یہ بات بلا شبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ میں خود مدرسہ ہی کا ایک پروڈکٹ ہوں اور جانتا ہوں کہ ان مدرسوں کا کوئی تعلق اگر واد یاعلیحد گی پسندی سے نہیں۔ یہ مدرسے سادہ طور پر عربی زبان اور دین اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے دیوبندکے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے مگر یہ تعلیم سادہ طور پر دین کی تھی، نہ کہ جنگ جوئی کی۔
پنڈت جواہرلال نہرو اور دوسرے کئی نیشنل لیڈروں کی تعلیم لندن میں ہوئی۔ ہندستان واپس آنے کے بعد وہ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شریک ہو گئے۔ اب کیا یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ان لیڈروں کو لندن کے اسکولوں میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کی تعلیم دی گئی تھی۔
1947 سے پہلے جو لوگ آزادی کی تحریک میں شریک ہوئے اور ’’انگریزو بھارت چھوڑو‘‘ کانعرہ لگایاوہ تقریبا ًسب کے سب ہندستان کے ان انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوئے تھے جو برٹش دور میں قائم کیے گئے۔ ان کی بابت لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ان انگریزی اسکولوں کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ایسی نسل پیدا ہو جوپیدائش کے اعتبار سے ہندستانی ہو اور اپنی سوچ کے اعتبار سے انگریز۔ مگر انہیں انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر لوگ انگریز کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت انگریزی اسکولوں میں انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی کی تعلیم دی جاتی تھی۔
یہی معاملہ افغانیوں کاہے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے ہندستان کے دینی مدرسہ میں داخلہ لے کر یہاں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے وطن جا کر جب وہ وہاں کی عسکری تحریک میں شامل ہو گئے تو اس کاکوئی تعلق ہندستان کے دینی مدرسہ سے نہ تھا۔ جنگ جوئی کا سبق انہوں نے خود اپنے ملک سے لیا۔ اس کاکوئی تعلق ان کی بیرونی تعلیم سے نہیں۔
کچھ عرصہ پہلے یہاں کے مدرسہ میں حیدرآباد کاایک طالب علم تھا۔ وہ جوڈو کراٹے سیکھے ہوئے تھا۔ مدرسہ کے قریب ایک نہر ہے۔ وہ اکثراسی نہر پر جا یا کر تا تھا۔ ایک روز وہاں ایک ہندو لڑکا تھا۔ وہ مذکورہ طالب علم کے پاس کھڑا ہو کر بار بار نہر میں کو دتا تھا۔ اس کی وجہ سے طالب علم پر پانی کے چھینٹے آتے تھے۔ طالب علم نے منع کیا، وہ نہیں مانا تو طالب علم نے اس ہندو لڑ کے کو مار دیا۔ وہ روتا ہو اگھر گیا۔ اس کے بعد اس کی ماں آئی اور طالب علم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگی۔ طالب علم نے اس ہندو عورت پر جوڈو کراٹے کافن استعمال کیا۔
اس سے ہندو آبادی میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ وہ لوگ مدرسہ پر آئے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ یہ طالب علم کی غلطی ہے اور سب کے سامنے طالب علم سے معافی منگوائی۔ اس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔
تاہم ایسے سنگین معاملہ میں اتنی آسانی سے ہندوؤں کے ٹھنڈا پڑجانے کا ایک پس منظر بھی تھا۔ اس سے پہلے مدرسہ کے طلبہ نے ہندو آبادی پر اچھا اثرڈالا تھا۔ مدرسہ سے ملے ہوئے ان لوگوں کے کھیت ہیں۔ مگر طلبہ چونکہ مدرسہ کے تحت ڈسپلن میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ان ہندوکسانوں کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ ایک بار گاؤں میں آگ لگ گئی تو تمام طلبہ دوڑ کر وہاں گئے اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر آگ بجھائی۔ اس پیشگی اخلاقی اثر کی وجہ سے ہندوزیادہ مشتعل نہیں ہوئے۔
ان میں سے کچھ لوگوں نے خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ مدرسہ والے غلط لوگ نہیں ہیں۔ اس میں غلطی دونوں کی ہو گی۔
میں نے کہا کہ اس سنگین معاملہ کو فساد تک پہنچنے سے جن چیز نے روکا وہ ’’جوڈو کراٹے‘‘ کا فن نہیں تھا۔ بلکہ اخلاق اور حسن کردار تھا۔ ایک استاد کے الفاظ میں ایسا اس لیے ہوا کہ ’’ہم نے پہلے سے یہ ثابت کر رکھا تھا کہ ہم آپ کے ہمدرد ہیں۔ ہم آپ کے غم میں شریک ہیں‘‘۔
مولانا کبیر الدین صاحب اس علاقہ میں آئے تو پہلے وہ رائے پور میں مقیم ہوئے۔وہاں آرایس ایس کاایک آدمی تھا جس کانام سری نواس بنسل تھا۔ عام مسلمان اس سے نالاں تھے۔ مگر وہ مولانا کبیر الدین صاحب کامعتقد ہو گیا۔ حتیٰ کہ جب وہ مسر والا آگئے تو وہ ان سے ملنے کے لیے یہاں آنے لگا۔ وہ مولانا کے گھر کا کھانا نہیں کھا تا تھا بلکہ گاؤں میں جا کر کسی ہندو کے یہاں کھاتا۔ مگر مولانا کبیرالدین صاحب سے اس کے تعلقات بہت اچھے تھے۔
گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ سری نواس بنسل کے لیےمولانا کبیرالدین صاحب کی سادگی، اصول پسندی ، وقت کی پابندی اور کسی سے نفرت نہ کرنے کا مزاج باعث کشش ثابت ہوا۔
18نومبر کو ناشتہ کرتے ہوئے میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا “کوئی ہندو اپنے بچہ کو مدرسہ میں داخل کرنا چاہے تو آپ داخل کریں گے‘‘۔انہوں نے فوراً کہا کہ ہاں۔ پھر بولے،مگر دار الاقامہ میں نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کویہاں تنگی ہو گی۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر وہ تنگی کو برداشت کرے تو، انہوں نے کہا پھر تو کوئی ہرج نہیں۔ ہم اس کو دارالاقامہ میں بھی رکھ لیں گے۔
عام طور پر مدارس کایہ مزاج نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مدرسہ میں کوئی ہندو بچہ ہو گا تو وہ مدرسہ کے ماحول کو خراب کر ے گا۔ حالانکہ یہ بالکل بے بنیاد اندیشہ ہے۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں کے ماحول میں ایک غیر مسلم بچہ ہو تو وہ خود متاثر ہوگا نہ یہ کہ وہ دوسروں کو متاثر کرڈالے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ 1947 سے پہلے کے دور میں اسی ملک میں مسلم مدارس میں ہندو بچے بھی پڑھتے تھے، اور اس کا نتیجہ اسلام کے لیے بہتر صورت میں نکلتا تھا۔
1992 کے آخر میں فرقہ پرست عناصر نے یہ اعلان کیا کہ 6 دسمبر 1992 کو وہ بڑی تعداد میں ایودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد کو توڑ کروہاں رام مندر بنائیں گے۔اس کے بعد ملک میں جگہ جگہ تناؤ پیدا ہو گیا۔ اسی اثناء میں نومبر 1992 میں پونٹا صاحب (ہماچل پر دیش) کے پاس ایک گاؤ ں میں ایک اشتعال انگیز واقعہ ہوا۔ کچھ شرپسندوں نے ایک مسلمان کی زمین پر قبضہ کر کے رات کے وقت وہاں ایک مندر کی تعمیر شروع کردی۔
دیواریں کھڑی ہو چکی تھیں، ابھی چھت نہیں بنی تھی کہ وہاں مسلمان آگئے اور فرقہ وارانہ نزاع کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس کیس بن کر معاملہ عدالت میں پہو نچا۔عدالت نے تحقیقات کے بعد تعمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا اور حکم دیا کہ اس کو توڑ کر اس کی سابقہ حالت بحال کردی جائے۔
اس کے بعد گاؤں میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں پولیس افسر، مقامی ہندو، علاقہ کے ایم ایل اے فتح سنگھ (بی جے پی) وغیرہ شامل تھے۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری بھی اس میٹنگ میں علا قہ کے عالم کی حیثیت سے موجود تھے۔ لوگ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ رہے تھے۔ کیوں کہ پولیس اگر مندر کو گرادے تب بھی اندیشہ تھا کہ نفرت اور کشیدگی بڑھے گی اور نئے مسائل کھڑے ہوجائیں گے جس کو روکنے کے لیے کوئی عدالت یاپولیس یہاں موجود نہ ہو گی۔
اس وقت مولانا کبیرالدین مظاہری نے جرأت مندانہ اخلاق کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر ایک شبھ کام اشبھ انداز میں ہوا ہے۔ مگر اب چونکہ یہاں مندر کی ایک صورت کھڑی ہوگئی ہے تو لوگ اس کو مندر کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اگر اس کو توڑا جاتا ہے تو عوام میں یہ شور ہوگا کہ گاؤں کا ایک مندر توڑ دیا گیا۔ اس سے دونوں فرقوں میں نفرتیں پیدا ہو ں گی اور مسئلہ پھر بھی نئی صورت میں باقی رہے گا۔ اس لیے اب ایسا کیا جائے کہ ہندولوگ اپنا مندر تو وہیں پورا کرلیں۔ البتہ اس کے بجائے مالک زمین کو ایک اور جگہ اس کے معاوضہ میں دے دی جائے۔
اس پر سب لوگ متفق ہو گئے۔ مسلمان مالک کو دوسری زیادہ بہتر زمین اس کے معاوضہ میں دے دی گئی۔ مندروہیں قائم رہا۔ مگر اس فیصلہ کازبردست فائدہ یہ ہوا کہ مذکورہ ہندوؤں کے سر شرم سے جھک گئے۔ اور مسلمانوں کو مستقل طور پر اخلاقی برتری حاصل ہو گئی۔
میں اپنے سرپر سفید پگڑی باندھتا ہوں۔ اس کے اندر ٹوپی نہیں ہوتی۔ ایک بزرگ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ آپ کا عمامہ سنت کے مطابق نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ اس طرح عمامہ باندھتے تھے کہ اس کے اندر ٹوپی ہوتی تھی اور آپ کے عمامہ کے نیچے ٹوپی نہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ سنت اجمالی مطلوب ہو تی ہے ،نہ کہ سنت کلی۔ اور یہ عین فطرت کاتقاضا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اگر کامل پیروی کو ضروری قرار دیاجائے تو جو لوگ ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھتے ہیں ان کامعاملہ بھی مسنون عمامہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عمامہ کا کپڑا ہاتھ کابنا ہوا ہو تا تھا ، جب کہ آج کل کے لوگوں کی ٹوپی اور عمامہ دونوں مل کے کپڑے سے تیار کیے جاتے ہیں۔
مدرسہ کے ایک استاذ مولانا انصار الحق مظاہری نے بتایا کہ جب وہ چودہ سال کے طالب علم تھے، مدرسہ کی رسید لے کر وہ چندہ وصول کرنے گئے۔ ایک حکیم صاحب کے یہاں پہو نچے جو باقاعدہ عالم بھی تھے۔ انہوں نے بہت سخت انداز ختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی مدرسہ والے کو چندہ نہیں دیتا۔ انصارالحق صاحب نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ نے تجربہ کیا ہے یاقیاسی طور پر ایسا کہہ رہے ہیں۔ حکیم صاحب نے اقرار کیا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی ذاتی تجربہ نہیں کیا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے اپنی الماری سے الجاحظ کی کتاب ’’الحیوان‘‘ نکالی۔ یہ غیر معرب تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو آپ نے دیکھا ہے۔ انصاری الحق صاحب جو اس وقت کم عمر تھے، انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیوں کہا کہ دیکھا ہے۔ آپ کو یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا اس کو پڑھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اچھا بتائیے، کیا آپ نے اس کو پڑھا ہے۔ انصار الحق صاحب نے کہا کہ میں نے اس کو پانچ بار پڑھا ہے۔ اور پھر اس غیر معرب نسخہ کو روانی کے ساتھ پڑھ کر سنا نے لگے۔
اس طرح کے کتنے ذہین نوجوان ہمارے مدارس سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ مگر دور جدید کی زبان نہ جاننے کی وجہ سے وہ سماج میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔ یہ لوگ اگر دینی تعلیم کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھ لیں تو ان کی صلاحیتیں قوم کے لیے کئی گنا زیادہ مفید بن جائیں گی۔
موجودہ زمانہ میں اسلام کی ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے درمیان بڑی تعداد میں ایسے اہل علم ہوں جو بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں اسلام کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر ایسے افراد اتنے کم ہیں کہ وہ الشاذکا لمعدوم (that which is rare is treated as non-existent)کے درجہ میں رکھے جانے کے قابل ہیں۔
میں نے مدرسہ قادریہ کے ذمہ داروں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ اپنے موجودہ نصاب کو چلاتے ہوئے ایک نئے کلاس کااضافہ کریں۔ اس کو آپ لینگویج کلاس یا لینگویج کورس کہہ سکتے ہیں۔ اس میں صرف فارغ التحصیل افراد کو لیا جائے۔ عربی مدارس کے فارغین کو انگریزی زبان پڑھائی جائے اور انگریزی ادارہ کے تعلیم یافتہ افراد کو عربی زبان سکھائی جائے۔ فی الحال اس کی تعداد صرف دس ہو۔ پانچ عربی داں اور پانچ انگریزی داں۔ ان کو پڑھانے کے لیے دو معلم مقرر کیے جائیں۔ ایک عربی معلم اور ایک انگریزی معلم۔ مدرسہ کے ذمہ داروں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ مزید تعاون کے بغیر شاید مدرسہ اس کام کو بحسن وخوبی انجام نہ دے سکے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آخر کیا بات ہے کہ غیر مسلموں میں آپ کی بہت پذیرائی ہورہی ہے، ہندوؤں اور عیسائیوں کے جلسوں میں خطاب کرنے کے لیے آپ بار بار بلائے جاتے ہیں، دورجدید میں یہ پہلا واقعہ ہے جو کسی مسلمان عالم کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ آپ کے سواکسی اور عالم کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔
میں نے کہا کہ یہ صرف اسلوب کے فرق کامعاملہ ہے، اصل یہ ہے کہ دوسرے عالم اور رہنما اسلام کو دفاعی نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ جب کہ میں اسلام کو دعوتی اعتبار سے پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے دوسری قوموں کو اسلام کادشمن سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کی تقریروں میں مناظرانہ اور حریفانہ رنگ آگیا۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں کسی کو بھی اسلام کادشمن نہیں سمجھتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام دین فطرت ہے اس بنا پر اسلام ہر انسان کااپنا مطلوب دین ہے۔
میری اس سوچ کی بنا پر میری تقریر میں مذمت کے بجائے محبت ہوتی ہے۔ اس میں اظہار فخر نہیں ہوتا۔ اس میں مناظر ہ بازی نہیں ہوتی۔ وہ فطرت کو جگا تی ہے اور ان کے سامنے خدا کے دین کا مثبت تعارف پیش کرتی ہے۔ میں ہندویاعیسائی کے مقابلہ میں مسلمان کاکیس پیش نہیں کرتا۔ بلکہ سب کو خدا کا بندہ مان کران کے سامنے خدا کی بات پیش کرتا ہوں۔ اسلوب کایہی فرق ہے جس نے ان کی نظر میں میری بات کو پسند یدہ بنا دیاہے۔
ہماچل پر دیش کے مختلف حصوں کا سفر کرتے ہوئے میں نے پایا کہ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ نفرت اور تعصب نہیں ہے جو دہلی اور یوپی کے لوگوں میں پایا جا تا ہے۔ دونوں خطوں میں اس اعتبار سے واضح فرق ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ غالباًیہ ہے کہ دہلی اور یوپی کاعلاقہ عرصہ دراز تک سیاسی لوگوں کامرکز رہا ہے اور آج بھی ہے۔ اس طرح اس علاقہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشید گی کاماحول قائم ہو گیا۔اس کے برعکس، ہماچل پر دیش کاعلاقہ کبھی بھی اس قسم کی فرقہ وارانہ سیاست کامرکز نہیں رہا۔اس فرق نے دونوں خطوں کے درمیان فرق پیدا کردیا ہے، جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔
انسانی سرگرمیوں کو اگر دوقسم میں بانٹا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سیاسی سرگرمیاں باہمی نفرت پیدا کرتی ہیں اور تعمیر ی سرگرمیاں باہمی محبت۔
مدرسہ میں ایک مسلمان بڑھئی کام کررہے تھے ان کانام محمد حنیف ہے۔ اس وقت یہاں مسجد میں ماربل لگانے کاکام بھی ہور ہا تھا۔ مذکورہ بڑھئی نے کئی روزماربل کے مستریوں کو دیکھا۔ انہیں ان کاکام اچھا نہیں لگا۔ اگر چہ خود انہوں نے کبھی ماربل کاکام نہیں کیا تھا۔ اور نہ اس کو کہیں سیکھا تھا۔ تاہم اپنے اندرونی جذبہ کے تحت انہوں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ ماربل لگانے کاکام آپ مجھے دے دیں، میں اس کو کروں گا۔ چنانچہ یہ کام انہیں دے دیا گیا۔ اس کے بعدانہوں نے ماربل لگا نے کاکام شروع کیا اور مستریوں سے کہیں زیادہ اچھا لگایا۔ میں نے بعد میں چاروں طرف دیکھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ کام کسی ماہر کا ریگر نے کیا ہے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ ایک نئے آدمی نے انجام دیا ہے۔
مسلمان آج کل ہر جگہ کاریگری کے کام میں آگے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ تعلیمی پسماندگی نے ان کے اندر نیا جوش پیدا کیا۔ وہ سرگرمی کے ساتھ کاریگری کے کام میں لگ گئے جس میں تعلیم کی ضرورت نہ تھی۔ یہ قدرت کانظام ہے۔ آدمی اگر ایک میدان میں ناکام رہے، تو وہ دوسرے میدان میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔
18 نومبر کی سہ پہر کو مسروالا سے ناہن کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں مولانا کبیر الدین صاحب نے ایک بڑے کام کی بات کہی، انہوں نے کہا کہ ’’ اگر ہمیں دین کاکام کرنا ہے تو ہم کو اسٹیج اور مظاہرہ کا طریقہ چھوڑنا ہوگا‘‘۔
مغرب کی نماز ہم لوگوں نے ناہن میں پڑھی۔ یہاں چار مسجد یں ہیں۔ مسجد کچا تالاب بس اسٹینڈ کے بالکل قریب ہے اور کافی آباد ہے۔ اس مسجد میں نماز مغرب کے بعد جلسہ کاپروگرام رکھا گیا تھا۔
جلسہ سے پہلے کچھ دیر ہم لوگ امام صاحب قاری حسین احمد کے کمرہ میں بیٹھے۔ یہاں صدر انجمن جناب شیخ نثار احمد ایڈوکیٹ بھی آگئے۔ وہ میرے مضامین پڑھتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی وہی ہے جو آپ بتاتے ہیں۔ یعنی ٹکراؤ سے نہیں بلکہ پیار سے۔
یہ علاقہ ریاست سرمور میں شامل تھا۔ 1947 میں یہاں کے راجہ راجندر پر کاش تھے۔ تمام مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ 1947 میں جب ہر طرف فساد پھیل گیا تو راجہ راجندر پر کاش نے مسلمانوں کی حفاظت کیےلیے اپنی فوج لگادی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایک مسلمان بھی یہاں سے چھوڑ کر جائے۔
ڈاکٹر حشمت علی صاحب بھی کمرہ میں آگئے۔ وہ یہاں مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھانے کے لیے کافی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ ناہن میں دینی کام سب کا سب مقامی چندہ سے ہوتا رہا ہے۔ یہاں کاآدمی کبھی بھی باہر چندہ مانگنے کے لیے نہیں گیا۔
حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا’’:ناہن کے مسلمانوں میں جو اجتماعیت ہے وہ بہت کم کسی شہر میں دکھائی دے گی‘‘۔
18 نومبر کی شام کو مغرب اور عشاء کے درمیان تقریر کاپروگرام تھا۔ یہ پروگرام مسجد کے اندر رکھا گیا تھا۔ زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ لیکن شہر کے معروف ہندو بھی قابل لحاظ تعداد میں موجود تھے۔ مہاراجہ سرمور کی بہو انجناسنگھ بھی شریک تھیں۔ مسٹر آرایس ورما (سپرنٹنڈنگ انجینئر) اور دوسرے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو آئے۔ سب نے کہا کہ ہم آپ کے آرٹیکل اخباروں میں پڑھتے تھے۔ اور ہم کو آپ کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔
ناہن سے رات ہی کو ہم لوگ مسروالا کے مدرسہ میں واپس آگئے۔ یہ مدرسہ بستی سے کچھ باہر واقع ہے۔ 19 نومبر کو میں نے مدرسہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ نماز کے فوراً بعد بستی کے ایک صاحب ملے۔ انہوں نے بستی آکر یہاں کی مسجد میں فجر کی نمازپڑھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بستی میں لوگ منتظر ہیں کہ آپ وہاں چل کر انہیں کچھ دین کی باتیں بتائیں۔ فجر کی نماز مدرسہ میں اول وقت غلس (the dim light of early dawn) میں ہوتی ہے۔ اور بستی کی مسجد میں دیر کے بعد اسفار (صبح کا اجالا نمایاں ہونے کے بعد)میں۔ اس طرح ہم لوگوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ مدرسہ میں نماز ادا کرنے کے بعد وقت پر بستی کی نماز میں پہنچ سکیں۔
نماز کے بعد مستری یوسف صاحب کے اصرار پر ان کے گھر پر صبح کی چائے پی گئی۔ یہاں بستی کے کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ ان سے مختصر گفتگو ہوئی۔ واپسی کے بعد صبح 9 بجے میری قیام گاہ پر مدرسہ کے اساتذہ اور کچھ دوسرے افراداکٹھا ہو ئے۔ ان کے سامنے علم دین کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اس سلسلہ میں میں نے مختلف علمی واقعات ماضی اور حال کے سنائے۔ جس میں ہر ایک کے لیے سبق تھا۔
مدرسہ قادریہ اور اطراف کی مسجد وں کی تعمیر میں خاص طور پر جناب حاجی موسیٰ بٹلہ صاحب اور جناب ایف ڈی ریاض الدین وغیرہ کا خصوصی حصہ رہا ہے۔ اس علاقہ کی مسجدیں اور مدرسے ایک زندہ علامت کے طور پر بتا رہے ہیں کہ اہل مال کھلے دل کے ساتھ اہل دین کا تعاون کررہے ہیں۔ اہل مال اور اہل دین کا یہ اشتراک بلا شبہ ملت کا قیمتی سرمایہ ہے۔
مہمان خانہ کے جس کمرہ میں یہاں میں ٹھہراتھا، اس کے اندر ایک بڑی الماری تھی جس میں بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ انہیں میں سے ایک کتاب مصنف ابن ابی شیبہ (م235ھ) کا مکمل سٹ تھا جو 1986 میں کراچی سے تصحیح کے بعد شائع کیا گیا ہے۔
اس کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ اس میں زیادہ تر احکام ومسائل والی روایات ہیں۔ الجزء العاشر میں فضائل القرآن کے باب میں ایک روایت میں بتایا گیا تھا کہ صحابہ وتا بعین کے زمانہ میں یہ کہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا قَرَأْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ (حدیث نمبر 30092) میں یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر کے ایک شاگرد، حیہ بن سلمہ سے کہا کہ میں نے پورے قرآن کو پڑھ لیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے اس میں سے حاصل کیا)قَالَ رَجُلٌ لِحَيَّةَ بْنِ سَلَمَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ:قَرَأْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ:قَالَ:وَمَا أَدْرَكْتَ مِنْهُ؟(۔
دورِاول میں لوگوں کی توجہ اس پر ہوتی تھی کہ انہوں نے قرآن کے کسی حصہ کو پڑھا تو اس سے کیا حاصل کیا۔ اب ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ انہوں نے قرآن کو کتنی بار ختم کیا۔ پہلے قرآن کے معنوی پہلو پر زور دیا جاتا تھا، اب اس کے الفاظ ہی کوکافی سمجھ لیا گیا ہے۔ دورِ اول کے مقابلہ میں موجودہ دور میں جو فرق ہے وہ اصل میں یہی ہے۔
19 نومبر کو مسروالا سے سہارن پور کے لیے روانگی ہوئی۔ مولانا انصارالحق مظاہری یہاں کے ایک لائق استاذ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے پہلے ہمارے اکا برنے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ہندستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہاں اسلامی شعائر کی بے حرمتی ہورہی ہے۔ مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ 1947 کے بعد جو دور آیا اس میں شعائر کی بے حرمتی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی اور مذہبی آزادی میں پہلے سے زیادہ رخنے ڈالے جانے لگے۔ مگر اب ہمارے علما اس ملک کے دار لحرب ہونے کا فتویٰ نہیں دے رہے ہیں۔ آخریہ تضادکیوں؟
یہ سوال قابل غور ہے۔ اگر 1947 سے پہلے کانپور کی مسجد کاصرف غسل خانہ توڑے جانے سے ہند وستان دارالحرب بن سکتا تھاتو آج وہ شدید ترمعنوں میں درالحرب قرار پائے گا۔کیوں کہ آج پوری مسجد توڑ کر اس کو مٹادیا گیا ہے۔
اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ 1947 سے پہلے ہندستان کو دارالحرب قرار دینے کاجو فتویٰ دیا گیاوہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک سیاسی فتوی ٰتھا، نہ کہ کوئی دینی فتویٰ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ثنائیت(dichotomy) بجائے خود درست نہیں۔ اس فقہی تقسیم کے مطابق، جو ملک دارالاسلام نہ ہو وہ دارالحرب قرار پاتا ہے۔ حالانکہ ’’دار‘‘ کی اور بھی قسمیں ہو سکتی ہیں— دارالد عوۃ اور دار الامن، وغیرہ۔
میرے نزدیک ہندستان نہ 1947 سے پہلے دارالحرب تھا اور نہ وہ 1947 کے بعد دارالحرب ہے۔ اس قسم کی دو گونہ تقسیم قرآن وحدیث میں موجود نہیں۔ وہ عباسی دور کے بعض فقہاء نے زمانی حالات کی بنا ء پر بنائی تھی۔ اس تقسیم کو شریعت کی طرح ابدی قرار دینا ہر گز درست نہیں۔
شام کو ہم لوگ رائے پور پہنچے۔ یہاں کچھ دیر مدرسہ فیض ہدایت رحیمی میں ٹھہرے۔ عصر کی نماز بھی اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ مدرسہ کے مہمان خانہ میں اساتذہ جمع ہو گئے۔ان کے سامنے بعض موضو عات پر اظہار خیال کیا گیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ مدارسکے لیے آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مدارس خدا کے فضل سے بہت اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملت کے خیمہ کے لیے کھونٹے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
آج کل مدارس کے خلاف جو بدگمانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کو دور کرنے کا حل نہ احتجاج ہے اور نہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر مطالبات کامیمو رنڈم پیش کرنا۔ اس کاحل یہ ہے کہ ہم خود کوشش کر کے لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اس کا سب سے طاقتور ذریعہ یہ ہے کہ مدارس قرآن کی آیت:وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (13:17)کا مصداق بنیں، یعنی، جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو نفع بخش بنائیں اور اس طرح اپنے لیے ایک نئی زندگی کا استحقاق ثابت کریں۔
ظہر کی نماز کسی قدر تاخیر کے ساتھ بادشاہی باغ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ میں نے سوچا کہ سڑک کے کنارے مسجد وں کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہاں مسلمان وقفہ وقفہ سے کچھ وقت کے لیے ٹھہرتے ہیں۔ وہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ سفر کے دوران بار بار وہ ان مسجدوں میں لمحاتی قیام کرکے خدا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے سفر دنیا کو سفر آخرت کاایک حصہ بنالیتے ہیں۔
اس کے بعد ہماری گاڑی ایک مقام پر مڑی۔ اب وہ رائے پور جارہی تھی۔ پانچ کلو میٹر کا یہ راستہ اس طرح طے ہوا کہ سڑک کے کنارے بہتی ہوئی نہر، اور پھر دونوں طرف دور تک سر سبز مناظر۔ اس کو دیکھ کر میرے سینہ میں شکر کا بے پناہ جذبہ ابھر آیا۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا میں مومن کی سب سے بڑی کمائی یہ ہے کہ وہ شکر خداوندی کا رزق پا سکے۔ دنیا کے کسی خطہ ارض میں جب تک مومن کو شکر الٰہی کارزق مل رہا ہے وہ محروم نہیں ہے۔ وہ عظیم سرمایہ کامالک ہے۔ اس نعمت کے ملتے ہوئے دوسری چیزوں سے محرومی پر واویلا کرنا۔ ایک قسم کی ناشکری ہے جو مومن کے لیے جائز نہیں۔
سہارن پور میں ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک مسجد ہے۔ یہاں مغرب کی نماز پڑھی گئی۔ نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو میرے ساتھی مسجد میں نظرنہیں آئے۔ میں حیران تھا کہ وہ لوگ کہاں چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد ایک ساتھی آئے۔ ان سے اصل بات معلوم ہوئی۔
سہارن پور سے مجھے شتابدی اکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لیے روانہ ہونا تھا۔ سفر سے واپسی کے بعد نظام الدین کی کالی مسجد میں نماز کے لیے گیاتو یہاں ایک پوری تاریخ یاد آگئی۔ یہ مسجد جس کوکالی مسجد یا کلاں مسجد کہا جاتا ہے، آج ایک وسیع اور شاندار مسجد دکھائی دیتی ہے۔ مگر 1947 میں یہ ایک کھنڈر کی صورت میں تھی جس پر کچھ لوگوں نے قبضہ کرلیا تھا۔ میوات کے حافظ عبدالغفور صاحب نے اس کو دوبارہ آباد کرنے کی خاموش کو شش شروع کر دی۔ لمبی جدوجہد کے بعد یہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کومل گئی۔ اس کے بعد حافظ عبدالغفور صاحب کے بھانجے مولانا محمد ہارون صاحب کی مسلسل کوشش کامزید نتیجہ یہ ہوا کہ آج یہ مسجد اس علاقہ کی سب سے زیادہ شاندار مسجد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حافظ عبدالغفور صاحب 72 سال کی عمر میں دسمبر 1992 میں وفات پاگئے۔
حافظ عبدالغفور صاحب بظاہر ایک غیر معروف شخص تھے مگر انہوں نے معروف شخصیتوں سے زیادہ بڑا کام کیا۔ ان کی شروع سے یہ کوشش رہی کہ غیر آبادمسجد یں آباد ہوں اور مدارس کاقیام زیادہ سے زیادہ عمل میں آئے۔ انہوں نے اپنی لگن اور جدوجہد سے 22 غیر آباد مسجد یں آباد کرائیں، اور 15 مدرسے قائم کیے۔ دہلی میں جو مسجد یں انہوں نے آباد کرائیں ان میں سے چند یہ ہیں:فیروز شاہی جامع مسجد، بستی نظام الدین۔ جامع مسجد ڈیفنس کالونی، جامع مسجد خیر المنازل بالمقابل چڑیا گھر، مسجد پنج پیراں وغیرہ۔ اسی طرح مدرسہ زینت القرآن حوض رانی، مدرسہ اشاعت الاسلام (واقع فیروز شاہی جامع مسجد )، مدرسہ تعلیم القرآن جامع مسجد ڈیفنس کالونی، وغیرہ۔
حافظ صاحب نے جب بھی کوئی مسجد آباد کی یا کوئی مدرسہ قائم کیا تو ان مقامات پر اپنا قبضہ جمانے کے بجائے لائق شخصیات کو وہاں متعین کرکے ان کو ان کے حوالے کر دیا، مثلاً خیر المنازل میں مولانا الیاس امینی کو امام متعین کیا۔ اسی طرح ڈیفنس کالونی کی جامع مسجد میں مولانا محمد عیسیٰ کو امام مقرر کیا۔ وہ مدرسہ تعلیم القرآن کے مہتمم اور ناظم بھی ہیں۔ مولانا عیسیٰ نے اپنی محنت سے اس مسجد اور مدرسہ کوکافی وسیع کرلیا ہے۔ وہاں آج ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز جمعہ وعیدین ادا کرتے ہیں۔ کلاں مسجد بستی نظام الدین میں اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو مقرر کیا۔ حافظ عبدالغفور صاحب اپنے بھتیجے مولانا محمد ہارون کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے اور اس طرح ان کی تربیت کرتے رہتے۔ ابتداء سے ہی کلاں مسجد بستی نظام الدین کانظم وضبط مولانا ہارون کے ذمہ رکھا۔ مولانا ہارون صاحب کاکام گو یا کہ حافظ صاحب کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔ مولانا ہارون آج بھی کلاں مسجد کی تعمیر وتوسیع کے سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مسجد کے اندر حافظ صاحب کاقائم کیا ہوا مدرسہ اشاعت الا سلام بھی ترقی کررہا ہے۔ اس میں بیرونی طلبہ کے قیام وطعام کامعقول انتظام ہے۔ دوسری جگہوں کی نگرانی بھی حافظ صاحب نے انہیں کے سپرد کی۔ تمام مقدمات کی پیروی بھی مولانا ہارون صاحب ہی کرتے رہے۔ مولانا ہارون صاحب کو آخر وقت تک حافط صاحب کی یہی تاکید تھی کہ مسجد کو کبھی سیاسی اکھاڑہ نہ بننے دینا۔
حافظ صاحب کی عمر کا ایک طویل عرصہ آثار قدیمہ، ڈی ڈی اے، کارپوریشن، تیس ہزاری کورٹ، دہلی وقف بورڈ اور جمعیۃ علما کے چکر کاٹنے میں گزرا۔ کیوں کہ انہوں نے پرامن اور قانونی ذرائع سے یہ کامیابی حاصل کی اور ایک تعمیری جدوجہد کی تاریخ چھوڑی۔
1947 کے بعد مسلمانوں میں بہت سے مثبت کام ہوئے ہیں۔ یہ تمام کام زیادہ تر انہیں لوگوں نے کیے ہیں، جنہوں نے مسجد اور مدرسہ کو اپنے عمل کامیدان بنایا ور خاموش اور پرامن انداز کو اپنی جدوجہد کے لیے اختیار کیا۔ اس کے بر عکس، معاملہ ان لوگوں کاہے جنہوں نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کوعام طور پر سیاسی طریقہ کہا جاتا ہے، ایسے لوگوں نے ملت کو صرف نقصان پہنچایا، وہ ملت کو کوئی بھی مثبت تحفہ نہ دے سکے۔
حافظ عبدالغفور صاحب جیسے بہت سے خاموش دینی خادم ملک میں موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسجد اور مدرسے کی راہ سے کام کرنے کا طریقہ ہی صحیح اور نتیجہ خیز طریقہ ہے، سیاسی ہنگامہ آرائی صرف شخصی لیڈری ہے، نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی ملی اور دینی کام۔
(الر سالہ مئی 1999)
