زندگی کا ایک اصول
مولانا مرغوب الرحمن قاسمی (وفات 2010) دار العلوم دیوبند کے مہتمم تھے۔ اپنی زندگی کے آخری تیس سال تک وہ اِس عہدے پر فائز رہے۔ اپنے کام کی نسبت سے، اُن کے تعلقات بہت سے لوگوں کے ساتھ قائم تھے۔ اِن تعلقات کے لیے مولانا مرحوم کا ایک اصول تھا۔ اِس اصول کو مولانا نور عالم خلیل امینی نے اپنے ایک مضمون میں اِن الفاظ میں بیان کیا ہے:
’’اِس مسئلے میں مولانا کے ذہن میں خانے بنے ہوئے تھے اور وہ اُن میں سے ہر ایک کو اُس خانے میں رکھتے جو انہوں نے اُس کے لیے متعین کیا ہوتا تھا، اور اسی ’’درجہ بندی‘‘ کے اعتبار سے، وہ اُن کے ساتھ حسنِ سلوک اور شفقت کا معاملہ کرتے تھے‘‘۔ (ماہ نامہ الفرقان، لکھنؤ، مارچ 2011، صفحہ 36 )
یہ اصول ہر شخص کے لیے ایک قابلِ تقلید اصول ہے۔ یہ اصول آدمی کو غیر ضروری ٹنشن سے بچاتا ہے۔ ایسا آدمی غیر ضروری قسم کی شکایتوں سے محفوظ رہتاہے۔ یہ ایک عملی اصول (practical formula) ہے اور تعلقات کے معاملے میں عملی اصول ہی ہمیشہ بہتر اصول ہوتا ہے۔
لوگوں کو ایک دوسرے سے شکایتیں کیوں ہوتی ہیں ، اِس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ دوسروں سے زیادہ امید قائم کرلیتے ہیں اور جب وہ شخص ان کی زیادہ امید (over-expectation) پر پورا نہیں اترتا تو وہ اس کی شکایت کرنے لگتے ہیں ۔
اِس مسئلے کا سادہ حل یہ ہے کہ آپ لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ آپ کسی شخص سے وہی امید رکھیے جو باعتبارِ حقیقت اُس سے رکھنا چاہیے۔ جب بھی ایسا ہو کہ ایک شخص آپ کی امید پر پورا نہ اترے تو آپ صرف یہ کیجیے کہ اس کا ’’خانہ‘‘ بدل دیجیے۔ پہلے اگر آپ نے اُس کو کٹیگری ’’اے‘‘ میں رکھا تھا، تو اب آپ اس کو کٹیگری ’’بی‘‘ یا کٹیگری ’’سی‘‘ میں ڈال دیجیے۔ اس کے بعد اُس آدمی کو لے کر آپ کے اندر نہ کوئی ٹنشن ہوگا اور نہ کوئی شکایت۔ (الرسالہ، مئی 2011)
