دارالعلوم دیوبند کا سفر

صحیح آغاز او راستقلال — اسی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔

دیوبند بظاہر ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ (تادم تحریر) ساٹھ کرور انسانوں کے اس عظیم ملک میں جس کا رقبہ تقریباً 12 لا کھ میل ہے۔ دیوبند جیسے چھوٹے قصبہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ مگر تاریخ اور انسانی عمل جغرافیائی حقیقتوں کا پابند نہیں ہوتا۔ پہلے سو سال کے اندر اس چھوٹے سے قصبہ میں وہ تاریخ بنی جس نے پورے ہندستان پر اثر ڈالا ہے اور شاید آج کے مسلمانوں کا تو سب سے بڑاسرمایہ وہی ہے جو اس قصبہ کے اندر دفن ہے۔

 النادي الادبی (دارالعلوم دیوبند) کی دعوت پر دیوبند کا چند روزہ سفر ہوا۔ 2 ستمبر 1971کی دوپہر کو میں وہاں پہنچا اور 5 ستمبر کی شام کو دہلی واپسی ہوئی۔

2 ستمبر کی شام کو النادي الادبی کا سالانہ اجتماع تھا۔ یہ دار العلوم دیو بند کے طلبہ کی عربی مجلس ہے، جو عربی تحریر و تقریر کی مشق کے لیے قائم کی گئی ہے۔ یہ اس تعمیری طریقِ کار کا ایک اچھا نمونہ ہے، جس کی ترغیب ہفت روزہ الجمعیۃ مسلسل دیتا رہتا ہے۔

دیگر عربی مدارس کی طرح، دار العلوم دیوبند میں بھی عر بی تحریر و تقریر کا کوئی ماحول نہیں تھا۔ مگر چھ سال پہلے ایک استاد نے اپنے آپ کو اس کام کے لیے وقف کر دیا۔ اور آج یہاں سینکڑوں ایسے طالب علم پیدا ہو چکے ہیں، جو بے تکلف عربی بول سکتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے خود اپنی ذاتی جد و جہد سے عربی لکھنا، بولنا سیکھا اور اس کے بعد طلبہ کو سکھانا شرو ع کر دیا اور اس کا نتیجہ النادی الادبی ہے جو آج یہاں کے طلبہ کی سب سے زیادہ زندہ اور فعال انجمن ہے۔

النادي الادبی صرف عربی لکھنے بولنے کی مشق کی انجمن نہیں ہے، بلکہ وہ طلبہ کی اخلاقی تربیت کا بھی موثر ادارہ بن گئی ہے انجمن کے سربراہ ایک بلند حوصلہ انسان ہیں اور وہ طلبہ کے اندر مسلسل حوصلہ اور امنگ اور اعلیٰ انسانی اوصاف پیدا کرنے کی جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی الگ الگ تقسیموں میں بٹی ہوئی کوئی چیز نہیں، بلکہ وہ ایک وحدت ہے۔ پانی کے گلاس میں رنگ کی ایک بوند ڈالی جائے تو وہ ایک طرف نہیں پڑی رہے گی بلکہ سارے پانی میں پھیل جائے گی اور پورے گلاس کو رنگین بنا دے گی۔ چنانچہ النادی الادبی طلبہ کے اندر عربی لکھنے بولنے کا جو جذبہ پیدا کر رہی ہے، وہ جذبہ ان کی پوری زندگی میں ایک نیا جوش و خروش پیدا کر رہا ہے— ان کی نحو و صرف اچھی ہو رہی ہے، ان کی درسیات مضبوط ہو رہی ہیں۔ ان کے اسلامی جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کے اندر اخلاقی اوصاف ترقی کر رہے ہیں۔ اس طرح ایک اعتبار سے جوش و خروش پیدا کرنا پوری زندگی کو جوش و خروش میں تبدیل کرنے کا سبب بن رہا ہے اور سارے وجود میں ایک نئی عملی روح پھونک رہا ہے۔

النادی الادبی کے سالانہ اجتماع میں مجھے ’’مہمانِ خصوصی‘‘ کے طور پر بلایا گیا تھا۔ چار گھنٹے کی بڑی پُرکیف مجلس تھی۔ ساری کارروائی عربی میں ہوئی اور اتنی خوبی سے ہوئی کہ بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں بھی اس سے بہتر نظر نہ آئے گی۔ دارالعلوم کے بڑے ہال میں سات سو سے زیادہ طلبہ جمع تھے۔ ہال کو اتنی نفاست سے سجایا گیا تھا اور اتنے نظم اور سلیقے کے ساتھ سب کچھ ہو رہا تھا کہ میں بار بار یہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہی وہ ’’مولوی‘‘ ہیں جن پر دقیانوسیت اور زمانہ سے بے خبری کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

اس انتہائی منظم اور جدید ترین معیار کے اجتماع میں مجھے ایسا نظر آتا تھا گویا میں ملی صلاحیت کو دیکھ رہا ہوں۔ ہال میں بیٹھے ہوئے باوقار نوجوان ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ملت کی امنگیں ان کی شکل میں مجسم ہو گئی ہیں، وہ امنگیں جو سنگین ترین حالات میں بھی زندہ رہنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ تقریریں، مقالات، مکالمے اور عربی نظمیں نہایت عمدہ عربی لہجے میں اور بے تکلف انداز میں دہرائے جا رہے تھے۔ وقت ختم ہونے کی گھنٹی کے بعد مقرر فی الفور اسٹیج چھوڑ دیتا تھا۔ یہ سب چیزیں ’’الاحتفال السنوی للنادی الادبی‘‘ کو عجیب پُرکیف بنا رہی تھیں۔

میں نے اپنی ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ عربی تحریر و تقریر کی اہمیت کیا ہے۔ ادب کیا چیز ہے اور موجودہ زمانہ میں ادب نے کیا ہیئت اختیار کی ہے اور یہ کہ موجودہ زمانہ میں اسلام کی خدمت کے لیے کس قسم کے ادب کی ضرورت ہے۔

اوپر کے درجات کے منتخب طلبہ کا ایک اجتماع ہوا جس میں تقریبًا پچاس طلبہ شریک ہوئےاس موقع پر میں نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ موجودہ زمانے میں مادّیت نے ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جنہوں نے اسے خود فکری تضاد میں مبتلا کر دیا ہے، اور اب ایک نیا امکان پیدا ہو گیا ہے کہ دین کی دعوت کے ذریعہ انسان کو مادہ پرستی سے آخرت پسندی کی طرف لایا جائے۔

شام کو سجاد لائبریری کے زیرِ اہتمام دیوبند کی جامع مسجد میں ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مجھے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے مدعو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر میں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ موجودہ زمانہ میں کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں اور بدلے ہوئے حالات کے لحاظ سے ہمیں کیا طریق کار اختیار کرنا چاہیے۔

جمعیت علما دیوبند کے دفتر میں ایک نشست ہوئی جس میں مقامی جمعیت کے لوگ شریک ہوئے، اس موقع پر میں نے علما ہند کی تاریخ اور نئے حالات میں اس کی اہمیت کی وضاحت کی۔

ستمبر کی 15 تاریخ کوصبح میں طلبہ کی ایک نشست ہوئی، جس میں یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایک شخص عربی مدرسہ سے فارغ ہو کر جب عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو موجودہ حالات میں وہ کن مسائل سے دوچار ہوتا ہے اور ان کا حل کیا ہے۔

ان اجتماعات کے علاوہ دیوبند کے چند روزہ قیام میں مختلف لوگوں سے ملاقاتیں رہیں، اور مختلف دینی، علمی اور ملکی موضوعات پر تبادلۂ خیال جاری رہا ہے۔

ملت کی تعمیرِ نو کے لیے اس وقت ہمیں جو کام کرنے ہیں، ان میں سے ایک نوعیت کے کام تو وہ ہیں جو عمومی سطح پر درکار ہیں۔ مثلاً دینی تعلیم، مسلمانوں کی اجتماعی رہنمائی، مسلمانوں کے اندر ایمان اور عملِ صالح پیدا کرنا، جدید ضروریات کے مطابق اسلامی لٹریچر تیار کرنا، وغیرہ۔ان کاموں کے لیے ہمارے یہاں بہت سے ادارے اور جماعتیں سرگرمِ عمل ہیں۔

اسی کے ساتھ ایک اور ضروری کام یہ ہے کہ ہر جگہ کے حالات و وسائل کے لحاظ سے مقامی نوعیت کے کام کیے جائیں۔ ہر بستی کو ایک اکائی مان کر بستی کی سطح پر منصوبہ بندی کی جائے اور اپنے موجودہ وسائل کو منظم کر کے اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ مستقبل کی تعمیر میں مددگار ہو سکے۔ یہ دوسرا کام وہ ہے جس میں ہر فرد شریک ہو سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے مواقعِ کار کا اندازہ کرے اور اپنی ذاتی سطح پر ملت کی تعمیر کے لیے وہ جو کچھ کر سکتا ہے اس کے کرنے میں لگ جائے۔موجودہ حالات خواہ کتنے ہی دل شکن ہوں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی کتناہی لٹ گیا ہو، پھر بھی کوئی چیز اس کے پاس ’’اپنی‘‘ موجود ہوتی ہے،اور اگر دانش مندی سے کام لے کر اس حاصل شدہ چیز کو استعمال کرنا شروع کردیا جائے تو ہر بربادی کے اندر ایک نئی تعمیر کا امکان نکل آتا ہے۔

آج ہم میں ہزاروں، لاکھوں لوگ ایسے ملیں گے جو ملت کا مرثیہ پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے، جن کے پاس اصلاحِ ملت کی بڑی بڑی تجویزیں ہوں گی، مگر مشکل ہی سے اس کی کوئی مثال ملے گی کہ کسی مقام پر کچھ لوگ کوئی ایسا تعمیری کام کر رہے ہوں جو دوسروں کے لیے مثال بن سکے۔

آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مقام پر اپنے حالات کے لحاظ سے کسی تعمیری کام کا انتخاب کرے اور بس اس کی تکمیل میں لگ جائے۔ اسی طرح ہر بستی تعمیری سرگرمیوں کی ایک اکائی بن جائے۔ جب بہت سی اکائیوں میں تعمیری کام ہونے لگے گا تو ان کے مجموعہ سے جو چیز وجود میں آئے گی، اسی کا نام ملی تعمیر ہے۔

آج ملت میں کچھ ایسا انتشار ہے کہ کوئی ایسی بستی نہیں جس کو نام لے کر یہ کہا جا سکے کہ وہاں ایسا کام ہو رہا ہے اور دوسروں کے سامنے اس کی مثال پیش کی جائے۔ تاہم دیوبند میں مجھے نظر آیا کہ، اگرچہ بستی کی سطح پر نہیں، تاہم افراد کی سطح پر اس نوعیت کے کام کی کچھ اچھی مثالیں قائم ہو رہی ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔

اس سلسلے میں ملت کی تعمیرِ نو کے لیے اس وقت تین قسم کے کاموں کی ضرورت ہے:

1۔     فرد سازی:یعنی اپنے قریبی افراد کو لے کر ان کے اندر حالات کا شعور اور عمل کی امنگ پیدا کرنا اور ان کو موجودہ حالات میں صحیح انداز سے کام کرنے کے قابل بنانا۔

2۔     بچوں کی تعلیم:دینی تربیت کے ساتھ مضبوط ابتدائی تعلیم، خاص طور پر حساب اور انگریزی کی، تاکہ آئندہ وہ اچھے طالب علم ثابت ہوں۔

3۔     اقتصادی تنظیم:یعنی مقامی موجودہ وسائل کو اس طرح استعمال کرنا کہ وہ آئندہ تعمیر کی ابتدائی بنیاد بن سکیں۔

یہ تینوں کام خدا کے فضل سے کسی نہ کسی درجہ میں دیوبند میں ہو رہے ہیں۔ فرد سازی کا عمدہ نمونہ دارالعلوم میں النادی الادبی کی کوششیں ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے لیے پبلک نرسری اینڈ جونیئر اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اقتصادی تنظیم کی کامیاب مثال مسلم فنڈ ہے جس کا تعارف اس سے پہلے الجمعیۃ کے صفحات میں آ چکا ہے۔

اسی طرح ہر بستی میں اپنی مقامی سطح پر اس قسم کے کام ہونے لگیں تو، ان شاء اللہ ،وہ واقعہ وجود میں آ جائے گا جس کو ہم تعمیر ملت کے آغاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ صحیح آغاز کے ساتھ اگر استقلال کو شامل کر لیا جائے تو اسی کا دوسرا نام کامیابی ہے (هفت روزه الجمعیۃ، 17 ستمبر 1971، صفحہ 6)۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion