بعد کو یہ مقالہ عربی زبان میں ’’امکانات جدیدۃ للدعوۃ‘‘کے نام سے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ یہ مقالہ 36 صفحات پر مشتمل تھا۔ اس کو قاہرہ سے المختار الإسلامی پبلشرنے پمفلٹ کی صورت میں شائع کیا تھا۔اب وہ مقالہ راقم الحروف کی کتاب ’’ظہور اسلام‘‘ میں      ’’اسلامی انقلاب:تاریخِ انسانی کے لیے نیا موڑ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس سفر کی مختصر روداد اُسی زمانے میں ماہ نامہ الرسالہ، اگست 1977 میں چھپی تھی (صفحہ 52)۔

جامعہ دار السلام کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہاں آغاز ہی سے تعارف اسلام کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کا باقاعدہ آغاز 1978 میں ہوا، جب کہ یہاں تعارف اسلام کے نام سے ایک مستقل شعبہ کھلا اور اس کے لیے ایک علاحدہ عمارت بنائی گئی جو اب بھی قائم ہے۔ یہ ایک سالہ کورس ہے اور اِس میں مدارسِ عربیہ سے فارغ حضرات کو داخلہ دیا جاتا ہے۔

صبح کے اس پہلے پروگرام کے بعددوسرا پروگرام لائبریری کے ہال میں تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام جامعہ کے اساتذہ کے لیے خاص تھا۔ اِس میں جامعہ کے تمام اساتذہ شریک تھے۔ اساتذہ کے اِس اجتماع میں گفتگو کا موضوع ’’تعلق مع اللہ‘‘ تھا۔ اِس موقع پر میں نے جو باتیں کہیں، اس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

میں نے کہا کہ تعلق باللہ کا مطلب ہے— ذکر اللہ، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‌يَذْكُرُ ‌اللهَ عَلَى كُلِّ ‌أَحْيَانِهِ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 373)۔ یعنی ہر حین (occasion) کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) بنا کر اللہ کو یادکرنا۔ میں نے کہا کہ تعلق باللہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے جو تدبر اور تفکر اور توسم کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ ذکر اللہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ ذکرِ کثیر وردِ کثیر کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ تفکرِ کثیر کا نام ہے۔

آخر میں سامعین کی طرف سے مختلف سوالات کیے گئے۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے آج اپنی صبح کی تقریر میں موثر دعوت کے لیے صبر کی اہمیت بتائی تھی اور یہ واقعہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک بدو مدینہ آیا اور اس نے مسجد نبوی کو گندا کردیا۔ آپ نے اُس سے درگزر کا معاملہ فرمایا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6128)۔ مگر سوال یہ ہے کہ اُس بدو نے نادانی میں ایسا کیا تھا، مگر آج مسلمانوں کے خلاف اِس قسم کے واقعات عداوت کی بنیاد پر ہورہے ہیں، پھر اس سے کیسے در گزر کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا اِس سوال کا جواب صبح کے اجتماع میں قاری صاحب نے اپنی تلاوت کے ذریعہ دے دیا ہے۔ انہوں نے قرآن کی یہ آیت پڑھی تھی:ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي ‌بَيْنَكَ ‌وَبَيْنَهُ ‌عَداوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:34)۔ یعنی، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

 اِس آیت کے مطابق ہم کو ’’عدو‘‘ کے ساتھ بھی وہی حسنِ سلوک کرنا ہے جو نادان کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی رد عمل کا طریقہ اپنانے کے بجائے صابرانہ طریقہ اپنانا۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ مسلمانوں کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں، مسلمان تو مسلسل صبر ہی کررہے ہیں، لیکن اُنھیں صبرکا کوئی فائدہ نہیں ہورہا ہے، وہ برابر ذلت و ناکامی کا شکار ہورہے ہیں۔ میں نے کہا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ:إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:153)۔ یہ آیت اِس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان مطلوب صبر نہیں کررہے ہیں۔ اگر وہ مطلوب صبر کررہے ہوتے تو قرآن کے بیان کے مطابق، یقیناً وہ’’ذلت وناکامی‘‘ کا شکار نہ ہوتے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق، صبر کرنے والوں کو اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے، اور اللہ کی نصرت کے بعد کسی کے لیے ذلت وناکامی کا کوئی سوال نہیں۔

صبر کا مطلب کیاہے۔ صبر کا مطلب نہ پسپائی ہے اور نہ بے عملی۔ صبر دراصل یہ ہے کہ آدمی ٹکراؤ کو اوائڈ کرکے مثبت بنیاد پر اپنے عمل کا منصوبہ بنائے۔ صبر یہ ہے کہ آپ اپنے دل سے نفرت کو ختم کردیں، تشدد کے مزاج کو ختم کردیں، لڑنے کے مزاج کو ختم کردیں، اشتعال سے پرہیز کریں۔ اِس طرح کے مثبت اوصاف کو پیدا کرنے کے بعدجو تعمیری منصوبہ بنایاجائے، اسی کا نام صبر ہے۔

پروگرام کے بعد مولانا کا کا سعید احمد عمری نے کہا کہ آپ نے بے حد قیمتی باتیں بتائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ تقریر کے اختتام پر اساتذہ کو ہمارے یہاں کا چھپا ہوا لٹریچر دیاگیا۔ ہال میں میز پر موجود سارا لٹریچر اُسی وقت ختم ہوگیا۔ اساتذہ نے خود سے یہ لٹریچر حاصل کیا، اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔

8 جون 2010 کی سہ پہر کو تین بجے سے چار بجے تک عوام کے درمیان  کام کررہے علما کے ساتھ ’’تبادلۂ خیال‘‘ کا پروگرام تھا۔ میں نے پروگرام کے آغاز میں تقریباً 25 منٹ تک دعوت کے مختلف پہلوؤں پر اظہارخیال کیا۔ ایک بات میں نے یہ کہی کہ دعوت کا عمل ایک اعتبار سے دو طرفہ ایکسچینج (exchange) کا عمل ہے۔ دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ دوسروں کے سامنے ایک بات کا اعلان کردیں، بلکہ دعوت کے دوران آپ کو خود بھی سیکھنا چاہیے۔ دعوتی عمل کا فائدہ خود داعی کو ذہنی ارتقا کی صورت میں ملنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ آپ مطالعہ کتب کو اپنے ڈیلی رُوٹین میں شامل کرلیں۔ اِسی کے ساتھ آپ میں سے ہر شخص ڈائری بھی ضروررکھے۔ ڈائری گویا کہ کتابِ محاسبہ ہے۔ دُعاۃ کو ایک اور مشورہ میں نے یہ دیا کہ آپ لوگ اپنا دعوتی عمل خاص طورپر اُن لوگوں کے ساتھ کریں جن سے آپ کی علمی سطح بڑھنے والی ہو— دینا وہی دینا ہے جب کہ دینے کے عمل کے دوران آدمی نے خود بھی کچھ پایا ہو۔

تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ ایک سوال یہ تھا۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں گزشتہ ایک سال سے ماہ نامہ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں کا مطالعہ کررہا ہوں۔ مطالعے کے دوران میں نے پایا کہ آپ ذہنی ارتقاء پر بہت زیادہ زور دیتے ہیں۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ذہنی ارتقا اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ’’ازدیادِ ایمان‘‘ کہا گیا ہے۔ لوگ ازدیادِ ایمان کو ایک پر اسرار چیز سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ازدیادِ ایمان ایک معلوم چیز ہے اور اس کا تعلق انسانی دماغ سے ہے۔ وہ غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے جس کو قرآن میں تدبر و تفکر اور توسم کہا گیا ہے۔ وہ چیز جس کو قربِ الٰہی کہا جاتا ہے، اس کو حاصل کرنے کا ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ ذہنی ارتقا سے آدمی کو معرفت حاصل ہوتی ہے، اور معرفت انسان کو اللہ سے قریب کرنے والی ہے۔

8 جون 2010 کو عصر کی نماز کے بعد جامعہ دار السلام کی مسجد میں ایک خطاب رکھا گیا۔اِس میں جامعہ کے طلبا اور اساتذہ دونوں شریک تھے۔ اِس خطاب کا موضوع تھا:معرفتِ الٰہی۔

میں نے کہا کہ معرفت کیا ہے۔ معرفت یہ ہے کہ انسان حالتِ غیب میں اپنے رب کو پہچانے، وہ دیکھے بغیر اس کو دیکھ لے۔ معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا حسّیاتی تجربہ ہونے لگے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں:وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ (96:19) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی، سجدہ کر اور قریب ہوجا۔  اور حدیث میں اس کے لیے یہ الفاظ آئے ہیں:تَعْبُداللهَ ‌كَأَنَّكَ ‌تَرَاهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 50)۔یعنی، تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو۔

ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے اور معرفت کے حصول کی بھی ایک قیمت ہے، وہ قیمت بنیادی طورپر یہ ہے کہ آدمی پردۂ التباس (element of doubt) کو پھاڑ کر حقیقت اعلیٰ کو دیکھ سکے۔ پردہ التباس کو پھاڑنے میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جو اپنے آپ کو ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction) سے بچائے، جو اپنے آپ کو کامل یکسوئی کے ساتھ معرفت کے حصول میں لگا دے۔ ڈسٹریکشن میں ہر وہ چیز شامل ہے جو آدمی کی توجہ کو مقصد ِ اعلیٰ سے ہٹانے والی نہ ہو۔ اِس میں ہر قسم کے منفی جذبات بھی شامل ہیں۔ مثلاً نفرت، تعصب، فخر، احساسِ برتری، اور خواہش کی پیروی، وغیرہ۔

اِس سلسلے میں ایک بات میں نے یہ بتائی کہ انسان کو جو دماغ دیاگیا ہے، وہ بے پناہ صلاحیتوں کا حامل ہے، وہ کوئی عبث چیز نہیں ہے۔ وہ اِس لیے ہے کہ آدمی اپنے دماغ کو اَن فولڈ (unfold) کرے اور اس کو حقائقِ ربانی کی دریافت کے لیے استعمال کرے۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ کلماتِ رب (لقمان، 31:27) اتنے زیادہ ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔ اِسی کے ساتھ انسانی دماغ کے جو امکانات (potential) ہیں، وہ بھی لامحدود ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ ایک فرد کے دماغ میں جتنے پارٹکل ہوتے ہیں، وہ پوری کائنات میں موجود پارٹکل کے برابر ہیں۔ انسان کو یہ غیر معمولی صلاحیت اِس لیے دی گئی ہے کہ وہ اس کو استعمال کرکے معرفتِ اعلیٰ کو حاصل کرے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنت میں اہلِ جنت کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ (شغلِ فاکہ) یہ ہوگا کہ وہ لامحدود کلماتِ رب کو ابدی طورپر دریافت کرتے رہیں۔ موجودہ دنیا دراصل اِس لیے ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنت کے اِس لامحدود عمل کے لیے تیار (prepare)کرے۔ جنت کی سب سے بڑی خوشی حصول معرفت کی خوشی ہے۔ حصولِ معرفت کا یہ سفر جنت میں ابدی طور پر جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ، جنت میں جو مادی نعمتیں ملیں گی، وہ دراصل ضیافتِ ربّانی کے طورپر ملیں گی یہی وہ بات ہے جو قرآن میں اِن الفاظ میں کہی گئی ہے:نُزُلاً مِنْ غَفُورٍ رَحِيمٍ (41:32)۔یعنی، بخشنے والے، مہربان کی طرف سے مہمانی کے طور پر۔

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ حصول معرفت کی نسبت سے قدیم روایتی د ور اور جدید سائنسی دور میں کیا فرق ہے۔ میں نے کہا کہ معرفت کا اصل ذریعہ تخلیقاتِ خداوندی میں تدبر اور تفکر ہے۔ یہی علمائے راسخین کا مسلک ہے۔

امام ابن تیمیہ نے بجا طور پرلکھا ہے کہ کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں پر غور وفکر کرنا ہی وہ چیز ہے جس کے ذریعے آدمی اللہ تعالیٰ کی حقیقی معرفت حاصل کرتا ہے:أَنَّ التَّفْكِيرَ فِي الآلَاءِ وَالنِّعَمِ يُمْكِنُ لِلْعَقْلِ أَنْ يَسْتَنْبِطَ فِيهَا عَظَمَةَ الصَّانِعِ وَحِكْمَتَهُ وَمَا يَلِيقُ بِهِ مِنْ صِفَاتِ الْكَمَالِ وَالْجَلَالِ، فَيَعْرِفَهُ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ (دقائق التفسیر، الجامع لتفسیر ابن تیمیۃ، 1/49)۔یہ تدبر اور تفکر قدیم زمانے میں بھی مطلوب تھا، اور آج بھی اسی کے ذریعے کسی آدمی کو معرفتِ خداوندی مل سکتی ہے۔ اِس اعتبار سے، قدیم دور اور جدید دور میں کوئی فرق نہیں، البتہ جدید سائنسی دور میں معلومات کے اضافے کی بنا پر تدبر کا فریم ورک (frame work) بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔

پروگرام ختم ہوا تو مغرب کی نماز میں تقریباً نصف گھنٹہ باقی تھا۔ ہم لوگ کچھ دیر کے لیے کلیہ بلڈنگ کے دفتر میں بیٹھ گئے۔ یہاں جامعہ کے مختلف اساتذہ اور دیگر علما موجود تھے۔ مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ آج کی تقریر (معرفتِ الٰہی) میں ا ٓپ نے جنت اور کلماتِ رب کے بارے میں جو کچھ کہا، اُس سے جنت اور آخرت کی معنویت پوری طرح کھل گئی۔ میں نے کہا کہ جنت کا یہ تصور اُس سوال کاواحد جواب ہے جو تمام اہلِ علم کو پریشان کیے ہوئے ہے۔ تمام فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس داں مشترک طورپر اس مسئلے سے دوچار ہیں کہ اتنی زیادہ بامعنیٰ (meaningful) کائنات کیا ایک بے معنی انجام(meaningless end) پر ختم ہوجائے گی۔ جنت کا تصور واحد تصور ہے جو اِس سوال کا جواب فراہم کرتا ہے۔ لیکن جنت کے ماننے والوں نے جنت کی جو تصویر بنا رکھی ہے، اُس میں اُنھیں اپنے اِس سوال کا جواب نہیں ملتا۔

8 جون 2010 کو مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے میں آگئے۔ یہاں جناب ریاض موسی مالاباری سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اِس کے علاوہ، وہ ہماری کتاب ’’تعبیر کی غلطی‘‘ کا ملیالم ترجمہ شائع کررہے ہیں۔ ان کی مادری زبان ملیالم ہے۔ انہوں نے میرے حالات اور مشن کو لے کر ایک تفصیلی انٹرویو لیا جس کو وہ ملیالم اخبار میں شائع کریں گے۔

آج شام کو مولانا کاکا سعید احمد عمری سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے تزکیہ اور روحانیت کے  مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی۔ یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی۔ بعد کو اِس مجلس میں دیگر علما کے علاوہ، مولانا فیاض الدین عمری اور مولانا سید اقبال احمد عمری، وغیرہ آگئے۔ کاکا صاحب اپنے مزاج کے اعتبار سے بہت صاف دل آدمی ہیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اِس مجلس میں مولانا فیاض الدین عمری نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پایا ہے کہ کاکا صاحب کا سب سے بڑا کنسرن (concern) یہ ہے کہ جامعہ دار السلام کے طلبا اور اساتذہ میں تزکیہ اور روحانیت پیدا ہو۔ یہ بات سن کر کاکا صاحب فوراً سنجیدہ ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ آپ لوگ غلط بات کیوں کہتے ہیں۔ انہوں نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہیے کہ خود مجھے تزکیہ اور روحانیت کی ضرورت ہے۔

8 جون 2010 کو ہم نے عشاء کی نماز عمر آباد کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد جامعہ کے ایک سینئر استاذ اور سابق شیخ الحدیث مولانا ظہیر الدین اثری رحمانی صاحب کے گھر پر کھانے کا پروگرام تھا۔ وہ جامعہ کیمپس کے باہر عمر آباد میں رہتے ہیں۔ وہ 1920 میں (اعظم گڑھ، یوپی) میں پیدا ہوئے اور بعد کو عمر آباد میں آکر بس گئے۔ وہ 1958 سے مستقل طورپر عمر آباد میں مقیم ہیں۔ گذشتہ 50سال سے وہ جامعہ میں حدیث کے استاذ ہیں اور اِسی کے ساتھ افتاء کا کام بھی کرتے رہے ہیں۔اپریل 1977 میں انھیں کی خصوصی دعوت اور تحریک پر میں نے جامعہ دارالسلام کا سفر کیا تھا۔

عمر آباد آنے سے پہلے میں نے یہ کہہ دیا تھا کہ میں کسی کے گھر دعوتی کھانا کھانے کے لیے نہیں جاؤں گا۔ میں صرف جامعہ میں کھانا کھاؤں گا۔ مگر بعض وجوہ سے استثنائی طورپر مولانا ظہیرالدین صاحب کے یہاں کھانے کے لیے جانا منظور کرلیا۔ اِس موقع پر جامعہ کے کئی علما بھی شریک تھے۔ یہاں جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ میں نے ذکر کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ ذکر سب سے بڑی ہستی کو یاد کرنے کے لیے ہوتاہے۔ اِس لیے ذاکر کے اندر اُسی عظیم ہستی کی نسبت سے کیفیات پیدا ہونی چاہئیں۔ جس ذکر میں ذاکر کے اندر ربانی کیفیات پیدا نہ ہوں، وہ ذکر ایسا ہی ہے جیسے پلاسٹک کا بنا ہوا گلاب کا پھول۔ بظاہر وہ پھول ہے، لیکن اس سے آدمی کو کوئی خوشبو نہیں ملتی۔ ایک حقیقی پھول آدمی کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔ اِسی طرح حقیقی ذکر وہ ہے جو آدمی کو اعلیٰ ربانی کیفیات سے معمور کردے۔

9 جون 2010 کی صبح کو نمازِ فجر کے بعد کچھ دیر ہم لوگوں نے جامعہ کے کمپس میں واک کی۔ اِس کے بعد مولانا سید اقبال احمد عمری نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ میں کچھ دیر کے لیے ان کے گھر جاؤں اور وہاں صبح کی چائے پیوں۔ میں نے کہا کہ عام طورپر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ چائے پر بلاتے ہیں اور پھر پر تکلف ناشتے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اگرآپ یہ وعدہ کریں کہ آپ کے یہاں صرف چائے ہوگی اور دوسرا کوئی بھی آئٹم نہ ہوگا، تو میں چلنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے وعدہ کیا۔ چنانچہ میں ان کے یہاں گیا اور واقعۃً انہوں نے اپنے وعدے کو نبھایا۔

اِس مجلس میں اور بھی کئی علما موجود تھے— مولانا محمد ابراہیم عمری، مولانا کاکا انیس احمد عمری، وغیرہ۔ یہاں جو باتیں ہوئی، اُن میں سے ایک یہ تھی۔  میں نے کہا کہ آج کل تسبیح فاطمہ کا بہت رواج ہے۔ لیکن یہ لوگ تسبیح فاطمہ کو اس کی پوری شکل میں نہیں لیتے، بلکہ ادھوری شکل میں لیتے ہیں۔ جیسا کہ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ تسبیح اپنی صاحب زادی فاطمہ کو خادم کے بدل کے طور پر بتائی تھی۔ مگر آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے تسبیح فاطمہ کو اس کے پس منظر سے الگ کرلیا ہے اور وہ اس کو پراسرار فضیلت کے طور پر پڑھتے ہیں، حتی کہ اس کی بنیاد پر تسبیح کا بہت بڑا کاروبار ساری مسلم دنیا میں قائم ہے۔ مزید یہ کہ پہلے وہ اپنی صاحب زادیوں کے لیے ہر قسم کی مادّی سہولت فراہم کرتے ہیں اور پھر تبرک کے طورپر ان کو تسبیح اور مصلی بھی دے دیتے ہیں۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی بعض باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ذکر کے فارم کا انکار کرتے ہیں، حالاں کہ ذکر کا فارم تو قرآن میں موجود ہے۔ میںنے کہا کہ یہ اعتراض محض غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر الفاظ کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ انسان کسی بھی چیز کا تصور کرنے کے لیے الفاظ کا محتاج ہے۔ اِسی طرح ذکر کے لیے بھی الفاظ ضروری ہیں۔ میں دراصل ذکر کی موجودہ شکل کو ذکر کا تصغیری فارم سمجھتا ہوں، جس میں ذکر کو اس کی اسپرٹ سے الگ کردیا گیاہے۔

ذکر کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کی اِس آیت کا مطالعہ کیجیے:إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ (8:2)۔یعنی،  ایمان والے  وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں۔ قرآن کی اِس آیت کے مطابق، ذکر وہ ہے جو اگر چہ الفاظ کی صورت میں ظاہر ہو، لیکن اپنی داخلی کیفیت کے اعتبار سے وہ ایک ہلچل کی مانند ہو، جس سے ذاکر کا قلب دہل اٹھے، جو اس کے دل ودماغ کے لیے ایک طوفانی تجربہ بن جائے، جو آدمی کے لیے خداوند ذوالجلال کی دریافت کے ہم معنی بن جائے۔

گفتگو کے دوران کاکا انیس احمد عمری سے میں نے پوچھا کہ آپ کی فیملی ایک جوائنٹ فیملی ہے۔ جوائنٹ فیملی میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں آپ لوگ کس طرح اِس مسئلے کو حل کرتے ہیں۔ کاکا انیس صاحب نے کہا کہ اِس کا فارمولا ہے — صبر وبرداشت سے کام لینا اور دوسروں کی کمی کو نظر انداز کرنا۔ اِس میں سب سے اہم رول گھر کے بڑے کا ہوتاہے۔ گھر کا بڑا اگر دانش مندی سے کام لے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوتا — یہ فارمولامجھے بہت پسند آیا۔ یہ سادہ بھی ہے اور پوری طرح قابلِ عمل بھی، مگر اکثر لوگ اِس حقیقت کو نہیں جانتے۔

9 جون 2010 کا پروگرام صبح 10 بجے سے شروع ہونے والا تھا۔ اِس سے پہلے کئی علما میرے کمرے میں آگئے۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے ایک مجلس میں کہا تھا کہ ذکر تجدید شعور کا نام ہے، تکرارِ لفظی کا نام ذکر نہیں، حالاں کہ احادیث میں بہت سی روایات ذکر کے سلسلے میں آئی ہیں۔ میں نے کہاکہ جو کچھ میں نے کہا تھا، اُس کا تعلق نفسِ ذکر سے نہیں ہے، بلکہ تصورِ ذکر سے ہے۔ ذکر کی اہمیت بلا شبہ بہت زیادہ ہے، لیکن ذکر سے مراد تکرارِ معانی ہے، نہ کہ مجرد تکرارِ الفاظ۔ جب انسان اپنے خالق کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل ودماغ میں ایک تموج پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ داخلی تموج جب الفاظ کی صورت میں ڈھل جائے تو اسی کا نام ذکر ہے۔

مجلس کے دوران مولانا کاکا سعید احمد عمری میرے کمرے میں آئے۔ اس وقت وہاں کئی اساتذہ اور دُعاۃ بیٹھے ہوئے تھے، جو اُن کو دیکھ کر کھڑے ہوگئے۔  کاکا صاحب نے ان لوگوں کو سختی کے انداز میں کھڑے ہونے سے منع کیا اور کہا کہ آپ لوگ جیسے بیٹھے ہیں، اُسی طرح بیٹھے رہیں، اٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اِس کے بعد کاکا صاحب خاموشی کے ساتھ کمرے کے ایک طرف خالی جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے— یہ منظر میں نے صرف جامعہ دار السلام میں دیکھا۔

9 جون 2010 کو ’’تزکیۂ نفس‘‘ کے موضوع پر خطاب کرنا تھا۔ اِس خطاب کا انتظام جامعہ کی لائبریری کے ہال میں کیا گیا تھا۔ اِس خطاب میں جو باتیں میں نے کہیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ عام طورپر تزکیۂ نفس کے موضوع کو ایک پر اسرار موضوع سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ نفس کو تزکیۂ قلب کے ہم معنی سمجھ لیا گیا ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ تزکیہ نفس سے مراد تزکیہ ذہن ہے، یعنی نفسیاتی تزکیہ۔ تزکیہ نفس کو دوسرے لفظوں میں تعمیر ِ شخصیت کہاجاسکتا ہے، یعنی روحِ انسانی کی تطہیر (purification of soul)۔ تزکیہ نفس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنا بے رحمانہ محاسبہ کرے اور اپنی شخصیت کو تمام منفی اور نامطلوب عناصر سے پاک کرکے اپنے آپ کو ربانی انسان بنائے۔ تزکیہ نفس کوئی وقتی عمل نہیں، وہ تاحیات جاری رہنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔

تزکیہ نفس کا کوئی تعلق مروّجہ مراقبہ (meditation) سے نہیں ہے۔اس کا تعلق تمام تر تفکر اور تدبر سے ہے۔ علامہ ابن تیمیہ (وفات 728 ھ) نے بجا طورپر لکھا ہے کہ تزکیہ نفس کا ذریعہ تذکر اور تفکر ہے:أَنَّ التَّذَكُّرَ  سَبَبُ التَّزْكِيَةِ، فَإِنَّهُ إِذَا تَذَكَّرَ خَافَ وَرَجَا، فَتَزَكَّىٰ(مجموع الفتاویٰ لابن تیمیۃ،جلد 16، صفحہ 186)۔

تزکیہ نفس در اصل یہ ہے کہ محاسبہ (introspection) کے ذریعے اپنی کنڈیشننگ کو توڑا جائے۔ اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کی جائے۔ دراصل ڈی کنڈیشننگ ہی تزکیہ نفس کا پہلا دروازہ ہے۔ ہر آدمی کا کیس کنڈیشننگ کا کیس ہے۔ جب تک اِس کنڈیشننگ کو توڑا نہ جائے، کسی شخص کے اندر تزکیہ نفس کا عمل (process) شروع نہیں ہوسکتا۔

میں نے کہا کہ لوگ تزکیہ کا معروف کورس پورا کرتے ہیں، لیکن ان کے اندر مطلوب تزکیہ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تزکیہ کے نام پر لوگ ورد اور تسبیح اور وظیفہ اور نفلی اعمال کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اِن اعمال کے اندر کراماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں جو پر اسرار طورپر ان کا تزکیہ کردیں گے، حالاں کہ اِس طرح کے شکلی اعمال کا براہِ راست تعلق تزکیہ نفس سے نہیں ہے۔ تزکیہ حقیقتاً ایک شعوری عمل کا نتیجہ ہے، نہ کہ صرف کسی فارم کی ظاہری ادائیگی کا نتیجہ۔

خطاب کے بعد سوال وجواب کا پروگرام تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا سوال و جواب تھا۔ یہاں جوسوالات کیے گئے، ان میں سے ایک سوال تھا کہ آپ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ تزکیہ نفس کا تعلق کسی ظاہری فارم سے نہیں ہے، بلکہ تزکیہ ایک شعوری عمل کا نام ہے۔ اِس کی وضاحت فرمائیں۔ میں نے کہا کہ اِس سوال کا جواب ایک صحابی کے عمل سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت ابو الدرداء انصاری کی وفات کے بعد ان کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا گیا کہ ابو الدرداء کا خاص عبادتی عمل کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا:التَّفَكُّرُ، الِاعْتِبَارُ (السنن الکبریٰ للنسائی، اثر نمبر 11850)۔ یعنی، سوچنا اور چیزوں سے عبرت پکڑنا۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اپنے بارے میں کہا کہ میں ایک صوفی ہوں، حالاں کہ تصوف، اسلام میں ایک مبتدعانہ اضافہ ہے۔ میں نے کہا کہ میں صوفی کا لفظ مروجہ معنی میں استعمال نہیں کرتا۔ صوفی سے میری مراد وہی ہے جس کے لیے قرآن میں ربانیت (3:79) کا لفظ آیا ہے۔ربانیت کی اہمیت خود قرآن سے ثابت ہے، اور جہاں تک موجودہ تصوف کا تعلق ہے، وہ اِسی ربانیت کی ایک بگڑی ہوئی صورت ہے۔ تصوف کے بارے میں میرے نقطۂ نظر کو جاننے کے لیے آپ میری کتاب ’’فکر اسلامی ‘‘ (صفحہ128 ) کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

9جون 2010 کو اگلا پروگرام دعاۃ سے ’’تبادلۂ خیال‘‘ کا تھا۔ یہ ایک گھنٹے کا پروگرام تھا جو تین بجے سے چار بجے تک جاری رہا۔ یہ پروگرام سوال وجواب کی صورت میں تھا۔ ایک سوال یہ تھا کہ اسلام کا ایک حصہ وہ ہے جس کا تعلق عقیدے سے ہے۔ مثلاً توحید اور آخرت، وغیرہ۔ اسی طرح کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا تعلق نظام سے ہے۔ مثلاً دیوانی اور فوج داری کے قوانین اور تعزیرات، وغیرہ۔ ایسی حالت میں سوال یہ ہے کہ ہم اسلام کے تعارف کا آغاز اسلام کی کس تعلیم سے کریں۔

میں نے کہا کہ اِس سوال کا جواب سیرتِ نبوی میں موجود ہے۔ آپ نے مکہ میں نبوت کا آغاز کیا تو آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کے پاس جاتے اور ان سے کہتے:يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ‌قُولُوا:‌لَا ‌إِلَهَ ‌إِلَّا ‌اللهُ ‌تُفْلِحُوا (مسند احمد، حدیث نمبر 16603)۔ یعنی، اے لوگو، لا الہ الا اللہ کہو کامیاب ہوجاؤگے۔ اِسی طرح قرآن کے جو حصے مکی دور میں ناز ل ہوئے تھے،آپ ان کو پڑھ کر لوگوں کو سناتے۔ چنانچہ سیرت کی کتابوں میں آپ کے بارے میں یہ آتا ہے کہ آپ لوگوں سے مل کراُن کو اسلام کی دعوت پیش کرتے اور ان کے سامنے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کر سناتے:عَرَضَ ‌عَلَيْهِمْ ‌الْإِسْلَامَ، وَتَلَا ‌عَلَيْهِمْ ‌الْقُرْآنَ( سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 428)۔

ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کی حیثیت کیا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار ایک ثانوی (secondary) چیز (اُخری) کی حیثیت رکھتا ہے (الصف، 61:13)۔ اسلام میں سیاسی اقتدار کو مطلوب اول کادرجہ حاصل نہیں۔

پروگرام کے بعد میں اپنے کمرے میں واپس آگیا۔ یہاں کئی علما اکٹھا ہوگئے اور دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اِس مجلس میں ایک بات میں نے یہ کہی کہ اسلام میں عقل کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ میں نے اِس سلسلے میں حاضرین کو ایک حدیث سنائی۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:مَا خَلَقَ اللهُ خَلْقًا أَكْرَمَ عَلَيْهِ مِنَ الْعَقْلِ (العقل و فضلہ لابن ابی الدنیا، حدیث نمبر 14)۔یعنی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کیں، اُن میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت کی حامل چیز عقل ہے۔ عجیب بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو غیر اہم قرار دے دیا اور ساری اہمیت عشق کو دے دی، یہاں تک کہ ایک معروف مسلم شاعر نے کہا :

عشق تمام مصطفی، عقل تمام بولہب

یہ بلاشبہ ایک فکری انحراف تھا۔ اِس غلطی کا سبب غالباً یہ تھا کہ بعد کے لوگوں نے عقل کو فلسفہ کی نسبت سے دیکھا۔ اگر وہ عقل کو سائنس کی نسبت سے دیکھتے تو وہ کبھی اِس غلطی میں مبتلا نہ ہوتے۔عقل ایک فطری صلاحیت کا نام ہے جو خدا کی ایک تخلیق ہے۔ اس کے مقابلے میں فلسفہ خود انسان کے اپنے بنائے ہوئے ایک علم کا نام ہے، جو صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی۔سائنس اور فلسفہ میں یہ فرق ہے کہ فلسفہ قیاسی منطق (sylogism) پر مبنی ہے، اور سائنس مکمل طورپر قوانین فطرت پر مبنی ہے۔ سائنس میں اگر کوئی غلطی ہوتی ہے تو وہ ناقص دریافت کی بنا پر ہوتی ہے، نہ کہ خود ساختہ قیاس کی بنا پر۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ قرآن کی آیت:اتَّخَذُوا أَحْبارَهُمْ وَرُهْبانَهُمْ أَرْباباً مِنْ دُونِ اللهِ (9:31) کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اِس آیت کی وضاحت ایک مشہور روایت سے ہوتی ہے۔ عدی بن حاتم الطائی) وفات68ھ(پہلے نصرانی تھے۔ وہ بعد کو اسلام میں داخل ہوگئے۔وہ مدینہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے ان کے سامنے یہ آیت پڑھی۔  تو انہوں نے کہا کہ یہود ونصاریٰ نے اپنے احبار ورہبان کو اپنا رب نہیں بنایا، انہوں نے کبھی اپنے احبار ورہبان کی عبادت نہیں کی (وَاللهِ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ) ،آپ نے فرمایا کہ ہاں، اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام کیا اور حرام کو حلال کیا اور انہوں نے اس کو مان لیا۔ یہود ونصاری کی یہی روش ان کے احبارورہبان کی عبادت کے ہم معنی تھی:فَتِلْكَ عِبَادَتُهُمْ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، حدیث نمبر 291؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر 3095)۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں رب کا لفظ آیا ہے۔ یہ اِس معاملے  میں برائی کی شدت کو بتانے کے لیے ہے۔ انہوں نے جو کیا تھا، وہ یہ تھا کہ خدا اور سول کے حوالے کے بجائے ، اپنے احبار ورہبان کا حوالہ دے کر کسی چیز کو ترک کرتے یا کسی چیز کو اختیار کرلیتے۔ حدیث میں تحلیلِ حرام اور تحریمِ حلال کا لفظ بھی اِسی معاملہ کی برائی کو بتانے کے لیے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کے لیے اپنے علما ومشائخ (احبار ورہبان) کو مستقل بالذات مرجع (reference) سمجھ لیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion