جامعہ دار السلام کا سفر
جنوبی ہند میں ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے، جو جامعہ دار السلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے نام سے مشہور ہے۔ وہ ابتدائی طور پر 1924 میں قائم ہوا اور اب وہ ایک بڑا تعلیمی مرکز بن چکا ہے۔ وہ انڈیا کے چند بڑے اسلامی مدارس میں سے ایک ہے۔ اِس ادارے کی دعوت پر جنوبی ہند کا سفر ہوا۔ 7 جون 2010 کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی، اور 11 جون 2010 کی شام کو دوبارہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ اِس سفر میں مولانا محمد ذکوان ندوی میرے ساتھ تھے۔
اِس سفر کے لیے ہمارا رزرویشن جیٹ ائرویز سے تھا۔ دہلی کا ائر پورٹ دوبارہ تعمیر کیاگیا ہے۔ دہلی سے مدراس (چنئی)کی دوری ایک ہزار سات سو کلومیٹر (1,700 km) ہے۔ یہ سفر تقریباً ڈھائی گھنٹے میں طے ہوا۔ ائر پورٹ کے عملہ میں مدراس کے ایک صاحب انجینئر محمد آزاد جہاز سے اترتے ہی مل گئے۔ انہوں نے بسہولت ائرپورٹ کی تمام کارروائی مکمل کر دی۔ ہم لوگ ائر پورٹ سے باہر نکلے تو وہاں جامعہ دار السلام کی طرف سے مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ موجود تھے۔ مدراس سے جامعہ دار السلام 180 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سفر بذریعہ کار طے ہوا۔ روڈ بہت اچھی تھی۔ یہ وہی روڈ ہے جس کو نیشنل ہائی وے (نمبر46)کہاجاتا ہے۔ اس ہائی وے کو ایک مسلم بلڈر نے بنایا ہے۔
ہماری کار کے ڈرائیور مسٹر مورتی (44 سال) تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ 30 سال سے ڈرائیونگ کا کام کر رہے ہیں، مگر اُن کے ساتھ کبھی روڈ ایکسیڈنٹ کا معاملہ پیش نہیں آیا۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ ڈرائیونگ کے لیے ان کاسادہ فارمولا یہ ہے— پہلے سیفٹی پھر اسپیڈ۔ یہ فارمولا صرف کامیاب ڈرائیونگ کے لیے نہیں ہے، بلکہ اِس فارمولے کی یکساں اہمیت کامیاب قیادت کے لیے بھی ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم قائدین نے مسلم ملت کو ہر جگہ صرف تباہی سے دوچار کیا ہے۔ اِس کا سبب یہی ہے کہ وہ مذکورہ ڈرائیور کی طرح قیادت کا کامیاب فارمولا دریافت نہ کرسکے۔
راستے میں ہم لوگ عصر کی نماز پڑھنے کے لیے میل وشارم (Melvisharam) میں کچھ دیر کے لیے ٹھہرے۔ میل وشارم، ضلع ویلور (Vellore) کا ایک خوب صورت ٹاؤن ہے۔ یہ مدراس سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں مسلم تاجروں نے کئی اچھے کالج اور ہاسپٹل قائم کیے ہیں۔ انھیں اداروں میں سے ایک عربی مدرسہ مفتاح العلوم ہے۔وہ 1976 میں قائم کیاگیا۔ یہاں حفظ کے علاوہ، عالمیت تک درسِ نظامی کی تعلیم ہوتی ہے۔ طلبا کی تعداد تقریباً 500 ہے۔ مفتی ریاض احمد قاسمی اس کے مہتمم ہیں۔ یہاں کے وسیع مہمان خانے میں اساتذہ کی ایک نشست ہوئی۔ اِس موقع پر میں نے جو گفتگو کی، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔
ہندستان میں پچھلی صدیوں میں افغانستان اور ایران وغیرہ کے راستے سے مسلم سلاطین آئے۔ اِن سلاطین نے صرف اپنی سلطنتیں قائم کیں اور سیاسی فتوحات کی تاریخ بنائی۔ انہوں نے یہاں حقیقی معنوںمیں کوئی دینی کام انجام نہیں دیا۔ اب ان کی یادگار صرف قلعے اور مقبرے ہیں، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہندستان میں حقیقی معنوں میں مثبت دینی کام اُن لوگوں نے انجام دیا جن کو علما اور صوفیا کہا جاتا ہے۔ علما نے مدرسے قائم کرکے دینی علم کو زندہ رکھا۔ صوفیا نے خانقاہوں کے ذریعے دعوت اور روحانیت اور اخلاقیات کا عمل انجام دیا۔
مدرسہ اور خانقاہ کا طریقہ دوسرے الفاظ میں، غیر سیاسی دائرے میں جدوجہد کا طریقہ ہے۔ تبلیغی جماعت ایک اعتبار سے اِسی طریقِ عمل کا ایک تسلسل ہے۔ انڈیا کی اِس انفرادی صفت کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ موجودہ زمانے میں یہاں ملٹنسی (militancy) نہیں پھیلی، جیسا کہ اکثر مسلم ملکوں میں ہوا ہے۔ مثلاً پاکستان، افغانستان، ایران ، وغیرہ۔ میل وشارم میں عصر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم لوگ آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں ہمارے ساتھیوں نے اساتذہ اور طلبا کو دعوتی لٹریچر دیا۔
یہ پورا سفر فطرت کے ماحول میں ہوا۔ کشادہ سڑک کے دونوں طرف سرسبز درختوں کے مناظر تھے۔ یہ عام طورپر ناریل کے درخت تھے۔ درختوں کے پیچھے پہاڑی سلسلے نظر آرہے تھے۔ ہلکی بارش نے موسم کو نہایت خوشگوار بنا دیا تھا۔ سڑک کے کنارے کہیں کہیں خوب صورت گاؤں نظر آتے تھے۔
سفر کے دوران ہمارے ساتھی برابر موبائل کے ذریعے باہر کی دنیا سے ربط قائم کیے ہوئے تھے۔ایک طرف دہلی کے لوگوں سے، اور دوسری طرف عمر آباد کے لوگوں سے۔ دہلی سے عمر آباد تک ہمارے ساتھیوں کو پتہ تھا کہ اِس وقت ہم کہاں ہیں۔ یہ سفر کا ایک نیا تصور ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ شکایتوں میں جیتے ہیں، وہ بظاہر انسان کے شاکی ہوتے ہیں، لیکن حقیقتاً وہ خداوند ذوالجلال کی ناشکری کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اگر وہ سوچیں تو اِس طرح کا سفر قدیم زمانے میں کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہیں تھا۔ ہم لوگ دہلی میں کار سے روانہ ہوئے۔ اس کے بعد ہم ہوائی جہاز کے ذریعے مدراس پہنچے۔ اس کے بعد ہم دوبارہ کار کے ذریعے جامعہ دار السلام جارہے ہیں۔ یہ سفر اِس طرح طے ہورہا ہے کہ ہم لوگ ایک طرف اپنے دہلی کے ساتھیوں سے اور دوسری طرف جامعہ دار السلام کے لوگوں سے پوری طرح مربوط ہیں۔ قدیم زمانے میں اِس قسم کا سفر کسی بادشاہ کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ایسی حالت میں ہم کو سُپر شکر میں جینا چاہیے، نہ کہ ناشکری میں۔
مدراس سے 180 کلومیٹر کا سفر طے کرکے ہم لوگ 7جون 2010 کی شام کو مغرب کے بعد جامعہ دارالسلام پہنچے۔ یہاں ہمارا قیام جامعہ کی لائبریری (مکتبہ عمر) کی جدید عمارت میں تھا۔ یہ ایک وسیع دو منزلہ عمارت ہے۔ اس میں کتب خانہ، ریڈنگ روم، لیکچر ہال اور کچھ کمرے بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا قیام اِسی مکتبہ کے ایک کمرے میں تھا۔
عمر آباد میں کاکا فیملی کا ایک کافی بڑا فارم ہاؤس ہے۔ معلوم ہوا کہ جامعہ کے ذمے داران میرے قیام کا انتظام اِسی فارم ہاؤس میں کررہے تھے۔ لیکن مولانا کا کا انیس احمد عمری نے اِس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اِس طرح میں طلبا اور اساتذہ سے دور ہوجاؤں گا اور زیادہ ملاقاتیں اور انٹریکشن نہ ہوسکے گا۔ چنانچہ مولانا کاکا انیس احمد عمری کی مداخلت سے، میرے لیے لائبریری کی مذکورہ عمارت میں قیام کا انتظام کیاگیا۔ یہ میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ اِس طرح میرے لیے ممکن ہوگیا کہ جامعہ میں قیام کے دوران وہاں کے مواقع کو میں پوری طرح استعمال کرسکوں۔
ہم لوگ مغرب کی نماز سے فارغ ہوئے تھے کہ جامعہ کے ذمے داران اور اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے— مولانا کاکا سعید احمد عمری (معتمد عمومی جامعہ)، مولاناکاکا انیس احمد عمری، مولاناڈاکٹر عبد اللہ جولم عمری مدنی، مولانا ابو البیان حماد عمری ، وغیرہ۔اِن حضرات سے کافی دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ان کے ذریعے جامعہ دارالسلام کے بارے میں کئی معلومات حاصل ہوئیں۔
میں نے کہا کہ جامعہ دارالسلام کے بانی جناب کاکا عمر (وفات1928) واقعی معنوں میں ایک صاحبِ بصیرت انسان (man of vision) تھے۔ وہ اگرچہ ایک تاجر تھے، لیکن انہوں نے جدید دور کے لیے تعلیم کی اہمیت کو سمجھا اور اس کے مطابق، جامعہ دار السلام کی بنیاد رکھی، جو اب اپنی وسعت اور اہمیت کے اعتبار سے ایک دینی یونی ورسٹی کا درجہ حاصل کرچکا ہے۔
گفتگو کے دوران مولاناکاکا سعید احمد عمری نے جو باتیں بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ اِس علاقے میں کوئی ہندو مسلم مسئلہ نہیں۔ یہا ں دونوں فرقوں کے لوگ باہم بھائی کی طرح رہتے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات جیسی کوئی چیز یہاں کبھی پیش نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے بارے میں اردو اخبارات کے متعصبانہ بیان کو میں درست نہیں سمجھتا۔ کیوںکہ آزادی کے بعد ہمارے علاقے میں 18بڑے مسلم کالج قائم کیے گئے ہیں جن کو حکومت کا گرانٹ حاصل ہے۔ یہ تمام مسلم کالج نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ملت کی تعمیر کاکام موثر طورپر صرف اُس وقت ہوسکتاہے جب کہ اُس کو سیاست سے الگ رکھ کر کیا جائے۔ مولاناکاکا سعید احمد عمری نے اِس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا مناظر احسن گیلانی (وفات 1956) نے یہ تصور پیش کیا تھا کہ کالجوں میں تعلیم پانے والے مسلم طلبا کے لیے شہروں میں مسلم ہاسٹل بنائے جائیں۔ یہاں ان کی رہائش کا انتظام ہو اور اِسی کے ساتھ ان کی دینی تربیت کی جائے۔ شمالی ہند میں سیاسی ذہن کی بنا پر اِس قسم کا کوئی ہاسٹل نہ بن سکا، مگر جنوبی ہند کے مسلمانوں میں چوں کہ سیاسی ذہن نہیں تھابلکہ تعمیری ذہن تھا، اِس لیے انہوں نے جنوبی ہند میں اِس طرح کے مسلم ہاسٹل بنائے۔ مثلاً حیدرآباد میں اور بنگلور میں۔ بنگلور کا ہاسٹل زیادہ بڑا ہے اور اس کا نام یہ ہے— بنگلور مسلم سنٹرل ہاسٹل۔
اِس مجلس میں جو باتیں ہوئیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ مسلم دنیا میں عام طورپر یہ مشہور ہے کہ امریکا اسلام کا دشمن نمبر ایک ہے۔ عرب لوگ کہتے ہیں کہ:أمریکا عدوّ الإسلام رقم واحد۔ میں نے کہا کہ میں 13 بار امریکا گیا ہوں، اور اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا نہ پرومسلم (pro-Muslim) ہے، اور نہ اینٹی مسلم (anti-Muslim)۔ وہ صرف پرو امریکا (pro-America) ہے۔ امریکا میں بلا امتیاز ہر ایک کو پوری آزادی حاصل ہے۔ چنانچہ مسلمان اِس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے وہاں بڑے بڑے اسلامی کام کررہے ہیں۔ موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ مگر یہ کہنا غالباً درست ہوگا کہ اِس وقت اسلام کی خدمت کے جتنے مواقع امریکا میں ہیں، وہ غالباً کسی مسلم ملک میں بھی نہیں۔ کاکا سعید احمد عمری نے اپنے ذاتی تجربات کی بنیاد پر کہا کہ میں آپ کی اِس بات سے پوری طرح اتفاق رکھتا ہوں۔
مجلس میں گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہا امریکا کی ترقی کا راز یہ ہے کہ دنیا کے اعلیٰ ذہن رکھنے والے افراد کو امریکا خرید لیتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ خرید و فروخت کی بات نہیں ہے، بلکہ یہ مواقع (opportunities) کی فراہمی کی بات ہے۔ امریکا نے یہ کیا کہ اُس نے وہاں ہر قسم کے اعلیٰ مواقع فراہم کر دیے— اظہار خیال کی مکمل آزادی، مطالعے کے لیے بہترین لائبریریاں، لیاقت کا بلاامتیاز اعتراف، ترقی کے مواقع کو ہر ایک کے لیے یکساں طورپر کھولنا، وغیرہ۔ اِس بنا پر تمام دنیا کے ذہین لوگ وہاں پہنچ گئے۔
7جون2010کو عشاء کی نماز جامعہ دار السلام کی قدیم مسجد (قائم شدہ 1344ھ/ 1925ء) میں ادا کی گئی۔نماز کے بعد مسجد میں یہاں کے کئی اساتذہ سے ملاقات ہوئی۔ ان میں سے ایک جامعہ کے شیخ التفسیر مولاناسیدعبد الکبیر عمری صاحب تھے۔ ان کی پیدائش 1923 میں ہوئی۔ انہوں نے جامعہ دار السلام میں تعلیم پائی، پھر وہ یہیں استاد کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ معمر ہونے کے باوجود وہ ابھی تک پوری طرح صحت مند ہیں۔
نماز کے بعد ہم لوگوں کو کاکا سعید احمد عمری کے گھر لے جایا گیا جو عمر آباد میں مسجد کے بالکل قریب واقع ہے۔ یہاں شام کا کھانا کھایا گیا۔ کھانے کی میز پر تقریباً 10 آدمی موجود تھے۔ کھانے کے بعد یہاں دیر تک نشست ہوئی جس میں مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔
مولانا کاکا سعید احمد عمری نے کہا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تعصب اور تنگ نظری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو آپ کا مسلک معلوم ہے۔ آپ کے مسلک سے اتفاق کی بنا پر ہی ہم نے جامعہ میں آپ کو دعوت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ— مجموعی اتفاق ہی کا نام اتفاق ہے۔ جزئی اختلافات تو ہر جگہ اور ہر شخص کے اندر پائے جاتے ہیں۔
مولانا فیاض الدین عمری نے کہا کہ میں اِس کی تائید کروں گا کہ جامعہ کے اندر مسلکی تشدد بالکل نہیں پایا جاتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں نے جامعہ کے سینئر استاد دکتورعبد اللہ جولم صاحب سے بدایۃ المجتہد پڑھی ہے۔ مولانا اگرچہ سلفی ہیں، مگر دلیل کی موجودگی میں انہوں نے ہمیشہ ائمہ کی رائے کو ترجیح دی ہے۔ اور کبھی اُن سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے کا بھی اظہار فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے ذمے داران مسلک کے اعتبار سے اگرچہ سلفی ہیں، لیکن جامعہ کی قدیم مسجد میں وہاں کے امام ایک حنفی ہیں۔ جامعہ کے اندر لمبی مدت گزارنے کے باوجود ہم کو بہت سے اساتذہ کا مسلک معلوم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کا ایک امتیاز یہ ہے کہ یہاں کے ذمے داران ہمیشہ اپنے چھوٹوں سے رائے لیتے ہیں اور ان کوآگے بڑھاتے ہیں۔
گفتگو کے دوران کاکا سعید عمری صاحب نے کہا کہ عام طورپر لوگ دوستوں کو حقِ تنقید دیتے ہیں، مگر وہ اجنبی آدمی کو حق تنقید نہیں دیتے۔ اگر کوئی اجنبی آدمی ان پر تنقید کردے تو وہ بپھر اٹھتے ہیں۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دوستوں کے علاوہ، اجنبی لوگوں کو بھی حقِ تنقید دے۔ وہ ایک اجنبی آدمی کی بات کو بھی اُسی طرح سنے جس طرح وہ اپنے دوستوں کی بات کو سنتا ہے۔ کاکا سعید احمد عمری نے گفتگو کے دوران کہا کہ جامعہ دار السلام کا نشانہ بنیادی طورپر صرف دو چیزیں ہیں— دعوت، اور آخرت۔ دعوت برائے آخرت اور آخرت برائے دعوت، یہی جامعہ کا اصل نشانہ ہے۔
اِس سلسلے میں طلبہ جامعہ کے سامنے کاکا سعید احمد عمری کے ایک بصیرت افروز خطاب کا ایک اقتباس یہاں نقل کیا جاتا ہے’’:اِس وقت ہم علمائےکرام کو اپنی ذمے داری کو محسوس کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ ہم برادران وطن کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑھائیں، انھیں اپنی محبت کا موضوع بنائیں، اپنی تقریبات میں انھیں مدعو کریں اور جب بھی، جہاں بھی موقع ملے، اُسے غنیمت جان کر انھیں اسلام کا صحیح تعارف کرانے اور ان کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے امت کو برادرانِ وطن کے ساتھ نفرت کرنا ہی سکھایا ہے، اُن سے محبت کرنا نہیں سکھایا۔ برادرانِ وطن ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب تک ہم اُن کے ساتھ محبت سے پیش نہیں آئیں گے، ذرا سوچیے ، اُس وقت تک وہ ہماری باتوں پر کیسے توجہ دیں گے۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ اُنھیں ابدی جہنم سے بچانے کی فکر اور تڑپ ہمارے دل میں کیسے پیدا ہوگی‘‘۔ (ماہ نامہ راہِ اعتدال، عمر آباد، جون 2010، صفحہ 51)
7جون 2010 کی شام کا کھانا اِس انداز کا تھا جس کو عام طورپر ’’پُر تکلف عشائیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعد کو میں نے یہاں کے منتظمین سے کہا کہ میں اِس قسم کے کھانے کا عادی نہیں ہوں۔ میں یہاں جب تک ہوں، میں صرف جامعہ کے مطبخ (مطعم) کا کھانا کھاؤں گا، یعنی وہ کھانا جو جامعہ کے طلبا کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے کھانے کا ٹائم بھی وہی ہوگا جو جامعہ میں عام طورپر طلبا کے کھانے کا ٹائم ہوتا ہے۔ چنانچہ جب تک میں یہاں رہا، مطبخ کا کھانا کھاتا رہا۔ یہ کھانا بالکل سادہ تھا اور میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔
مولانا اسرار الحسن عمری جو یہاں ہم لوگوں کے کھانے وغیرہ کے ذمے دار تھے، انہوں نے بتایا کہ اگلے دن صبح کو مجھے جامعہ کے دفتر میں بلایاگیا۔ نائب ناظم جامعہ مولانا ظفر الحق شاکر عمری نے مجھ سے پوچھا کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کے کھانے وغیرہ کا کیا انتظام ہے۔ میں نے کہا کہ مولانا نے کہا ہے کہ میں جب تک جامعہ میں ہوں، مطبخ کا کھانا کھاؤں گا۔ میرے لیے الگ سے کوئی اہتمام نہ کیا جائے۔ میری بات سن کر نائب ناظم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا کہ:فَكُلُّ مُشْكِلَةٍ حُلَّتْ (پھر تو ساری مشکل آسان ہوگئی)۔ کیوں کہ مہمانوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ان کے کھانے کا ہوتا ہے۔
مولانا کاکا سعید احمد عمری صاحب کے گھر سے کھانا کھا کر ہم لوگ واپس جامعہ کے کیمپس میں آگئے۔ یہاں کئی علما کے ساتھ میں دیر تک جامعہ کی کھلی فضا میں واک (walk) کرتا رہا۔ میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ آل عمران میں ذکر کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللهَ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ(3:191)۔ یعنی، کچھ لوگ کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنے تجربے کے مطابق، اِس میں ایک اور ذکر کا اضافہ کیا ہے، اور وہ ہے واکنگ ذکر (walking zikr)۔ میرا معمول ہے کہ میں روزانہ واک کرتاہوں۔ مگر میری واک صرف واک نہیں ہوتی، بلکہ وہ واکنگ ذکر ہوتی ہے۔
ذکر کیا ہے۔ ذکر دراصل تفکر کا نام ہے۔ سلفِ صالحین نے ذکر کا یہی مطلب بتایا ہے۔ مثال کے طورپر ملاحظہ ہوعلامہ ابن القیم الجوزیۃ(وفات 751 ھ) کی کتاب:مفتاح دار السعادۃ ومنشور ولایۃ العلم والإرادۃ۔ علامہ ابن قیم نے اِس کتاب میں تذکراور تفکر کو ہدایت کی اصل قرار دیا ہے (اَلتَّفَكُّرُ وَالتَّذَكُّرُ أَصْلُ الْهُدَىٰ وَالْفَلَاحِ، هُمَا قُطْبَا السَّعَادَةِ)۔ تفکر کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مثلاً یہاں آپ جامعہ کے کیمپس میں واک کررہے ہیں۔ یہاں چاروں طرف سرسبز درخت کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ نے درخت کو دیکھا۔آپ کو یاد آیا کہ درخت اپنے اندر ایک انوکھی صفت رکھتا ہے، وہ یہ کہ وہ ایک نمو پذیر وجود (growing entity) ہے۔ درخت کے بارے میں اِس طرح سوچتے ہوئے آپ کو یاد آیا کہ ایمان کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ایمان بھی ایک نموپذیر حقیقت ہے۔ حقیقی ایمان وہی ہے جس میں مسلسل اضافہ ہوتارہے۔ اِسی لیے قرآن میں کلمۂ ایمان کو درخت سے تشبیہ دی گئی ہے (ابراہیم، 14:24)۔ البتہ دونوں کے درمیان ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ درخت کی نمو پذیری قانونِ فطرت کے تحت ہوتی ہے، لیکن انسان خود اپنے ارادے کے تحت غور وفکر کرتا ہے اور اِس طرح وہ خود اپنے ارادے کے تحت اپنے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔
واک کرنے کے بعد ہم لوگ اپنی قیام گاہ (مکتبہ عمر) پر آگئے۔ یہاں کمرے میں دوبارہ تقریباً 10 علما اکٹھا ہوگئے۔ ان سے دیر تک دینی اور دعوتی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ اُس وقت ایک بات میں نے یہ کہی کہ جو لوگ صرف عوام کے درمیان کام کرتے ہیں، عام طورپر ان کا ذہنی ارتقانہیں ہوتا۔ لیکن جو لوگ خواص کے درمیان دعوتی کام کریں، ان کا مسلسل ذہنی ارتقا ہوتا رہے گا۔ گویا کہ عوام کے درمیان دعوتی کام یک طرفہ نوعیت کا کام ہے، یعنی ایک سننے والا ہے اور دوسرا سنانے والا۔ اِس کے برعکس، خواص کے درمیان دعوتی کام دوطرفہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس میں ایک طرف مدعو کو نئی باتیں ملتی ہیں، اور دوسری طرف داعی کو ڈسکشن اور ڈائلاگ کے دوران نئی نئی باتیں سیکھنے کا موقع ملتا ہے— پہلا طریقہ اگر یک طرفہ تعلیم (unilateral learning) پر مبنی ہے، تو دوسرا طریقہ دوطرفہ تعلّم (bilateral learning) پر مبنی۔
اِسی طرح میں نے ایک بات یہ کہی کہ قرآن میں چار قابلِ انعام گروہوں کا ذکر آیا ہے:الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحِينَ (4:69)۔ یعنی، وہ گروہ جن پر اللہ نے انعام کیا، یعنی پیغمبر اور صدیق اور شہید اور صالح۔ میں نے کہا کہ میری سمجھ کے مطابق، اِس آیت میں انبیاء سے مراد پیغمبر ہیں، اور صدیقین سے مراد اصحابِ پیغمبر، اور شہداء سے مراد دعاۃ کا گروہ ہے۔ صالحین سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیے قرآن میں دوسری جگہ مقتصد (فاطر، 35:32) کا لفظ آیا ہے۔پھر میں نے کہا کہ معرفت کے تمام درجات اپنی نوعیت کے اعتبار سے آج بھی پوری طرح کھلے ہوئے ہیں، حتی کہ وہ اعلیٰ درجہ بھی جس کے بارے میں حدیث میں اِس قسم کے الفاظ آئے ہیں:إنَّ لِلهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ يَغْبِطُهُمْ، النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللهِ(مسند احمد، حدیث نمبر 22906)۔ یعنی، بے شک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوں گے جو نہ نبی ہوں گے اور نہ شہید، مگر ان کی مجلسوں اور اللہ کے قرب کی وجہ سے انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔انبیاء کے اِس رشک کا سبب غالباً یہ ہوگا کہ جو درجۂ معرفت انبیاء نے فرشتہ جبریل کے ذریعے حاصل کیا، اُسی نوعیت کی معرفت یہ لوگ فرشتہ جبریل کے بغیر حاصل کرلیں گے۔ معرفت کا یہ حصول بعد کے زمانے میں اہلِ ایمان کے لیے سائنسی دریافتوں کے ذریعے ممکن ہوسکے گا۔
دہلی کے مقابلے میں عمر آباد کا موسم بہت خوش گوار تھا۔ دہلی میں درجۂ حرارت 41 ڈگری تھا، جب کہ یہاں کا درجہ حرارت 31 ڈگری ہے۔ رات نہایت سکون کے ساتھ گزری۔ 8 جون 2010 کو فجر کی نماز ہم لوگوں نے جامعہ دارالسلام کے کیمپس کے اندر واقع مسجد سلطان میں پڑھی۔ یہ مسجد1993 میں بنائی گئی۔ مسجد کافی وسیع اور سادہ تھی۔ عام روایت کے خلاف اِس مسجد میں صرف ایک مینار بنایا گیا ہے۔ ایک مینار کا طریقہ مجھے پسند ہے۔ ایک مینار توحید کی علامت معلوم ہوتا ہے۔
ہم لوگ نماز سے فارغ ہو کر باہر آئے تو ہر طرف فطرت (nature) کا ماحول تھا۔ جامعہ دارالسلام اِس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے اندر ہر طرف سرسبز درخت دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کی تعمیر دراصل ایک وادی (valley) میں ہوئی ہے۔ اس کے بیرونی حصے میں دور تک پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔ جامعہ کے مغرب میں جو پہاڑی سلسلہ ہے، وہ وہی ہے جس کو ’’کیلاش گری‘‘ کہا جاتا ہے۔
جامعہ میں قیام کے دوران ہر وقت علما کا ساتھ ہوتا تھا۔ اِس واک کے دوران بھی کئی علما ہمارے ساتھ تھے۔ میں نے کہا کہ جامعہ کا یہ خوش منظر جائے وقوع دیکھ کر مجھے یاد آتا ہے کہ میں نے بہت پہلے ماہ نامہ الرسالہ میں ایک مضمون شائع کیا تھا۔ اس کا عنوان تھا— فطرت کی آغوش میں۔
اِس مضمون میں میں نے لکھا تھاکہ میری تمناؤں میں سے ایک تمنا یہ ہے کہ فطرت کے مناظر کے درمیان ایک دینی مرکز بنایا جائے۔ یہ مرکز گویا کہ ہمارے افکار کا ایک عملی مظاہرہ ہوگا۔ یہاں جب خدا کی عظمت بیان کی جائے گی تو درخت اور پہاڑ اور آسمان اس کی عملی تصدیق کر رہے ہوں گے، اور چڑیاں اپنے چہچہے کے ساتھ اس کی ہم آواز بنی ہوئی ہوںگی۔ اب جامعہ دارالسلام کو دیکھنے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرا خواب یہا ںواقعہ بن چکا ہے۔ کیوں کہ جامعہ کا مقصد بھی تقریباً وہی ہے جس کو میں نے نصف صدی سے بھی زیادہ مدت سے اپنا مشن بنا رکھا ہے،یعنی دعوت الی اللہ کا مشن۔ ہماری اِس واک کے دوران دوسرے علمائے جامعہ کے علاوہ، جامعہ دار السلام کے دونوں بڑے ذمے دار بھی موجود تھے— مولانا کاکا سعید احمد عمری، اور مولانا کاکا انیس احمد عمری۔
واک کرنے کے دوران میں نے ایک بات یہ کہی کہ یہاں آکر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جامعہ دار السلام دوسرے مدارس کے مقابلے میں ایک استثنا (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی کچھ منفرد خصوصیات ہیں۔ مثلاً یہاں کی مسجد میں اکثر اوقات طلبا امامت کرتے ہیں۔ ہر نماز ایک الگ طالب علم پڑھاتا ہے۔ ایسا اِس لیے کیا جاتا ہے تاکہ طلبا کی حوصلہ افزائی ہو اور وہ تعلیم کے دوران تربیت بھی حاصل کرتے رہیں۔
مارننگ واک (morning walk) کے بعد ہم لوگ لائبریری کی عمارت کے باہر کھلی فضا میں بیٹھ گئے۔ موسم بہت خوش گوار تھا۔ یہاں مولانا کاکا سعید احمد عمری کے علاوہ جامعہ کے اساتذہ اور کئی دیگر علما موجود تھے۔ دیرتک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ مدارس کے ذمے داران اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اِن مدارس کے ذریعے تعلیم کا مقصد تو حاصل ہوا، لیکن افراد سازی کا مقصد بہت کم حاصل ہوسکا۔
میں نے کہا کہ اِ س کا سبب یہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کے شاکلہ (17:84) کے مطابق بنتی ہے۔ شاکلہ سے مراد ذہنی سانچہ (mindset) ہے۔ ہمارے مدارس کا معاملہ یہ ہے کہ وہاں کا پورا ماحول قدیم شاکلہ پر مبنی ہوتا ہے، جب کہ موجودہ زمانے میں حالات بالکل بدل چکے ہیں۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ طلبا کو لسانِ عصر میں مخاطب کیا جائے، ورنہ ان کا مائنڈ ایڈریس نہ ہوگا۔ یہی وہ کمی ہے جس کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ تعلیم دین کے کافی پھیلاؤ کے باوجود ایسے افراد پیدا نہیں ہورہے ہیں جو جدید معیار پر اسلامی ذہن کے حامل ہوں اور جدید انسان کے سامنے موثر انداز میں اسلام کی نمائندگی کرسکیں۔
میں نے کہا کہ الرسالہ مشن دراصل اِسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے شروع کیاگیا۔ غالباً یہ کہنا درست ہوگا کہ پوری مسلم دنیا میں یہ واحدمشن ہے جو اِس فکری ضرورت کو پورا کررہا ہے۔ 1959 میں ایک مشہور ہندستانی عالم کی ایک کتاب چھپی۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا:ردّۃ ولا أبا بکر لہا۔ میں نے اِس معاملے کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ جدید انسان کا کیس ذہنی ارتداد (intellectual apostasy) کا کیس نہیں ہے، بلکہ وہ ذہنی عدم اطمینان (intellectual dissatisfaction) کا کیس ہے۔ الرسالہ مشن کے تحت 1976 سے اِس بنیاد پر کام شروع کیا گیا ہے اور اب اللہ کے فضل سے ہر جگہ اس کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ میں نے آپ کی کچھ کتابیں پڑھی ہیں۔مگر اس میں تعقل پسندی بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اِس کی کوئی مثال دیجیے، مگر وہ کوئی مثال نہ بتا سکے۔ میں نے کہا کہ جب تک آدمی کے پاس کوئی متعین مثال نہ ہو، اُس وقت تک اِس طرح کا تبصرہ کرنا آدمی کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔پھر میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ آپ جیسے لوگ دو چیزوں میں فرق نہیں کرپاتے۔ ایک ہے تعقل پسندی اور دوسری چیز ہے اسلوب جدید۔ معروف معنی میں،میں ہر گز تعقل پسند نہیں ہوں،البتہ میری تحریروں میں جدید اسلوب ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ دونوںمیں فرق نہ کرنے کی وجہ سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ میں ایک تعقل پسند انسان ہوں۔ حالاں کہ مجرد تعقل پسندی ایک غیر مطلوب چیز ہے اور اسلوب جدید بلاشبہ عین مطلوب کی حیثیت رکھتا ہے۔
میں نے کہا کہ عقل کے استعمال کی دوصورتیں ہیں— ایک یہ کہ عقل کو بذاتِ خود صحیح اور غلط کا معیار سمجھا جائے۔ دوسرے یہ کہ نقلی (traditional) طورپر ایک ثابت شدہ بات کی مزید تائید کے لیے عقل کا استعمال کیا جائے۔ عقل کا اِس طرح تائیدی استعمال خود قرآن سے ثابت ہے۔ مثال کے طورپر جدید عقل پسند انسان یہ کہتا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان ہر اعتبار سے کامل مساوات ہونا چاہیے۔ میں اِس عقلی نقطۂ نظر کو نہیں مانتا۔ اِس کے بجائے میں قرآن کے نقطۂ نظر کو مانتا ہوں جس میں عورت اور مرد کے درمیان فطری فرق کی بنا پرایک مرد کے مقابلے میں دو عورتوں کی گواہی کو معتبر قرار دیا گیا ہے (البقرۃ، 2:282)۔ قرآن کے اِس نقطۂ نظر کی تائید کے لیے میں نے ایک سائنسی دلیل دی ہے۔ وہ یہ کہ عورت اور مرد کے دماغ میں فطری بناوٹ کے اعتبار سے ایک ناقابلِ تغیر فرق پایا جاتا ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ مرد پیدائشی طورپر single focussed mind ہوتا ہے، اور اس کے مقابلے میں عورت فطری طورپرmulti focussed mind رکھتی ہے۔ اس کی تفصیل آپ ماہ نامہ الرسالہ (اپریل 2006، صفحہ 7) میں دیکھ سکتے ہیں۔
8 جون 2010 کی صبح کو جامعہ کے کُلّیہ ہال میں ایک بڑا پروگرام ہوا۔ یہ یہاں کے زمانۂ قیام کا پہلا پروگرام تھا۔یہاں میں نے دعوت الی اللہ کے موضوع پر کچھ باتیں کہیں۔ اس کے بعدمیں نے اس پروگرام میں جو مزیدباتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہ تھا کہ جامعہ سے میرا ایک فطری تعلق رہا ہے۔ جامعہ دارالسلام 1924 میں قائم ہوا، اور یہی وہ سال ہے جب کہ میری پیدائش ہوئی۔ جامعہ سے اِسی بلااعلان تعلق کی بنا پر ایسا ہوا کہ میں نے اپنے پہلے فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کو 1957 میں تعلیم کے لیے یہاں بھیجا۔ جامعہ کے لیے میرا پہلا سفر 1977 میں ہوا۔ یہ سفر جامعہ کی دعوت پر 16-18 اپریل 1977 کو اس کی گولڈن جُبلی (المہرجان الذہبی) میں شرکت کے لیے ہوا۔ اِس موقع پر میں نے ایک مقالہ پیش کیا تھا جو ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 1977، میں شائع ہوا۔ اِس مقالے کا عنوان یہ تھا:
دعوت اسلامی کے جدید امکانات
