تعلیمی پیغام

)زیر نظر پیغام مولانا وحید الدین خاں صاحب نے مدینہ ٹیکنیکل کالج ، حیدرآباد،کے سوینیر کے لیے لکھا تھا(

تعلیم صرف روزگار کا سرٹیفکٹ نہیں۔ اس کا اصل مقصد قوم کے افراد کو باشعور بنانا ہے۔ افراد کو باشعور بنا ناملت کی تعمیرکی راہ کا پہلا قدم ہے۔ ملت کا سفر جب بھی شروع ہوگا یہیں سے شروع ہوگا۔ اس کے سوا کسی اور مقام سے ملت کا سفر شروع نہیں ہو سکتا۔

باشعور بنا نا کیا ہے۔ باشعور بنانا یہ ہے کہ ملت کے افراد ماضی اور حال کو ایک دوسرے سے جوڑ سکیں۔ وہ زندگی کے مسائل کو کائنات کے ابدی نقشہ میں رکھ کر دیکھ سکیں۔ وہ جانیں کہ وہ کیا ہیں، اور کیا نہیں ہیں۔ وہ اس راز سے واقف ہوں کہ وہ اپنے ارادہ کو خدا کے ارادہ سے ہم آہنگ کر کے ہی خدا کی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ باشعور انسان ہی حقیقی معنوں میں انسان ہے۔ جو باشعور نہیں وہ انسان بھی نہیں۔

با شعور آدمی اپنے اور دوسرے کے بارے میں صحیح رائے قائم کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وہ یہ جان لیتا ہے کہ اس کی کون سی رائے جانب دارانہ رائے ہے اور کون سی غیر جانب دارانہ۔ جب بھی کوئی موقع آتا ہے تو وہ پہچان لیتا ہے کہ یہاں کون سی کا رروائی رد عمل کی کارروائی ہے اور کون سی مثبت کارروائی ۔ وہ شرکو خیر سے جدا کرتا ہے اور باطل کو الگ کر کے حق کو پہچانتا ہے۔ ایک آنکھ وہ ہے جو ہر آدمی کی پیشانی پر ہوتی ہے۔ تعلیم آدمی کو ذہنی آنکھ عطا کرتی ہے۔ عام آنکھ آدمی کو ظاہری چیزیں دکھاتی ہے، تعلیم کی آنکھ آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معنوی چیزوں کو دیکھ سکے۔

جس طرح ایک کسان بیج کو درخت بناتا ہے، اسی طرح تعلیم گاہ کا کام یہ ہے کہ وہ انسان کو فکری حیثیت سے اس قابل بنائے کہ وہ ارتقائے حیات کے سفر کو مکمل کر سکے ۔ تعلیم آدمی کو ملازمت بھی دیتی ہے۔ مگر یہ تعلیم کا ثانوی فائدہ ہے۔ تعلیم کا اصل پہلو یہ ہے کہ وہ آدمی کو زندگی کی سائنس بتائے۔وہ آدمی کو حقیقی معنوں میں آدمی بنا دے۔ (الرسالہ، مئی1985)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion