو آخرت رخی زندگی کے معاملے میں عملی ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آخر میں ناظمِ اجتماع کی طرف سے لوگوں کو سوال وجواب کا موقع دیا گیا۔ چند منٹ تک کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ جامعہ کے اساتذہ اور دیگر علما کے علاوہ مولانا کاکا سعید احمد عمری بھی اِس پروگرام میں موجودتھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خطاب اتنا زیادہ واضح اور فکر انگیز ہے کہ اِس کے بعد کسی سوال کی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ یہ پروگرام سوال وجواب کے بغیر ختم ہوگیا۔

پروگرام کے بعد ہم لوگ جامعہ کے دفتر میں بیٹھ گئے اور مغرب تک وہاں غیر رسمی انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔ اِس مجلس میں ایک تعلیم یافتہ مسلمان موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے الرسالہ کے مطالعے سے کیا پایا۔ انہوں نے کہا کہ — سادگی اور اسلام کا فطری تصور۔

میں نے کہا یہ اُس کا صرف ایک پہلو ہے۔ الرسالہ کا اصل مقصد ہے لوگوں کے اندر مثبت طرزفکر(positive thinking)پیدا کرنا، یعنی منفی حالات کے باوجود ہمیشہ مثبت ذہن کے تحت سوچنا۔ الرسالہ کی کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے اندر اِس قسم کی ذہنی بیداری لائی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہی خلاصہ ایمان ہے۔ جنت میں وہی لوگ داخلہ پائیں گے جو اپنے اندر مثبت شخصیت کی تعمیر کریں۔ قرآن کے مطابق، جنت دار السلام (10:25) ہے۔ منفی ذہن کے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملنے والا نہیں۔

اِس مجلس میں ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں صبر کے بارے میں بہت مضامین آتے ہیں۔ صبر کیا ہے۔ کیا صبرکا مطلب کمپرومائز (compromise) کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں، کمپرومائز الگ چیز ہے اور صبر الگ چیز۔ کمپرومائز، مصلحت (expediency) کے تحت ہوتا ہے، جب کہ صبر حکیمانہ منصوبہ بندی کا نام ہے۔

10 جون 2010 کو صبح کی نماز کے بعد ہم لوگوں نے کچھ دیر تک جامعہ کے کیمپس میں واک کیا۔ اس کے بعد ہم لوگ کاکا فیملی کے ایک فرد جناب کاکا حامد صاحب کی رہائش گاہ پر گئے۔ میں نے پیشگی طورپر کہہ دیا تھا کہ وہاں صرف چائے ہوگی، اس کے سوا کچھ اور نہیں۔ چنانچہ اس کے مطابق عمل کیاگیا۔ یہ ایک غیر رسمی نشست تھی۔ اس میں مولانا کاکا سعید احمد عمری کے علاوہ تقریباً پندرہ علما شریک تھے۔

اِس مجلس میں تقریباً ایک گھنٹے تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، عالم اور غیر عالم، عرب اور غیر عرب سب ایک مشترک برائی میں مبتلا ہیں اور وہ منفی سوچ (negative thinking) ہے۔

منفی سوچ ایک قاتل سوچ ہے۔ وہ آدمی کی دنیا کو بھی تباہ کرتی ہے اور آخرت کو بھی تباہ کردیتی ہے۔ منفی سوچ کا پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آدمی فیضانِ خداوندی (divine inspiration)سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر وہ ربانی شخصیت نہیں بنتی جس کو قرآن میں قلبِ سلیم (26:89) کہاگیا ہے۔ منفی سوچ کا دوسرا عظیم تر نقصان یہ ہے کہ ایسا آدمی آخرت کی اعلیٰ جنت میں داخلے کے لیے محروم قرار پاتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اِس معاملے میں سخت محتاط رہے اور کسی بھی عذر کی بنا پر وہ ادنیٰ درجے میں منفی سوچ کا شکار نہ ہو۔ ہر دوسرا نقصان بلا شبہ منفی سوچ میں مبتلا ہونے سے کم ہے۔

ایک صاحب نے کہاکہ علمائے سلف پر علمی تنقید تو علمائے راسخین کے درمیان جاری رہی ہے،لیکن مجھے آپ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علمائے سلف کا اعتراف نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میں آپ لوگوں سے زیادہ اسلاف کا اعتراف کرتاہوں۔ آپ لوگ تو صرف فضائل بیان کرتے ہیں۔ میں نے خاص علمی اور تاریخی اعتبار سے اسلاف کے رول کی اہمیت کوواضح کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اِس معاملے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو کا میں بہت زیادہ اعتراف کرتا ہوں۔ یہ پہلو ہے— علوم اسلامی کی تدوین، دینی علم کا تسلسل بعد کی نسلوں میں جاری رکھنا، مصادرِ شریعت کو اس کی اصل صورت میں محفوظ رکھنا، وغیرہ۔ یہ سب کام بلا شبہ ہمارے اسلاف نے انجام دیا ہے۔ یہ بلاشبہ بہت بڑا کام ہے۔ اِس کام کی اہمیت اس موازنہ سے سمجھی جاسکتی ہے کہ اِس قسم کے علما اور محققین دوسرے مذاہب میں پیدا نہیں ہوئے۔ چنانچہ دوسرے مذاہب اپنی اصل حالت میں محفوظ نہ رہ سکے۔ یہ ہمارے اسلاف کا کارنامہ ہے کہ دینِ اسلام آج پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہے۔

اِس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو جدید حالات سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ جدید حالات تقریباً تین سو سال سے دنیا میں موجود ہیں۔ میرا کہنا یہ ہے کہ اِس دور کے علما نئے حالات کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے غلط اقدامات کرکے موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو شدید نقصان میں مبتلا کردیا۔

اِس مجلس میں اور بعض دوسری مجلسوں میں میں نے دیکھا کہ کاکا فیملی کے کئی افراد وہاں شریک تھے، لیکن ان کے اندر میں نے یہ انوکھی صفت پائی کہ جب کوئی سینئر شخص بولتا تھا تو فیملی کے تمام جونیئر ممبران خاموش رہ کر اس کی بات سنتے تھے۔ یہ قدیم روایت (tradition) کاکا فیملی میں اب بھی پوری طرح موجود ہے۔کاکا حامد صاحب کے یہاں سے فارغ ہو کر ہم لوگ کمرے میں آگئے۔ یہاں صبح کا سادہ ناشتہ کیاگیا۔ یہ ناشتہ وہی تھا جو یہاں طلبا کو روزانہ دیا جاتا ہے۔ ناشتے کے وقت ہمارے ساتھ کئی علما اور دُعاۃ موجود تھے۔ اِن لوگوں سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔

ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ مشن سے علما بہت کم جڑے ہوئے ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں۔علما اپنے روایتی ذہن کی بنا پر اب تک الرسالہ مشن سے بہت کم جڑ سکے تھے، مگر اب خدا کے فضل سے انڈیا اور انڈیا کے باہر کے مختلف مدارس اور مکاتب فکر کے سنجیدہ علما بڑی تعداد میں الرسالہ مشن سے جڑ گئے ہیں۔ اپریل 2010 میں الرسالہ مشن کی طرف سے دہلی میں جو دعوہ میٹ (Dawah Meet)ہوئی تھی، اس میں شرکت کرنے والے صرف علما کی تعداد تقریباً 25 تھی۔میں نے کہاکہ ذاتی ملاقاتوں، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ علما کے درمیان الرسالہ اور اس کے تحت تیار کردہ لٹریچر بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ خاص طورپر علما کے درمیان الرسالہ مشن کو متعارف کرنے میں میرے ساتھی مولانا محمد ذکوان ندوی کا بہت بڑا رول ہے۔ وہ ایک سنجیدہ اور معتدل مزاج کے آدمی ہیں۔ علما سے ان کے اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے خاموش پلاننگ کے ذریعے علما کے تقریباً تمام حلقوں تک الرسالہ مشن کے دعوتی پیغام کو پہنچا دیا ہے۔ جامعہ دارالسلام کا یہ پروگرام بھی انھیں کی بالواسطہ کوششوں کے ذریعہ ممکن ہوسکا ہے۔

10 جون 2010 کی صبح کو دس بجے سے بارہ بجے تک لائبریری کے ہال میں ایک پروگرام تھا۔ اِس پروگرام کا موضوع یہ تھاعصری اسلوب میں سیرتِ رسول کا تعارف۔ اِس پروگرام میں علما اور دعاۃ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

میں نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا، وہ یہ تھا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کا ایک ہی ابدی مشن ہے، اور وہ دعوت ہے۔ زمانہ کے اعتبار سے اس میں جو فرق ہوتا ہے، وہ صرف طرز خطاب اور اسلوب (idiom) کے اعتبار سے ہوتا ہے، نہ کہ خودمشن کے اعتبار سے۔ پیغمبر اسلام کا مشن اول بھی دعوت ہے اور آخر بھی دعوت۔ ’حجۃ الوداع‘ کے بعد اصحابِ رسول کی بڑی تعداد عرب کے باہر مختلف ملکوں میں چلی گئی۔ وہاں انہوں نے لوگوں کو دینی معنی میں اسلامائز کیا، نہ کہ سیاسی معنی میں۔ موجودہ زمانے میں سیاسی اسلامائزیشن کا چرچا ہے، مگر رسول اور اصحاب رسول کے ماڈل سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

میں نے کہا کہ دعوت الی اللہ کا کام ایسا نہیں ہے جس کو ایک بار کردیا جائے اور پھر اس کی ضرورت باقی نہ رہے۔ دعوت کا عمل ایک مسلسل عمل (continuous process) ہے، کیوں کہ انسان پیدا ہوتے ہیں اور کچھ دن زندہ رہنے کے بعد مرجاتے ہیں۔ اِس طرح بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن آجاتی ہے۔ اِس لیے ہر جنریشن میں دعوتی کام کرنا ضروری ہے، تاکہ تمام انسانوں تک ان کے خالق کا پیغام پہنچ جائے۔

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا کہ قرآن میں:وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (8:60) آیا ہے۔ اِس میں اعدادِ قوت سے کیا مراد ہے۔ میں نے کہا کہ خود قرآن کی آیت میں اِس کا معیار بتادیاگیا ہے، اور وہ اِرہاب ہے، یعنی وہ قوت فراہم کرو جو فریق ثانی کے نزدیک قوتِ مرہبہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں جنگی ہتھیار کی حیثیت قوتِ مرہبہ کی نہیں ہے، بلکہ سائنسی علوم کو یہ حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ زمانے میں امریکا اس کی ایک مثال ہے۔ امریکا کے پاس ہر قسم کے جنگی ہتھیار موجود ہیں، لیکن ان کو استعمال کرنے کے باوجود وہ ویت نام، عراق، افغانستان، وغیرہ میں مکمل طورپر ناکام ہے۔

ایک سوال قرآن کی اِس آیت کے بارے میں تھا:أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (22:39)۔ میں نے کہا کہ اِس آیت سے یہ مطلب نکالا جاتا ہے کہ کسی فریق کے ساتھ ظلم کا واقعہ ہو تو اہلِ اسلام کے لیے جنگ جائز ہوجاتی ہے، مگر یہ ایک شدید غلط فہمی ہے۔ یہ مدنی آیت ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، مکی دور میں افراد کے ساتھ بار بار ظلم کیاگیا، لیکن اُس وقت یہ آیت نہیں اتری۔ یہ آیت ہجرت کے بعد مدینہ میں اتری۔ اِس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی اِس آیت میں ظلم سے مراد انفرادی ظلم نہیں ہے، بلکہ فوجی حملہ ہے، یعنی ایک بیرونی حکومت کا مسلم حکومت پر باقاعدہ فوج کے ذریعے حملہ آور ہونا۔

اِس معاملے میں دوسری بات یہ ہے کہ جب فوج کے ذریعے اِس قسم کا جارحانہ حملہ کیا جائے تو اُس وقت بھی صرف حکومت کو دفاعی جنگ (defensive war) کی اجازت ہوگی۔ غیر حکومتی افراد اور تنظیموں (NGOs) کو اُس وقت بھی مسلح جنگی کارروائی کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ موجودہ زمانے کے علما، عرب اور غیر عرب دونوں نے، جو شدید ترین غلطی کی ہے، وہ یہ کہ انہوں نے ظلم کے نام پر غیرحکومتی عسکریت (non-governmental militancy) کو شرعی اعتبار سے جائز قرار دیا۔ بلاشبہ یہ ایک مہلک غلطی تھی۔مجھے اس معاملے میں کسی عرب یا غیر عرب عالم کا استثنا نظر نہیں آتا۔

ہمارے یہاں سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ شائع کیاگیا ہے، اس کی بابت پروگرام کے آخر میں جناب ریاض موسی صاحب نے بتایا کہ میں نے انگریزی جاننے والے افراد کی ایک ٹیم کو یہ ترجمہ دیا۔ اور میں نے کہا کہ دوسرے انگریزی تراجم سے اِس کا تقابل کرنے کے بعد مجھ کو بتائیے کہ کون سا ترجمہ سب سے زیادہ واضح اور عصری زبان میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ تقابل کرنے کے بعد ان لوگوں نے متفقہ طورپر کہا کہ صرف گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) سے شائع ہونے والا انگریزی ترجمہ اِس معیار پر پورا اترتا ہے۔ اس میں پوری طرح وضوح (clarity) ہے، اور اِسی کے ساتھ وہ اتنی آسان زبان میں ہے کہ اس کو ڈکشنری کی مدد کے بغیر پڑھا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی تراجم میں سب سے زیادہ قابلِ فہم ترجمہ ڈاکٹر بشیر محی الدین (افریقہ) کا ترجمہ مانا جاتا ہے، لیکن گڈ ورڈ سے شائع ہونے والا ترجمہ اس سے بھی زیادہ واضح اور قابلِ فہم ہے۔

10 جون 2010 کو ظہر کی نماز کے بعد خطاب کا ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے کلیہ ہال میں کیا گیا۔ اِس میں دعاۃ اور طلبا کے علاوہ، جامعہ کے اساتذہ بھی شریک ہوئے۔ اِس پروگرام کا موضوع یہ تھا:سیرت ایک تحریک کی حیثیت سے۔ اِس موضوع پر میں نے ڈیڑھ گھنٹے کی ایک تقریر کی۔ اِس تقریر کا خلاصہ یہاں مختصر طور پر نقل کیا جاتاہے۔

میں نے کہا کہ تحریک (movement) ایک ایسا عمل ہے جو ایک شخص یا گروہ کی طرف سے دوسرے گروہ کے مقابلے میں برپا ہوتا ہے۔ اِس طرح کسی تحریک کے تقاضے دو طرفہ ہوجاتے ہیں، یعنی ایک طرف داعی کی نسبت سے اور دوسری طرف مدعوکی نسبت سے۔ آپ نماز خود اپنے فیصلے کے تحت پڑھ سکتے ہیں،لیکن تحریک کی کامیابی اِس میں ہے کہ آپ دوسروں کو بھی بخوبی طورپر جانیں اور دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں اِس کا اعلیٰ نمونہ پایا جاتا ہے۔

موجودہ زمانے میں اٹھنے والی مسلم تحریکیں اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے ناکام ہوگئیں۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ اِن تحریکوں کے چلانے والے صرف اپنے آپ کو جانتے تھے، دوسروں کے بارے میں وہ پوری طرح بے خبر تھے۔

میں نے جہاں تک سیرتِ رسول کا مطالعہ کیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اِس معاملے میں پیغمبر اسلام ﷺ کے طریقے کو ایک لفظ میں پازیٹیو اسٹیٹس کوازم (positive statusquoism) کہا جاسکتا ہے، یعنی د سروں کی مکمل رعایت کرتے ہوئے انتہائی حد تک غیر نزاعی انداز میں اپنا کام کرنا۔ رسول اللہ ﷺ کی اِس حکیمانہ پالیسی کا اعتراف برطانی مستشرق ای ای کلیٹ (EE Kellett) نے اپنے الفاظ میں اس طرح کیا ہے — انہوں نے مشکلات کا سامنا اِس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں:

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. (A Short History of Religions by E.E. Kellet, pp. 331-32)

سیرتِ رسول کے اِس پہلو کو میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس کی وضاحت کے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے بہت سے واقعات بیان کیے۔

پروگرام کے بعدحاضرین کو سوال وجواب کا وقت دیاگیا، مگر کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ چنانچہ جلسے کے اختتام کا اعلان کردیاگیا۔ مولانا کاکا سعید احمد عمری نے اِس خطاب کے بارے میں کہا کہ یہ سیرتِ رسول کے موضوع پر سب سے اچھا خطاب تھا۔ کاکا صاحب نے جامعہ کے لوگوں سے کہا کہ وہ اِس پورے خطاب کو جامعہ کے ترجمان ماہ نامہ ’’راہِ اعتدال‘‘ میں شامل کریں۔

پروگرام کے خاتمہ پر ہم لوگ عصر کی نماز کے لیے مسجد میں گئے۔ مسجد کافی کشادہ، مگر نہایت سادہ تھی۔ مسجد کی دیواروں پر اُس قسم کی کوئی چیز موجود نہ تھی جو اکثر مسجدوں میں ہوتی ہے اور نمازیوں کے لیے ڈسٹریکشن کا کام کرتی ہے۔ یہ مسجد مکمل طورپر سادہ اور مکمل طورپر پر سکون تھی۔ طلبا کے اندر نہایت سنجیدگی اور ڈسپلن دکھائی دے رہا تھا۔

نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر آگئے۔ یہاں لائبریری کے باہری ہال میں کئی دوسرے مقامات کے لوگ اکٹھا تھے۔ مثلاً وانیمباڑی (تمل ناڈو)، بنگلور، حیدرآباد،وغیرہ۔ اِن لوگوں سے دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک بات میں نے وقت کے بارے میں کہی۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو ہمارے پروگرام میں شرکت کے لیے آئے، لیکن وہ یہاں دیر میں پہنچے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے شعوری کی بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی کے لیے دو میں سے ایک کا اختیار ہے— یا تو وقت پر آنا، یا پھر نہ آنا۔ اِس کے سوا تیسری کوئی صورت نہیں۔

ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل مسلمانوں کا یہ حال ہوگیا ہے کہ وہ معاملے کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہ طریقہ بالکل لا حاصل ہے۔ میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے:‌اتّقُوا ‌فِراسَةَ ‌المؤمنِ، فإنَّه يَنْظُرُ بِنُورِ اللهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3127)۔ یعنی، مومن کی فراست سے بچو، کیوں کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ اِس حدیث کے مطابق، سچا ایمان آدمی کے اندر ایک ربانی روشنی پیدا کرتا ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مومن کی منصوبہ بندی کے مقابلے میں، دوسرے لوگ دفاعی پوزیشن میں آجاتے ہیں۔ اِس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ مسلمان دوسروں کے خلاف شاکی بنے ہوئے ہوں تو اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ فراستِ ایمانی سے محروم ہیں۔ اِس لیے ایسا ہوا ہے کہ اُن کے مقابلے میں، دوسروں کو بالادستی حاصل ہوگئی ہے۔

بنگلور کے حلقہ الرسالہ کے تقریباً 15 لوگ ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے اُن سے دعوت اور آخرت کے موضوع سے متعلق کچھ باتیں کہیں جس کو سن کر وہ رونے لگے۔ انہوں نے مجھ سے نصیحت کے لیے کہا۔ میں نے کہا کہ میں آپ لوگوںکو صرف ایک نصیحت کروں گا۔وہ یہ کہ آپ آج سے اِس بات کا فیصلہ کرلیں کہ آپ کو اپنے اندر ’’قلب سلیم‘‘ پیدا کرنا ہے اور اِسی حال میں آپ کو جینا اور اسی حال میں مرجانا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک ایسے آدمی کی نصیحت ہے جو قبر کے کنارے کھڑے ہو کر آپ کو یہ نصیحت کررہا ہے۔

جامعہ کے ایک استاد حافظ شیخ کلیم اللہ عمری مدنی ملاقات کے لیے آئے۔ انہوں نے اپنے چند کتابچے برائے مطالعہ پیش کیے۔ مثلاً محبتِ الٰہی کے ذرائع اور اخلاقیات، وغیرہ۔ اِس موقع پر جامعہ کے ایک نوجوان اور سنجیدہ استاذ مولانا حافظ محمد ابراہیم عمری نے اپنی کتاب ’’انتہاپسندی اور اسلام‘‘ مطالعے کے لیے دی۔ یہ ایک اچھی کتاب ہے۔ وہ 216 صفحات پر مشتمل ہے۔

10جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاد مولانا ڈاکٹر سعید احمد عمری ملاقات کے لیے آئے۔ اُن سے بعض مسائل پر گفتگو ہوئی۔ ایک مسئلہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے علمی انحطاط کا سبب کیا ہے، جب کہ ماضی میں وہ علمی ترقی کے اعتبار سے ممتاز مقام پر پہنچ گئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب ہم مسلمان یا ملتِ مسلمہ کا لفظ بولتے ہیں تو شعوری یا غیر شعوری طورپر ہم اس کو ایک تسلسل کے روپ میں دیکھنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات خلافِ واقعہ ہے۔میں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ معاملہ سادہ طورپر مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کی دو مختلف نسلوں کا معاملہ ہے، یعنی دورِ عروج کی مسلم نسلیں اور دورِ زوال کی مسلم نسلیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا علمی زوال ان کے اپنے نسلی زوال کا نتیجہ ہے، اور دورِ زوال میں یہ ہر قوم کے ساتھ پیش آتا ہے۔

ایک سوال یہ تھا کہ مطالعہ قرآن کا اصول کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مطالعہ قرآن کے بہت سے اصول علما نے لکھے ہیں، لیکن میرے اپنے تجربے کے مطابق، سب سے بڑا اصول دعاہے۔اِس سلسلے میں مجھ کو امام ابن تیمیہ کا طریقہ بہت پسند ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بعض مرتبہ ایک آیت کو سمجھنے کے لیے میں نے سو سو تفسیروں کا مطالعہ کیا ہے۔ مطالعہ کے بعد میں اللہ تعالیٰ سے آیت کے فہم کی دعا کرتے ہوئے کہتا ہوں:يَا مُعَلِّمَ ‌إبْرَاهِيمَ ‌عَلِّمْنِي (اعلام الموقعین لابن القیم، جلد4، صفحہ 198)۔ یعنی، اے ابراہیم سکھانے والے مجھے بھی سکھا۔

میں نے کہا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے اللہ سے دعا کرنا گویا کہ کسی کتاب کو سمجھنے کے لیے اس کے مصنف سے کنسلٹ کرنا ہے۔ قرآن واحد کتاب ہے جس کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ آپ ہر لمحہ اس کے مصنف سے کنسلٹ کرسکتے ہیں۔ اِس کو سن کر ڈاکٹر سعید احمد عمری نے کہا کہ مطالعۂ قرآن کے لیے آج شاہ کلید ہاتھ آگئی۔ اِس مجلس میں دوسرے کئی علما موجودتھے۔ مولانا کاکا سعید احمد عمری نے کہا کہ امام ابن تیمیہ کی یہ بات ہم بہت پہلے سے جانتے تھے، لیکن آج آپ کی زبان سے اس کی اثر انگیز تفصیل سن کر اس کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔

ایک سوال یہ تھا کہ مسلم تاریخ جو بعد کو لکھی گئی، وہ زیادہ تر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے ہم معنی بن گئی ہے۔ مسلم سرگرمیوں کے دوسرے پہلو مثلاً دعوت وتبلیغ کے تفصیلی واقعات اس میں شامل نہ ہوسکے۔ اب اِس کمی کی تلافی کس طرح کی جاسکتی ہے۔

میں نے کہا کہ بظاہر اب اِس کی تلافی ممکن نہیں۔ کیوں کہ تاریخ (history) ناول کی طرح محض اپنے ذہن سے نہیں لکھی جاسکتی۔ اس کے لیے ضروری معلومات (data) درکار ہے جو کہ عملاً موجود نہیں۔ میں نے کہا کہ اِس ضرورت کا احساس بہت پہلے عبد الرحمن بن خلدون (وفات 1406ء) کو ہوا تھا۔ انہوں نے اِس موضوع پر ایک کتاب لکھنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے آغاز میں ایک مفصل مقدمہ لکھا۔ اِس کے بعد انہوں نے سات جلدوں میں ایک کتاب لکھی جس کا نام یہ ہے:الْعِبَرُ وَدِيوَانُ الْمُبْتَدَإِ وَالْخَبَرِ فِي تَارِيخِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ وَالْبَرْبَرِ۔

لیکن خود ابن خلدون اپنی اِس تاریخ کو اُن اصولوں کے مطابق، تیار نہ کرسکے جس کو انہوں نے اپنے ’’مقدمہ‘‘ میں تحریر کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مقدمہ تو وہ اپنے ذہن سے لکھ سکتے تھے، لیکن ایک نئی تاریخ لکھنے کے لیے بنیادی معلومات (data) کی ضرورت تھی اور وہ موجود نہ تھیں۔ اب اگر کوئی شخص بہت زیادہ محنت کرے تو وہ مختلف ماخذ سے اِس نوعیت کی کچھ معلومات حاصل کرسکتا ہے، لیکن وہ معلومات اتنی زیادہ نہ ہوںگی کہ پوری تاریخ از سرِ نو لکھی جاسکے۔

پوری مسلم تاریخ کو اب از سرِ نو مرتب کرنا تو ممکن نہیں، لیکن میری یہ تمنا ہے کہ سیرتِ رسول کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کروں۔ اگر ایک پوری ٹیم کے ساتھ احادیث رسول کا اور دوسرے متعلق ذخائر کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو امید ہے کہ سیرت کے موضوع پر ایک نئی کتاب تیار کی جاسکتی ہے۔ سیرت کے موضوع پر جوکتابیں لکھی گئی ہیں، وہ غزواتی پیٹرن پر لکھی گئی ہیں، جب کہ سیرت کے موضوع پر صحیح کتاب وہ ہے جو دعوتی پیٹرن پر لکھی جائے۔ میں نے جزئی طورپر یہ کام کیا ہے، لیکن کلی طورپر اِس کام کو انجام دینا ابھی باقی ہے۔

آخر میں میں نے اپنی دو کتابیں اپنے دستخط کے ساتھ ڈاکٹر سعید احمد عمری کو بطور تحفہ پیش کیں— اللہ اکبر، پیغمبر انقلاب۔ اِس کے بعد مغرب کی نماز لائبریری ہال میں جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ نماز میں تقریباً 15 علما موجود تھے۔ اِس نماز کی امامت میرے ساتھی مولانا حافظ محمد ذکوان ندوی نے کی۔ مغرب کے بعد میری قیام گاہ پر کئی علما آگئے۔ ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔

اِس مجلس میں میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حدیث کی کتابوں میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ باربار استغفار کرتے تھے۔ بعض روایات کے مطابق 70 بار، بعض روایات کے مطابق، 100 بار اور بعض روایتوں کے مطابق، اِس سے بھی زیادہ بار آپ استغفار فرماتے تھے۔ شارحینِ حدیث نے اِس کی تاویل میں لمبی بحثیں کی ہیں، لیکن اصل یہ ہے کہ یہ عجز کا ظاہرہ تھا۔ عجز کی دریافت بلاشبہ کسی مومن کی سب سے بڑی دریافت ہے۔ خدا کے تمام پیغمبر اِس معاملے میں کمال کے درجے پر تھے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر احساسِ نبوت میں نہیں جیتا، بلکہ وہ احساسِ عبدیت میں جیتا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں کسی انسان کے پاس جو سب سے بڑا سرمایہ ہے، وہ صرف ایک ہے اور وہ عجز ہے۔اِس کے بعد ہم لوگ جامعہ کی مسجد میں گئے اور وہاں عشاء کی نماز با جماعت ادا کی۔باہر ہلکی بارش ہورہی تھی، اِس لیے عشاء کی نماز کے بعد دوبارہ ہم لوگ لائبریری میں اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔ یہاں دوبارہ کچھ طلبا اور اساتذہ اکٹھا ہوگئے۔

مولانا سید اقبال احمد عمری نے جامعہ دارالسلام کے متعدد اساتذہ سے الرسالہ مشن کے بارے میں ان کے تاثرات معلوم کیے، جو انھیں کے الفاظ میں یہاں مختصراً نقل کیے جاتے ہیں:

1 ۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب سے میرے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ مجھے ان کی مختلف تحریریں پڑھنے کو ملیں۔ ان تحریروں میں اسلام اور متعلقات اسلام پر ان کے جدید اندازِ تعبیر نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اِس طرح مجھ کو مولانا سے ایک قلبی اور روحانی تعلق پیدا ہوگیا۔  جامعہ کے جشن طلائی کے موقع پر جب مولانا یہاں آئے تو اپنے دلی تعلق کی وجہ سے میں نے مولانا کو دوسرے مہمانوں کے ساتھ ٹھہرانے کے بجائے اپنے خاص کمرے میں ٹھہرایا تھا۔ میں مولانا کی تحریروں کا شائق تھا۔ چنانچہ جب مولانا کی کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا اشتہار دیکھا تو اس کے نسخے منگوائے۔ خود بھی پڑھا اور کچھ دوسرے احباب کو بھی پڑھنے کے لیے دیا۔ جہاں تک مولانا سے متاثر ہونے کا سوال ہے، یہاں خلاصہ کے طورپر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان سے میں بہت متاثر ہوں۔ وہ اپنے طرزِ تعبیر میں منفرد ہیں۔ وہ اپنے طرز تعبیرکے موجد بھی ہیں اور متبع بھی۔ مولانا کا علم بہت گہرا ہے۔ اسلام کی تعبیر کا جو خاص ملکہ ان کو حاصل ہے، وہ منفرد اور قابلِ مطالعہ ہے۔ میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ ابھی وہ میرے گھر آتا ہے۔ مولانا کے علمی استدلال کے انداز سے سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے، نہ یہ کہ خواہ مخواہ اس سے علمی استفادہ کرنے سے دور رہیں‘‘۔(حضرت مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی، سابق شیخ الحدیث، جامعہ دارالسلام، عمر آباد)

2۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کو وقت کی زبان اور اسلو ب میں پیش کرنا، ایک کامیاب طریقہ ہے۔ جو لوگ مولانا کے لٹریچر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، یا براہِ راست ان سے استفادہ کررہے ہیں، اس کے مطابق، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام کو پیش کرنے کا یہ طریقہ زیادہ مناسب بھی ہے اور مستحسن بھی۔ میں الرسالہ دیکھتا ہوں۔ تذکیر القرآن کا جستہ جستہ مطالعہ کیا ہے۔ آئندہ اس کو بالاستیعاب مطالعہ کرنے کا ارادہ ہے۔ مولانا کے پاس وقت کی زبان اور وقت کے اسلوب میں اسلام کو پیش کرنے کا اچھا طریقہ ہے ‘‘۔ (حضرت مولانا سید عبدالکبیر عمری، شیخ التفسیر، جامعہ دار السلام، عمرآباد)

3 ۔ ’’مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں میں میری سب سے پسندیدہ کتاب       ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ ہے۔ اِس میں مولانا نے اسلامی عقائد کو عصری دلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ دورِطالب علمی ہی سے الرسالہ میرے مطالعہ میں رہا ہے، اس کا ا سلوب مجھے بہت اچھا لگتا ہے کہ معمولی واقعات کے اندر ہمارے لیے کیسے اسباق موجود ہیں۔ یہ درحقیقت قرآنی اسلوب ہے جو ایک مومن کو فراستِ ایمانی کے نتیجے میں ملتا ہے۔ مولانا سے ملنے کی خواہش بہت دنوں سے تھی، مگر اس کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ جامعہ آمد پر مولانا سے ملنے کی میری دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور مولانا سے براہِ راست سننے اور استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ مولانا نے بڑی محبت سے ملاقات کی اور میری قدر افزائی فرمائی۔ اِس سے مجھے اندازہ ہوا کہ مولانا کے دل میں اہلِ علم کے لیے بڑی قدرہے۔ میں نے مولانا سے چند سوالات کیے۔ مولانا نے بڑی جامعیت کے ساتھ ان کا مختصر مگر بھر پور جواب دیا۔ جو مولانا کے وسیع مطالعہ کے علاوہ ان کے ذاتی غور وفکر کی دین ہے۔ اِس کے علاوہ، مولانا نے اپنا مثبت نقطہ نظر ہرجگہ ملحوظ رکھا۔ ایسا عام طورسے نہیں ہوتا۔ دعوتِ دین کے سلسلے میں مولانا کو میں نے بڑا فکر مند پایا۔ مولانا اسلام کے پیام امن وسلامتی کو بہت زیادہ واضح کرنے کے داعی ہیں، تاکہ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے کا پردہ چاک کیا جاسکے۔ مولانا کی گفتگو وتحریر میں جدید تحقیقات کے حوالے کا رنگ غالب ہے۔ وہ دینی حقائق اور جدید علمی حقائق میں ہم آہنگی ثابت کرنا چاہتے ہیں‘‘۔ (مولانا ڈاکٹر شیخ سعید احمد عمری، استاد تفسیرو ادب عربی، جامعہ دار السلام، عمر آباد)

11 جون 2010 کو ہماری واپسی تھی۔ فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ کی مسجد میں پڑھی۔ یہاں کے دستور کے مطابق، نماز کے بعد تمام طلبا قرآن کی تلاوت کے لیے مسجد میں بیٹھ گئے۔ چوں کہ مجھے آج صبح کو روانہ ہونا تھا، اِس لیے تلاوت کو تھوڑی دیر تک ملتوی کرکے مجھے خطاب کے لیے کہا گیا۔ سامعین میں طلبا اور اساتذہ دونوں موجود تھے۔

میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، ان میں سے کچھ باتیں یہ تھیں۔ میں نے کہا کہ آپ دنیا میں کہیں بھی جائیے، ہر جگہ آپ کو مسجدیں اور مدرسے دکھائی دیں گے۔ مسجدیں عبادت کے مرکز کے طورپر، اور مدرسے تعلیم کے مرکز کے طورپر۔ یہ مسجد اور مدرسے گویا کہ اسلام کا گلوبل انفراسٹرکچر (global infrastructure) ہیں۔ اِن دینی اور تعلیمی اداروں کے ذریعے اسلام نے تاریخ میں اپنا تسلسل برقرار رکھا ہے۔پھر میں نے کہا کہ آج ہم کسی روک ٹوک کے بغیر مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں اور مدارس میں ہماری اگلی نسلوں کے لیے تعلیمِ دین کا نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ ایک نہایت عظیم بات ہے جس کے لیے ہمارا سینہ شکر سے معمور ہونا چاہیے۔ میں نے کہاکہ قرآن میں دربارِ فرعون کے رجلِ مومن کے بارے میں آیا ہے:يَكْتُمُ إِيمانَهُ (40:28)۔ یعنی، وہ اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا۔

یہ ایک شخص کی بات نہیں، بلکہ ایک دور کی بات ہے۔ قدیم زمانہ کتمانِ ایمان کا زمانہ تھا، موجودہ زمانہ اظہارِ ایمان کا زمانہ ہے۔ یہ آزادی اصحابِ رسول کے ذریعے لائے ہوئے انقلاب کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے۔ آپ اِس پر غور کریں تو آپ کے سینے میں شکر کا دریا جاری ہوجائے گا۔ اگر آپ اِس انقلابی تبدیلی پر غور کریں تو شکایت کاکوئی شائبہ بھی آپ کے دل میں باقی نہ رہے گا۔

اِس کے بعد میں نے خصوصی طور پر طلبا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا دینے اور لینے (give and take) کی دنیاہے۔ اِس دنیا کا اصول یہ ہے کہ— جتنا دینا، اتنا پانا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ دنیا کی مختلف سرگرمیوں میں داخل ہوںگے۔ آپ صرف ایک چیز کو اپنے سامنے رکھیے، اور وہ امتیاز (excellence) ہے۔ آپ جو کام بھی کریں، ممتاز طور پرکریں، حتی کہ اگر آپ موذن بنیں تو سب سے اچھی اذان دینے والے موذن بنیں۔ یہی اِس دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو حضرت علی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— قِيمَةُ الْمَرْءِ مَا يُحْسِنُهُ:

The value of a person lies in excellence.

نماز کے بعد ہم لوگ لائبریری کے کمرے میں واپس آگئے۔ یہاں معتمد جامعہ مولانا کاکا سعید احمد عمری اور دوسرے اساتذہ آخری ملاقات کے لیے آگئے۔ یہاں صبح کی چائے پینے کے بعد مدراس کے لیے روانگی ہوئی۔ دوپہر کے وقت ہم لوگ مدراس ائر پورٹ پر پہنچے۔ ائر پورٹ کی نئی تعمیر کی جارہی ہے۔ چنانچہ یہاں تعمیرات کا کام بڑے پیمانے پر جاری تھا۔ ہم لوگ ائر پورٹ پر کچھ دیر بیٹھے۔ یہاں ائرپورٹ کے عملہ کے ایک ساتھی محمد آزاد صاحب ہم لوگوں کا ای ٹکٹ لے کر گئے اور انہوں نے ہمارا بورڈنگ پاس بنوا کر ہمیں دے دیا۔ ہم لوگ 11 جون 2010 کی دوپہر کو دو بجے جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ شام کو ہم لوگ دہلی کے ائر پورٹ پر اترے ، اور بذریعہ کار  نظام الدین اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion