عقل کی آنکھ سے

خطیب بغدادی نے اپنی کتاب ’’تاریخِ بغداد‘‘ (جلد16، صفحہ 362)میں قاضی ابویوسف کے تذکرہ کے ذیل میں لکھا ہے۔ علی بن جور کہتے ہیں کہ امام ابو یوسف نے مجھ کو بتایا۔ میرے باپ ابراہیم بن حبیب کا انتقال ہو گیا۔ میری ماں نے مجھے ایک دھوبی کے یہاں خدمت کے لیے رکھ دیا ۔ میں اکثر دھوبی کو چھوڑ کر امام ابو حنیفہ کے حلقۂ درس میں چلا جاتا اور وہاں حدیث اور فقہ کا علم حاصل کرتا۔ میری ماں کو معلوم ہوتا تو وہ آتی اور میرا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ دھوبی کے یہاں پہنچادیتی۔ جب ایسا قصہ بار بار ہونے لگا تو میری ماں پر شاق گزرا اس نے امام ابو حنیفہ سے کہا، اس لڑکے کا بگاڑ صرف تم ہو۔ یہ ایک یتیم لڑ کا ہے۔ اس کے پاس کچھ نہیں۔ میں چرخہ کات کر اس کو کھلاتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ وہ بھی کچھ کمانے لگے۔ امام ابوحنیفہ نے میری ماں سے کہا:وہ پِستہ کا فالودہ کھانے والا علم حاصل کر رہا ہے۔ میری ماں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے تمہاری عقل جاتی رہی ہے۔

 امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ نے میری مالی مدد کی اور میں ان کے حلقہ ٔدرس سے برابر علم حاصل کرتا رہا۔ یہاں تک کہ میں اس قابل ہو گیا کہ عباسی حکومت نے مجھ کو قاضی کے عہدےپر مقرر کیا ۔ اب میں خلیفہ ہارون رشید کی مجلس میں بیٹھنے لگا۔ میں اس کے دستر خوان پر کھانا کھاتا۔ ایک روز دستر خوان پر ہارون رشیدکے لیے فالودہ آیا۔ ہارون رشید نے کہا اس کو کھاؤ۔ میں نے پوچھا:اے امیر المومنین یہ کیا چیز ہے۔ ہارون رشید نے کہا:یہ پستہ کا فالودہ ہے۔ یہ سن کر مجھ کو ہنسی آگئی۔ ہارون رشید نے پوچھا کہ تم کیوں ہنسے۔ پھرمیں نے مذکورہ قصہ شروع سے آخر تک بتایا۔ ہارون رشید یہ سن کر اچنبھے میں پڑ گیا۔ اس نے کہا:میری زندگی کی قسم، علم آدمی کو بلند کرتاہے اور دین اور دنیامیں اس کو نفع دیتا ہے (إِنَّ الْعِلْمَ لَيَرْفَعُ وَيَنْفَعُ دِينًا وَدُنْيَا)۔ اللہ ابوحنیفہ پر رحم کرے، وہ اپنی عقل کی آنکھ سے وہ چیز دیکھ لیتے تھے جس کو وہ اپنے سر کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تھے (كانَ يَنْظُرُ بِعَينِ عَقْلِهٖ ما لا يَراهُ بِعَينِ رَأْسِهٖ)۔ انسان کے چہرے پر اللہ نے دو خوب صورت آنکھیں دی ہیں جن سے وہ تمام چیزوں کو دیکھتا ہے۔ مگر ان آنکھوں سے جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری چیزیں ہیں۔ زیادہ گہری اور زیادہ بامعنی چیزیں دیکھنے کے لیے ایک اور آنکھ کی ضرورت ہے ۔ یہ بصیرت یا عقل کی آنکھ ہے۔ جو شخص صرف سر کی آنکھ رکھتا ہو اس کا دیکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص مشین کے اوپر کا ڈھکن دیکھے مگر اندر کے کل پرزوں سے بے خبر رہے، ایسا دیکھنا ، نہ دیکھنے سے بس برائے نام ہی مختلف ہے ۔ بڑھیا کی ظاہری آنکھ نوجوان کا مستقبل صرف دھوبی کے خدمت گار کی صورت میں دیکھتی تھی مگر اسی نوجوان کو جب ایک عقل کی آنکھ والے نے دیکھا تو وہ اس کو بادشاہ کے دستر خوان پر بیٹھا ہوا نظر آیا۔

عقل کی آنکھ آدمی کو کس طرح حاصل ہوتی ہے، اس کا ایک ہی جواب ہے۔ یہ صلاحیت آدمی کے اندر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ وہ سر کی آنکھ سے نظر آنے والی چیزوں سے اوپر اٹھ جائے۔ معنوی حقیقتیں ظاہری حقیقتوں سے پرے ہیں۔ اس لیے معنوی حقیقتوں کو وہی شخص پاتا ہے جو ظاہری حقیقتوں سے گزر جائے۔ سامنے کی چیزوں سے نظر ہٹانے کے بعد ہی دور کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔ اسی طرح گہری باتوں کو آدمی اس وقت پاتا ہے جب کہ وہ اوپری باتوں سے بلند ہو جائے۔ چیزوں کے ظاہری روپ میں گم رہنے والا کبھی چیزوں کو ان کے اندرونی روپ میں نہیں دیکھ سکتا۔ (الرسالہ، اپریل 1980)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion