ایک انٹرویو

زیر نظر انٹر ویو مسٹر یوگندر سکند (پیدائش 1967) نے 10اگست 2007 کو لیا تھا۔ اس کی ریکارڈنگ بھی ہوئی تھی، جو سی پی ایس سینٹر میں موجود ہے۔            

س:                       آپ مدارس کے نظام کو کس طرح دیکھتے ہیں؟اس وقت مدارس کے نصاب ونظام میں  اصلاح کی ضرورت کی بات ہو رہی ہے؟

ج:                     بعض دوسرے لوگو ں کی طرح میں مدارس کا مخالف یا اس کا ناقد نہیں ہوں۔ مسلمانوں کو مذہبی اور سیکولر دونوں نظام ہائے تعلیم کی ضرورت ہے۔ مسلم بچوں کو دونوں طرح کے مضامین کی واقفیت ہونی چاہیے۔ لیکن تمام مسلم طلبہ کے لیے یہ مطلقاً ضروری نہیں کہ وہ کل وقتی طور پر مدرسہ جاکر عالم بننے کی تربیت حاصل کریں۔ البتہ اتنا ضروری ہے کہ سماج کا ایک طبقہ علم دین حاصل کرے تاکہ مذہبی تعلیم کے حصول کی روایت باقی رہے۔ ہمیں مدارس کے تربیت یافتہ ایسے علما کی ضرورت ہے جو قرآن، حدیث، فقہ اور عربی زبان کے واقف کار ہوں۔ جہاں تک مدارس میں اصلاح کی ضرورت کا سوال ہے حقیقت یہ ہے کہ میں مدارس کی جدید کاری میں یقین نہیں رکھتا۔ آپ قرآن و حدیث کی جدید کاری نہیں کر سکتے۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس سیاق میں جدیدکاری یا جدت پسندی کی بات بالکل بے محل اور غیر ضروری ہے۔جدیدکاری کے تعلق سے میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے جدید اسکول اور یونیورسٹیوں میں بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔ اس نکتے کو وہ لوگ جو مدارس میں اصلاح کے زبردست طور پر حامی ہیں،فراموش کر دیتے ہیں۔میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کا کوئی بھی نصاب ہر طرح سے مکمل نہیں کہا جا سکتا۔ نصاب سے زیادہ اہمیت اس کو پڑھانے والے کی ہے۔اس لیے کہ کتابیں نہیں پڑھاتیں ،اساتذہ پڑھاتے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ مدارس میں فلسفے اور منطق کی صدیوں پرانی یونانی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یونیورسٹیز کے انگریزی شعبے میں بھی صدیوں سال پہلے کی لکھی ہوئی کلاسیکل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ میری نظر میں نصاب کا مسئلہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اصل مسئلہ باصلاحیت اور ذمہ دار اساتذہ کا ہے۔ ہمیں اصلاً ان کی ضرورت ہے۔

س:                  تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مدارس کے طلبہ کو جدید مضامین سے روشناس کرانے کی ضرورت نہیں ہے؟

ج:                میری تجویز یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے علاحدہ ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جانے چاہئیں جہاں مدارس کے طلبہ فراغت کے بعد جدید مضامین کی تعلیم حاصل کر سکیں۔خاص طور پر مختلف زبانیں جیسے انگریزی ، ہندی، وغیرہ۔خود میں نے ایک روایتی مدرسے میں تعلیم مکمل کی اور پھر اپنے طور پر انگریزی سیکھی اور دوسرے جدید مضامین پڑھے۔ میرا خیال ہے کہ مدارس کے نصاب کے ساتھ ساتھ اگر مدارس کے طلبہ کو جدید مضامین پڑھنے پر مجبور کیا جائے تو بلاشبہ یہ ان پر بوجھ بن جائے گا جسے وہ نہیں اٹھا پائیں گے۔ اس سے مدرسے کا تعلیمی نظام بکھر جائے گا۔

س:                 حالیہ دنوں میں مدارس کے فارغ طلبہ کے لیے اس طرح کے ادارے جس کا آپ نے حوالہ دیا ہے، قائم کیے گئے ہیں، آپ اس ظاہرے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟

ج:               میری نظر میں یہ نہایت خوش آئند قدم ہے۔ اگرچہ اسے مزید منظم انداز میں کیا جانا چاہیے۔ اس طرح کے اداروں میں بہرحال ایسے اساتذہ کی کمی ہے جو پوری اسپرٹ کے ساتھ تدریسی ذمہ داری نبھانے پر کمربستہ ہوں۔ ہمارے دور میں مدرسۃ الاصلاح میں ایسے اساتذہ تھے۔ انہوں نے ہمارے اندر تلاش و تجسس کی روح پیدا کی۔ تلاش وتجسس کی یہی روح اصل میں علم ومعرفت کی بنیاد ہے، اس کے بغیر کوئی شخص تعلیم کی راہ پر ترقی نہیں کر سکتا۔ اس روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ہمارے پاس مدارس کے اساتذہ کی ٹریننگ کے لیے کوئی ادارہ نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ اساتذۂ مدارس کوتعلیم و تربیت اور اس سے متعلقہ امور کی ٹریننگ دی جائے۔ میرے خیال میں یہ ایک اہم اِشو ہے جس پر مسلم تنظیموں کو توجہ دینی چاہیے۔

س:               مدرسہ کے فارغ علما اور یونیورسٹی کے تربیت یافتہ دانش وروں کے درمیان جو شدید دوئی اور ثنویت پیدا ہو گئی ہے، آپ کی رائے میں اسے کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے؟

ج:               میرے بچپن میں یہ دوئی اتنی واضح نہیں تھی۔ اس وقت سیکولر تعلیم گاہیں اخلاقی اقدار سے اس قدر دور نہیں تھیں۔ لیکن اب صورتحال بہت زیادہ افسوسناک ہے۔ دونوں طبقوں کے درمیان اس دوئی اور کھائی کو دور کرنے اور پاٹنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں نظام تعلیم کےطلبہ و اساتذہ کے درمیان خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، زیادہ سے زیادہ اختلاط اور میل جول ہو۔ ماضی میں ایسا ہوتا تھا۔ بہت سے ہندو مدرسوں میں پڑھتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوتا۔ چونکہ اب ان دونوں طبقوں کے درمیان اس نوع کا میل ملاپ اور باہمی قربت باقی نہیں رہی، اس لیے ان دونوں کے اندر مفاہمت کی کمی پائی جاتی ہے۔

س:              بعض علما آپ کی اس رائے پر چیں بہ جبیں ہوں گے اور کہیں گے کہ اس طرح کے میل جول سے مدرسہ کے طلبہ کی مذہبی نفسیات پر برا اثر مرتب ہوگا۔ اس تعلق سے آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

ج:              مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ہر کسی سے سیکھتے تھے اور ان کا یہ سیکھنا مختلف قسم کے لوگوں سے میل جول کے ذریعہ ہوتا تھا۔ دوسروں کے ساتھ میل جول کے ذریعہ آپ اپنی اخلاقیات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔نیز اس کے ذریعہ آپ دوسرے لوگوں کی صحیح شناخت اور ان کا احترام بھی کر سکتے ہیں۔ مدارس اور ان کے طلبہ کو دوسروں کے ساتھ میل ملاپ پر مائل کرنے اور ان کو مدرسہ کی چہاردیواری سے باہر نکالنے کا سب سے اہم طریقہ یہ ہے ان کے اندر مشنری اسپرٹ بھر دی جائے۔ اس مقصد کے لیے مدارس کی طرف سے کانفرنسیں اور سیمینار منعقد کیے جائیں جن میں مدارس اور یونیورسٹیز کے لوگوں کو، جن میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں شامل ہوں، بلایا جائے۔ یہ طریقہ دونوں طرف معلومات کے دروازے کو کھولنے اور باہمی غلط فہمیوں کو دور کرنے کا زبردست ذریعہ ہوگا۔

خود میری مثال لیجیے! میں روزانہ مختلف مذاہب اورسماجی پس منظر کے لوگوں سے ملتا ہوں۔ میں اسے اللہ کی نعمت سمجھتا ہوں۔ کیونکہ اس عمل کے ذریعہ میں مختلف طرح کی معلومات، دوسروں کے تعلق سے انسانی جذبۂ یکانگت، نئے تجربات اور اخلاقی اقدار سیکھتا اور حاصل کرتا ہوں۔

س:                 آپ کے خیال میں اہل مدارس اور علما بین مذاہبی مکالمے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

ج:                 میرے خیال میں وہ اس تعلق سے نہایت مرکزی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے وہ اس میں مشغول نہیں ہیں۔ مدارس کو غیر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول کے فائدے کا احساس نہیں ہے۔میرا خیال ہے کہ اس سے طلبہ پر منفی اثر ڑنے کے بجائے ان پر مثبت اثرپڑے گا اور اس سے ان کی مذہبیت کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔

اس سلسلے میں میں مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک شاگرد کا واقعہ سنانا چاہوں گا۔ انہوں نے مولانا سے اپنے لڑکے کی مذہب سے بیگانگی کی شکایت کی۔ مولانا تھانوی نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے اس لڑکے کو عیسائی اسکول میں بھیج دیں۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس کے نتیجے میں وہ لڑکا ایک باعمل مسلمان بن گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں اس لڑکے کو مذہب کے تعلق سے مستقل چیلنج درپیش تھا۔اس کے عیسائی ساتھی اس سے اسلام سے متعلق سوالات کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ اس کو اسلام کے متعلق پڑھنا پڑا۔ اسی طرح ان لوگوں نے اس سے نماز کے بارے میں سوال کیا تو اس کے دل میں نماز پڑھنے کا داعیہ پیدا ہوا اور وہ اس کا پابند ہو گیا۔

اس حوالے سے میں خود اپنی ایک مثال پیش کرنا چاہوں گا۔تقریباً نصف صدی قبل جب میں لکھنؤ میں تھا، تو میری ایک ہندو اسکالر سےملاقات ہوئی، جو ملحد تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ اگر حضرت محمد کو تاریخ سے ہٹا دیا جائے تو اس سے دنیا کی تاریخ میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔میں اس کے اس بیان سے بالکل نہیں بھڑکا۔ اس کے بجائے میں نے اس جملے کو ایک چیلنج کے طور پر لیا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں ایک خاص طرح کا فکری عمل شروع ہو گیا۔ مسلمان رسول اللہ کو آخری پیغمبر اور پوری انسانیت کے لیے ایک نمونہ تصور کرتے ہیں۔ مذکورہ شخص کے اس جملے نے مجھے مجبور کیا کہ میں رسول اللہ کے تاریخی رول کا مختلف کتابوں کے حوالے سے مطالعہ کروں۔ اس مطالعہ کا نتیجہ میری کتاب ’’اسلام دورِجدید کا خالق‘‘ کی شکل میں سامنے آیا۔ حقیقت میں یہ کتاب ایک ملحد شخص کے ساتھ انٹرایکشن کا ثمرہ ہے۔ اگر میری اس شخص سے ملاقات نہیں ہوتی تو میں متعلقہ موضوع کے مطالعہ پر آمادہ بھی نہ ہوتا۔ بہرحال اس حوالے سے میں جو کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے ساتھ اختلاط سے خطرے کا جو تصور ہے، وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ جو لوگ اس خطرے کے احساس سے دوچار ہیں، وہ اس چیلنج کی قدروقیمت کو نہیں سمجھ رہے ہیں، جو اس اختلاط اور میل جول کی دَین ہے۔ یہ میل جول بجائے خود تعلیم ہی کی ایک شکل اور ذریعہ ہے۔ اگر مدارس کے لوگوں کا دوسرے مذاہب کے لوگوں کے ساتھ میل جول ہو تو میرے خیال میں ہندستان میں اس سے ہندو-مسلم تعلقات کے باب میں کافی فائدہ حاصل ہوگا۔

س:                    کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے ساتھ میل جول کو فروغ دینا علما کی ذمہ داری ہے؟لیکن اگر علما میل جول میں دلچسپی نہ لیتے ہوں تو؟

ج:                 میں مدرسوں کو اس کا الزام نہیں دے رہا ہوں۔ میں تو صرف یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ دوسروں کے درمیان اسلام کا تعارف پیش کرنا یہ باہمی میل جول پر منحصر ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ہزاروں لوگوں کے اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا ایک پیغام لے کر مبعوث ہوا ہوں۔ تم لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ تم لوگ میرے بعد اسے پوری انسانیت تک عام کر دو(صحیح البخاری، حدیث نمبر 67)۔ چنانچہ اس کے بعد آپ کے اصحاب کی بڑی تعداد تبلیغ و ارشاد کے لیے مکہ و مدینہ کو چھوڑ کر اس سے متصل علاقوں میں چلی گئی۔ يهي وجه هے كه مدينه اور مکہ میں اصحاب رسول کی بہت کم قبریں ہیں۔

س:                  علما کی طرف سے دوسروں کے ساتھ تعامل میں سب سے بڑی رکاوٹ زبان کا مسئلہ ہے۔ علما کی اکثریت اردو کے علاوہ دوسری زبان سے واقف نہیں ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ یہ اس سلسلے کی ایک بڑی مشکل ہے؟

ج:                      جہاں چاہ وہاں راہ۔میں نے انگلش اور ہندی خود سے سیکھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مدارس کے فارغین صحیح عزم سے کام لیں تو وہ بالکل سیکھ سکتے ہیں۔ جب ایک شخص دوسروں سے میل قائم کرتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اس کی زبان بھی سیکھتا جاتا ہے اور ان کی تہذیب و روایت سے بھی اس کی آشنائی بڑھتی چلی جاتی ہے۔

س:                   مدارس کے بہت سے طلبہ و اساتذہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے بارے میں غلط تصورات رکھتے ہیں۔ اس معاملے سے کس طرح نمٹنا چاہیے؟

ج:                 اس طرح کی ذہنیت دونوں طرف پائی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ باہمی تعامل(interaction)کی کمی ہے۔مثبت تعامل منفی ذہنیت کو ختم کر دیتی ہے۔اگر کسی ہندو کاکسی مسلمان سے تعلق یا دوستی نہیں ہے،اس نے صرف مسلمانوں کے بارے میں میڈیا کے حوالے سے پڑھا اور جانا ہے، تو مسلمانوں کے بارے میں اس کا تصور نہایت غلط ہوگا۔دوسری صورت میں اگر ایک ہندو مخلوط ہندو مسلم آبادی یا مسلم محلے میں رہتا ہے تو اس کے زیادہ امکانات ہیں کہ مسلمانوں سے متعلق اس کا تصور زیادہ مثبت ہوگا۔ مثبت تعامل غلط فہمیوں کے ازالے کا سب سے بہتر ذریعہ ہے اور اس کے لیے کسی مصنوعی پروگرام یا اسکیم کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تعمیری تعامل کے مثبت نتیجہ کی ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک گاؤں کے مقامی باشندے وہاں واقع مدرسہ اور اس کے مولوی حضرات کے بارے میں جو وہاں پڑھاتے تھے، نہایت غلط اور مفروضات پر مبنی تصورات رکھتے تھے۔ ایک دن بعض ہندوؤں کے گھر میں آگ لگ گئی۔ اس کو بجھانے کے لیے مدرسہ کے لڑکے دوڑ پڑے۔ اس کے بعد مدرسہ کے تعلق سے وہاں کے ہندوؤں کا رویہ بدل گیا۔ مدرسہ اور مدرسہ والوں سے وہ جس قدر نفرت رکھتے تھے اب وہ ان سے اتنی ہی محبت کرنے لگے۔ یہ ہے باہمی تعلق اور میل جول کا معجزہ۔

س:                        کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مدارس میں دوسرے مذاہب سے متعلق بھی پڑھا یا جانا چاہیے؟

ج:               جی ہاں! بالکل، اس سے ان کو یہ موقع ملے گا کہ وہ دوسرے مذاہب کےلوگوں کے ساتھ زیادہ بہتر تعلقات قائم کر سکیں۔ اس سے ان کی دعوت و اصلاح کی مہم کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔ دوسرے مذاہب کے بارے میں پڑھانے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان مذاہب کے بارے میں ان کے اندر معروضی شعور پیدا ہو جائے۔ دوسرے مذاہب کی مذمت کا رویہ ترک کیا جانا چاہیے۔آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے پڑوسی کو سمجھنے کی کوشش کریں، خواہ آپ سے متعلق ہوں یا نہ ہوں۔ جدال غیر احسن اسلامی اخلاق کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے مثال کے طور پر جب میں کسی مندر، گردوارہ یا چرچ وغیرہ میں جاتا ہوں تو میں بالکل خالی ذہن کے ساتھ ان سے انٹرایکشن کرتا ہوں۔ اس طرح ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔ میرا ارادہ دوسروں کو سمجھنے ،دوسرے کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے، ان کی مذمت کرنا نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کا پیغام  دوسروں تک پہنچانا ہمدردی کی بات ہے، دشمنی کی نہیں۔ یہ فخر کرنے کی بات نہیں ہے کہ ایک مذہب کا ماننے والا دوسرے سے افضل ہے۔ قرآن ہم سےچاہتا ہے کہ ہم دوسروں کے ہمدرد بنیں۔

س:                          دوسروں کے ساتھ تعامل میں علما کے لیے ایک بڑی رکاوٹ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مسلم مخالف فضا کی وجہ سے انہیں یہ لگتا ہو کہ انہیں مسترد کر دیا جائے گا۔ کیا آپ اس سے متفق ہیں؟

ج:                  اس تعلق سے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ تعارفِ اسلام کی راہ میں ہر طرح کی مشقت کو برداشت کرنے اور اپنی ذات کو پسِ پشت ڈالنے کی ضرورت ہے۔ میں خود اپنی مثال دیتا ہوں ۔ جب میں ایک عرصہ قبل دہلی منتقل ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہندوؤں کا ایک گروپ ہفتے میں ایک مرتبہ ایک جگہ ملا کرتا ہے۔ مجھے شدید خواہش ہوئی کہ میں ان کی میٹنگ میں شریک ہوں۔ چنانچہ میں شریک ہونے لگا۔ ایک دن ایک شخص نے ایک مسئلے کے بارے میں مجھ سے پوچھا جو اس کے گمان کے مطابق قرآن سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ بات قرآن میں موجود نہیں ہے۔ اس نے اس پر اصرار کیا۔ اس نے کہا کہ وہ اردو جانتا ہے اور اس نے قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ میرے لیے یہ بات توہین کے مترادف تھی، نیز قرآن کے تعلق سے اس کے تحقیری رویے سے مجھے شدید دکھ پہنچا۔ لیکن میں نے یہ سب برداشت کیا۔ میں نے اس کے ساتھ کوئی سختی کا رویہ نہیں اپنایا۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں وہ آگے چل کر میرا دوست بن گیا۔ اسلام سے متعلق گفتگو اور دعوت کے عمل میں اس قسم کے صبر و اعراض کی ضرورت ہے۔

س:                         مدارس پر لگائے جانے والے دہشت گردی کے الزام سے متعلق آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

ج:                       یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے۔ کوئی بھی مدرسہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہے۔ پاکستان کے بعض مدارس کے تعلق سے یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ بھی کوئی مدرسے کا ظاہرہ (phenomenon) نہیں،بلکہ پاکستانی ظاہرہ ہے۔ پاکستان کے پارلیمانی سکریٹری برائے دفاع نے ابھی چند دنوں قبل پاکستانی پارلیمنٹ میں ہندستان کے خلاف جہاد کی بات کہی ہے۔ یہ بالکل پاگل پن کی بات ہے۔ یہ شخص مدرسہ کا فاضل نہیں ہے، یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ ہے۔ اس لیےمیں نے کہا کہ پاکستان کے بعض مدارس کا دہشت گردی میں ملوث ہونا ایک پاکستانی معاملہ ہے۔ یہ پاکستان میں سیاسی مفادات کی خاطر اسلام کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا نتیجہ ہے۔ یہ نہایت غلط بات ہے کہ میڈیا کا ایک حلقہ ہندستانی اور پاکستانی مدرسوں کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے۔ اوریہ کہ ہندستانی مدرسوں کو بھی پاکستانی مدرسوں کی طرح دہشت گردی میں ملوث سمجھتا ہے۔

س:                          کیا آپ پاکستان میں اسلام کی اپنی من مانی تشریح کے مذکورہ بالا نکتے پر مزید روشنی ڈالنا چاہیں گے؟

ج:                          اصل میں پاکستان کی تحریک ہندستانی مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کی تشکیل کے مطالبے اور جدوجہد پر مبنی تھی۔ اس کے لیے اسلام کو ایک آلے اور ذریعہ کے طور پر استعمال کیا گیا۔آپ اس کا تو مطالبہ کر سکتے ہیں کہ آپ کو الگ سے اپنا ملک چاہیے، لیکن اس کے لیے آپ کو اسلام کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں ہے۔ پاکستان کی تحریک کے علمبردار کہتے تھے کہ اسلام اور پاکستان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے،اس لیے انہیں اسلام کو مضبوط کرنے اور فروغ دینے کے لیے ایک علاحدہ ملک کی ضرورت ہے۔ یہ بالکل غلط بات تھی۔ اسلام یا کوئی اور مذہب ایک خطۂ ارضی کو حاصل کر کے مستحکم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ وہ صرف اس طرح مضبوط و مستحکم کیا جا سکتا ہے کہ افراد کے دلوں اور دماغوں میں اس کی جڑیں مضبوط کی جائیں۔ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے دل کی جانب اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ تقویٰ اور نیکی کا مقام یہ ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2564)۔

استحصال تمام برائیوں کی جڑ ہے اور چونکہ پاکستان کے لیڈروں نے پاکستان کے آغاز سے ہی اسلام کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ، اس لیے یہ بات بالکل فطری تھی کہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہونے کے باوجود کشمکش اور ماردھاڑ کا گہوارہ بن جائے۔

س:                         ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں زیادہ تر انتہائی غریب خاندانوں کے بچے ہی تعلیم کے لیے آتے ہیں؟

ج:                        اس کی وجہ تعلیمی نظام میں پائی جانے والی ثنویت ہے۔ جس کا میں نے اوپر حوالہ دیا۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اکثر والدین اپنے بچوں کو ماڈرن اسکولوں میں بھیجنا چاہتے ہیں، کیوں کہ مدارس کے فضلا کی تنخواہوں کا معیار نہایت کم ہے۔ مدارس کے اساتذہ کی تنخواہوں کا معیار زیادہ بہتر سے بہتر بنایا جانا چاہیے۔ اگر ایسا ہو تو یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ذہین اور خوشحال خاندانوں کے طلبہ بھی مدارس کا رخ کریں گے۔ ماضی میں مدرسوں سے نہایت ذہین وفہیم اسکالرس اور قائدین نکلے جنہوں نے ہندستان کی سیاسی زندگی میں نہایت اہم رول ادا کیا۔ لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا ہے اور بعض دوسرے اعتبارات سے یہ ان مدارس کے تبدیل شدہ طبقاتی کردار کا بھی نتیجہ ہے۔

س:                              آپ میڈیا کے بڑے حلقے میں مدارس کی شبیہ کے بگاڑے جانے کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟

ج:                            میڈیا زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے میں یقین رکھتا ہے۔ وہ مارکیٹ بنانے کے لیے ناظرین کے سامنے ہاٹ نیوز پیش کرنے کی فکر میں یقین رکھتا ہے۔ میڈیا کو سافٹ نیوز میں دلچسپی نہیں ہوتی اس لیے کہ اس سے آمدنی نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ سنسنی خیز اور سلیکٹیو رپورٹنگ کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ ایک دن میں ایک ریڈیو اسٹیشن کی ہندی سروس سن رہا تھا۔ ماریشش کے ایک سامع نے ٹیلی فون پر پوچھا کہ ’’ماریشش‘‘ کو کوریج کیوں نہیں دیا جاتا، جب کہ یہاں ہندی بولنے اور سمجھنے والے لوگ کافی تعداد میں ہیں۔ پروگرام پیش کرنے والے نے جواب دیا کہ میڈیا صرف گرم خبروں کا شائق ہے، جبکہ ماریشش سے گرم خبریں نہیں ملتیں۔ اس نے پھر مزید کہا کہ کچھ گرم خبریں پیدا کیجیے، پھر ہم آپ کے ملک کے بارے میں خبریں نشر کریں گے۔ اگر آپ میڈیا کی روش میں تبدیلی چاہتے ہیں تو آپ کو لوگوں کی ذہنیت کو بدلنا ہوگا۔

س:                          مرکزی مدرسہ بورڈ کی حکومتی تجویز پر آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

ج:                            نظریاتی سطح پر تو یہ صحیح لگتا ہے۔ خاص طور پر اس سیاق میں کہ اس سے مدارس کے نظام کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔ تاہم اصل مشکل حکومت اور مدارس کے درمیان صحت مند تعلقات کی ہے۔ اس بنا پر اس طرح کے بورڈ کا فائدہ بہت زیادہ نہیں ہوگا۔ بہت سے علما حکومت کے ارادے کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ بہرحال اگر یہ بورڈ وجود میں آ جاتا ہے تو اس کی پالیسیاں اور سرگرمیاں علما کے مشوروں سے طے کی جانی چاہئیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion