ايك هفته بهار ميں

 مدرسه صديقيه (سرسيا) كي دعوت پر بهار كا سفر هوا۔ مدرسه صدیقيه مولانا عبد الرحيم امدادي نے اپنے مرشد، قاري صديق باندوي (وفات 1997) كے نام پر قائم كيا هے۔ 31اكتوبر 2000 كي شام كو دهلي سے راجدھاني اكسپريس كے ذريعه روانگي هوئي اور 8نومبر 2000كي صبح كو دوباره راجدھاني اكسپريس كے ذريعه دهلي واپس آيا۔ يه سفر ايك هفته تك جاري رها۔ اس سفر كي روداد مختصر طورپر يهاں درج كي جاتي هے۔

بهار كا ابتدائي تعارف مجھے تقريباً 65 سال پهلے اس وقت هوا جب كه ميں يوپي كے ايك عربي مدرسه كا طالب علم تھا۔ ايك بار بهار كے ايك نوجوان اس مدرسه ميں داخله كے ليے آئے۔ مجھے ياد هے كه جب وه دار الاقامه ميں پهنچے تو وهاں كے طلبه نے سنجيده انداز ميں كها’’:كيا آپ كے شامل بدھنا بھي هے‘‘۔  يه بظاهر ايك سنجيده سوال تھا۔ مگر وه بهار كے طالب علم كي تضحيك تھي۔

بهار كے طلبه لوٹے كو بدھنا كهتے تھے اور ساتھ كي جگه شامل بولتے تھے۔ يه زبان يوپي والوں سے مختلف تھي۔ اور يوپي والے چونكه اپني زبان كو معيار سمجھتے هيں اس ليے وه اس قسم كے فرق پر بهار والوں كا مذاق اڑاتے تھے۔

يه معامله صرف نوجوان طلبه تك محدود نهيں تھا۔ اساتذه كا رويه بھي اس معامله ميں زياده مختلف نه تھا۔ مجھے ياد هے كه ايك بار هماري كلاس ميں عربي كا ايك لفظ، غالباً ’دقيق‘ سامنے آيا۔ همارے استاد نے اس كا مطلب پوچھا۔ بهار كے ايك طالب علم نے اس كو بتاتے هوئے كها باڑيك۔ استاذ نے يه سن كر كها كه آپ نے تو اس كو اور موٹا كرديا۔ بهار كے لوگ چونكه اكثر ’ر ‘ كو ’ڑ ‘ كي طرح بولتے هيں، اس ليے يه لطيفه پيش آيا۔

يوپي اور دهلي كے لوگ بهار والوں كي زبان اور ان كي تهذيب كو لمبي مدت سے اپنے سے كم سمجھتے رهے هيں۔ چنانچه ’’بهاري‘‘ كا لفظ وسط هند كي زبان ميں كم تر كے معني ميں معروف هوگيا۔ مگر اب صورت حال بالكل بدل گئي هے۔ يوپي اور دلي كے مسلمانوں كا فخر پسندي كا مزاج ان كے ليے الٹا ثابت هوا۔ اس مخصوص ذهن كي بنا پر ان كے اندر محنت اور ايڈجسٹمنٹ كا مزاج پرورش نه پاسكا۔ چنانچه وه جديد ترقياتي ميدان ميں زياده آگے نه بڑھ سكے۔ اس كے برعكس، بهار كے لوگوں كے حالات نے ان كے اندر تواضع (modesty)اور كمي كا مزاج پيدا كيا۔ اپنے اس مزاج كي بنا پر وه زياده محنت كرنے لگے۔ اسي كا نتيجه يه هے كه آج بهار كے مسلمان تقريباً هر ميدان ميں يوپي اور دلي كے مسلمانوں سے آگے هيں، ملك كے اندر بھي اور ملك كے باهر بھي۔

پٹنه ميں انگريزي اخبار ٹائمس آف انڈيا كي خاتون نمائنده سنجيده بانو نے اپنے اخبار كے ليے تفصيلي انٹرويو ریكارڈ كيا۔ ان كا ايك سوال يه تھا كه آپ بھي ايك عالم هيں، مگر روايتي علما اور آپ كے درميان فرق هے ايسا كيوں۔ ميں نے كها كه ميں كوئي ماڈرن عالم نهيں۔ ميں بھي پورے معنوں ميں ايك روايتي عالم هوں۔جهاں تك اسلام اور قرآن وحديث كا تعلق هے ميرے اور ان كے درميان عقيده وعمل كا كوئي اختلاف نهيں۔ اس اعتبار سے دونوں كا دين مكمل طورپر ايك هے۔ ميرے اور ان كے درميان جو فرق هے وه نظريه نهيں بلكه طريق كار هے۔

ميرا معامله يه هے كه ميں نے مدرسه ميں عربي اور ديني تعليم كي تكميل كے بعد ذاتي محنت سے انگريزي پڑھي اور جديد علوم كا تفصيلي مطالعه كيا۔ اس سے ميں نے سمجھا كه اسلام كي ابدي صداقت كو جديد اسلوب ميں پيش كرنے كي ضرورت هے تاكه وه آج كے انسان كے ليے زياده قابل فهم هوسكے۔ اس ايك بات كے سوادونوں كے درميان كوئي اور فرق نهيں۔

يكم نومبر كي صبح كو پٹنه سے ڈھاكه كے ليے روانگي هوئي۔ اس سفر ميں كئي لوگ ميرے ساتھ تھے۔ برادرم محمد ثناء الله ندوي (26 سال) بھي ميرے ساتھ تھے۔ انہوں نے 1995ميں ندوه سے فراغت كي هے۔ انہوں نے بتايا كه آپ كي سب سے پهلي كتاب جو ميں نے پڑھي وه الاسلام يتحدي (مذهب اور جديد چيلنج)ہے اس کے بعد میں برابر آپ کی تحریر یں پڑھتا ہوں۔ انہوں نے اپنے قلم سے یہ الفاظ لکھے۔ ’’میں نے حضرت کی کتابوں سے جہاد کاصحیح تصور، دعوت کا حقیقی نہج، سنت رسول کاصحیح نمونہ، زندگی کااصل مقصد، جینے کا حوصلہ، حق کی تلاش کاسچا جذبہ اورخدمت دین کی روحانی قوت کا سبق لیاہے اوراب الحمدللہ مولاناکی کتابوں سے اوران کے مشن، دعوت حق سے مکمل اتفاق رکھتاہوں ‘‘ برادرم ثناء اللہ ندوی بہار کے اس پور ے سفر میں میرے ساتھ رہے، میں نے انہی کے ذریعہ یہ سفر نامہ لکھوایا۔

یکم نومبر کو پٹنہ سے ڈھاکہ جاتے ہوئے درمیان میں ہم لوگ مظفر پور سے گزرے یہاں تھوڑی دیر کے لیے قیام کیاگیا۔ مظفر پور بہار کاایک شہرہے جوکپڑے وغیرہ کی مارکیٹ کے لیے مشہور ہے۔

مظفر پور میں ایک قدیم مدرسہ ہے۔ یہاں عربی اوردینی تعلیم کاانتظام ہے۔ مولانا عبدالرحیم امدادی نے کہاکہ ان کے شیخ حضرت قاری محمد صدیق باندوی نے سُلّم کی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی تھی۔ سُلّم قدیم منطق کے موضوع پر ایک کتاب ہے۔ اس کاپورا نام سُلّم العلوم ہے۔ اس کے مصنف بہار کے ایک عالم قاضی محبّ اللہ بہاری ( وفات1119ھ ) ہیں۔ وہ اورنگ زیب عالمگیر کے ہم عصر تھے۔ قدیم زمانے میں منطق کی اس کتاب کی اتنی زیادہ اہمیت ہو ئی کہ اورنگ زیب نے قاضی محبّ اللہ بہاری کواپنے بیٹوں کی تعلیم کے لیے مقررکیا۔ مگراب اس کتاب کی اہمیت زیادہ ترتاریخی ہے عصری منطق کے اعتبارسے ا س کی زیادہ اہمیت نہیں۔ 

سلّم العلوم کی شرحیں کثر ت سے لکھی گئی ہیں۔ ’’شرح نویسی‘‘ کایہ طریقہ میرے نزدیک صرف تقلیدی ذہن کی پیداوار ہے۔ صحیح یہ ہے کہ لکھنے والے لوگ خود اپنی تحقیق سے نئی کتابیں لکھیں۔ شرح نویسی کے اس طریقہ کانقصان یہ ہوا کہ بعد کے زمانے میں ذہنی ارتقاء کا عمل رک گیا۔ لوگوں نے قدیم متون کو مقدس سمجھ لیااس کے بعد انسانی ذہن کا کام صرف اس کی شرح لکھنا رہ گیانہ کہ خود کوئی نیا اورتخلیقی کام پیش کرنا۔ 

برادرم محمد ثناء اللہ ندوی نے بتایاکہ وہ نہ صرف خود الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو پڑھتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی پڑھا تے ہیں۔ اس سلسلے میں اپنے تجربات کے دائرے میں انہوں نے بتایاکہ ایک دن وہ اپنی دکان پر میری کتاب ’’مذہب اورجدید چیلنج ‘‘ پڑھ رہے تھے۔ اس اثنا ء میں ایک مقامی عالم آگئے۔ انہوں نے پوچھاکہ آپ کو ن سی کتاب پڑھ رہے ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہاکہ یہ مولاناوحیدالدین خان کی کتاب ’’ مذہب اورجدید چیلنج ‘‘ ہے۔ انہوں نے یہ سنتے ہی کہاکہ لاحول ولاقوۃ۔ یہ تم کس کی کتاب پڑھ رہے ہو۔ یہ تومسلم دشمنوں کے ایجنٹ ہیں، وہ معمر قذافی کے آدمی ہیں۔ ثناء اللہ صاحب نے کہاکیا آپ نے ان کی کتابیں پڑھی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نہیں ۔ ثناء اللہ صاحب نے ان سے کہاکہ پھر آپ نے بغیر جانے ہوئے کیسے رائے قائم کرلی۔ انہوں نے کہاکہ میں جانتاہوں وہ تو لیبیا کے معمر قذافی کے ایجنٹ ہیں جو ایک بدنام دشمن اسلام ہے۔ 

جناب ثناء اللہ ندوی کے پاس اس وقت راقم الحروف کی کتاب غیر ملکی اسفار حصہ اول تھی جس کو وہ پڑھ چکے تھے۔ اس کتاب میں لیبیا کاایک سفر نامہ شامل ہے۔ جس میں معمر قذافی کے بارے میں یہ الفاظ چھپے ہوئے ہیں:

مجھے کرنل قذافی کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کرنل قذافی کے ثورہ (انقلاب) نے لیبیاکو نقصان زیادہ پہنچایاہے اورفائدہ کم۔ اسلام کے بارے میں بھی ان کی بہت سی تعبیرات احمقانہ ہیں‘‘ (صفحہ 11)۔

ثناء اللہ ندوی صاحب نے بتایاکہ اس اقتباس کو سننے کے بعد مذکورہ عالم اس قدر مبہوت ہوئے کہ وہ حیرانی کے ساتھ میری طرف دیکھنے لگے۔ ان کی خاموشی اس بات کی علامت تھی کہ وہ اس مطبوعہ اقتباس کودیکھنے کے بعد سرتاسرلاجواب ہو گئے ہیں۔ مگر انہوں نے اس کااعتراف کرتے ہوئے یہ نہیں کہاکہ میں اس معاملے میں سخت غلطی پر تھا۔ بلکہ انہوں  نے صرف یہ کیا کہ موضوع بدل کر دوسری بات شروع کردی۔

لوگوں کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ اپنی غلطی کااعتراف نہیں کرتے۔ خود ا س پر کتنے ہی زیادہ دلائل دے دیے جائیں۔ ان میں سے کوئی شخص یہ کرتاہے کہ دلائل کے مقابلے میں بے بس ہوکر چپ ہوجاتاہے۔ اورکوئی شخص اس کے بعدبھی بے تکان بولتارہتاہے۔ خواہ اس کو خود بھی اپنے بولے ہوئے الفاظ کا مطلب معلوم نہ ہو۔

راستہ میں ہم لوگ موتی ہاری سے گزرے یہاں۔ کچھ دیر کے لیے مدرسہ خیر العلوم میں قیام کیا۔ اس کے ناظم مولانا محمد عالم القاسمی ہیں یہ مدرسہ 1974میں قائم ہوا۔ یہاں ڈیڑھ سوطلباء کی تعلیم کاانتطام ہے۔ اساتذہ اوردوسرے کارکنوں کی تعداد سترہ ہے۔ یہ مدرسہ ایک پرسکون جگہ پر واقع ہے۔

اس طرح کے لاکھوں چھوٹے بڑے مدرسے پورے ملک میں خاموش کام کررہے ہیں۔ وہ علم دین کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچارہے ہیں انہی مدارس کایہ کارنامہ ہے کہ ہندستان میں آج علم دین زندہ ہے۔ مسلم ملکوں میں احیاء تعلیم کایہ کام حکومتوں کے تعاون سے ہوتا ہے۔ ہندستان میں یہ کام علما کی قربانیوں کے ذریعہ انجام پارہاہے۔ ہندستان میں اتنی بڑی تعداد میں مدارس دینیہ کی موجودگی اس خدائی ضمانت کی ایک زندہ مثال ہے جس کو حفاظت دین کہا جاتا ہے۔ مدارس کے موضوع میں نے ایک مفصل مقالہ شائع کیاہے یہ مقالہ ماہنامہ الرسالہ کے شمارہ ستمبر2000 میں تفصیل کے ساتھ چھپا ہے۔

میں نے ظہر کی نماز اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی۔ نماز کےبعد طلبا و اساتذہ کے سامنے ایک مختصر خطاب کیا۔ اس خطاب میں، میں نے کہا کہ یہ مدارس ایک عظیم خدمت انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارے اس تحفظ دین کا ذریعہ ہیں جس کا فیصلہ اللہ نے فرمایا ہے۔ اللہ کا یہ فیصلہ اسباب کے اعتبار سے زیادہ تر انہیں مدارس کے ذریعہ انجام پا رہا ہے۔

سفر کے دوران اس بات کااندازہ ہوا کہ الرسالہ مشن کس طرح لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ مثلاً اس سفر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ میرے اس سفر کا پروگرام طے کرنے بعد مولاناعبد الرحیم امدادی نے مختلف مقامات کے سفر کیے تاکہ پروگرام کانظام بناسکیں۔ اس سلسلے میں وہ ڈھاکہ گئے۔ وہاں ان کو جناب عطاء اللہ ڈھاکوی سے ملناتھا۔ ایک کپڑے کے تاجر سے انہوں نے عطاء اللہ صاحب ڈھاکوی کاپتہ پوچھا۔ اس تاجر نے اپنے قیاس کے ذریعہ مولاناعبدالرحیم امدادی سے کہا’’غالبا آپ مولاناوحیدالدین کے پروگرام سلسلے میں یہاں آئے ہیں‘‘ ۔

انہوں نے کہاکہ ہاں ، تاجر نے کہاکہ میں خود بھی مولانا کاشیدائی ہوں۔ اس کے بعد مذکورہ تاجر مولاناعبدالرحیم امدادی کو اپنی دکان میں لے گئے اورکہاکہ میں بھی آپ کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوں۔

یہ تاجر محمد ثناء اللہ ندوی تھے۔ انہوں نے الرسالہ مشن کی کافی کتابیں پڑھی ہیں۔ اور وہ پوری طرح اس مشن میں شامل ہوچکے ہیں۔ مگر اس سے پہلے ان کا تعارف اس حیثیت سے نہ مجھ سے تھا اورنہ کسی اور سے۔ یکم نومبر 2000سےپہلے میں محمدثناء اللہ ندوی کانام بھی نہیں جانتاتھا مگراس سفر کے دوران ان کاجوتعارف ہوا اس سے معلوم ہواکہ وہ خود اپنی ذات میں دعوت کی ایک تاریخ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنی دعوتی زندگی کے کئی ایسے واقعات بتائے جومیرے جیسے آدمی کے لیے بلاشبہ حیرت انگیز ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ڈھاکہ میں ایک نوجوان محمد نسیم احمد ہیں۔ میں ان کو تقریبا پانچ سال سے جانتاتھا لیکن مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ وہ الرسالہ مشن سے گہراتعلق رکھتے ہیں۔

موجودہ پروگرام کے تحت عبدالرحیم امدادی صاحب ڈھاکہ آئے۔ وہ ان کی دکان پربیٹھے ہوئے تھے کہ اس درمیان اتفاق سے محمد نسیم صاحب وہاں آگئے۔ انہوں نے نسیم صاحب کوپروگرام کی بابت بتایا۔ وہ بہت خوش ہوئے اورپھر انہوں نے اپنے بارے میں یہ بات بتائی کہ وہ الرسالہ مشن کی ساری کتابیں پڑھ چکے ہیں۔

انہوں نے الرسالہ کے بہت سے شمارے دہلی سے منگواکر تقسیم کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں بہار کے اس پروگرام میں شروع سے آخر تک شریک رہوں گا۔ 

