ایک سفر

اپریل 1969  میں میں نے پہلی بار اَلور (راجستھان) کا سفر کیا تھا۔ اس کے بعد وہاں کے کئی سفر ہوئے۔ اس کا تفصیلی تذکرہ ’’میوات کا سفر‘‘  نامی کتاب میں موجود ہے۔ الور کا موجودہ سفر 20 مئی 1989 کو ہوا ، اور 25 مئی کو دوبارہ دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔

انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) میں الور کے تذکرہ کے تحت درج ہے کہ یہاں، دوسری تاریخی عمارتوں کے علاوہ کئی قدیم مسجدیں بھی پائی جاتی ہیں :

It contains..... several ancient mosques (Vol. 1, p. 285)

مگر یہ بیان صحیح نہیں۔ یہ واقعہ ہے کہ 1947 تک الور میں ایک سو سے زیادہ تعداد میں پُر رونق مسجدیں موجود تھیں۔ مگر یہ سب مسجدیں آزادی کے بعد ہونے والے فسادات کی نذر ہو گئیں۔ اب یہاںصرف دو با قا عدہ مسجدیں ہیں جو آزادی کے بعد کے دور میں از سر نو تعمیر کی گئی ہیں۔ ایک، مدرسہ اشرف العلوم کی مسجد، دوسرے، میو بورڈنگ کی مسجد۔ ان کے علاوہ ایک قدیم چھوٹی سی مسجدہے جہاں ایک ’’شرنارتھی‘‘  خاندان آباد ہے۔

مولانا محمد ابراہیم صاحب اور مولانامفتی جمال الدین صاحب 1949 میں دوبارہ الور میں آئے۔ موجودہ جگہ اس وقت چٹیل میدان کی صورت میں تھی۔ صرف کچھ ٹوٹے ہوئے پتھر اس بات کی علامت تھے کہ یہاں کبھی کوئی عمارت یا کوئی مسجد کھڑی ہوئی تھی۔ انہوں نے ایک چھپر ڈال کر یہاں تعمیرِ نو کا آغاز کیا۔

میں پہلی بار اپریل 1969 میں الور آیا تھا۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ مولانا ابراہیم صاحب ایک نیم کے درخت کے نیچے ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور دور چُھپے ہوئے مستقبل کو تصوراتی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 30 برس بعد آج یہاں دوبارہ ایک پورا ادارہ کھڑا ہو گیا ہے۔ مسجد اور مدرسہ کی شکل میں اسلامی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس علاقے میں چونکہ یہ واحد اسلامی ادارہ ہے،اس لیے اطراف کے مسلمان اس سے جڑ گئے ہیںہر بر بادی کو دوبارہ آبادی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بربادی آخری بربادی نہیں۔

21 مئی کی شام کو مدرسہ میں کچھ مقامی تعلیم یافتہ اصحاب جمع ہو گئے۔ مسلمانوں کی تعلیم کے موضوع پر گفتگو ہونے لگی۔ میں نے کہا کہ ہندستان کے مسلمان تعلیم میں پیچھے ہو گئے   ہیں۔ ہمارے رہنما اس کی ذمہ داری انگریزوں کی سازش اور ہندوؤں کے تعصب پر ڈالتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک اس کی تمام ترذمہ داری خود مسلم رہنماؤں کے اوپر ہے۔

موجودہ زمانہ میں ملک کے اندر بے شمار اسکول اور کالج کھلے۔ انھیں عیسائیوں اور ہندوؤں نے قائم کیا تھا۔ مگر مسلمان تحفظ کے ذہن کے تحت اس سے دور رہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسری قوموں کی طرف سے ہمارے اوپر تہذیبی حملہ ہو رہا ہے ، ہمیں اس سے بچاؤ کی فکر کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگوں نے ان اسکولوں اور کالجوں کو مسلمانوں کے لیے ’’قتل گاہ‘‘بتایا۔  اکبر الٰہ آبادی نےان پر طنز کر تے ہوئے کہا :

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا     افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

یہ فکر میرے نزدیک سراسر لغو تھا۔ بعد کے تجربات بتاتے ہیں کہ انھیں اسکولوں اور کالجوں سے بے شمار لوگ ہماری دینی جماعتوں کو ملے۔ اگر یہ ادارے واقعۃً قتل گاہ ہوتے تو یہ تمام لوگ ذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے قتل ہوچکے ہوتے، پھر وہ ہماری دینی جماعتوں کو کیسے ملتے۔

میں نے کہا کہ اصل مسئلہ تحفظ اور بچاؤ کانہ تھا بلکہ جوابی فکری اقدام کا تھا۔ ضرورت یہ تھی کہ اسلام کی تعلیمات کو جوابی نظریہ کی حیثیت سے پیش کیا جائے اور مسلمانوں کی نئی نسلوں میں اسلام پر اتنا یقین اور حوصلہ پیدا کر دیا جائے کہ وہ جدید تہذیبی حملوں کے مقابلہ میں پُر عزم طور پرٹھہر سکے۔

میں نے کہا کہ ہمیں ملک کے تعلیمی نظام سے کٹنا نہیں تھا ، بلکہ اپنی نسلوں کو ان اداروں میں پڑھاتے ہوئے ان کی ذہنی تعمیر کا کام کرنا تھا۔ اس طرح کے کام کی ایک مثال تبلیغی جماعت ہے۔تبلیغی جماعت کا کام اگرچہ خالص روایتی انداز میں چل رہا ہے ، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ یہی ہے۔ وہ فکر کا جواب فکر سے دیتی ہے۔  مادی تہذیب کے پرستاروں کا کہنا تھا کہ ’’چیزوں سے ہوتا ہے‘‘  اس کے جواب میں تبلیغ نے کہا کہ ’’چیزوں سے نہیں خدا سے ہوتا ہے‘‘ یہ گویاایک نظریہ کے جواب میں دوسرا نظریہ تھا۔ اس جوابی نظریہ نے بہت سے زیر ِتعلیم نوجوانوں کو متاثر کیا اور وہ مادی فکر سے کٹ کر دینی فکر سے جڑ گئے۔

یہاں کی مسجد دوبارہ زیادہ بہتر اور وسیع انداز میں تعمیر کی جارہی ہے۔ 25 مئی کو صبح روانگی سے پہلے میں مسجد کے اندرونی حصہ میں کھڑا ہوا اس کی تعمیرات کو دیکھ رہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ یہ قدیم مسجد پہلی بار 1947 میں مکمل طور پر ڈھا دی گئی تھی۔ اس کے بعد اس کی نئی تعمیر ہوئی۔ یہ نئی تعمیر بھی دوبارہ 1988 میں پوری کی پوری ڈھادی گئی۔

میں نے سوچا کہ ’’ڈھانے‘‘ کے اعتبار سے 1947 کا واقعہ اور 1988 کا واقعہ، دونوں بظاہر یکساں ہیں۔ مگر نوعیت کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ پہلا واقعہ دشمنوں نے کیا تھا، دوسرا واقعہ دوستوں نے کیا ہے۔ پہلا انہدام مسجد کو ختم کرنے کے لیے تھا، دوسرا انہدام مسجد کو از سر ِنو زیادہ بہتر بنانے کے لیے۔ اس دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ دو چیزوں کی شکل بظاہر یکساں ہوتی ہے۔ مگر دونوں کی حقیقت ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ جو لوگ اس راز کو نہ جانیں ، وہ کبھی اس دنیا میں کامیاب روش اختیار نہ کر سکیں گے۔

جس مدرسہ میں میرا قیام تھا، اس سے ریلوےاسٹیشن قریب ہے۔ یہ سفر میں نے بالقصد سائیکل رکشہ کے ذریعہ کیا۔ اسٹیشن پہنچ کر رکشہ والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے دور وپیہ بتایا۔ میں نے فوراً اس کو دو روپیہ دیا اور اسٹیشن میں داخل ہو گیا۔ یہاں مدرسہ کے لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے رکشہ والے کو کرایہ کی رقم اد کردی تھی۔ اس قصہ کو سن کر مدرسہ کے ایک استاد حافظ محمد اسماعیل صاحب (35 سال) بولے:دو روپیہ لے جانے سے کون سا اس کا رکشہ چلاناچھوٹ جائے گا ،چلائے گا تو وہ رکشہ ہی۔

ہماری ٹرین (سپر فاسٹ اکسپریس)الور اسٹیشن پر پہنچی تو وہ پندرہ منٹ لیٹ تھی۔ مگر دہلی پہنچتے پہنچتے وہ پورے ایک گھنٹہ لیٹ ہو گئی۔ اس کی وجہ ایک مسافر نے اپنے لفظوں میں اس طرح بتائیلیٹ ہونے کے بعد پٹتی جاتی ہے گاڑی۔ جو ٹرین ایک بارلیٹ ہو جائے تو اس کو مزید لیٹ ہونا پڑتا ہے۔ کیوں کہ ریلوے کا اصول یہ ہے کہ جوٹرین اپنے صحیح وقت پر چل رہی ہو اس کو پہلے راستہ دیا جائے۔ اور جو ٹرین لیٹ ہو گئی ہو اس کو روک دیا جائے۔ چنانچہ آگے سے آنے والی ٹرین کو راستہ دینے کی خاطر ہماری ٹرین بار بار در میانی اسٹیشنوں پر رو کی جاتی رہی۔ اس طرح ایسا ہوا کہ جو گاڑی ابتداء میں پندرہ منٹ لیٹ تھی وہ آخر میں ایک گھنٹہ لیٹ ہو گئی۔

یہی وسیع تر زندگی کا معاملہ ہے۔ جو زندگی کی دوڑ میں ایک بار پیچھے ہو جائے وہ مزید پیچھے ہوتا چلا جائے گا ، خواہ اس نے اپنی سواری کا نام ’’سپر فاسٹ‘‘ کیوں نہ رکھ لیا ہو۔

)الرسالہ، ستمبر 1989(

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion