ایک تجربہ
1966کی بات ہے۔ اس وقت میں ندوہ (لکھنؤ) میں تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ پولیس کی گاڑی ندوہ کے احاطہ میں آکررُ کی۔ اس میں سے کئی پولیس کے لوگ برآمد ہوئے۔ ان کو ندوہ کے ذمہ داروں نے ٹیلی فون کر کے بلایا تھا تاکہ وہ ان کے ایک سنگین مسئلہ کو حل کریں۔
مسئلہ یہ تھا کہ ندوہ اور لکھنؤ یو نیورسٹی دونوں بالکل پاس پاس ہیں ۔ یونیورسٹی کا ایک ہاسٹل ندوہ کی دیوار سے ملا ہوا ہے۔ اس ہاسٹل کے لڑکے جو سب کے سب غیر مسلم تھے ندوہ والوں کو مسلسل پریشان کر رہے تھے۔ وہ گالی دیتے، پتھر پھینکتے، مذاق اُڑاتے اور طرح طرح کی نازیبا حرکتیں کرتے۔ ان کا مقصد غالباً یہ تھا کہ ندوہ کے لوگ مشتعل ہو کر کوئی جارحانہ کارروائی کریں اور پھر یونیورسٹی کے لڑکوں کو ندوہ کے خلاف بھر پور فساد کرنے کا بہانہ ہاتھ آجائے۔
یہ مسئلہ برسوں سے جاری تھا۔ ندوہ والوں نے پریشان ہو کر پولیس بلائی اور ان سے فریاد کی۔ پولیس والے حسب دستور رسمی کارروائی کر کے واپس چلے گئے۔ اور اصل مسئلہ بدستور اپنی جگہ باقی رہا۔
یہ مسئلہ اسی طرح چلتا رہا یہاں تک کہ 1974 میں ندوہ کے ذمہ داروں کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ یہ مسئلہ نہ پولیس کے ذریعہ حل ہو سکتا ہے اور نہ براہ راست ٹکراؤ کے ذریعہ اسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو تالیف قلب کے اسلامی اصول کو استعمال کر کے حل کیا جائے۔ اس فیصلہ کے تحت مولانا علی میاں کے رفیق خاص مولانا اسحاق جلیس ندوی مرحوم اس کے ذمہ دار بنائے گئے۔
منصوبہ کے مطابق مولانا اسحاق جلیس ندوی نے پہلے یہ پتہ لگایا کہ ہاسٹل کے لڑکوں میں لیڈر کون کون ہے۔ انہوں نے ان لیڈروں سے ملاقات کی۔ ان کو ندوہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ چائے پر بلایا گیا۔ ندوہ والوں نے ان ’’ظالم ‘‘ لڑکوں سے ان کے ظلم اور بد تمیزی کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا۔ ان سے ساری ملاقات اور گفتگو اس طرح کی گئی جیسے کہ ندوہ والوں کو ان سے کوئی شکایت ہی نہیں ۔ پوری مدت میں ندوہ کے لوگ ان سے اس طرح معتدل انداز میں ملتے رہے جیسے کہ ان کی طرف سے ظلم و زیادتی کا کوئی واقعہ سرے سے پیش ہی نہیں آیا۔
ان گفتگوؤں اور ملاقا توں کے نتیجہ میں، عین پیشگی منصوبہ کے مطابق، یہ ہوا کہ ندوہ کی ٹیم اور یونیورسٹی کی ٹیم کے درمیان ہاکی میچ رکھا گیا۔ ندوہ کے لڑکے ہاکی کھیلنے میں مشہور ہیں ۔ مگر انھیں پیشگی طور پر یہ سمجھا دیا گیا کہ تمہیں اس میچ میں جیتنا نہیں ہے۔ تم کو جان بوجھ کر خراب کھیل کھیلنا ہے تا کہ تم ہار جاؤ۔ منصوبہ یہ تھا کہ جان بوجھ کر یونیورسٹی کے لڑکوں کو کھیل میں جتایا جائے اور پھر انھیں ہیرو بنا کر ان کے دل کو جیتنےکی کوشش کی جائے۔
مقررہ تاریخ کو دونوں کے درمیان ہاکی میچ ہوا۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق ندوہ کے نوجوان خراب کھیل کھیلے اور یونیورسٹی کے لڑکوں کو بالقصد یہ موقع دیا کہ وہ بہتر کھیل کھیل کر میچ جیتیں ۔ چنانچہ یہی ہوا۔ یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ کے طلبہ کے مقابلہ میں ’’شاندار طور پر‘‘ کامیاب ہو گئے۔ اب طے شدہ منصوبہ کے مطابق یونیورسٹی کے لڑکوں کو خوب اچھالا گیا۔ مختلف طریقوں سے ان کی تالیف قلب کی گئی۔ ان کو دل کھول کر انعامات دیے گئے۔ ان کا ہیروانہ استقبال کیا گیا، وغیرہ۔
یونیورسٹی کے طلبہ ندوہ والوں کے مقابلہ میں اپنی بڑائی چاہتے تھے اور ندوہ والوں نے یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو جھکا کر ان کی بڑائی کا اعتراف کر لیا۔ ندوہ کے لوگوں نے اپنے مذکورہ عمل سے یونیورسٹی کے طلبہ کے جذبات برتری کو پوری طرح تسکین دے دی۔ اب مسئلہ اپنے آپ حل تھا۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے اس کے بعد پھر کبھی ندوہ والوں کو پریشان نہیں کیا۔
یہ ایک عظیم الشان مثال ہے جو یہ بتاتی ہے کہ ہندستان کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کا حل کیا ہے۔ وہ حل یہ ہے کہ مسلمان یک طرفه اقدام کے ذریعہ ہندو مسلم تناؤ کو ختم کر دیں ۔ وہ خود ’’چھوٹے بھائی‘‘ بن کر فریق ثانی کو ’’بڑے بھائی‘‘ کا درجہ دینے پر راضی ہو جائیں، اور اس کے بعد ان کے تمام مسئلے یقینی طور پر حل ہو جائیں گے۔
ندوہ کا مذکورہ واقعہ مزید اس جھوٹے اندیشہ کو غلط ثابت کرتا ہے کہ اگر ہم جھکیں گے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو جائیں گے۔ مذکورہ واقعہ میں ندوہ والوں نے واضح طور پر یک طرفہ جھکاؤ کا طریقہ اختیار کیا۔ اس کے نتیجہ میں بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ لکھنؤ یو نیورسٹی کے غیر مسلم طلبہ کی ہمتیں اور زیادہ بڑھ جائیں ۔ وہ پہلے سے زیادہ جری ہو کر ندوہ والوں کو ستانے لگیں ۔ ندوہ والوں کا نرم رویہ ان کو اور زیا دہ سخت رویہ والا بنا دے۔ مگر ایسا قطعاً نہیں ہوا ۔بلکہ ندوہ والوں کے جھکاؤ نے انھیں بھی جھکا دیا۔ ایک فریق کی نرمی دوسرے فریق کو نرم کرنے کا سبب بن گئی۔ جو مسئلہ دس سال سے نا قابل حل بنا ہوا تھا، وہ ایک دن کے اندر لڑے بھڑے بغیر حل ہو گیا۔ 1974 کے بعد وہ دوبارہ کبھی پیش نہیں آیا۔
ندوہ کے اس چھوٹے سے واقعہ میں اس عظیم تر مسئلہ کے بارے میں رہنمائی موجود ہے جس کو عام طور پرملی مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ عملی تجربہ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ملک کے فرقہ وارانہ جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ندوہ والوں نے اپنے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اپنے محدود دائرہ میں جو تدبیر کی وہی تدبیر وسیع تر دائرہ میں ملت کے مسائل کا بھی واحد یقینی حل ہے۔ اگر مسلمان اس دانش مندی کا ثبوت دیں، جس کا ثبوت ندوہ والوں نے دیا تو یقینی طور پر ان کے تمام جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔ اور پھر مسلمانوں کو موقع مل جائے گا کہ وہ امن اور یکسوئی کے ماحول میں اپنی تعمیر و ترقی کا کام کر سکیں ۔ اس کے بعد وہ تعمیر کے کام کے لیے بھی مواقع پالیں گے اور اسلام کے تعارف کے لیے بھی۔ (الرسالہ، جون 1986)
امام کبھی جھوٹ نہیں بولتا
میرٹھ میں ایک عربی مدرسہ امداد الاسلام کے نام سے ہے۔ اس کے شیخ الحدیث مولانا شکیل احمد قاسمی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنا قصہ بتایا جو جنوری1965میں پیش آیا۔ راشن کے دکاندار نے بتایا کہ آپ اپنےراشن کارڈ کو ویریفائی کرالیں۔ ورنہ آئندہ اس پر راشن نہیں ملے گا۔ انہوں نے اپنا راشن کارڈ دفتر میں داخل کردیا۔ انسپکٹر جانچ کے لیے مولانا کے گھر آیا تو اتفاق سے وہ موجود نہ تھے۔ چنانچہ ویریفیکیشن نہ ہوسکا۔ مولانا دوبارہ دفتر میں گئے۔ وہاں وہ ایک مسلمان انسپکٹر مسٹر خورشید احمد سے ملے۔ خورشید صاحب نے کہا کہ اب تو یہی کیا جاسکتا ہے کہ آپ دوبارہ درخواست دیدیں۔ انکوائری کے لیے تو آدمی جائے گا۔ ویریفیکیشن کے بغیر تو آپ کا کارڈ نہیں بن سکتا۔
مولانا واپس جارہے تھے کہ راستے میں محمد معراج صاحب مل گئے جن کی مسجد میں مولانا جمعہ کی نماز پڑھاتے ہیں۔ معراج صاحب نے کہا کہ اس طرح تو آپ کا کارڈ بننے میں مہینوں لگ جائیں گے۔ وہ دوبارہ مولانا کو دفتر لے گئے، اور ہندوافسر (A.D.M.)سے کہا۔ ہندو افسر نے قصہ سننے کے بعد فوراً مذکورہ خورشید صاحب کو بلایا اور کہا کہ ان کا کارڈ ابھی بناکر دے دیجیے۔ کیوں کہ یہ امام ہیں، اور امام کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ ان کے پاس کہاں اتنا وقت ہے کہ وہ باربار آئیں۔
مولانا شکیل صاحب کارڈ لے کر چلنے لگے تو مذکورہ ہندوافسر نے دوبارہ بلایا ۔ اس نے پوچھا کہ آپ کو کتناتیل ملتا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانچ لیٹر۔ اس نے کہا کہ نہیں، آپ اپنے دکاندار سے کہیے کہ وہ آپ کو دس لیٹر تیل دے۔ کیونکہ گیس والوں کے لیے 5لیٹر ہے اور بےگیس والوں کے لیے دس لیٹر۔ مولانا شکیل صاحب نے کہا کہ یہ قاعدہ مجھ کو معلوم نہیں تھا اوردکاندار ہم کو5لیٹر سے زیادہ نہیں دیتاتھا۔ ہندوافسر نے کہا کہ آپ کا دکاندار اگر دس لیٹر نہ دے تو دوبارہ میرے پاس آئیے۔ (ڈائری، 14مارچ1995)
