سوال و جواب
سوال
علما اور اہل مدارس کے لیے الرسالہ مشن کی اہمیت کیا ہے؟براہِ کرم اِس کو واضح فرمائیں۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری ، عمر آباد ، تمل ناڈو)
جواب
جدید تعلیم یافتہ طبقے کے علاوہ، ہمارے دعوتی مشن کے اصل مخاطب علما اور مدارسِ عربیہ کے لوگ ہیں، کیوں کہ امکانی طورپر وہ قرآن اور حدیث پر مبنی مشن کے لیے تیار ذہن (prepared mind) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مدارسِ عربیہ کے لوگ اپنی ڈی کنڈیشننگ کرسکیں۔ سیکولر اداروں میں پڑھے ہوئے لوگ ہمارے دعوتی مشن کو بھر پور طور پر سمجھ نہیں سکتے۔ وہ اُن اصطلاحوں سے مانوس نہیں ہوتے جن میں ہم کلام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ گہرے علمی اور خالص دینی موضوعات پر میں صرف ان لوگوں سے گفتگو کرپاتا ہوں جن کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی ہو۔ کیوں کہ جن لوگوں کا تعلیمی بیک گراؤنڈ عربی نہ ہو، اُن سے دینی موضوعات پر بات کرتے ہوئے ان کی ایک حد آجاتی ہے اور ان سے گفتگو جاری نہیں رہ پاتی۔اہلِ مدارس کی ڈی کنڈیشننگ کیا ہے، وہ اصلاً صرف ایک ہے، یہ کہ وہ شخصیت پرستی کے خول سے باہر آجائیں۔ وہ چیزوں کو اپنے اکابر کے بجائے اصول کی حیثیت سے دیکھنے لگیں۔ اہلِ مدارس اگر ایسا کرسکیں تو اُن کے لیے اعلیٰ معرفت کا دروازہ پوری طرح کھل جائے گا۔ اہلِ مدارس کو دوسروں کے مقابلے میں، دوچیزیں خصوصی طورپر حاصل رہتی ہیں— ایک، حقائقِ دینیہ سے مانوس ہونا۔ اور دوسرے اصطلاحاتِ دینیہ سے آشنا ہونا۔
مزید یہ کہ حدیث کے مطابق، ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو:أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ(صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔علما اور اہلِ مدارس، دینی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے باعث، اسلام کے روایتی علم سے آشنا ہوتے ہیں۔ لیکن عام طورپر وہ اُس صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں جس کو مذکورہ حدیث رسول میں ’’بصیرتِ زمانہ‘‘ کہاگیا ہے، یعنی اپنے زمانے سے باخبر ہونا۔ ایسی حالت میں علما اور اہلِ مدارس کے لیے ضروری ہے کہ وہ الرسالہ مشن کے تحت تیار کردہ لٹریچر کا مطالعہ کریں۔ کیوں کہ یہ لٹریچر بصیرتِ زمانہ کی اِسی کمی کی تلافی کے لیے تیار کیا گیاہے۔(الرسالہ، دسمبر 2011)
سوال
اکثر علما یہ سوال کرتے ہیں کہ صاحب الرسالہ کا منہج اخذ واستدلال کیا ہے؟ اس سلسلے میں جواب مطلوب ہے۔ (حافظ سید اقبال عمری، عمرآباد، تامل ناڈو)
جواب
اس معاملہ میں ہمارا منہج وہی ہے جو عملاً تمام علما کا معروف منہج ہے۔ اس منہج کی اصل صحابی رسول حضرت معاذ بن جبل کی حدیث میں موجود ہے۔ یہ حدیث سنن الترمذی، ابوداؤد، اور مسند احمد وغیرہ کتب حدیث میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الیَمَنِ، فَقَالَ:کَیْفَ تَقْضِی؟، فَقَالَ:أَقْضِی بِمَا فِی کِتَابِ اللہِ، قَالَ:فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی کِتَابِ اللہِ؟، قَالَ:فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ:فَإِنْ لَمْ یَکُنْ فِی سُنَّةِ رَسُولِ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ:أَجْتَہِدُ رَأْیِی، قَالَ: الحَمْدُ لِلّہِ الَّذِی وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّہِ(سنن الترمذی، حدیث نمبر1327)۔
معاذ بن جبل کے بعض ساتھیوں سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ کو یمن بھیجنے کا ارادہ کیا تو پوچھاتم کس طرح فیصلہ کرو گے ۔ انہوں نے کہا اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا۔ آپ نے پوچھااگر تم اللہ کی کتاب میں وہ مسئلہ نہ پاؤ ؟ انہوں نےکہاکہ رسول اللہ کی سنت کے مطابق (فیصلہ کروں گا)۔ رسول ﷺ نے پوچھا اگر سنتِ رسول میں بھی نہ پاؤ ؟ انہوں نے کہا کہ اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ۔رسول اللہ ﷺ کہااللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے رسول اللہ کے رسول کو اس چیز کی توفیق دی۔
اس حدیث کو بعض علما نے ضعیف بتایا ہے۔ لیکن یہ تضعیف خالص فنی بنیاد پر ہے۔ چنانچہ دوسرے علما نے اس کی تصحیح کی ہے، مثلاً ابن القیم الجوزیۃ ۔ اس فنی بحث سے الگ ہوکر دیکھا جائے تو عملاً تمام علما نے اس روایت کو تسلیم کیا ہے۔ کیوں کہ تمام علما کے متفقہ مسلک کے مطابق مصادر شریعت چار ہیں، قرآن، سنت، قیاس، اور اجماع۔ یہ مسلک عین معاذ بن جبل کی روایت کے مطابق ہے۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ باعتبار حقیقت مصادر شریعت چار نہیں ہیں، تین ہیں۔ کیوں کہ قیاس اور اجماع دونوں حقیقت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ جب قیاس کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد انفرادی قیاس ہوتا ہے اور جب اجماع کا لفظ بولا جائے تو اس سے مراد اجتماعی قیاس ۔ قیاس اور اجماع دونوں کی اصل اجتہاد ہے۔
یہاں میں اضافہ کروں گا کہ قرآن میں اجتہاد کا لفظ نہیں آیا ہے۔ البتہ اس کے ہم معنی دوسرالفظ آیا ہے، اور وہ استنباط (النساء، 4:83) ہے۔ اجتہاد اور استنباط دونوں کا مشترک مفہوم ایک ہے، اوروہ استخراج (inference)ہے۔ جب کسی معاملہ میں حکم شرعی منصوص انداز میں موجود ہو تو وہاں کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن جب کسی معاملہ کا حکم بشکل نص موجود نہ ہو تو وہاں ضرورت ہوتی ہے کہ غور و فکر کرکے متعلقہ معاملہ میں حکم کی شرعی تطبیق (application) کو دریافت کیا جائے۔ اسی عمل کو استخراج کہا جاتا ہے۔ یعنی نص شرعی کے حدود میں رہتے ہوئے، بطریق استنباط متعلقہ معاملہ کا حل تلاش کرنا۔ (الرسالہ، جنوری 2019)
سوال
سماجی سطح پر ہندستان میں مدارس اسلامیہ کا فکری رحجان کیا رہا ہے؟
جواب
سماجی مسائل کے بارے میں مدارس اسلامیہ کا بظاہر کوئی فکری رول براہ راست طور پر نہیں ہے۔ اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں کہ مدارس اسلامیہ کے سامنے شعوری طور پر سماجی فلاح کا کوئی نقشہ موجود تھا۔ تاہم اس سلسلہ میں بالواسطہ طور پر ان کی خدمات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ مثلاً فتاویٰ کے ذریعہ رہنمائی، مساجد میں خطباتِ جمعہ، عوامی جلسہ میں خطاب، مختلف تقریبات کے دوران اساتذہ اور طلبہ کا عوام سے انٹر ایکشن ، شادی بیاہ جیسی رسموں میں شرکت کے دوران وعظ ونصیحت اور رسالوں کے ذریعہ تعلیم ونصیحت ، وغیرہ ۔ سماجی اعتبار سے ایک مستقل کام سوشل سروس ہے۔ مگر مدارس میں غالباً سوشل سروس کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں۔ (الرسالہ، جون 2004)
سوال
اب تک ہندستان کے مدارس میں دہشت گردی کی فکری یا عملی تعلیمات کا کوئی ثبوت نہ ملنے کے باوجود ملکی سطح پر کچھ حلقے سے مدارس اسلامیہ پر مسلسل دہشت گردی کے فروغ کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں، آخراس کے اسباب وعوامل کیا ہوسکتے ہیں۔ اور اس ڈھٹائی کے پیچھے ان کے کیا مقاصد پنہاں ہیں ۔
جواب
یہ صحیح ہے کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم وتربیت نہیں دی جاتی۔ اس اعتبار سے مدارس پر الزام لگانا غلط ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ صحیح ہے کہ مدارس کے نظام میں عین وہی ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے۔ مدارس کے لوگوں کو امت مسلمہ کے مسائل کے سلسلہ میں پُرامن عمل کا کوئی شعور نہیں ۔ وہ دور جدید کے اس امکان سے بے خبر ہیں کہ ہر میدان میں حصہ داری (sharing) کے اصول پر کام کیا جانا چاہیے ۔
مدارس کے لوگ اب تک شعوری یا غیر شعوری طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ غیر مسلم لوگ کافر ہیں۔ غیر مسلم ممالک دار الکفر یا دارالحرب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ یہ لوگ عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ دوسری قومیں مسلمانوں کے خلاف دشمنی اور سازش میں مشغول ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ مدارس کی طرف سے اب تک جہاد کے نام پر متشددانہ سرگرمیوں کی کھلی مذمت نہیں کی گئی اور نہ یہ اعلان کیا گیا کہ یہ سرگرمیاں جہاد نہیں ہیں بلکہ فساد ہیں ۔ ایسی حالت میں مدارس کو اس معاملہ میں مکمل طور پر بے قصور نہیں کہا جاسکتا۔ (الرسالہ، جون 2004)
سوال
الرسالہ جون 2004 کے صفحہ 28، سوال نمبر 12 کے جواب میں آپ نے فرمایا ’’مدارس پر الزام لگانا غلط ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے کہ مدارس کے نظام میں عین وہی ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے‘‘ ۔اور جواب کے آخری جملہ میں آپ نے تحریر فرمایا ہے ’’ایسی حالت میں مدارس کو اس معاملہ میں مکمل طور پر بے قصور نہیں کہا جاسکتا‘‘۔
جولائی 2004 کے الرسالہ میں صفحہ 29-30 پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا ’’میں خود ایک مدرسہ کا پروڈکٹ ہوں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدرسہ کا کوئی تعلق ٹررزم سے نہیں ہے۔ کم ازکم مجھے کوئی ایسا مدرسہ معلوم نہیں جہاں مدرسہ کے نظام کے تحت ٹررزم کی تعلیم دی جاتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ صرف تعلیم کے لیے ہے۔ وہاں کے نصاب یا وہاں کے نظام کا کوئی تعلق اس چیز سے نہیں جس کو آج کل ٹررزم کہا جاتا ہے‘‘۔
ایک طرف آپ کو اس حقیقت کااعتراف ہے کہ مدرسوں میں صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے اور آج کل جسے ٹررزم کہا جاتا ہے اس کا تعلق ان مدارس سے نہیں ہے۔ اور اسی کے ساتھ یہ بھی آپ کہہ رہے ہیںکہ ان مدارس کے نظام میں وہی ذہن بنتا ہے جس کو جہادی ذہن کہا جاتا ہے، یہ کہاں تک درست ہے۔ کیا یہ تضاد بیانی اس بات کی گواہ نہیں ہے کہ دینی مدارس کے تعلق سے آپ کی تحقیق حقیقت پر غالب آگئی ہے اور اس الزام کو تقویت دیتی ہے کہ دینی مدارس میں جہادی ذہن سازی ہوتی ہے جو ٹررزم کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔گذارش ہے کہ آپ اس تضاد بیانی کو الرسالہ کے کسی آئندہ شمارے میں واضح فرمائیں گے ۔ (محمد بشیر احمد)
جواب
آپ نے دو باتوں کے فرق کو نہیں سمجھا۔ اس لیے آپ کو میرے مضمون میں تضاد نظر آیا۔ جو لوگ فرق کے اصول کو نہیں سمجھتے ان کو قرآن میں بھی تضاد نظر آتا ہے۔ مثلاً ایک مستشرق نے لکھا ہے کہ قرآن میں ایک جگہ کہا گیا ہے کہ منکرین قیامت میں اندھے اٹھائے جائیں گے (طٰہ، 20:125)۔ اور دوسری جگہ قرآن میں منکرین کے بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت میں ان کی نگاہ بہت تیز ہوگی (ق، 50:22)۔ مستشرق نے اس کو تضاد کا معاملہ سمجھا۔ حالاں کہ یہ فرق کا معاملہ ہے۔ یعنی ایک بات کے دو الگ الگ پہلوؤں کو بتانا۔
میں نے اپنی تحریروں میں بار بار یہ بات لکھی ہے کہ ہمارے علما جو مدارس میں تیار ہو کر نکلے، وہ تقریباً سب کے سب فکری اعتبار سے جہاد (بمعنٰی قتال) کا ذہن لے کر نکلے۔ ہر ایک نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں کہا کہ اسلام کا اقدامی عمل جہاد (بمعنٰی قتال) ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال مولانا تقی عثمانی کی کتاب فقہی مقالات ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنے والد مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کا یہ نظریہ بتایا ہے کہ اسلام کا اقدامی عمل جہاد (بمعنٰی قتال) ہے۔
میں اس نقطۂ نظر کو غلط سمجھتا ہوں۔ میں نے اپنی تحریروں میں بار بار یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کا اقدامی عمل پر امن دعوت ہے۔ جہاد (بمعنٰی قتال) ایک دفاعی کارروائی ہے جو استثنائی طورپر کبھی پیش آتی ہے۔ مزید یہ کہ اس دفاعی کارروائی کا حق صرف باضابطہ طورپر قائم شدہ حکومت کو ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو ہرگز مسلح جہاد کی اجازت نہیں۔ جس شخص نے میری تحریروں کو پڑھا ہو اس کو میرا یہ نقطۂ نظر پوری طرح معلوم ہوگا۔
البتہ اسی کے ساتھ میرا یہ خیال ہے اور اس کو میں نے بار بار اپنی تحریروں میںواضح کیا ہے کہ ہندستان کے مدارس میں عملی عسکریت یا عملی ٹررزم کی نہ تو تربیت ہوتی ہے اور نہ یہ مدارس اس قسم کی کسی عملی تحریک کا اڈہ ہیں۔ البتہ بعض دوسرے ملکوں میں ایسے مدارس ضرور پائے جاتے ہیں جو عملی عسکریت میں ملوث ہیں۔ میں نے ان مدارس پر تنقید کی ہے اور یہ لکھا ہے کہ کسی بھی مدرسہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ عملی طور پر وہ عسکریت کا نظام چلائے۔ بالفرض کسی ملک میں دفاعی جہاد کی ضرورت پیدا ہوجائے تب بھی عملی دفاع کی ذمہ داری صرف قائم شدہ حکومت کی ہوگی۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، کسی مدرسہ یا کسی غیر حکومتی تنظیم کے لیے ہر گز یہ جائز نہیں کہ وہ جہاد کے نام پر مسلح جدوجہد شروع کردے۔(الرسالہ، جولائی 2005)
سوال
کہاجاتا ہے کہ ہندستان کے اسلامی مدرسوں میں تشدد اور علیحد گی پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس طرح وہ ملک میں منفی رول ادا کررہے ہیں۔ ایسی حالت میں ان مدرسوں کو باقی رکھنے کا کیا جواز ہے( محمد عمران، راشٹریہ سہارا، دہلی)
جواب
یہ بالکل بے بنیاد بات ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ملک میں تشدد پسندی اور علیحد گی پسندی کارجحان ہے۔ مگر وہ زیادہ تر سیاسی لیڈروں کاپیدا کردہ ہے، ان کامدرسوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ان مدرسوں میں دین اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان مدرسوں میں ایسے لوگ تیار کیے جاتے ہیں جو اصول پسند اور باکردار ہوں۔ اور اسی کے ساتھ وہ سماج میں مارل ٹیچر بن کررہ سکیں۔ میں خود مدرسہ کے اسی تعلیمی نظام کی پیداوار ہوں۔ اور میں پورے اعتماد کے ساتھ اس قسم کے الزام کی تردید کر سکتا ہوں۔ سیاست اور ٹی وی (الیکٹرانک میڈیا)یہ دوچیزیں لوگوں کے کردار کو بری طرح تباہ کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں مدرسہ کے نظام کو مزید طاقتور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ موجودہ اخلاقی بگاڑ کے سیلاب کو روک سکیں۔(الرسالہ، فروری1999)
سوال
مدارس اسلامیہ کو اپنے وقار کے تحفظ اور ان سازشوں کے نتائج سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
جواب
میرے نزدیک سازش کا تصور محض ایک مفروضہ ہے ۔ اسی طرح وقار کے تحفظ کا سوال بھی ایک فرضی سوال ہے ۔ اس کا سادہ ساثبوت یہ ہے کہ1947 کے بعد ہر مدرسہ نے غیر معمولی ترقی کی ہے ۔ اگر مذکورہ مفروضہ درست ہوتا تو مدارس کی یہ ترقیاں ہر گز ممکن نہ ہوتیں ۔ اس معاملہ میں مدارس کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ سازش کے فرضی وہم سے باہر آجائیں اور معتدل ذہن کے تحت اپنا کام کریں ۔
مدارس، اسلامی تعلیم کا مرکز ہیں ۔ اسلامی تعلیم اپنے آپ میں پُرکشش ہے ۔ وہ یہ طاقت رکھتی ہے کہ خود اپنے زور پر انسان کو اپنا گرویدہ بنا سکے ۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانہ میں مدارس کے بارے میں جوغلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ اصلاً خود مدارس کی اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہیں ۔ اس کمی کا ایک سبب یہ ہے کہ مدارس اسلامیہ کے لوگ اپنی روایات کے تحت بند ماحول میں رہتے ہیں ۔ وہ خارجی دنیا سے اختلاط نہیں کرتے۔
اس بنا پر ان کا حال یہ ہوگیا ہے کہ وہ نہ آج کی دنیا کو جانتے ہیں اورنہ جدید حالات کے مطابق اپنے ذہن کو تیار کرتے ہیں۔ اس علیٰحدگی پسندی کی بنا پر ان کو شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مسئلہ کا حقیقی حل صرف یہ ہے کہ مدارس کے ماحول کو بدلا جائے۔ اور قدیم کے ساتھ جدید کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔
مدارس کو یا امت مسلمہ کو موجودہ زمانہ میں جو مسائل درپیش ہیں ان کی جڑیں بہت گہری ہیں ۔ ان کا سبب دراصل اس بنیادی خامی تک جاتا ہے کہ مدارس میں جوسوچ دی جاتی ہے وہ بجائے خوددرست نہیں ۔ اسی فکری خامی کے نتیجہ میں وہ تمام چیزیں پیدا ہوئی ہیں جن کو مسائل کا نام دیا جاتا ہے۔ مسائل کا لفظ بظاہر خارجی ا سباب کی طرف اشارہ کرتا ہے، حالانکہ ہمارے مسائل تمام تر داخلی اسباب کا نتیجہ ہیں ۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں ملّت کے موضوع پر ہزاروں کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ عرب دنیا کے امیر شکیب ارسلان کی کتاب ’’لِمَاذَا تَأَخَّرَ الْمُسْلِمُونَ وَتَقَدَّمَ غَيْرُهُمْ‘‘ اور بر صغیر ہند کے مولانا ابو الحسن علی ندوی کی کتاب ’’مَاذَا خَسِرَ الْعَالَمُ بِانْحِطَاطِ الْمُسْلِمِينَ‘‘ جیسی بے شمار کتابیں مختلف زبانوں میں چھپی ہیں ۔ ان سب کا مشترک انداز یہ ہے کہ ان میں مسلمانوں کے مسئلہ کا مطالعہ عروج اور زوال کی اصطلاحوں میں کیا گیا ہے۔
مطالعہ کا یہ طریقہ بلاشبہ غیر قرآنی ہے۔ قرآن کے مطابق، عروج اور زوال دونوں اضافی ہیں۔ قرآن کے نزدیک دونوں حالتیں ابتلاء کی حالتیں ہیں ۔ یہ دونوں ہی کسی قوم کے لیے امتحان (test) کے پرچے ہیں ۔ خدا کبھی کسی قوم کو غالب کرتا ہے اور کبھی اُس کو مغلوب کردیتا ہے۔ دونوں صورتوں میں یہ دیکھنا مقصود ہوتا ہے کہ قوم جب کسی حالت میں مبتلا ہوئی تواُس نے کس قسم کارسپانس (response)پیش کیا۔(الرسالہ، جون 2004)
سوال
ہندستان کی کئی یونیورسٹیوں میں اور باہر کی کچھ یونیورسٹیوں میں بھی اسلامک اسٹڈیز کے نام سے شعبے قائم ہیں۔ ہمارے مدارس میں بھی اسلام کے مطالعہ کا انتظام ہے۔ یہ دونوں ایک ہیں یا ان میں کوئی فرق ہے۔ سیکولر یونیورسٹیوں میں اور دینی مدارس میں اس ا عتبار سے اگر کوئی فرق ہے تو وہ کیا ہے ؟ (ندیم احمد سنابلی ،دہلی)
جواب
سیکولر یونیورسٹیوں میں اسلام کے مطالعہ کا تصور اس سے مختلف ہے جو ہمارے دینی مدارس میں پایا جاتا ہے۔ دینی مدارس میںاسلام کا مطالعہ ایک مقدس الہامی مذہب کے طورپر کیا جاتاہے۔ جب کہ سیکولر یونیورسٹی میںاسلام یا کسی اور مذہب کا مطالعہ صرف اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ ایک تاریخی ظاہرہ یا ایک تاریخی واقعہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اصحاب مدارس کے مطالعہ کا طریقہ داخلی (subjective)ہے، اوراصحاب یونیورسٹی کا طریقہ خارجی (objective) ہے۔ اس کو ایک عملی مثال سے سمجھئے۔ مثلاً اسلام کے دورِ اول میں حسین ابن علی اور یزید ابن معاویہ کی فوجوں کے درمیان مسلح ٹکراؤ ہوا۔ یزید ابن معاویہ کی فوج نے حسین ابن علی کو شہیدکردیا۔ اس واقعہ کو اہل مدرسہ اس نظر سے دیکھیں گے کہ حسین ابن علی پیغمبر اسلام کے نواسے تھے اور پھر اسی جذباتی وابستگی کے تحت اپنی رائے قائم کریں گے۔ اس کے برعکس سیکولر ذہن کے لوگ اس کو سادہ طورپر صرف ایک تاریخی واقعہ کی حیثیت سے لیں گے اور بے لاگ خارجی معلومات کی روشنی میں اس کا اندازہ (assessment) کریں گے۔
اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ صاحب مدرسہ سارے معاملہ کو حسین کی معصومیت اور یزید کے ظلم کے نقطۂ نظر سے دیکھیں گے۔ اس کے برعکس، یونیورسٹی کے لوگ خالص خارجی حقائق کی روشنی میںاس پر رائے قائم کریں گے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل مدرسہ یہ کہیں گے کہ ’’یزید پلید کی فوجوں نے نواسۂ رسول کو مظلومانہ طورپر شہید کیا‘‘ اس کے برعکس، دوسرا فریق یہ کہے گا کہ حسین ابن علی کے اقدام کی حیثیت دمشق کی خلافت کے نزدیک بغاوت کی تھی، اس لیے خلافتِ دمشق کی فوجوں نے حسین ابن علی کے خلاف جو اقدام کیا وہ وہی تھا جو ہر قائم شدہ حکومت کرتی ہے۔(الرسالہ، اپریل 2002)
سوال
میرا خیال ہے کہ مدرسے کے بچوں کو دینی تعلیم، اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کی تربیت کے ساتھ ساتھ انھیں ذریعۂ معاش میں خود کفیل بنانے کی بھی فکر کی جائے۔ بچوں کو مدرسے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اُنھیں ہُنر بھی سکھائے جائیں ۔ مدرسے میں دینی تعلیم کے ساتھ ان لڑکوں کو سلائی کی تربیت، ٹوپی بنانے کا ہنر، جائے نماز، لکڑی کے سامان تیار کرنے، لکڑی اور لوہے کے پائپ کے فرنیچر تیار کرنے کے ہنراور کشیدہ کاری کے کام بھی سکھائے جائیں ، تاکہ جب یہ لڑکے مدرسے کی تعلیم سے فراغت پاکر دنیاوی زندگی میں قدم رکھیں تو اس لائق ہوسکیں کہ دینی زندگی کے ساتھ ساتھ دنیاوی زندگی بھی سنوارنے میں کامیابی حاصل کرسکیں۔
عام اسکول اورکالجوں میں بھی لڑکوں کو جو تعلیم دی جاتی ہے وہ بھی job oriented یعنی روزگار سے منسلک نہیں ہوتی ہے۔ لیکن ان کی تعلیم چونکہ دنیاوی زندگی کے تقاضوں پر مبنی ہوتی ہے۔ یعنی ان کے courses of studies میں ایسے ایسے سبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں کہ وہ ملازمت کے ممکنہ امتحانات میں بیٹھ کر ملازمت حاصل کرنے کے قابل ہوسکیں ۔ اس کے برعکس، مدرسے کی تعلیمات میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ ان کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ (محمد ابوالکلام، پھلواری شریف، پٹنہ)
جواب
اِس تجویز سے مجھے اصولی طورپر اتفاق ہے۔ آج کل عام مزاج یہ ہے کہ مدرسے کی تعلیم کے ساتھ کسی ہنر کو شامل کرنے کی بات کی جائے تو لوگ اُس کو پسند نہیں کرتے۔ کہا جاتاہے کہ اِس طرح کی پیوند کاری سے دینی تعلیم کو نقصان ہوگا۔ مگر یہ بات سراسر غلط ہے۔ اس کا ایک تجرباتی ثبوت یہ ہے کہ قدیم روایتی دَور میں مدارس کے تعلیمی نظام کے ساتھ عام طورپر خطّاطی یا جلد بندی اور طِب جیسے پروفیشنل کام کا شعبہ بھی موجود رہتا تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا کہ اِس کی بنا پر تعلیم میں نقصان واقع ہوجائے۔ بلکہ تجربہ برعکس طورپر بتاتا ہے کہ پچھلے دَور میں مدارس سے بڑے بڑے علما نکلے۔ جب کہ موجودہ زمانے میں مدارس سے اُس طرح کے بڑے بڑے علما کی پیدائش تقریباً بند ہوگئی ہے۔
میری رائے یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کم ازکم دو چیزوں کی تعلیم وتربیت کو ہر مدرسے میں ضرور شامل کیا جائے۔ ایک ہے انگریزی زبان اور دوسری چیز ہے کمپیوٹر۔ مجھے یقین ہے کہ مروّجہ تعلیم میں کسی بھی قسم کا نقصان کیے بغیر ان دونوں چیزوں کو مدرسے کے تعلیمی نظام میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ (الرسالہ، جولائی 2006)
سوال
الرسالہ دسمبر 2005 کے شمارے میں ثانیہ مرزا کے لباس کے بارے میں خبر نامے کے تحت صفحہ 47 پر آپ کا تبصرہ پڑھنے کو ملا تو اس مسئلے پر دوسرے علما کے فتوے بے وزن و بے معنی محسوس ہوئے۔
آپ نے ثانیہ مرزا کے بارے میں جو کچھ فرمایا ہے وہ بلاشبہ درست ہے، اور اس طرح کے سوالات کا اس کے سوا کوئی اور جواب نہیں ہوتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے دوسرے علما اور اہل دانش اس طرح کے نت نئے مسائل کے بارے میں مثبت اور تعمیری وفکری جواب دینے سے ہمیشہ قاصر اور ناکام رہتے ہیں اور نتیجتاً ان کے غیر متعلق جوابات سے ہمیشہ فتنہ پیدا ہوتا ہے۔ اور اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی سوال کا جواب سرے سے دینا جانتے ہی نہیں ہیں ۔ (غلام نبی کشافی، کشمیر)
جواب
ہمارے مدارس میں افتاء نویسی کا باقاعدہ شعبہ ہوتا ہے اور اس کے تحت، فتووں کا جواب دینے کی تربیت دی جاتی ہے۔ مگر افتاء نویسی کے اس شعبے میں ایک بنیادی کمی ہے۔ وہ یہ کہ اِس شعبے کے تحت، مسائلِ فتویٰ تو بتائے جاتے ہیں مگر حکمتِ فتویٰ نہیں بتائی جاتی۔
حکمتِ فتویٰ سے میری مراد یہ ہے کہ مفتی کو یہ بتایا جائے کہ اس کو کب فتویٰ دینا ہے اور کب فتوے کی زبان استعمال نہیں کرناہے۔ مثلاً ایک شخص اگر خود اپنے لباس کے بارے میں فتویٰ پوچھے تو مفتی کو چاہیے کہ وہ اس کا جواب دے۔ لیکن اگر کوئی شخص ثانیہ مرزا کے بارے میں فتویٰ پوچھے، یا کسی امام کے وضع قطع کو لے کر فتویٰ پوچھے تو ایسے معاملے میں مفتی کو یہ جواب دینا چاہیے کہ تم جس کے بارے میں فتویٰ مانگ رہے ہو اس سے جاکر ملو اور اس کو تیار کرو کہ وہ خود اپنے بارے میں فتویٰ پوچھے۔ موجودہ شکل میں تمہارا طریقہ درست نہیں ۔
اسی طرح ایک کیس اگر ملکی قانون کے تحت، فوج داری کا کیس ہو اور کوئی شخص اس کے بارے میں فتویٰ پوچھے تو مفتی کو یہ کہنا چاہیے کہ یہ ایک عدالتی معاملہ ہے۔ تم اِس بارے میں ہم سے فتویٰ مت پوچھو بلکہ اس معاملے میں عدالت سے رجوع کرو۔ اِسی طرح اگر کوئی شخص ایک ایسے معاملے میں فتویٰ پوچھے جس میں یقینی ہو کہ مفتی کا فتویٰ مؤثر نہیں ہوگا۔ مثلاً کوکا کولا کو پینے یا نہ پینے کا مسئلہ، تو ایسے معاملے میں بھی مفتی کو فتویٰ نہیں دینا چاہیے۔ بلکہ مفتی کو مولانا عبد الحق حقانی کی زبان میں یہ کہنا چاہیے کہ— میرا فتویٰ نہیں چلے گا ’’کوکاکولا‘‘چل جائے گا۔
میری قطعی رائے ہے کہ جو شخص قدیم فقہی کتابوں میں لکھے ہوئے مسائل کو جانے اور حالاتِ زمانہ کو نہ جانے، اس کے لیے فتویٰ دینا جائز نہیں۔ (الرسالہ، جولائی 2006)
سوال
میں ماہ نامہ الرسالہ پچھلے دس برسوں سے مطالعہ کر رہاہوں ۔ مجھے اس مشن نے بہت اندر تک متاثر کیا ہے، اور مجھے بالکل بدل دیا۔ ایک مرتبہ میں نے آپ سے ملاقات اور انٹر ایکشن کیا تھا۔ اس وقت آپ نے مجھ سے الرسالہ کے متعلق فیڈ بیک مانگا تھا۔ لیکن میں اس وقت کچھ بول نہ پایا تھا۔ اب اس خط کے ذریعہ میں اسے لکھ رہا ہوں کہ میرے اندر الرسالہ کی وجہ سےکیا کیا تبدیلیاں آئی ہیں ۔ میری پیدائش 1989 میں ہوئی۔ نو سے پندرہ برس کی عمر تک میں نے گھر سے دور رہ کر مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد کالج سے گریجویشن اور ایم اے کیا۔ الرسالہ مشن سے جو فائدہ ہوا، ان میں سے چند یہ ہیں ۔
(1) پہلا فائدہ جو الرسالہ نے دیا، وہ ہے اسلام کی روح سے متعارف کرانا۔ میں ایک تعلیم یافتہ گھر میں پیدا ہوا، دینی ماحول میں رہا، مدرسے میں وقت بِتایا، مگر دین کو دریافت نہ کرپایا تھا۔ دین کے نام پر جو چیز پایا تھا وہ ہے منفی ذہن، شکایتیں ، مسلک پرستی، اور قوم پرستی، وغیرہ۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ صبر و شکر جیسی فنڈا منٹل چیز بھی مَیں نہیں جان پایا تھا۔ یہ ماہ نامہ الرسالہ نے مجھے سکھایا۔ ماہ نامہ الرسالہ کی بات کو تحقیق کرنے کے لیے میں نے پورے قرآن کو پڑھا، اور ہزاروں احادیث پڑھی، تب جاکر مجھے یقین کے درجے میں صحیح اسلام حاصل ہوا۔
(2)دوسرا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ میں نے دین کی سیاسی تعبیر کے انحراف کو سمجھا، اور نام نہاد مجاہد بن کر اپنی زندگی کو ہلاکت میں نہ ڈالا۔ ورنہ بچپن ہی سے مجھےجہاد کو اس طرح بتایا گیا تھا کہ گویاوہی اسلام کا اصل مشن ہے، اور وہی مسلمانوں اور اسلام کے مسئلہ کا حل ہے۔
(3) تیسرا فائدہ یہ ہوا کہ آج آپ کی تعلیمات کی وجہ سے میں یقین (conviction) میں جیتا ہوں۔ جب میں مدرسہ سے نکلا تھا، نئے زمانے کی تبدیلیوں کو دیکھتا تھا، سمجھ نہیں پاتا تھا کہ سچائی کیا ہے۔ دل میں خدا، رسول اور آخرت کا یقین تو تھا، مگر ماڈرن ایج سے مَیں انھیں ریلیٹ (relate) نہیں کر پاتا تھا۔ اس کی وجہ سے میں کنفیوزن اور اسٹریس میں جیتا تھا۔ اس طرح میں نے پانچ برس تک گزار دیے۔ بڑی مشکل کا دور تھا یہ۔ کیوں کہ میں ہر تھاٹ اور ہر ڈسپلن کو پڑھتا ، مگر اس میں یقین نہیں پاتا تھا۔ لیکن خدا کے فضل سے میں نے ماہ نامہ الرسالہ کے ذریعہ ماڈرن ایج کو اسلام کے ریفرنس میں صحیح طور پر دریافت کیا۔ مجھے اندھیرے سے روشنی ملی۔ مندرجہ بالا تبدیلیاں صرف علاماتی تبدیلیاں ہیں ۔ ورنہ الرسالہ نے تو مجھے پوری طرح بدل دیا، سب کچھ بدل دیا۔ آئندہ ان شاء اللہ میں اپنا وقت اور پونجی دین کے کام میں صرف کروں گا۔ دعا کیجیے کہ میں دعوت کے کام کو اپنا مشن بناپاؤں ، خدا مجھےمعاف کرے، میرا تزکیہ کرے، اور مجھے جنت نصیب کرے۔ آخر میں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے صحیح معنوں میں دین کا احیا کیا ہے۔ اللہ آپ کی اس عظیم ترین کوشش کو قبول کرے، اور آپ کو اس کا اعلیٰ ترین صلہ دے۔ آمین۔ (محمد اظہر مبارک، بھاگل پور)
جواب
میرا تجربہ ہے کہ صرف فارمل تعلیم، علم کے حصول کے لیے کافی نہیں ۔ خواہ وہ سیکولر تعلیم ہو یا دینی مدرسے کی تعلیم۔ فارمل تعلیم جو اداروں میں ہوتی ہے،اس میں آدمی کسی دوسرے کی بتائی ہوئی باتوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ مگر علم کا خزانہ اس سے بہت زیادہ ہے، جتنا کہ کسی بتانے والے نے آپ کو بتایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی فارمل ایجوکیشن کے بعد خود مطالعہ کرے۔ خود مطالعے سے آدمی ، خود دریافت کردہ علم کو حاصل کرے گا۔ اور خود دریافت کردہ علم ہی سے آدمی کو حقیقی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
ایجوکیشن کی دو قسمیں ہیں ، فارمل ایجوکیشن اورانفارمل ایجوکیشن۔ الرسالہ مشن کی حیثیت انفارمل ایجوکیشن کی ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ فارمل ایجوکیشن پائے ہوئے لوگوں کو انفارمل ایجوکیشن مہیا کی جائے، تاکہ ان کی علمی کمی پوری ہو۔ دونوں طریقوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ دونوں تعلیمی طریقے ایک دوسرے کے لیے تکمیلی حصہ (complementary part) کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دونوں طریقوں کو ایک دوسرے سے تقویت حاصل ہوتی ہے۔ مثلاً مدرسے کی تعلیم سے اگر دین کا روایتی علم حاصل ہوتا ہے تو انفارمل ایجوکیشن کے ذریعہ آدمی دور جدید سے واقفیت حاصل کرتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ کسی انسان کے لیے دونوں ہی ضروری ہے۔ (الرسالہ، فروری 2017)
سوال
آج کا عالم اس کو کہا جاتا ہے جس کے نام کے ساتھ قاسمی ،ندوی ، مظاہری وغیرہ نسبتی لفظ لگا ہوا ہو۔ کیا عالم کی یہ تعریف درست ہے ( مفتی محمد ظہیر قاسمی، ناندیڑ)
جواب
عالم ہو نے کے لیے مدرسہ سے تحصیل علم کی شرط درست ہے ۔ مگر یہ شرط درست نہیں کہ نام کے ساتھ قاسمی یاندوی جیسا کوئی لفظ لگا ہوا ہو۔ نام کے ساتھ اس قسم کا لاحقہ لگا نا اکا بر علما کی روایت نہیں۔ مثال کے طو رپر مولانا محمود الحسن، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا اعزاز علی،مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا شبلی نعمانی جیسے افراد جو مسلمہ طور پر عالم تھے مگر انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ایسا کوئی لاحقہ نہیں لگایا۔ (الرسالہ، اکتوبر1999)
سوال
میں جامعہ دارالسلام عمر آباد کا ایک طالب علم ہوں میں آپ کی تحریروں اور مضامین سے زیادہ متاثر ہوں اور میں بھی آپ جیسا ایک مشہور محرّ ر اور مصنف بننا چاہتا ہوں تو میں اس کے لیے کیا کروں ؟ میں آپ کے پرچہ ’’الرسالہ‘‘ سے بہت متاثر ہوں ۔ (شیخ اسماعیل بن شیخ افضل، حیدرآبادی)
جواب
ہر چیز کی ایک قیمت ہے۔ اسی طرح اچھا عالم اور اچھا مصنف بننے کی بھی ایک قیمت ہے۔ آپ وہ قیمت ادا کیجیے اور پھرآپ اچھے مصنف بن جائیں گے۔
سوال
حکمت یا وزڈم(wisdom) کیا ہے ؟حکیم (wise man)کس کو کہا جاسکتا ہے ؟ میرا احساس یہ ہے کہ لوگوں میں اس کا واضح تصور نہیں ہے ۔ اکثر لوگ محض خوش فہمی کی بنا پر کسی کو حکیم الاسلام اور کسی کو حکیم الامت کہنے لگتے ہیں۔ اس معاملہ کی وضاحت فرمائیں۔ (عبد السلام اکبانی، ناگپور )
جواب
حکمت یا وزڈم ایک اعلیٰ ترین ذہنی صفت ہے ۔ میرے علم کے مطابق ، انسانی تاریخ میں سب سے کم پائی جانے والی صفت یہی ہے ۔ عام زبان میں کہا جاسکتا ہے کہ حکمت ایک ایسی ذہنی صلاحیت ہے جو گہری بصیرت کے نتیجہ میں کسی کے اندر پیدا ہوتی ہے ۔ بر ٹش کلرجی مین اور مصنف ولیم رالف انگ (William Ralph Inge 1860-1954) 1954 اس نے نہایت درست طور پر حکیم یا دانا شخص کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ دانا انسان وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے:
The wise man is he who knows the relative value of things.
اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو(relative value) کیا ہے انگریزی ڈکشنری میں اس کی تشریح اس طرح کی گئی ہے — کسی اور چیز کی نسبت سے اہمیت و معنویت ہونا :
Having significance in relation to something else
اس حکمت یا دانائی کی ایک تاریخی مثال حدیبیہ کا معاملہ ہے ۔ اس موقع پر پیغمبر اسلام اور آپ کے مخالفوں کے درمیان جو معاہدہ ہوا، اس کا ایک پہلو وہ تھا جو بظاہر سب کو دکھا ئی دیتا تھا۔ یعنی پیغمبر اسلام کا مخالفین کی شرائط کو یک طرفہ طور پر مان لینا ۔ بظاہر یہ طریقہ اتنا نازیبا تھا کہ حضرت عمر نے اس کو دَنِیَّۃ قرار دیا یعنی ذلت کو اختیار کرنا (البدا یۃ وا لنہایۃ، جلد 4، صفحہ 168 )۔ مگر اسی کے ساتھ اس معاملہ کا ایک اورپہلو تھا جو بظاہر معاہدہ کے وقت دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ وہ یہ کہ کسی بھی طرح اگر ایسا ہو کہ باہمی ٹکراؤ ختم ہو جا ئے اور دونوں فریقوں کے درمیان معتدل فضا میں انٹر ایکشن (interaction)ہونے لگے، تو لوگوں کے اندر اسلام کا مثبت تعارف عام ہو گا ۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب کہ بظاہر دشمنی پر آمادہ لوگ بھی اسلام کے قریبی مدد گار بن جائیں گے (فصلت،41:34)۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے بعد عملاً پیش آیا۔
گویا حدیبیہ کے معاہدہ کا ایک پہلو وہ تھا جس کو ہر صاحبِ بصارت دیکھ رہا تھا ۔ لیکن اس کا ایک اور اہم تر پہلو وہ تھا جس کو صرف صاحبِ بصیرت ہی دیکھ سکتا تھا ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے:فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا (48:27)۔ یعنی، اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جا نی۔اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو (relative value) کو جا ننے کی اہمیت یہ ہے کہ اکثر حالات میں یہی پہلو عملی اعتبار سے فیصلہ کُن بن جاتا ہے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلم مفکرین کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ وہ اس حکیمانہ بصیرت سے خالی تھے ۔ وہ سامنے کی چیزوں کو دیکھ کر اقدامات کرتے رہے ۔ وہ ان دوسرے پہلوؤں کو دیکھنے سے قاصر رہے جو آخر کار فیصلہ کُن بننے والے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ا ن کے تمام اقدامات نہ صرف بے نتیجہ رہے بلکہ وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter productive) ثابت ہوئے ۔ مثال کے طور پر مصر اور پاکستان اور ایران میں اسلام پسندوں کا یہ سمجھ لینا کہ ان کی معاصر حکومت تمام خرابیوں کی جڑ (source of all evils) ہے۔ اگر وہ کسی طرح موجود ہ حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹادیں تو وہاں شاندار طور پر اسلامی نظام قائم ہو جائے گا۔ اسی طرح برصغیرہند میں مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جغرافی تقسیم مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے ۔
ان تمام رہنماؤں کی مشترک کو تاہی یہ تھی کہ وہ صرف سامنے کی باتوں کو دیکھ سکے ، وہ ان اضافی اسباب (relative factors)کو دیکھنے سے عاجز رہے جو آخر کار فیصلہ کُن بن کر ان کی تمام خوش فہمیوں کو تہ وبالا کردینے والے تھے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان تمام رہنماؤں کی ہنگا مہ خیز تحریکیں مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اورنتیجہ پیدا نہ کر سکیں ۔ اسی حقیقت کو حضرت عمر فاروق نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلہ میں خیر کو جا نے ۔ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کم ترشر کون سا ہے:لَيْسَ الْعَاقِلُ مَنْ يَعْرِفُ الْخَيْرَ مِنَ الشَّرِّ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَعْرِفُ خَيْرَ الشَّرَّيْنِ (ذم الھویٰ لابن الجوزی، صفحہ 8)۔ (الرسالہ، جنوری 2000)