ایک عجیب سبق آموز بات معلوم ہوئی کہ بہار کا موجودہ پروگرام اتفاق سے ایسے وقت بنا جب کہ یہاں ہندوؤ ں میں چھٹ تیوہار پڑ رہا تھا۔ یہ کپڑے کی تجارت کے لے سیزن کی حیثیت رکھتاہے۔  یہ محمد ثناء اللہ ندوی کے لیے ایک آزمائش کالمحہ تھا۔ وہ دکان میں بیٹھ کرسیزن کافائدہ اٹھائیں یادکان کو بند کر کے ہمارے پروگراموں میں شرکت کریں۔ پروگرام میں شرکت کے لیے دکان کو بند کرنا ضروری تھا کیوں کہ ان کی غیر موجودگی میں دوسرا کوئی شخص نہ تھا جو دکان کو دیکھے۔ 

31اکتوبر 2000 کو وہ اپنی دکان پر تھے، شام 3بجے تک سترہ ہزار روپئے کی بکری ہوچکی تھی اورخریداروں کا تانتا بندھاہواتھا۔ تین بجے انہوں نے فیصلہ کیاکہ بہر حال مجھے پروگرام میں شرکت کرنا ہے۔ چنانچہ انہوں نے گاہکوں کی بھیڑ چھوڑدی اوردکان کو بند کرکے اللہ پرتوکل کرتے ہوئے پٹنہ کے لیے رونہ ہو گئے۔ یکم نومبر کو محمد ثناء اللہ ندوی نے اپنا یہ واقعہ بتایاتو میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ میں کہاکہ خدایا توا س نوجوان کی اورہم سب کی مدد فرما۔

سید نعیم اخترصاحب منشاء ٹولہ سے ملاقات ہو ئی۔ انہوں نے کہاکہ آج کل دنیا بھر کے علما جہاد کی باتیں کرتے ہیں یہ لوگ ہرملک کے مسلمانوں کو جہاد کے اوپر بھڑکائے ہوئے ہیں۔  صرف آپ ایک ایسےعالم ہی جوجہاد اورٹکراؤ کی بات نہیں کرتے۔ ایسا کیوں، کس طرح یہ سمجھا جائے کہ دونوں میں سے کون برحق ہے۔ 

میں نے کہاکہ جہاد کو بطور ایک شرعی حکم کے میں بھی اسی طرح مانتاہوں جس طرح دوسرے علما مانتے ہیں۔ مگرشریعت کے ہر حکم کی کچھ شرطیں ہیں ، اسی طرح جہاد کی بھی کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ پہلی بات یہ کہ تمام علما ء کی متفقہ رائے کے مطابق، جہاد سے پہلے دعوت ضروری ہے۔ دعوت کی پر امن جد وجہد کے بغیر مسلح جہاد چھیڑنا اسلام میں سرے سے جائز ہی نہیں۔  میرایہ کہنا ہے کہ موجودہ زمانے میں  ہماراپہلافریضہ یہ ہے کہ ہم دوسری قوم تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ نہ یہ کہ ملک ومال کی شکایتوں کولے کران سے لڑنا شروع کردیں۔ شرائط کی تکمیل کے بغیرجوجہاد کیاجائے وہ شریعت کی نظر میں فساد ہو گا، نہ کہ جہاد۔ دوسری بات یہ کہ اگر بالفرض وہ حالات پیداہوجائیں جب کہ جہاد کرنامسلمانوں کے لیے ضروری ہو جاتاہے تب بھی جہاد سے پہلے اعداد ( تیاری ) کامرحلہ طے کرنا ضروری ہو گا۔ اعداد کے بغیرجہاد صرف ایک خودکشی کافعل ہے ، وہ ہر گز جہاد نہیں۔ 

اکثر پرجوش مسلمان اس معاملے میں  غزوہ ٔ بدر کاحوالہ دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ غزوہ ٔ بدر میں فریق ثانی کی نسبت سے کوئی تیاری نہیں تھی پھر بھی مسلمانوں نے ان سے جنگ کی اور کامیاب ہوئے۔ میرے نزدیک ایساکہنا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ کہنے والامجرمانہ حد تک قرآن سے ناواقف ہے۔ قرآن سے واضح طور پر ثابت ہے کہ جب یہ اطلاع ملی کہ مکہ سے ایک ہزار مسلح فوج مدینہ کی طرف آرہی ہے تو مسلمان اپنی عدم تیاری کی بناپر ان سے مڈبھیڑ کے لیے راضی نہ تھے اس کے بعد اللہ تعالی نے ان کے پاس یہ خوش خبری بھیجی کہ تم لوگ آگے بڑھو ، میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزارفرشتے لگاتار بھیج رہاہوں (الانفال،9:9)۔

اللہ تعالی کی اس واضح یقین دہانی کے بعد مسلمان کمزوریاتیاری کے بغیر نہیں رہے۔  بلکہ وہ تمام طاقتوروں سے زیادہ طاقت ور ہو گئے۔  یہی وجہ ہے کہ بد رکی لڑائی میں  مسلمانوں کو فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی جب کہ موجودہ زمانے کے مسلمان بد ر کاحوالہ دے کرکم از کم ڈیڑھ سوسال سے بار بار لڑرہے ہیں۔ اورہر موقع پر یک طرفہ شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ اگر وہ   ’’بدر‘‘ کو دہرا رہے ہیں توبدرکانتیجہ ان کے حصے میں کیوں نہیں آیا۔

ایک صاحب جو مدرسہ سے فارغ تھے انہوں نے کہاکہ آپ نے علما کے کارناموں پرکچھ نہیں لکھا اس کاسبب کیاہے میں نے کہاشاید آپ ماہنامہ الرسالہ کامطالعہ نہیں کرتے ہیں۔ ابھی ستمبر 2000کا شمارہ جو خصوصی طورپر 80 صفحات میں  شائع ہوا ہے وہ پورا کاپور شمارہ علما کے کارناموں ہی پرمشتمل ہے۔ 

2نومبر کی صبح کو آزاد مدرسہ اسلامیہ ڈھاکہ کامعائنہ کیا۔ یہ مدرسہ 1942میں قائم کیاگیا۔ اس مدرسہ کا قیام مولانا حسین احمد مدنی کی تحریک پر عمل میں آیا۔ اس مدرسہ کے ناظم قاری محمد انوار الحق اورصدرمدرس مولانا عبد السلام صاحب ہیں۔ یہاں طلبہ واساتذہ کے سامنے ایک مختصرخطاب کیا۔ اس موقع پر میں نے مختصر طورپر علم کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہاکہ اس دنیا میں علم ہی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ قدیم زمانے میں اہل اسلام دنیا میں غالب ہو ئے تو ا س کاراز شمشیر نہیں تھا بلکہ علم تھا۔ اسی طرح موجودہ زمانے میں اہل مغرب نے دنیا میں جوغلبہ حاصل کیاہے اس کاراز بھی اہل مغرب کی سازش نہیں ہے بلکہ علم ہے۔ علم طاقت ہے (knowledge is power)یہ اصول ہرایک کے لیے ہے۔ میں نے کہاکہ آپ لوگوں کو بیک وقت دوچیزوں میں کمال حاصل کرنا ہے۔ دین اورعلم۔ دونوں میں سے کسی ایک کی کمی بیک وقت دونوں ہی کے لیے نقصان کاباعث ہوگی۔

ایک پندرہ سالہ بچہ ابراہیم ڈھاکوی سے مجھ کو ملایاگیا۔ اس کے والد نے کہاکہ یہ بچہ پڑھنے میں محنت کرتاہے لیکن اس کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ میں نے کہاکہ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیاکے بہت سے بڑے لوگ اپنی ابتدائی عمر میں کمزور طالب علم کی حیثیت رکھتے تھے مگر یہی لوگ تھے جنہوں نے بعد کو بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ فطرت کی طرف سے ہر انسان کو صلاحیتیں دی جاتی ہیں۔ البتہ کسی کی صلاحیت شروع ہی سے نمایاں ہو جاتی ہے اورکسی کی صلاحیت بعد کوظہور میں آتی ہے۔

2نومبر کو دس بجے ہم لو گ جامعہ الامام ابن تیمیہ چندن بارہ پہنچے۔ اس ادارہ کی بنیاد 1964میں رکھی گئی۔ اس جامعہ کودیکھ کرایک عجیب تاثرہوا۔ میں نے بعض ہندی اور انگریزی اخباروں میں پڑھا تھاکہ نیپال کی سرحد کے قریب مسلمانوں نے اپنے تعلیمی ادارے بنائے ہیں جہاں جنگجو ئی کی تربیت دی جاتی ہے۔ جامعہ ابن تیمیہ نیپال کی سرحد سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ اورمذکورہ رپورٹوں میں خصوصی طورپراس کابھی ذکر تھا۔ میں نے اگرچہ اس سے پہلے ٹی وی انٹرویو میں اس کی تردید کرتے ہوئے کہاتھا کہ میں خود مدرسہ ہی کاایک پروڈکٹ ہو ں۔ اوراگرآپ لوگ مجھ کو ایک امن پسند انسان سمجھتے ہیں تو اسی سے سمجھ لیجیے کہ ہر مدرسہ امن پسندی کی تربیت گاہ ہے۔

آج جب میں نے جامعہ کے کیمپس میں قدم رکھا تومیری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ پڑے۔ یہ آنسو اس درد کے تحت نکلے تھے کہ ہماراملک کتنی بڑی حقیقت سے بے خبر ہے۔  جامعہ ابن تیمیہ میں مجھے ہرطرف امن اورانسانی خیرخواہی اورعلم دوستی کاماحول نظرآیا۔ ایسا ادارہ بلاشبہ ملک کے لیے ایک سرمایہ کی حیثیت رکھتاہے ، مگر کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جواس قسم کے تعمیری اداروں پربے بنیادطورپر تخریب کاالزام لگائیں۔ تاہم یہاں آنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مدارس کے بارے میں جس غلط پروپیگنڈے کی تردید میں دیکھے بغیر قیاس کی بنیاد پر کررہاتھا اب میں خدا کے فضل سے اس کی تردید مشاہدہ کی بنیاد پر کرسکتاہوں۔ 

جامعہ میں خواتین کاایک مدرسہ بھی ہے اس کو بھی دیکھا۔ اس کا ایک الگ اورمستقل کیمپس ہے۔ اس میں دارالاقامہ سے لے کر مسجد تک ہرچیز موجود ہے۔ پچھلے سالوں میں ہندستان کے مسلمانوں میں خصوصی طور پر یہ رجحان پیداہوا ہے کہ و ہ اپنی لڑکیوں کو پڑھائیں۔  چنانچہ بہت سے مدرسے اوراسکول خواتین کی تعلیم کے لیے قائم ہوئے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک روشن علامت ہے۔ 

جامعہ الامام ابن تیمیہ چندن بار ہ پندرہ یکڑکے رقبہ میں واقع ہے۔ اس کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کے لیے مجھے کار سے چلنا پڑا۔ اس کے وسیع کیمپس میں چلتے ہوئے ایسامحسوس ہوتاتھا جیسے یہاں زمین کے اوپر ایک اسلامک یونیورسٹی ابھر رہی ہو۔ دل سے دعا نکلی کہ اللہ اس ادارہ کووہ ادارہ بنائے جو اسلام کی جدید ضرورتوں کو پورا کرنے والاہو۔

میں نے یہاں کے اساتذہ کی ایک مجلس میں کہاکہ دعوتی نقطہ ٔ نظر سےموجودہ زمانے کاسب سے بڑا کام اسلام کو جدید ذہن کے لیے قابل فہم بناناہے۔ دعوت کا کام ایک دوطرفہ عمل ہے۔ اس میں ایک طرف داعی ہوتاہے اوردوسری طرف مدعو۔ دعوت کے عمل کودرست طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہے کہ داعی اپنے مدعو کے ذہن کو سمجھے۔ اس کی زبان اوراس کا اسلوب کلام ایسا ہو جو اس کے مدعو کے لیے قابل فہم ہو جو مدعو کو سوچنے پرمجبور کردے۔ 

مولانا ذکاء اللہ عبدالقدوس صاحب نے کہاکہ قرآن میں واضح طورپر یہ آیت ہے کہ:وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ (24:55)۔ یعنی، اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار دے گا۔ موجودہ حالات کی روشنی میں اس آیت کی تفسیر کیاہے۔ میں نے کہا کہ استخلاف بلاشبہ اللہ کا ایک وعدہ ہے، مگر خود آیت بتاتی ہے کہ یہ ایک مشروط وعدہ ہے۔ یعنی جب شرط پوری ہوگی اسی وقت وعدہ کی تکمیل ہو گی۔ آیت کے مطابق یہ شرطیں بنیادی طورپر دوہیں۔ ایمان اورعمل صالح۔ ایمان اورعمل صالح کے بغیر خلافت کے وعدہ کی تکمیل ممکن نہیں۔ 

اس آیت کے مطابق امت میں اگر ایمان اورعمل صالح موجود ہوتو لازماً اس کو خلافت حاصل ہو گی۔ اسی طرح اس کے برعکس، اگر خلافت موجود نہ ہو تو یہ اس کالازمی ثبوت ہو گا کہ امت کے اندر مطلوب ایمان اورمطلوب عمل صالح موجودنہیں۔ یہ ایک لازم وملزوم معاملہ ہے۔ اس لیے اگر ایک چیز موجود ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ دوسری چیز موجودنہیں ہے۔ 

11بجے جامعہ الامام ابن تیمیہ کے ہال میں طلبہ واساتذہ کو خطاب کیا۔ وسیع ہال مکمل طورپر بھرا ہوا تھا۔ قرب وجوار کے لوگ بھی کافی تعداد میں شریک تھے۔ میں نے اپنی تقریر میں دوچیزوں کی اہمیت بتائی۔ 

ایک علم اوردوسری دعا۔ علم کے ذریعہ آدمی صاحب شعور بنتاہے اوردعا کے ذریعہ وہ اس برتر طاقت کی نصرت حاصل کرتاہے جواس کو ہرجگہ کامیاب کرنے والی ہے۔ 

میں نے کہاکہ امام ابن تیمیہ سے میں نے ذاتی طورپر یہ دونوں چیزیں سیکھی ہیں۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ جب قرآن کی کسی آیت کے سلسلے میں ان کو اشکال پیش آتا تو وہ تنہائی میں چلے جاتے اوروضو کر کے دو رکعت نماز پڑھتے اورسجدہ میں سررکھ کرکہتے:‌يَا ‌مُعَلِّمَ ‌إبْرَاهِيمَ ‌عَلِّمْنِي (إعلام الموقعين، جلد4، صفحہ 198)۔ یعنی، اے ابراہیم کے معلم، مجھے بھی علم دے دے۔ یہ دعا کوئی سادہ دعا نہیں ۔  اس کامطلب یہ ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جس کا قاری (مطالعہ کرنے والا) اس کے مصنف سے ہر لمحہ کنسلٹ (consult) کرسکتاہے ، خواہ یہ قاری کسی بھی مقام پر اور کسی بھی زمانے میں ہو۔ یہ ایک ایسی خوش قسمتی ہے جو قرآن کے قاری کے سوا کسی اورکتاب کے قاری کو حاصل نہیں۔ میں نے اللہ کے فضل سے ابن تیمیہ کے اس طریقہ کو اپنا مستقل طریقہ بنالیا۔ اس سے مجھے غیر معمولی فائدے حاصل ہو ئے۔  پھر میں  نے کہاکہ ابن تیمیہ کی ایک اورخصوصیت یہ تھی کہ وہ ہر قسم کی چیزیں کثرت سے پڑھتے تھے۔  چنانچہ ان کی کتابیں معلومات کاخزانہ بن گئیں۔ میں نے اپنی زندگی میں اللہ کی توفیق سے ایساہی کیا۔ میں نے اپنی تقریباً پوری زندگی مختلف قسم کے علوم کے مطالعہ میں گزاردی۔ یہ مطالعہ میرے لیے بے حد مفید ثابت ہو ا۔ اگر آپ کامطالعہ محدود ہو تو آپ مسائل کی پوری نوعیت کو نہیں سمجھ سکتے اورنہ اس کا گہرا تجزیہ کرسکتے ہیں۔ اس لیے آپ کوچاہیے کہ مطالعہ کوزیادہ سے زیادہ بڑھائیں نیز یہ کہ ہر قسم کی چیزیں پڑھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے بغیر انسان کی شخصیت ادھوری رہتی ہے۔

ایک صاحب نے کہاکہ آپ جس تحمل اورایڈجسٹمنٹ کی تلقین کرتے ہیں وہ ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اپنائے ہوئے ہے۔ مگرجب آپ اس طریق عمل کو ملی زندگی میں اختیار کرنے کے لیے کہتے ہیں تو یہی لوگ آپ کی مخالفت کرنے لگتے ہیں۔ جس حکمت کووہ اپنی ذاتی زندگی میں جانتے ہیں ، کیاوجہ ہے کہ ملی زندگی کے معاملات میں وہ اس سے بے خبر ہیں۔

میں نے کہاکہ اس کاسبب یہ ہے کہ ذاتی معاملات میں وہ اپنی جبلت (instinct) کے تحت عمل کرتے ہیں۔ لیکن ملی زندگی میں معاملہ شعور کاہوجاتاہے جہاں ان کو اپنے شعور کے تحت بالقصد کام کرنا ہے۔ مگر مسلم سماج اورمسلم اداروں نے ان کے اندر یہ شعور زندہ نہیں کیا۔ اس لیے وہ اس کو اجنبی سمجھ کر رد کردیتے ہیں۔ آپ کاکام یہ ہے کہ اس معاملے میں ان کے شعور کو جگائیں۔ شعور ی بیداری کے بعد اپنے آپ ان کا یہ تضاد ختم ہو جائے گا۔

مولانا عبدالرحیم امدادی صاحب نے اس علاقہ میں مسلسل دورہ کرکے یہاں الرسالہ مشن کا ماحول بنایاہے۔ انہوں نے کہاکہ میرے پاس وسائل کے نام سے کوئی چیز نہ تھی۔  اس کے باوجود میں دیوانہ وار الرسالہ کے لیے گھومتا رہا۔ نہ صرف بھوک پیاس کو بلکہ ہر قسم کی تکلیفوں کو مجھے سہنا پڑا۔ آخر کار ایک وقت آیا جب کہ میرے لیے دروازے کھل گئے اور پورے علاقہ میں ساتھیوں  اورمددگاروں کی ایک فوج مجھے حاصل ہو گئی۔  اپنا تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ دین کے کام میں اللہ کی مدد ضرور آتی ہے۔ مگر وہ اس وقت آتی ہے جب کہ آدمی کے اوپر سو میں سے ننانوے مرحلے گزرچکے ہوں۔ اللہ کی مدد سویں مرحلے پر آتی ہے، اس سے پہلے نہیں۔

3نومبر کی صبح کو ہم لوگ ڈاکٹر اے رحمٰن ماڈل اکیڈمی دیکھنے کے لیے گئے۔ مسٹر سہیل اخترا اس کے پرنسپل ہیں۔ وسیع اورشاداب کیمپس میں ایک خوبصورت زیر تعمیر مسجد ابھر رہی ہے۔ جومیرے جیسے آدمی کے لیے خاص طورپر جاذب نظر ہے۔ اس رحمن اکیڈمی ’’اسکول ‘‘ کی ایک خاص صفت یہ ہے کہ یہاں ہندو مسلم کی کوئی تفریق نہیں۔ یہاں مسلم بچوں کے ساتھ ہند و بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس اسکول میں اردو زبان لازمی ہے اورہندو بچے بھی شوق کے ساتھ اردو پڑھتے ہیں۔ ان کے والدین اس پر نہایت خوش ہیں۔ یہاں پڑھنے والے ہندو بچوں کی تعداد اس وقت تقریبا پچاس ہے۔ میں نے کہاکہ آپ کا یہ تعلیمی ادارہ وہ کام کررہاہے جو قومی یکجہتی ( نیشنل انٹگریشن) کے معاملے میں بہت اہم ہے۔ یعنی مشترک زبان۔ جس ملک کی قومی زبان ایک ہو وہاں قومی یکجہتی اپنے آپ قائم ہو جاتی ہے۔ جیسے جاپان۔ جاپانیوں کی زبان ایک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جاپان میں کسی مزید کوشش کے بغیر قومی یکجہتی اپنے آپ قائم ہے۔

محمد ثناء اللہ ندوی شریک سفر تھے۔ ان سے پوچھا گیاکہ آپ نے الرسالہ کی تحریریں پڑھی ہیں اوراب صاحب الرسالہ کے ساتھ سفر میں نکلے ہیں، اس بار ے میں اپنا تاثر بتائیے۔  ان کا جواب ان الفاظ میں تھا’’میں نے بہت سارے مصنفین کی کتابیں پڑھی ہیں ، لیکن مولانا وحید الدین کی تصانیف ، ان کا الرسالہ بالخصوص ان کی چندروزہ صحبت نے میرے اندر ون، میں  میری فکر میں اورمیرے جذبہ دعوت میں انقلاب پیدا کردیا۔ میں مولانا کو اس دور کا عظیم مفکر ، حقیقی داعی ، خادم قوم وملت مانتاہوں اوران کے مشن سے مکمل اتفاق رکھتاہوں‘‘۔

آزادی سے پہلے کے ہندستان میں یہ عام رواج تھا کہ مسلمانوں کے تعلیمی اداروں میں ہندونوجوان بھی پڑھا کرتے تھے۔ یہ روایت اب بھی بہا رمیں کسی قدر باقی ہے۔ اس سلسلے میں ایک دلچسپ مثال ٹائمس آف انڈیا کے پٹنہ ایڈیشن (9ستمبر 2000) میں شائع ہوئی ہے۔یہ واقعہ مزید تفصیل کے ساتھ ٹائمس آف انڈیا کے نئی دہلی ایڈیشن (12 ستمبر2000)میں چھپا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ بہار کے ضلع گوپال گنج (کھیتاپور ) میں ایک مسلم مدرسہ قائم ہے جس میں 400طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں ان میں سے 70ہندو طلبہ ہیں۔ ایک سابق ہندوایم ایل اے نے بھی اپنے بچے کو اس مدرسے میں داخل کرایاہے۔ ٹائمس آف انڈیا کی یہ رپورٹ اگلے صفحہ پر نقل کی جارہی ہے۔ 

HINDUS STUDYING IN MADRASA

PATNA: There were a few lessons the Maulana still had to learn. On an annual visit to a local madrasa in the backwaters of Bihar, the Maulana from UP was surprised to see two Hindu boys, aged three and five, attired in a topi, reading Urdu prescribed for the students of the minority community. "When he learnt their names, he wanted to meet me," exults their grandfather Vidya Bhusan Singh.

A strange lesson for the Maulana, yes. But for Singh, there seems to be nothing amiss in his decision. The ex-MLA has been sending his two grandsons to the local Madrasa instead of the village primary school in Gopalganj district for a long time now.

Initially, there was a hue and cry in the Rajput community from which he hails in Meera Tola-Khetapur village of Gopalganj's Baikunthpur block. "We had to face relentless taunts from the villagers. They even said we were converting to Islam," the ex-MLA who is currently general secretary of the state Samajwadi Party told The Times of India.

But that was then. Today, Singh's experiments have borne fruit and there has been a sea change in the attitude of the villagers. "Today, about 70 children belonging to the Hindu community study in the same madrasa which has a total strength of about 400. The head Maulvi did not object to Hindu children 'studying in the madrasa," he said.

But why did he send his grandsons to the madrasa for primary education? Only because the village government primary school was virtually defunct, Singh pointed out. "The primary school has two teachers. Each draws a fat salary of over Rs 10,000 per month. But the two are always absent. On the other hand, the madrasa is efficiently run by the head maulvi and his two assistants."

Singh does not think that sending his grandsons to the madrasa intrudes on his religion. "On the contrary, they will have a better perception of their own and other's religion," he stressed pointing out that the madrasa in his village must be the only one in the state in which so many Hindu children study.

Interestingly, this has been a learning experience for the grandfather too. "I have tried to learn the Urdu script from my grandsons since I was never able to learn the language," he said.

(Reported by Dipak Mishra, The Times of India, New Delhi, September 12, 2000)

جناب مولانا محمد مطلوب (گیا) اورمحمد اکرام الدین صاحبان اس سفر میں ہمارے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم کو الرسالہ نہیں ملاتھا توہماراحال یہ تھا کہ ہمارے سینےمیں دوسروں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکتی رہتی تھی۔ میر ے غصہ کاحال یہ تھا کہ اگر کوئی مجھے ایک گالی دے تو میں اسے دس گالی دوں اگرکوئی مجھے ایک ڈنڈامارے تو میں اس کو دس ڈنڈے ماروں۔ اسی کومیں اپنے لیے کمال سمجھتا تھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہی بہادری ہے اورایسا نہ کرنا بزدلی ہے۔ مگر الرسالہ کے مطالعے سے میرے سینے میں حسد وانتقام کی بھڑکتی ہوئی آگ بجھ گئی۔ مجھے یہ تجربہ ہواکہ زندگی دوسروں سے محبت کرنے کانام ہے، نہ کہ ان سے نفرت کرنے کانام۔ 3نومبر کوہم لوگ مدرسہ حسینیہ بیلواڑہ پہنچے۔ یہاں لوگوں سے ملاقات ہوئی یہ مدرسہ اس علاقے میں تعلیم پھیلانے کاکام کررہاہے۔ مدرسہ کے پر امن تعلیمی ماحول کودیکھ کرخوشی ہوئی۔ لوگوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہاکہ تعلیم ہی احیاء ملت کے کام کاآغاز ہے۔  جب تک تعلیم لوگوں کے اندر عام نہ ہو جائے دوسرا کوئی بھی کام نہیں کیاجاسکتا۔ قوم کو تعلیم یافتہ بنائے بغیر دوسرے دوسرے ایشو پرلوگوں کواٹھانے کی کوشش کرنا صرف شخصی مقبولیت کاذریعہ ہے ، وہ ملت کی تعمیر کاذریعہ نہیں۔ 

جناب عبد المجید صاحب (70سال) بتیاکی ایک خاص شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی واقعات بتائے۔ 1942میں وہ ندوہ میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ جب کوئٹ انڈیا کی تحریک شروع ہوئی توپرجوش لوگوں نے ریل کی پٹریاں اکھاڑدیں۔ ٹرینوں کی آمد ورفت رک گئی۔ انہوں نے بتایاکہ میں اورچند دوسرے طلباء لکھنؤ سے پیدل چل کربتیاپہنچے ، اس سفر میں تقریباً ایک ماہ لگ گیا۔ انہوں نے بتایاکہ سفر کے دوران جس گاؤں میں بھی ہم لوگ پہنچے وہاں ہم لوگ عزت کے ساتھ ٹھہرائے گئے۔ وہ لوگ کھانے پینے کاانتظام کرتے اورکئی کئی دن تک روکتے۔ اسی بناپریہ سفر اتنا لمبا ہوگیا۔

3نومبر کوجمعہ کادن تھا۔ بتیاکی جنگی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ وسیع مسجد مکمل طورپر بھری ہوئی تھی۔ یہاں جمعہ سے پہلے آدھ گھنٹہ کا خطاب کیا۔ اس خطاب کے لیے میں نے ایک حدیث کاانتخاب کیا۔ وہ یہ کہ:الْمَسَاجِدُ ‌بُيُوتُ الْمُتَّقِينَ (مصنف ابن ابی شیبۃ، حدیث نمبر 34610)۔ یعنی، مسجدیں متقیوں کاگھرہیں۔ میں نے بتایاکہ اس کامطلب یہ ہے کہ مسجد تقوی کی تربیت کا مرکزہے۔ مسجد کے اعمال ان صفات کو پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں جو اللہ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہیں۔ اذان سے لے کر السلام علیکم ورحمۃ اللہ تک ، اور باجماعت نمازکی ادائیگی تک نماز کا ہر جزء متقیانہ زندگی کی تیاری ہے۔ نماز جمعہ کے بعد مولانا علی احمد ندوی (82سال ) کی رہائش گاہ پر ہم لوگ اکٹھا ہو ئے۔ دوپہر کا کھانا یہیں کھایا گیا۔

مولاناعلی احمد ندوی 1939دارالعلوم ندوۃ العلما میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے قدیم ندوہ کو دیکھاہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ 1939ء کے ندوہ اورآج کے ندوہ میں کیافرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ندوہ میں تقریباً 500طلباء کی تعداد ہوتی تھی۔ عمارتیں بھی بہت کم تھیں۔ لیکن اب میں جب ندوہ گیاتھا تومیں نے دیکھا کہ وہاں بہت زیادہ ترقی ہو چکی ہے۔  اب طلباء کی تعداد تین ہزار سے زیادہ ہے۔ کثرت سے عمارتیں بن گئی ہیں۔ بہت سے نئے نئے شعبے کھل گئے ہیں، جوشاندار عمارتوں میں قائم ہیں۔ قدیم ندوہ کے مقابلے میں آج ندوہ کم از کم دس گنا زیادہ ترقی کرچکاہے۔

میں نے سوچا کہ 1947کے بعد مسلمانوں کے تمام لکھنے والے اوربولنے والے ایک ہی پیغام مسلمانوں کو دے رہے تھے۔ اوروہ یہ کہ اس ملک میں مسلمانوں کے لیے دوسرا اسپین بنایاجارہاہے۔ یہاں ان کی شناخت مٹائی جارہی ہے، وغیرہ۔ مگرعملاً صورت حال اس کے بالکل برعکس تھی۔ سب سے عجیب بات یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے اس وقت کے لیڈروں نے مسلمانوں کویہ خبردی تھی کہ غیر منقسم ہندستان میں ان کاکوئی مستقبل نہ ہوگا۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ تقسیم کے باوجود ہندستان کے مسلمان تقریباً ہراعتبار سے پاکستان سے زیادہ بہتر ہیں حتی کہ مسجد اورمدرسہ کے اعتبا رسے بھی۔

فجر کی نماز درگاہ محلہ کی مسجد میں پڑھی۔  نماز کے بعد لوگوں نے درس کے لیے کہا۔ امام صاحب نے نما ز میں یہ آیت پڑھی تھی:يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (59:18)۔یعنی، اے ایمان والو اللہ سے ڈرو، اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ باخبر ہے اس سے جو تم کرتے ہو۔

میں نے اس آیت کو لے ایک تربیتی تقریر کی۔ میں نے کہاکہ اللہ نے اس آیت میں یہ فرمایاہے کہ انسان یہ دیکھے کہ وہ کل کے لیے کیابھیج رہاہے۔ لیکن لوگوں کاحال یہ ہے کہ وہ مسجد میں تو اس آیت کوسنتے ہیں لیکن باہر جاکر برعکس طورپر اس فکر میں لگ جاتے ہیں کہ اپنے آج کے لیے میں کیاکماؤں۔ یعنی ساری فکر اس بات کی ہوجاتی ہے کہ آج میں کیاحاصل کروں۔ میں نے کہاکہ لوگ نماز تو پڑھتے ہیں مگر اس سے اپنے لیے ہدایت نہیں لیتے۔ وہ مسجد والے اعمال توکرتے ہیں مگر وہ مسجد والے اسباق نہیں لیتے۔ میں نے کہاکہ یاد رکھیے اصل اہمیت مسجد والے اعمال کی نہیں بلکہ مسجد والے اسباق کی ہے۔  

4نومبر کی صبح کومدرسہ اسلامیہ بتیاکا معاینہ کیا۔ اس مدرسہ کی بنیاد 1894میں رکھی گئی۔  یہ ایک تاریخی مدرسہ ہے۔ اس مدرسہ کے ذمہ دار پروفیسر ناظم صاحب ہیں۔ یہاں دارالافتا ء ودارالقضاء بھی قائم ہے۔ یہاں طلبہ واساتذہ کے سامنے ایک مختصر تقریر کی۔ میں نے کہاکہ پچھلے دوسوسال کے درمیان مسلمانوں نے بہت سے کام شروع کیے۔ مگر تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ ختم ہوتے رہے۔ لیکن مدرسہ کاکام غالبا واحد کام ہے جو قابل بقا (sustainable) ثابت ہوا۔ ایک حدیث ہے کہ:أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ ‌أَدْوَمُهَا (صحیح ابن خزیمۃ، حدیث نمبر 1277)۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مداومت میں کوئی پراسرار صفت ہے۔ اس کایہ مطلب ہے جوکام شروع کرنے کے بعد مسلسل کیاجاتارہاہے۔ اس کے ساتھ تائیدی عوامل شامل ہوتے رہے ہیں جواس کو تقویت دے کر آگے بڑھاتے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچادیتے ہیں۔ 

4نومبر کی دوپہر کو ہم لوگ مدرسہ جامعہ اسلامیہ قرآنیہ ( سمرا ) گئے۔ اس مدرسہ کا قیام 1818ء میں ہوا۔ اس کے بانی مولانااحسان اللہ ومولانا جعفر علی صاحب ہیں۔ یہ مدرسہ پہلے پوڑی گنڈگ ندی کے کنارے پر واقع تھا۔ وہاں وہ سیلاب کے دوران 1962 میں دریائی کٹاؤ کی نذر ہوگیا۔ اس وقت کامدرسہ موجودہ مدرسہ سے چھوٹاتھا۔ لیکن پھر دوسال بعد 1964 میں زیادہ بڑے اوروسیع مدرسہ کی صورت میں قائم ہوگیا۔ یہ واقعہ علامتی طورپر بتاتاہے کہ دنیا میں ناکامی کوئی چیز نہیں۔ عین ممکن ہے ، پہلی بارناکام ہونے کے بعد آدمی دوسری بار پہلے سے بھی زیادہ بڑی کامیابی حاصل کرلے۔ اس مدرسے میں طلبہ واساتذہ کاایک جلسہ ہوا جس میں میں نے مختصر خطاب کیا۔ جلسہ کوشروع کرتے ہوئے عزیز الرحمن صاحب نے یہ شعر پڑھا:

فکر عقبی نہ خوف خدا ہے کیسانادان وہ آدمی ہے

کام کرتاہے دوزخ کا لیکن سوچتاہے کہ جنت ملے گی

4نومبر کوساڑھے بارہ بجے مدرسہ جامعہ اسلامیہ ( سمرا ) سے ہم لوگ دوبارہ بتیاکے لیے روانہ ہو ئے۔ راستے میں اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہو ئے میں نے کہاکہ موجودہ دنیا میں کام کرنے کے لیے صرف اخلاص کافی نہیں، اسی کے ساتھ لازمی طورپر ڈسپلن بھی ضروری ہے۔ کوئی آدمی بالفرض اخلاص کاپہاڑ ہولیکن اگر اس کے اندر ڈسپلن نہ ہو تو وہ کو ئی بڑا کام نہیں کرسکتا۔ اخلاص اس بات کی ضمانت ہے کہ آدمی آخرت کی ناکامی سے محفوظ رہے۔ مگر موجودہ دنیا اسباب کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہاں اپنے عمل کوکامیاب بنانے کے لیے ڈسپلن ضروری ہے۔ ڈسپلن سے مراد منظم عمل ہے، اورمنظم عمل کسی بھی بڑے کام کے لیے لازمی شرط کی حیثیت رکھتاہے۔

4نومبر کی رات کو نماز عشاء کے بعد مدرسہ تعلیم القرآن سبیادیورا ج کے وسیع میدان میں عمومی جلسہ ہوا۔ اس جلسہ میں مدرسہ کے طلباء اوراساتذہ کے علاوہ بڑی تعداد میں اطراف کے لوگ شریک ہوئے۔ یہاں میری تقریر کاموضوع دعوت تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں چند باتیں کہیں۔ ایک یہ کہ دعوت دوسرے کے درد کو اپنے سینہ میں محسوس کرنے کانام ہے۔ درد مند دل ہی دعوت کاکام کرسکتاہے۔

دوسری بات یہ کہ دعوت کانقطہ آغاز یہ ہے کہ داعی اورمدعو کے درمیان معتدل فضاہو ، تعصب ونفرت کا ماحول نہ ہو۔ اس قسم کے ماحول کافائدہ یہ ہوتا ہے کہ مدعو جوبات سنتاہے اس پر وہ ٹھنڈے دل سے سوچتاہے۔ کوئی منفی احساس اس کی سوچ کے عمل میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ میں نے کہاکہ موجودہ زمانے میں ہمیں دوقسم کے کام کرنے ہیں، ایک طرف مسلمانوں کی اصلاح اوردوسری طرف غیر مسلموں میں دین کی اشاعت۔ یہ دونوں ہی کام یکساں طورپر اہم ہیں۔ ضرورت ہے کہ تقسیم کار کے اصول پر دونوں کام کو مؤثر انداز میں انجام دیاجائے۔ 

5نومبر کی صبح کو مدرسہ تعلیم القرآن کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی گئی۔ پوری مسجد بھری ہوئی تھی۔ پروگرام میں شرکت کے لیے باہرکے لوگ بھی آئے تھے۔ مثلاً فجر کی نماز کے بعدحافظ ممتاز عالم سے ملاقات ہوئی انہوں نے کہاکہ میں کھیرٹیاکارہنے والاہوں۔ بیس کلو میٹر سفر کرکے صرف آپ کی بات سننے آیاہوں۔

نماز فجر کے بعد مجھ سے درس کے لیے کہاگیا۔ تقریبا آدھ گھنٹہ تک میں نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تذکیری انداز کاخطاب کیا۔ ایک آیت اورایک حدیث بیان کرتے ہوئے میں نے کہاکہ اسلام نہ تو کوئی پراسرار دین ہے اورنہ کوئی رسمی اور نسلی دین۔ اسلام اللہ کی ایک نعمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے کھولی ہے۔ حقیقی معنوں میں مومن ومسلم وہ ہے جو اسلام کو ایک ایسی عظیم نعمت کے طورپر پائے جس سے اس کی روح سرشار ہو گئی ہو۔ 

جناب مولانا محمد بدرالحق قاسمی (45سال) صدر مدرس تعلیم القرآن سے سبیا میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے الرسالہ کے سلسلے میں اپنے تاثرات کااظہار ان الفاظ میں کیا ’’الرسالہ پڑھ کرمجھے ایک شعور ی زندگی گزارنے کا احساس ہوا۔ اس لیے کہ شعور ہی کے ذریعہ انسان اپنے کمال تک پہنچتاہے۔

5نومبر کی صبح کو مدرسہ تعلیم القرآن سبیا، دیوراج کو دیکھا۔ یہاں مدرسہ کے طلبا اور اساتذہ پر مشتمل ایک اجتماع ہوا۔ بچے زیادہ تر چھوٹی عمر کے تھے۔ جب میں نے ان چھوٹے بچوں کو دیکھا تو مجھے ستر سال پہلے 1930کااپنا زمانہ یاد آیا۔ اس وقت میں اسی طرح ایک بچے کی صورت میں اپنے گاؤں کے مدرسہ میں پڑھتاتھا۔ میں نے سوچا کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر ان کی تعلیم کے لیے مدرسہ چلاناکتنا بڑاکام ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر بہت چھوٹا کام نظر آتا ہے۔

ان چھوٹے بچوں کو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ یہ ان کے بڑے ہیں جن کوان کے مستقبل کے بارے میں سوچنا اورفیصلہ کرناہے۔ بچوں کا بے خبری کی عمر میں ہو نا باخبری کی عمر والے بڑوں کی ذمہ داری میں بے پناہ اضافہ کردیتاہے۔ یہ بچے خود اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ نہیں سکتے۔ یہ ان کے بڑوں کے لیے دوہراکام ہے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بھی سوچیں اوربچوں کے مستقبل کے بار ے میں بھی۔

مدرسہ کاپروگرام شروع ہوا تو پہلے قرآن کی تلاوت کی گئی۔ ایک طالب علم نے قرآن کاایک رکوع پڑھا۔ مدرسہ تعلیم القرآن میں تقریر کے بعد ایک صاحب کھڑے ہوئے۔ وہ انگریزی اخبار میں شائع شدہ ایک مضمون لیے ہوئے تھے جس میں کسی انتہا پسند ہندو نے لکھاتھا کہ مسلمانوں کو ہندستان میں سکنڈ کلاس سٹیزن بن کررہنا ہو گا ورنہ ان کی حالت اس ملک میں درست نہیں ہو سکتی۔

5نومبر کی رات کو جامعہ ہارونیہ یتیم خانہ ( بگہا ) میں ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر میں میں نے اسلام کی اخلاقی اورسماجی تعلیمات بیان کیں اوربتایاکہ اسلام امن اورمحبت اورخیرخواہی کامذہب ہے ۔ وہ نفرت و تشدد کامذہب نہیں۔ 

مولانا حفظ الرحمن صاحب خانقاہ خیر آباد ( بگہا ) مدرسہ شمس العلوم کے پرنسپل ہیں۔ خانقاہ خیر آباد کے نائب سجادہ نشین مولانافضل الرحمن ہارونی ہیں۔ مولاناحفظ الرحمن صاحب نے کہاکہ میرے والد مولاناہارون نقشبندی کہاکرتے تھے کہ جوشخص اپناکام کسی کی برائی سے شروع کرتاہے تو اس میں شر چھپاہواہوتاہے اورجوشخص اپنا کام کسی کی خیرسے شروع کرتاہے تواس میں خیر کاپہلو ہوتاہے۔ مزید وہ فرماتے تھے کہ تم اپنے آپ کوایک پھلدار درخت کی طرح بناؤ۔ جب کوئی اس پر پتھر پھینکتاہے توچوٹ کھاکر کے بھی وہ اس کو پھل دیتاہے۔ تم اگرکسی کوایک پھل نہ دے سکو تواس کو دعاہی دے دو۔ 

خانقاہ ہارونیہ خیرآباد کے آس پا س ہرمذہب کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں عیسائی بھی ہیں ، ہندوبھی اورمسلمان بھی۔ مگرسب کے سب امن ومحبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ اس علاقے میں زیادہ تر ہندو لوگ ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے مگر اس علاقے کی اخلاقی قیادت مولانا حفظ الرحمن ہارونی کو حاصل ہے۔

مولانا محمد ثناء اللہ ندوی جو پورے سفر میں میرے ساتھ رہے ان سے میں نے پوچھا کہ پہلے آپ نے صرف تحریروں کوپڑھا تھا، اب آپ نے میر ے روز وشب کو دیکھا اوربراہ راست طورپر میری زبان  سے میری باتوں کو سننے، پڑھنے اوردیکھنے میں آپ نے کیافرق پایا۔

انہوں نے جو تاثر بیان کیااس کے الفاظ یہ تھے۔ ’’میں نے آپ کی بہت سی کتابیں  پڑھی ہیں۔ ان کتابوں میں جوپیغام ہے ، انسانیت کی فلاح کے لیے جودردجھلکتاہے ، اپنے وطن اوراہل وطن کے لیے جومحبت ہے ، آپس میں اتحاد واتفاق کا جوسندیش ہے ، ان تمام چیزوں کا مکمل عملی نمونہ میں نے آپ میں پایا۔ اخلاق وعمدہ برتاؤ کاحقیقی روپ آپ کے اندر دیکھنے کو ملا۔ اخلاص کو انتہائی حد تک موجود پایا۔ وقت کی پابندی ، اپنے ہم سفر ساتھیوں کی سہولت کا خیال ، ہرایک کے لیے خیر خواہی کاجذبہ ،مخلوقات خدا سے بے حد محبت ، مناظرفطرت کے شیدائی، علم دوست ، انسانیت کے خیر خواہ ، احکامات خداوندی کے بہت پابند ، سنت رسول پر زندگی گزارنے والا ،صبر وشکر کاحقیقی پیکر ، انسانوں میں گھل مل کر رہنا ، ہرآدمی سے قریب ہو نے اور ہر ایک کو قریب رکھنے کی خصلت ، قول وعمل میں مکمل مطابقت رکھنے والاپایا۔ الغرض ظاہر وباطن میں قول وعمل میں پورے سفر کے اندر زندگی کے کسی گوشے میں فرق اورتضاد نہیں پایا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک مومن کی جوصفات ہیں ان کو آپ کے اندر بدرجہ اتم دیکھا‘‘ ۔

مولاناعبدالرحیم امدادی ( 46سال ) عجیب وغریب شخصیت کے آدمی ہیں۔ مادیات سے بے پرواہ، بے غرضی کی زندہ تصویر، اپنے حلیہ کے اعتبارسے قلندر، اپنے مزاج کی بنا پر میں اکثر ان کوسخت وسست کہہ دیتاتھا مگروہ ہمیشہ مخلصانہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کاجواب دیتے تھے۔ ایک مجلس میں ان کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے میں نے کہاکہ میرے تجربے کے مطابق وہ اس حدیث کی ایک زندہ تصویر ہیں۔ جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‌رُبَّ ‌أَشْعَثَ، مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ (صحیح مسلم،حدیث نمبر 2622)۔ یعنی، بہت سے بکھرے بال والے ،گرد آلود  اور جسے لوگ دروازوں سے لوٹا دیتے ہیں ، اگر وہ اللہ پر قسم کھالیں تواللہ ان کی قسم کو پوری کرےگا۔ 

6نومبر کو ہم لوگ بگہا سے نرکٹیا گنج جا رہے تھے۔ پورا سفر سرسبز درختوں کے ماحول میں گزر رہا تھا۔ لیکن سڑک اتنی زیادہ خراب تھی کہ ایسامعلوم ہو تاتھا کہ ہم کار پرسفر نہیں کر رہے ہیں بلکہ ٹریکٹر پرسفر کررہے ہیں۔ خراب سڑک اچھی کارکو ٹریکٹر جیسابنادیتی ہے۔ یہ دنیا کا نظام ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ حضرت، میرے لیے دعا کر دیجیے۔ میں ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کتاب کا نام ہوگا:امت مسلمہ نے قائدین کوکیادیا۔ میں نے کہاکہ یہ توادھوری کتاب ہے۔ آپ کو یہ بھی لکھنا چاہیے کہ قائدین نے امت مسلمہ کوکیادیا۔ پھر میں نے کہاکہ میرے مطالعہ کے مطابق قائدین نے امت مسلمہ کوبے شعوری دی، اورامت مسلمہ نے قائدین کوبھیڑ لوٹائی ۔ میں نے جب یہ بات کہی تو مولانا عبد الرحیم امدادی نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ حضرت آپ نے توخود ہی دینی مدارس الرسالہ ستمبر 2000میں کہاکہ علما ہند نے مدارس کی صورت میں بہت بڑا کام کیا ہے، پھر کیاآپ کی ان دونوں باتوں میں تضاد نہیں۔

میں نے کہاکہ میں نے اس وقت جوبات کہی اس کاتعلق سیاسی قائدین سے ہے۔  مدارس کا کام بلاشبہ ایک عظیم کام ہے۔ مگروہ تمام ترغیرسیاسی علما نے انجام دیا ہے۔ 

مولانا حافظ محمد ممتاز عالم مفتاحی سے نرکٹیا گنج میں ملاقات ہوئی۔ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ ان سے میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انہوں نے کہاکہ میں اس کو اتنا مفید سمجھتاہوں کہ میں چاہتاہوں کہ سارے ہی لوگ اس رسالے کو پڑھیں۔ انہوں نے بتایاکہ الرسالہ کاشمارہ 2000 ’’دینی مدارس ‘‘ کو پڑھ کر میں اتنا متاثرہو اکہ میں نے فیصلہ کیاکہ مجھے بھی ایک مدرسہ چلاناہے۔ میرے اقتصادی حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں پھر بھی میں نے اپنی جیب سے ایک رقم نکالی اورایک مدرسہ ابتدائی طورپر شروع کر دیا۔ میرایقین ہے کہ ان شاء اللہ یہ ایک کامیاب تعلیمی ادارہ بن کررہے گا۔ میں جس گاؤں میں رہتاہوں وہاں بہت کم پڑھے لکھے لوگ ہیں۔  اس لیے میں چاہتاہوں کہ الرسالہ کو اتنا آگے بڑھاؤں کہ وہ پوری قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کا ذریعہ بن جائے۔ ان کے گاؤں کا نام کھیرٹیابوریا (مغربی چمپارن) ہے۔

نرکٹیا گنج اوربتیا کے راستے میں ایک معاملہ پیش آیا۔ اس کے بعد میں نے مولانا عبد الرحیم امدادی سے کہاکہ آپ لوگ صرف ایک کام جانتے ہیں۔ کوئی عالم مل جائے تو اس کا سر اور پاؤں دبانا، اس کے لیے وضو کے لیے پانی رکھنا، جب وہ وضو کرے تو اس کے پیچھے تولیہ لے کر کھڑے رہنا، جب وہ بات کرے توتسبیح لے کر اس کے دانہ پرانگلیاں پھراتے رہنا ، وہ اٹھے تو اس کا ہاتھ پکڑ لینا، جانے لگے توجلدی سے اس کاجوتا سیدھا کرنا، اوریہ سب کرکے صرف یہ کہنا کہ حضرت میرے لیے دعا کیجیے اورپھر مطمئن ہوجاناکہ حضرت کی برکت سے دنیا وآخرت کے تمام معاملات درست ہوگئے۔ 

میں نے کہاکہ ہمارامشن اس سے بالکل مختلف ہے ۔  پوری امت ایک ایسے نقشہ کار کی عادی ہوگئی ہے جس میں سوچنے کے عمل کاکوئی خانہ ہی نہیں ہے یہ پوراعمل برکت کے تصور پر قائم ہے، نہ کہ شعور پر۔ ہمیں اس نقشے کو بدلناہے ، ہمار امشن امت کو باشعور بناناہے، نہ کہ برکت کی پر اسرار گولیاں تقسیم کرنا۔ 

قاری محمد ظفیر عالم صاحب (45سال) بھی اس سفر میں ہم لوگوں کے ساتھ تھے وہ نیپال میں پورنیا کے قریب رہتے ہیں۔ یہاں مدرسہ حسینیہ ہے جو1913میں قائم کیاگیا۔ قاری محمد ظفیر عالم اس کے صدر مدرس ہیں۔ اس مدرسہ میں چارسو طلباء ہیں۔ اساتذہ کی تعداد دس ہے۔  اس مدرسہ کی اپنی عمارت ہے۔ اس کے احاطہ میں ایک باقاعدہ مسجد بھی ہے۔ یہ اس علاقہ کاسب سے بڑا مدرسہ ہے۔ اوراسی طرح ترائی کے علاقہ میں ایک اوربہت بڑا مدرسہ محمودیہ راجپور گٹو ، نیپال ہے جوندوۃالعلما کی شاخ ہے۔

وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ انہوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہاالرسالہ میں دین اور دنیا کی حکمت بتائی جاتی ہے۔ الرسالہ کاپیغام یہ ہے کہ تھوڑانقصان برداشت کرلو تاکہ تم زیادہ فائدہ حاصل کر سکو۔ انہوں نے کہاکہ خوش اخلاقی ایک طاقت ہے ، آدمی کے اندر اگر خوش اخلاقی ہوتووہ اس کے ذریعہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتاہے۔ 

واپسی میں پٹنہ میں چند گھنٹہ قیام کے بعد ریلوے اسٹیشن کے لیے روانگی ہوئی۔ پٹنہ سے مجھے راجدھانی اکسپریس کے ذریعہ دہلی آنا تھا۔ ٹرین ٹھیک وقت پر پٹنہ سے دہلی کے لیے روانہ ہوئی اور ٹھیک وقت پر پہنچ گئی۔ یہ پورا سفر رات میں طے ہوا۔ بیشتر وقت سوتے ہوئے گزرا۔ 7 نومبر کی صبح کو میں دہلی واپس آگیا۔ (الرسالہ، مارچ 2001)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion