مدرسہ قادریہ کاسفر

مفتی عبدالعزیز صاحب رائے پوری نے ستمبر 1979 میں مسروالا ( ہماچل پر دیش) میں ایک مدرسہ قائم کیا اور اپنے شیخ مولانا عبدالقادر رائپوری کے نام پر اس کانام مدرسہ قادریہ رکھا۔ اس کے بعد جلد ہی اپنے شاگرد مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کو بلا کر اس کا انتظام ان کے حوالے کر دیا۔ 1980 سے مولانا کبیر الدین صاحب اس کے نا ظم ہیں۔

پچھلے دس سال سے وہ برابر مجھ کو اپنے مدرسہ میں آنے کی دعوت دے رہے تھے، کبھی براہ راست اور کبھی ٹیلی فون پر۔ مگر کسی نہ کسی سبب سے وہاں کا سفر نہ ہو سکا۔ 17 نومبر 1995 کی صبح کو وہ دہلی آئے اور کچھ اس انداز سے اصرار کیا کہ میرے  لیے انکار ناممکن ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اچھا، میں ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ اپنے پھیلے ہوئے کاموں کو چھوڑ کر صبح 10 بجے ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

ہماری گاڑی چلتے ہوئے اس سڑک پر پہنچی جہاں ایک طرف تاریخی جامع مسجد ہے اور دوسری طرف لا ل قلعہ کی سرخ دیواریں کھڑی ہوئی ہیں۔ لال قلعہ کو دیکھ کر مجھے اردو شاعر کی طویل نظم کا ایک شعر یاد آیا:

اے قلعہ سرخ اے اثر شاہجہانی    برباد شدہ عظمت ِماضی کی نشانی

یہ شعر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ ماضی کی گزری ہوئی عظمتوں میں اتنا گم ہوئے کہ وہ حال کی حقیقتوں کاصحیح ادراک نہ کر سکے۔ پدرم سلطان بود کی نفسیات نے انہیں مثبت نقطۂ نظر سے محروم کر دیا۔ اس المناک صورت حال کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جو لوگ مسلمانوں کے رہنما بن کر اٹھے وہ زیادہ تر شاعر اور خطیب اور انشاء پر داز قسم کے لوگ تھے انہوں نے رجز خوانی کی، جب کہ اس وقت اصل ضرورت حقیقت بیانی کی تھی، چنانچہ ان لوگوں نے اپنی غیر حقیقی باتوں سے پوری ملت کے مزاج کو بگاڑ دیا۔ موجودہ زمانہ میں شاید کوئی بھی ایسا رہنما نہیں جس نے معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا ہو اور پھر حقیقت پسندانہ انداز میں مسلمانوں کو درست رہنمائی دی ہو۔

لال قلعہ اور قطب مینار کی حیثیت آج صرف آثار قدیمہ کی ہے۔ جو گروہ لال قلعہ اور قطب مینا رکی فضاؤں میں جیتا ہو وہ خود بھی آثار قدیمہ کی ایک مثال بن کر رہ جائے گا، وہ دور جدید میں باعزت مقام حاصل کر نے میں ناکام رہے گا۔

دہلی سے نکل کر آگے بڑھے تو سڑک کے دونوں طرف دور تک درخت اور سبزہ پھیلا ہواتھا۔ میں نے سوچا کہ ساری کائنات کے مقابلہ میں زمین اس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ مگر اب تک کی معلومات کے مطابق، زمین ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پانی اور سبزہ ہے۔ ساری وسیع کائنات میں کہیں بھی پانی اور سبزہ موجود نہیں۔

اسی پانی اور سبزہ نے زمین کو انسان جیسی زندہ مخلوق کی لیے قابل رہائش بنا دیا ہے۔ یہاں اس کی لیے نہ صرف رہائش کاسامان ہے بلکہ تمدنی ترقیوں کی لیے تمام ممکن اسباب بھی موجود ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی عظیم نعمت ہے۔ اس کاشکر صرف یہ ہے کہ آدمی دل سے اس  عطیہ کا اعتراف کرے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی تابعد اری میں دے دے۔

یہ سفر مدرسہ کی کار سے ہوا۔ راستہ میں میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا کہ 1947 میں جب ملک تقسیم ہوا اس کے بعد ہندستان میں کتنے ایسے مولوی تھے جن کے پاس کار اور ٹیلی فون تھے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولے کہ شاید ایک بھی نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آج کیا حال ہے، انہوں نے کہا کہ آج تو ملک میں ہزاروں مولویوں کے پاس کار اور ٹیلی فون موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے مولوی ہیں جن کو آج براہ راست یا بالواسطہ طور پر کاراور ٹیلی فون کی سہولت حاصل ہے۔

پھر میں نے کہا کہ مگر کوئی بھی مولوی ایسا نہیں جو تحریر یا تقریر کے ذریعہ یہ اعلان کرتا ہو کہ مسلمان اس ملک میں ترقی کررہے ہیں، نہ اکا بر میں اور نہ غیر اکا بر میں ، بلکہ یہی لوگ ہیں جواپنی تقریروں اور تحریروں میں روزانہ ہندستانی مسلمانوں کی بربادی کا چرچا کرتے  ہیں۔ حتیٰ کہ باہر کے ملکوں میں بھی جاکروہ اسی قسم کی خبریں لوگوں کو سناتے ہیں۔ مثلاً مکہ کے اخبار       ’’العالم الاسلامی‘‘ کے تازہ شمارہ 12 نومبر1995 میں ایک معروف ندوی عالم کاانٹرویو چھپا ہے۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ انڈیا کے مسلمان مخالفانہ موامرات (conspires)کا اور ہندوؤں کی عداوت کا شکار ہور ہے ہیں۔ اس کاعنوان ہے:انڈیا کے مسلمان چکی کے دوپاٹوں کے درمیان ( مُسْلِمُوْالْهِنْدِ بَيْنَ فَكَّيِ الرَّحَىٰ

انٹرویو لینے والا اگر سمجھدار ہو تا تو وہ ان سے پوچھتا کہ جب تمام ہندستانی مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں تو تم کس طرح اتنے شاندار طور پر اس سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم کو تو تم وہی تدبیر بتاؤ تاکہ ہم بَشَّرُوا ‌وَلَا ‌تُنَفَّرُوا (بشارت دو، نفرت نہ پھیلاؤ)کے اسلامی اصول پر ہندستان کے مسلمانوں کو اس کی خوشخبری دے سکیں۔

اپنے ملک کے پڑھے لکھے مسلمانوں کی سوچ کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ماضی کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ 1947 سے پہلے مسلمانوں کے لیڈروں نے سمجھا یا کہ ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کاکوئی مستقبل نہیں۔ اس لیے ہمیں علیحدہ ملک چاہیے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تمام دماغ آج تک ماضی کے اسی بے بنیاد پر وپیگنڈ ے میں گم ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کے مسلمان لیڈروں کی تقسیم کے مطابق ، ہم         ’’ہندوانڈی‘‘ میں ہیں، اس لیے  ہم ضرور تباہ حال ہوں گے۔  چنانچہ وہ ابھی تک وہی ماضی کی بولی بولے چلے جارہے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آج ہندستان کے مسلمان پاکستان اور بنگلہ  دیش کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکے ہیں۔ خود لکھنے اور بولنے والے طبقہ میں ایک ایک شخص اپنی 1947 کی حالت کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ مگر تخلیقی فکر کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے قریبی واقعہ تک کاعلم نہیں۔

ماضی کے مسلم رہنماؤں کی سوچ قانون فطرت کے خلاف تھی۔ چنانچہ ان مسلم رہنماؤں کی باتیں فضا میں گم ہوگئیں۔ اور فطرت کاقانون خود اپنی طاقت سے قائم ہو گیا۔ مگر موجودہ مسلمانوں کاحال یہ ہے کہ انہیں صرف اپنے اکابر کی باتوں کا علم ہے، انہیں خدا کے مقرر کیے ہوئے فطری قانون کاکوئی علم نہیں۔

دہلی سے مسروالا کا فاصلہ ڈھائی سوکلو میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ سڑک اچھی ہے۔ راستہ میں سونی پت، پانی پت، کرنال، جمنا نگر وغیرہ پڑتے ہیں۔ ہم لوگ ایک کے بعد ایک ان مقامات سے گزر تے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ ان جگہوں کے نام اسی طرح صدیوں سے چلے آرہے ہیں۔ لیکن ان کے قدیم باشندے آج پیدا ہوں تو ان جگہوں کی بدلی ہوئی صورت کی بنا پر شاید وہ انہیں پہچان نہ سکیں۔

ڈیڑھ بجے ہم لوگ کرنال پہونچے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد ہے جس کے اوپر ’’مسجد صغرا‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اس میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ مسجد بظاہر قدیم تھی۔ مگر مزید تعمیر کرکے اس کو اندر سے نیا کر دیا گیا ہے۔ پوری مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مجھے قرآن کی آیت یاد آئی کہ جمعہ کی نماز کی اذان ہو تو نماز کے لیے اکٹھا ہو جاؤ اور جب نماز ختم ہو تو خدا کی زمین میں منتشر ہوجاؤ (الجمعۃ، 62:9-10)۔ میں نے سوچا کہ مسجد منتشرین کامقام اجتماع ہے۔ اہل ایمان خدا کی زمین میں پھیلنے والے لوگ میں۔ وہ صرف وقتی طور پر مسجد میں ٹھہرتے ہیں تاکہ اس سے نئی توانائی لے کر دوبارہ آگے بڑھ سکیں۔

کرنال میں ایک بہت بڑی مسجد ہے۔ اس کو اندر جا کر دیکھا۔  اس کے امام سید انور حسین صاحب سے ملاقات ہوئی۔  امام صاحب نے چائے کے لیے اصرار کیا مگر ہمارے پاس وقت کم تھا اس لیے معذرت کرنی پڑی۔مسجد کے باہر ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ اس پر لکھا ہے— تعمیر کردہ نواب عظمت علی خاں، رئیس اعظم کرنال۔ وہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کے چچا تھے۔ انہوں نے یہ مسجد 1925 میں بنوائی تھی۔1947 میں کرنال مکمل طور پر مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب دوبارہ مسلمان آکر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت کرنال میں مسلمانوں کی تعدادا یک لاکھ سے زیادہ ہے۔

عصر کی نماز ہم نے جمنا نگر میں پڑھی۔  وہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد تھی۔  اس میں چار پانچ زیادہ عمر کے اور سیدھے سادے مسلمان نظرآئے۔  ان سے پوچھا کہ جمنا نگر میں کتنی مسجدیں ہیں، کسی نے کہا ایک۔ کسی نے کہا تین۔ غرض کافی پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہو اکہ وہاں پانچ مسجد یں ہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے 1947 سے پہلے کے دور میں یہ شکایت کی تھی کہ:

بازار میں ہیں لاکھوں، مسجد میں فقط جمّن

آج اگر چہ کمیت کے اعتبار سے مسجد کے نمازیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے مگر جہاں تک کیفیت کاتعلق ہے، اب بھی مسجد کی آبادی میں زیادہ تر ’’ جمن ‘‘ قسم کے لوگ ہی دکھائی دیتے ہیں۔

کرنال کے ریستو ران سے کھانا کھا کر ہم لوگ نکلے تو مولانا کبیر الدین صاحب پاس کی ایک دکان پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے پان خرید اجس کی قیمت دور وپیہ تھی۔ پان والا ایک ہندو نوجوان تھا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ اس نے کہا کہ سہارن پور۔ پھر پان والے نے کہا، کیا آپ کبھی سہارن پور گئے ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ ہاں، میں نے وہاں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے بعد اس نے پان کی قیمت نہیں لی۔ اس نوجوان کا نام ارن تھا۔ وہ دکان سے آکر مجھ سے ملا۔

مذکورہ واقعہ احساس قربت کا کرشمہ تھا۔ سامنے کے آدمی کو اگر کسی طرح آپ قربت کا احساس دلا دیں، خواہ وہ قربت بالکل معمولی نوعیت کی کیوں نہ ہو تو فوراً وہ آپ کا گرویدہ ہوجائے گا۔ دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان اجنبیت ہمیشہ نقصان کا باعث ہو تی ہے۔ اس کے برعکس، قرابت اپنے آپ سارے معاملات کو درست کر دیتی ہے۔

ہم لوگ صبح 10 بجے دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ شام کو عشاء کے قریب مِسروالا پہنچے، اس سفر میں ہم کبھی آبادی کے درمیان سے گزرے اور کبھی خالی سٹرک سے ، کبھی ہماراراستہ کھلے میدان سے طے ہوا اور کبھی ایسے راستہ سے جہاں دونوں طرف جنگل تھا۔کبھی ہماری گاڑی نشیب پر چلی اور کبھی اس کو اونچائی کے اوپر چڑھنا پڑا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح پوری زندگی ایک سفر ہے جو آخرت پر جا کر ختم ہو تا ہے۔ دنیا میں آدمی مختلف احوال سے گزرتے ہوئے چلا جارہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آتی ہے اور وہ آخری طور پر اگلی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔

نماز عشاء کے بعد مدرسہ کے دفتر میں اساتذہ اکٹھا ہوئے۔ اس موقع پر مختلف باتیں ہوئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ کچھ لوگ آپ کے پیغام کے مخالف کیوں ہیں۔میں نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص میرے پیغام کامخالف نہیں۔ کیونکہ میراپیغام وہی ہے جو خود فطرت کاقانون ہے۔ اور فطرت کے قانون کو نظرانداز کر نا کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔

پھرمیں نے کہا کہ میری تحریریں 99 فیصد اسلام کے تعارف پر مبنی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی شخص ان کامخالف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔اس میں میں نے صرف یہ کیا ہے کہ اسلام کی متفقہ تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کیا ہے،اس کا کوئی مخالف نہیں ہو سکتا۔

ایک فیصد وہ ہیں جن کا تعلق برادران وطن سے ہے۔ اس سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ برادران وطن کے ساتھ مل جل کر رہیں اور اگر کبھی کسی کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تو اس سے اعراض کریں تاکہ پر امن فضا باقی رہے۔ اس پر بھی تمام کے تمام مسلمان عامل ہیں۔ آپ کسی بھی مسلمان کو لیجیے اور دیکھیے کہ اس کاذاتی معاملہ جن ہندوؤں سے ہے اس کے ساتھ وہ کس قسم کا سلوک کرتا ہے۔ آپ پائیں گے کہ یہ عین وہی ہے جس کی طرف الرسالہ میں توجہ دلائی جارہی ہے۔ میں نے صرف یہ کیا ہے کہ میں لوگوں کے عمل کا اعلان کررہا ہوں۔

عشاء کی نماز مدرستہ قادریہ کی مسجد میں پڑھی۔ مسجد بالکل جدید طرز کی ہے اور ساد گی کے ساتھ خوبصورتی کاعمدہ نمونہ ہے۔ اس کی خصوصیات کی تصویر کشی لفظوں میں بیان کر نامشکل ہے۔ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتاہے۔

عشاء کی نماز کے بعد طلبہ نے مصافحہ کیا۔ اکثرایسے موقع پر لوگ بھیڑ کی صورت میں مصافحہ کرتے ہیں۔ مگر یہاں یہ ہوا کہ طلبہ نے مسجد کی دیوار سے مل کر قطار بنالی اور ایک ایک طالب علم آگے بڑھ کر مصافحہ کرتا رہا۔  اس طرح تقریبا دوسو طلبہ نے مصافحہ کیا۔

مدرسہ کے قریب سے ایک اہم سڑک گزرتی ہے۔ مگر اس سڑک کو مدرسہ سے جوڑنے کے لیے درمیان میں پختہ راستہ نہیں تھا۔ 1984 میں مدرسہ میں ایک بڑا جلسہ ہو رہا تھا۔ منتظمین نے ریاستی حکومت کے نام ایک درخواست بھیجی کہ ہمارے یہاں ایک بڑا مذہبی جلسہ ہونے والا ہے۔لوگ دور دور سے اس میں شرکت کے لیے آئیں گے۔ مگر عام سڑک اور مدرسہ کے درمیان اچھا راستہ نہیں ہے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے مدرسہ تک ایک پختہ سڑک بنا دی گئی۔  میں نے چل کر دیکھا تو وہ 280 قدم لمبی تھی۔

مدرسہ کے مہمان خانہ میں بیٹھا ہوا میں چائے پی رہا تھا۔ اتفاق سے میرا ہاتھ ہلا اور چائے میری چادر پر گر گئی۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے فوراً میری چادر لے کر ایک طالب علم کو دیا کہ اسے لے جا کر ابھی دھو دو۔ یہ رات کاوقت تھا۔ میں نے سوچا کہ اس وقت تو چادر سوکھے گی نہیں۔ کل اس کو دھوپ میں ڈالنا ہو گا۔ پھر غالباً دوپہر تک وہ سوکھ کر مجھے ملے گی۔ میں اسی خیال میں تھا کہ 20 منٹ کے بعد طالب علم نے صاف چادر لا کر میرے پاس رکھ دی۔ اتنی دیر میں وہ دھوئی گئی ، سکھائی گئی اور پر یس کر کے تہہ کی گئی اور پھر میرے پاس واپس آگئی۔

اس کا راز یہ تھا کہ یہاں مدرسہ میں جدید طرز کی واشنگ مشین موجود ہے جو دھونے کے بعد فوراً سکھانے کا کام بھی کر دیتی ہے۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے مدرسہ کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نصاب کے اعتبار سے یہ ایک ’’قدیم طرز‘‘ کا مدرسہ ہے۔ مگر نظام اور تعمیرات کے اعتبار سے وہ بالکل جدید اور اپٹوڈیٹ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ نے تو اپنے مدرسہ کو ایک ماڈرن مدرسہ بنا دیا۔ اسی طرح مدرسہ میں آٹا پیسنے کی مشین ہے۔ مدرسہ کی ضرورت کا آٹا خود اپنی مشین میں پیسا جاتا ہے، وغیرہ۔

ایک بار ایک مسلمان تاجرمدرسہ قادریہ میں آئے۔ انہوں نے طلبہ کو دیکھ کر کہا آپ کے طلبہ کے کپڑے صاف نہیں ہیں۔ پھر یہی تبصرہ انہوں نے تمام مدراس کے بارے میں کیا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ آپ لوگ تنقید تو کررہے ہیں مگر آپ اس کاحل نہیں بتاتے۔ انہوں نے کہا کہ حل کیا ہے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ حل بہت سادہ ہے۔ آپ پیسہ دیجیے ہم واشنگ مشین منگاتے ہیں۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ ہمارے مدرسہ کے بچے کتنے صاف ستھرے ہیں۔

مذکورہ تاجر کو یہ بات اثر کر گئی۔ وہ فوراً اس پر راضی ہو گئے۔ چنانچہ دہلی جا کر انہوں نے مدرسہ کے لیے گودریج کی واشنگ مشین بھجوادی جو اس وقت سب سے اچھی سمجھی جاتی تھی۔یہ ایک صحت مند مثال ہے۔ مدرسہ والے باعزت انداز میں تعاون مانگیں اور اصحاب خیر بھی باعزت انداز میں اپنا مالی تعاون دیں تو دینی اداروں کاکام نہایت حسن وخوبی کے ساتھ چلنے لگے گا۔

عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ کے دفتر میں نشست ہوئی۔ اساتذہ بھی آگئے۔ دیر تک ملی موضوعات پر گفتگو ہو تی رہی۔ میں نے مولانا کبیر الدین مظاہری سے کہا کہ آپ نے اپنے مدرسہ کو جدید انداز میں بنایا ہے۔ اب یہاں ایک اور روایت قائم کیجیے۔ میں نے کہا کہ باہر سے جب کوئی شخص کسی مدرسہ میں آتا ہے تو عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گفتگو یک طرفہ انداز میں ہوتی ہے۔ یعنی آنے والا بولتا ہے، اور مدرسہ کے لوگ صرف سامع بنے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں تبادلۂ خیال کے انداز میں گفتگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ روایت پہلے سے قائم ہے۔ چنانچہ اسی انداز میں دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔

مدرسہ کا دفتر دیکھ کر خوشی ہوئی۔ یہ بالکل جدید طرز کا ایک دفتر تھا۔ ایک خوبصورت میز کے گرد خوبصورت کر سیاں بچھی ہوئی تھیں۔ میز پر کیلکو لیٹر، ٹیلی فون، اور دوسری جدید نوعیت کی دفتری چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ مولانا کبیر الدین مظاہری برابر ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرکے لوگوں کو میری آمد کی اطلاع دیتے رہے اور پر وگرام مرتب کرتے رہے۔ کیونکہ میں اچانک یہاں آیا تھا، اور اب ٹیلی فون ہی کے ذریعہ پر وگرام کو منظم کیاجا سکتا تھا۔

ہماچل پر دیش کاعلاقہ 1947 میں مکمل طور پر فرقہ پر ستی کی زد میں تھا جو ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی۔ چنانچہ مدرسہ قادریہ کے ساتھ بھی باربار یہاں اشتعال انگیزی اور فساد کے مسائل پیدا ہوئے۔ مگر مولانا کبیر الدین صاحب نے حکمت اور تحمل کے ذریعہ ہر موقع پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے چنگاری کو ہواد ینے کے بجائے اس کو پہلے مرحلہ ہی میں بجھا دیا۔

یہاں کی کئی چیزیں دوسرے مدارس کے لیے قابل تقلید ہیں۔ مثلاً یہاں کااصول ہے کہ دواستاد اگر آپس میں جھگڑیں تو دونوں ہی کو باعزت طور پر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہاں ایساہے کہ دواستادوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہو تو وہ آپ ہی آپ اس کو ختم کرلیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسئلہ نظامت تک پہنچا تو دونوں کو علیٰحدہ کر دیا جائے گا۔

طلبہ کویہ اجازت نہیں کہ وہ اساتذہ کی ذاتی خدمت کریں۔ مثلاً کوئی طالب علم کسی استاذ کا سراور پاؤں نہیں دبا سکتا اور نہ ہی سر میں تیل لگا سکتا ہے۔ اسی قاعدہ کو بر قرار رکھنے کے لیے یہاں جو ان العمر اساتذہ رکھے گئے ہیں کیو نکہ اس قسم کے رواج اکثرانہیں مدارس میں پائے جاتے ہیں جہاں بوڑھے اور زیادہ عمر کے اساتذہ ہوں۔ تاہم اسی کے ساتھ طلبہ کو یہ تاکیدی حکم ہے کہ وہ ہر گز اپنے استاد کی نافرمانی نہ کریں۔

18 نومبر کی صبح کو سواپا نچ بجے مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ یہ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر تھی۔ یہاں چاروں طرف فطرت کاماحول ہے۔ اس ماحول میں اذان کی دھیمی آواز بہت اثر انگیز تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے موذن نے فطرت کے دھیمے لہجہ میں ذکر خداوندی کانغمہ بکھیر دیا ہو۔

فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورۃ الجمعۃ کی تلاوت کی۔ نماز کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھیے قرآن میں ہے کہ زمین وآسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح کر رہی ہیں (62:1) مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ تسبیح سنائی نہیں دیتی۔ گو یافطرت کی زبان خاموشی کی زبان ہے۔ شور کی زبان فطرت کی زبان نہیں۔

مولانا کبیر الدین صاحب نے یہاں کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نہیں لگایا ہے۔ اس کاعلاقہ پر بہت اچھا اثر پڑا ہے۔ یہاں کے ہندو کہتے ہیں کہ دیکھو، یہ کتنا اچھا مولانا ہے۔ وہ شور والا کام نہیں کرتا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنے دھر م کی سیو اکررہا ہے۔

میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ آپ جو کررہے ہیں وہ عین اسلامی طریقہ ہے۔ مسجد وں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال تو مجھے ایک بدعت معلوم ہوتا ہے۔ حدیث میں فتنہ کے زمانہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اس وقت مسجدوں میں آوازیں بلند ہوں گی:اِرْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِدِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2357)۔

فجر کی نماز ختم ہوئی تو ایک بچہ نے کھڑے ہو کر مختلف اوقات کی دعائیں بلند آواز سے بتائیں۔ مثلا ًکھانے کے بعد یہ دعا پڑھیں، سونے کے وقت یہ دعا پڑھیں ، وغیرہ۔

نماز کے بعد طالب علموں کے اٹھ کر جانے کاانداز بھی نہایت منظم تھا۔ طالب علم اچانک بھیڑ کی صورت میں نہیں اٹھے۔ میں نے دیکھا کہ لمبی صف کے دائیں طرف سے باری باری صرف ایک طالب علم اٹھتا اور خاموشی سے باہر چلا جاتا۔ اس طرح تمام طلبہ قطار بنا کر باہر نکلے۔ مسجد کے گیٹ کے باہر آتے ہی تمام طلبہ نے دوڑ لگانا شروع کی۔ دوڑایک استاد کی نگرانی میں ہوئی۔

میں نے سوچا کہ یہ منظر اگر ٹی وی پر دکھا دیا جائے تو لوگوں کو حقیقت معلوم ہو۔ کچھ غیر مسلم حضرات غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد اور مدرسہ میں ہتھیار وں کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ انہیں برعکس طور پر نظرآئے گاکہ مسجد میں آداب حیات سکھائے جاتے ہیں۔ یہاں طلبہ کو جسمانی ورزش کرائی جاتی ہے۔یہاں ایک ایک طالب علم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ شہری تقاضوں کو نبھائے۔ وہ ڈسپلن والی زندگی گزار سکے۔ وہ یہاں تربیت پا کر ایک اچھا انسان بن جائے۔

نماز اوّل وقت میں ہوئی۔ چنانچہ مسجد کے باہر ابھی زیادہ اجالا نہیں ہو اتھا۔ اب پروگرام کے مطابق تمام طلبہ سڑک پر پہنچے اور کچھ دیر تک دوڑ لگاتے رہے۔ یہ یہاں کاروزانہ کا معمول ہے۔ واپس آکر تمام طلبہ تلاوت قرآن میں مشغول ہوگئے۔

یہ مدرسہ 36 بیگہہ زمین میں واقع ہے۔ وسیع رقبہ میں ایک شاندار اسلامی دنیا ابھر رہی ہے۔ مگر ایک صاحب کے الفاظ میں ’’کبھی کوئی ہندونہیں بولا۔ کبھی کوئی ہندو ڈنڈالے کرنہیں آیا۔ اتنا بڑا کام نہایت پر سکون طور پر یہاں انجام پارہا ہے‘‘۔ میں نے کہا کہ یہ سب حکمت کانتیجہ ہے جس کو آپ لوگوں نے خدا کے فضل سے اختیار کیاہے۔

ایک استاذ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیکولر لوگ سیاسی پلیٹ فارم پر آپس میں لڑتے ہیں اور پھر دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔ مگر علما کایہ حال ہے کہ دو عالم اگر ایک بار کسی بات پرلڑگئے تو دوبارہ وہ کبھی نہیں ملیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عالم سے میں نے یہ بات کہی تو انہوں نے جواب دیا کہ سیکولرلوگ مکار ہو تے ہیں۔ اس  لیے ایسا کرتے ہیں۔ مگر علما تو مخلص لوگ ہیں۔ جب میں اپنے کو حق پر سمجھوں تو میں کس طرح دوسرے سے مل سکتا ہوں۔

استاذ نے کہا کہ آپ کا یہ جواب درست نہیں۔ اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے کہ دو مسلمانوں کے درمیان تین دن سے زیادہ ترک کلام اور ترک تعلق شریعت میں جائز نہیں:لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ ‌فَوْقَ ‌ثَلَاثٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6237)۔ اس کا مذکورہ عالم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اپنے مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لیے وہ اسلام کے اصولوں کاحوالہ دے رہے تھے، مگر خودا پنے اوپر اسلام کے اصول کو منطبق کرنے پر وہ راضی نہ ہوئے۔

مدرسہ سے ملحق ایک زمین تھی۔ اس پر عملا ًمدرسہ کاقبضہ تھا۔ تاہم کاغذی اعتبار سے وہ کچھ ہندوؤں کی تھی۔ چونکہ نئے قانون کے مطابق قابض ہی مالک ہو تا ہے۔ اس لیے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ زمین اب ہم کونہیں ملے گی۔

ایک بار زمین کے مالکان یہاں آئے۔ انہوں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ یہ زمین جو آپ کے قبضہ میں ہے، اس کے اصل مالک ہم لوگ ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ اسلام میں قبضہ کوئی چیز نہیں۔ زمین کاجو مالک ہے وہی اس کامالک رہے گا۔

مولانا کبیر الدین صاحب کی زبان سے یہ غیر متوقع بات سن کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس زمین کو بیچنا چاہتے ہیں۔ مگر آپ کو خریداری کاپہلا حق ہوگا۔ مزید یہ کہ انہوں نے مارکٹ ریٹ سے بہت کم قیمت میں اس زمین کو مدرسہ کے لیے دینا منظور کرلیا۔ حالانکہ مولانا کبیرالدین صاحب نے ان سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا تھا۔

بہت سے ہندی اخبار والے مدرسہ کو دیکھنے کے لیے آئے۔ انہوں نے اس کے بارے میں اچھی رپورٹیں شائع کیں۔ ایک ہندی اخبار نے لکھا کہ یہ ہماچل پردیش کاشانتی نکیتن ہے۔

چندی گڑھ کے ہندی روزنامہ دینک ٹریبون ( 13 اگست  1994) میں ایک رپورٹ مسلم مدارس کے بارے میں چھپی۔ اس کی سرخی تھی۔ ’’ بھارت کے مدرسوں میں ہورہی ہے کٹر پنتھی کی پڑھائی‘‘۔ اسی طرح پنجاب کیسر ی ( دسمبر 1994) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی’’:ہماچل میں چلائے جارہے مدرسے شکچھا پرسار کے بجائے آتنک واد کاپر شکشن دے رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح انڈین اکسپریس کی چندی گڑھ اشاعت ( 22اگست 1994) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی:

ISI Bid to Recruit HP Youths Via Madrasa.

اس قسم کی خبروں کے ذریعہ علاقہ میں دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بڑھا۔ اس کا خاص نشانہ مسروالا کامدرسہ قادریہ تھا۔ مگر یہ پروپیگنڈہ زحمت میں رحمت ثابت ہوا۔ پریس اور انتظامیہ دونوں تحقیق کے لیے متحرک ہو گئے۔ ا ورآخری رپورٹ عین مدرسہ کے حق میں نکلی۔  اس سلسلہ میں بہت سی موافق باتیں پریس میں آئیں جن سے فضا مزید اضافہ کے ساتھ مدارس کے حق میں ہو گئی۔ مثلاً جن ستا ( 11 جون) میں رپورٹ چھپی۔ اس کا عنوان تھا:بھائی چارہ کا پرتیک ہے مسر والا( کامدرسہ )۔ حتی کہ ہماچل کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدر سنگھ نے اسٹیٹ اسمبلی میں اس کی تردید کی۔ دینک ٹریبیو ن ( 20 دسمبر) میں یہ رپورٹ اس سرخی کے ساتھ چھپی:مدرسوں میں بھارت ورود ھی گتی ودھیاں نہیں۔

اخبار والوں کی کئی پارٹیاں مدرسہ قادریہ میں آئیں۔ اور ہر چیز کو دیکھنے کے بعد اپنے اخباروں میں یہ رپورٹ چھاپی کہ ہم نے خود جا کر تحقیق کی اور تمام مخالفانہ پر وپیگنڈوں کو غلط پایا۔ ان رپورٹوں کو پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ یہ آپ کے حق میں رفع ذکر کا معاملہ تھا۔ اور جب آدمی حق پر ہو تو ہر رفع ذکر عسر میں یسر کا سبب بن جاتا ہے۔

مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش ایک ایسے علاقہ میں واقع ہے جس کے اطراف میں غیر مسلموں کی بڑی آبادی ہے۔ مدرسہ والوں کے ان حضرات سے گہرے مراسم کی وجہ سے ان حضرات کی برابر یہاں آمد ورفت رہتی ہے، حتی کہ خوشی اور غمی میں بھی وہ مدرسہ والوں کو شریک کرتے ہیں۔ اور اپنے نجی مسائل میں یہاں کے ذمہ داروں سے مشورہ کرتے ہیں۔ نیز یہاں آکر اسلام کی معلومات، اسلامی اخلاق اور مدرسہ کی حب الو طنی اور سیاست سے دوری اور علما کی سادگی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ایسے اسلامی ادارے ملک کے گوشہ گوشہ میں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ یہ ادارے امن ومحبت کا پیغام ہوتے ہیں، حتیٰ کہ وہ غیر مسلم جن کو عام طور پر کٹر پنتھی کہا جاتا ہے وہ بھی یہاں کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ ان آنے والوں میں عام سرکاری ملازم سے لے کر وزیر اعلیٰ ہماچل پر دیش جیسے افراد بھی شامل ہیں۔

افغانستان کے طالبان میں سے بعض افراد نے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ ہماری تعلیم دیوبند کے مدرسہ میں ہوئی ہے۔ اس کو ہندستان کے کچھ ہندی اخباروں میں اس طرح چھاپا گیا کہ طالبان نے جنگ جوئی کا سبق دیوبند کے مدرسہ میں رہ کر حاصل کیا ہے۔  اس کو مزید عام کر کے ہندی پریس میں یہ کہا گیا کہ ہندستان کے اسلامی ادارے اُگر واداور علیحد گی پسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان مدرسوں کا بھارتیہ کرن کیا جائے۔ اس کے بغیر ہمارے ملک میں شانتی اور اتحاد قائم نہیں ہو سکتا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion