شبلی اور علی گڑھ

مولانا شبلی نعمانی (1857-1914) کا تعلق علی گڑھ سے 1883ء میں قائم ہوا۔ اور سولہ برس تک جاری رہا۔ شبلی کا تعلق جس خاندان سے تھا ، وہ سرسید کی تعلیمی تحریک سے بہت متاثر تھا۔ ان کے والد شیخ حبیب اللہ صاحب اس کے زبر دست حامی تھے۔ اور اپنے لڑکے مہدی حسن صاحب کو حافظ بنانے کے بعد مزید تعلیم کے لیے علی گڑھ کالج میں داخل کرایا تھا۔

1883ء میں کالج کو مشرقی زبانوں کے ایک معلم کی ضرورت ہوئی۔ مولانا شبلی نے اس جگہ کے لیے درخواست بھیجی جو سرسید اور مولوی محمد سمیع اللہ خاں صاحب کی اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔ مولانا کو ایف اے اور بی اے کی کلاسوں کو عربی اور فارسی پڑھانے کا کام سپرد ہوا۔

 مولانا کا تقرر اس وقت چالیس روپے ماہوار پر ہوا تھا۔ شروع زمانہ کا واقعہ ہے، کالج میں کوئی تقریب تھی جس میں استادوں کی کرسیاں تنخواہ کی ترتیب سے بچھائی گئی تھیں۔ اس ترتیب میں مولانا شبلی کی کرسی سب سے پیچھے تھی۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر مولانا شبلی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ مگر صلاحیت ایسی چیز ہے جو اپنے آپ کو منوا کر رہتی ہے۔ چنانچہ جلد ہی بعد ایسا ہوا کہ نہ صرف ان کی تنخواہ بڑھ گئی، بلکہ اپنے علم وفضل کی بدولت انہوں نے کالج کی بزم میں صدر نشینی کی حیثیت حاصل کرلی۔

سب سے پہلے توان کی وہ مرعوبیت ختم ہوئی، جو اس زمانے میں ایک مولوی کو عام طور پر انگریزی دانوں سے ہوتی تھی۔ علی گڑھ جانے کے چند ہی مہینے بعد ایک عزیز کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں :

یہاں آکر میرے تمام خیالات مضبوط ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ انگریزی خواں فرقہ نہایت مہمل فرقہ ہے۔ مذہب کو جانے دو ، خیالات کی وسعت ،سچی آزادی، بلند ہمتی، ترقی کا جوش برائے نام نہیں ۔ یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آتا ، بس خالی کوٹ پتلون کی نمائش گاہ ہے۔ ہمارے شہر کے نوخیز لڑ کے مجھ کو بی اے کی نسبت (اس زمانے میں بی، اے بڑی چیز تھی) یہ خیال دلاتے تھے کہ مذہبی باتوں کو تمام ترضعیف ثابت کر دیں گے۔ لاحول ولا.......وہ غریب تو زمین کی حرکت بھی نہیں سمجھ سکتے۔ (حیات شبلی،1943، صفحہ131)

اس کے بعد کالج کی دنیا میں شبلی کو جو مقام ملا ، اس کو مولانا سید سلیمان ندوی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

’’محمڈن کالج علی گڑھ اپنے طرز کا پہلا کالج تھا جس میں انگریز ، ہندو، مسلمان ، ہر قسم کے استاد اور شاگرد تھے۔ ایسے ماحول میں ایک پر انا بوریا نشیں عالم جس نے کبھی انگریزی کا ایک حرف بھی نہیں پڑھا، جس نے انگریزوں کی صحبت کبھی نہیں اٹھائی تھی ، جو نئے تہذیب و تمدن کے سایہ میں کبھی نہیں بیٹھا تھا ، یکایک آیا اور اس پورے ماحول میں رہ کر اس طرح سب میں سما گیا کہ وہ کہیں سے بیگانہ نہیں ہونے پایا— مولانا شبلی کا حال یہ تھا کہ وہ ہر محفل پر چھائے رہتے تھے اور ہر علمی بحث میں ان کا قول فیصل تھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنی بلکہ علمائے اسلام کی قدر و منزلت کو بڑھا دیا اور قدیم علوم و فنون کے مرتبہ کو اتنا اونچا کیا کہ پروفیسر آرنلڈ اور دوسرے انگریز پروفیسروں کو ان کی تحسین بلکہ تحصیل پر مجبور کر دیا۔ ایسے زمانہ میں جب کہ کالج میں ہر طرف سے نئے علوم نئے مسائل ، اور نئی تحقیقات کی بارش ہو رہی تھی، ایک مولانا ہی کا وجود تھا جو اس مسلسل بارش کے طوفان میں اسلامی علم وفن کے منارہ کو اس مضبوطی سے اپنی جگہ پر جمائے ہوئے تھا کہ ان کو اس طوفان خیز سیلاب سے کوئی خطرہ نہ رہا‘‘۔ (حیات شبلی ، صفحہ148)

حقیقت یہ ہے کہ مولانا شبلی نے علی گڑھ میں قیام کر کے ایک عظیم سبق دیا ہے۔ یہ سبق کہ عزت اور مقام حاصل کرنے کا راز صرف تنخواہ اور ڈگریاں نہیں ہیں ۔ ایک خالص مولوی آدمی بھی ایک بالکل ماڈرن ماحول میں عزت اور مقام حاصل کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ علم اور قابلیت رکھتا ہو۔

شبلی کو علی گڑھ میں یہ مقام ان کی گوناگوں صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ اس دور میں خیالات کو شعر کے پیراہن میں ظاہر کرنے کا خاص ذوق تھا۔ مولانا شبلی اس میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ نہایت اعلیٰ مذاق کے اشعار لکھتے تھے اور نہایت موثر لہجے میں پڑھتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علی گڑھ میں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ کالج کے ہر جلسہ اور تقریب میں مولانا کی نظم اس کے پروگرام کا ضروری جزء ہوتی تھی۔ اس وقت کے علی گڑھ میں شبلی کو شاعر کی حیثیت سے جو مقام حاصل تھا اس کا نقشہ ان کے دو شعروں میں بڑی اچھی طرح نظر آتا ہے۔ پچھلی صدی کے آخر میں مولانا شبلی نے روم اور مصر و شام کا سفر کیا تھا۔ واپس آئے تو علی گڑھ میں بڑا شاندار استقبال ہوا۔ اس سلسلہ میں طلبا کی یونین نے بھی 6 دسمبر1892ء کو ایک بزم دعوت ترتیب دی۔ اس موقع پر مولانا نے اپنا ایک قصیدہ پڑھا جس کے دو شعر حسب ذیل تھے :

قاصد خوش خبر امروز نوا ساز آمد           کز سفر یا ر سفرکردهٔ ما باز آمد

از سفر شبلی آزاده به کالج برسید            یا مگر بلبل شیراز به شیراز آمد

اس زمانہ میں علی گڑھ کی تاریخ دیکھیے تو یہ الفاظ بالکل ایک واقعہ کا بیان معلوم ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے علی گڑھ کو اگر شیراز سے تشبیہ دی جائے تو شبلی اس شیراز کے بلبل تھے۔

اسی طرح تقریر کا ملکہ بھی مولانا شبلی میں غیر معمولی تھا۔ جس جلسہ میں تقریر کرتے پورے مجمع پر چھا جاتے۔ 1900ء میں رام پور میں ایجو کیشنل کانفرنس کا جلسہ تھا۔ اس زمانہ میں کلکتہ یونیورسٹی نے فارسی کو اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کر کے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا تھا۔ فارسی پر یہ اعتراض تھا کہ ’’فارسی کلاسیکل زبان نہیں اور دوسری زبانوں کی طرح اس میں قوت متخیلہ کو ترتیب دینے کی قابلیت نہیں اور نہ اس کے لٹریچر میں علوم و فنون کا ذخیرہ ہے‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 166) مولانا شبلی نے اس پر تقریر کی اور اس خوبی سے اعتراضات کو ردّ کیا کہ لوگ حیران و ششدر رہ گئے۔ سامعین کا یہ حال تھا کہ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس وقت بنگال کے لفٹننٹ گورنر سر ایڈورڈ برن بھی اجلاس میں موجود تھے۔ انہوں نے اپنی انگریزی تقریر میں مولانا کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا— ’’ مجھ میں اتنی قابلیت نہیں کہ مولانا شبلی کی طرح پُر تاثیر تقریر کر سکوں ‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 167)

نومبر1894میں یونین میں اس موضوع پر مباحثہ تھاکہ کیا ہمارا گذشته طرز تعلیم موجودہ طرز تعلیم سے بہتر تھا۔ مولانانے بھی تقریر کی۔ انہوں نے موافقت کا پہلو اختیار کیا۔ یہ تقریر اتنی موثر ہوئی کہ طالب علموں نے عموماً مقرر کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ سید محمود نے بھی ان کے حق میں رائے دی۔ (حیات شبلی، صفحہ 160)

اسی طرح ایک بار یونین میں یہ بحث تھی کہ جمہوری طرز حکومت بہتر ہے یا شخصی۔ جلسہ میں سرسیدبھی موجود تھے۔ مولانا نے جمہوری طرز حکومت کی تائید کی اور اس موضوع پر ایسی مدلل تقریر کی کہ تمام طالب علموں نے ان کی موافقت میں رائے دی (حیات شبلی، صفحہ 161)۔ یہ بات آج کچھ عجیب نہیں معلوم ہوگی لیکن اگر یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ 1892ء میں پیش آیا تھا تو مولانا کی تقریری صلاحیت کی داد دینی پڑتی ہے۔ مولانا شبلی کی یہی سب خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے وہ علی گڑھ کی فضا پر چھا گئے۔

شبلی کا علی گڑھ جانا محض ایک معمولی واقعہ نہ تھا۔ بلکہ یہ جدید و قدیم کا اتصال تھا۔ شبلی گویا قدیم کے ایک قابل اعتماد نمائندے تھے اور علی گڑھ اپنے وقت میں جدید کی نمایاں ترین علامت تھا۔ اس اتحاد و اتصال سے دونوں کو زبردست فائدے ہوئے۔

شبلی کا علی گڑھ سے وابستہ ہونا سرسید کے لیے زبر دست تقویت کا باعث بنا۔ سرسید نے کالج کے چندہ کے لیے 1882 میں حیدر آباد کا پہلا سفر کیا تھا۔ یہ سفر ایک وفد کی شکل میں تھا جس میں تحریک کے بہت سے ممتاز لوگ شریک تھے۔ ان میں سے ایک مولانا شبلی بھی تھے۔ مولا نا عبدالحلیم شرر لکھتے ہیں کہ مولانا شبلی کے اس سفر میں شمولیت سے یہ خیال لوگوں میں پھیل گیا تھا کہ وہ سرسید کے گروہ کے ایک نامور بزرگ اور ان کی فوج کے ایک نامی پہلوان ہیں۔ (حیات شبلی، صفحہ 183)

شبلی کی وجہ سے کالج کے حلقہ میں اعلیٰ ترین سطح پر علوم اسلامیہ کی نمائندگی ممکن ہوسکی۔1887ءمیں لکھنؤ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر سرسید نے اپنے دائرہ کے مختلف اہل علم کو اسلامی تعلیم کےکسی نہ کسی پہلو پر لکھنے کی فرمائش کی۔ مولانا شبلی نے ’’مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم‘‘ کا عنوان اپنے لیے پسند کیا۔ جب یہ مضمون لکھنؤ کے اجلاس میں پڑھا گیا تو مسلمانوں کے سامنے اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں کا نقشہ پھر گیا اور سارے ملک میں اس خطبہ کی دھوم مچ گئی۔ مولانا عبدالحلیم شرر لکھتے ہیں—’ ’لکچر مسلمانوں کی نظر میں بالکل نئی اور دلچسپ چیز تھا۔ چنانچہ جب اس پر دلگد از انداز میں ریویو ہوا ہے تو کوئی نہ تھا جو اس کے دیکھنے کا مشتاق نہ ہو گیا ہو‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 172)

اس زمانہ میں یورپ کی اس ’’علمی تحقیق‘‘ کا غلغلہ تھا کہ مسلمان اتنے وحشی اور جاہل تھے کہ جب حضرت عمر کے زمانے میں انہوں نے مصر اور اسکندریہ فتح کیا تو وہاں کے مشہور یونانی کتب خانہ کو جو بطلیموس کے زمانہ سے قائم تھا جلا کر خاک کر دیا۔ اور دنیا گذشتہ انسانی دماغوں کے ورثہ سے محروم ہوگئی۔

یه منجملہ ان واقعات میں سے تھا جس کی وجہ سے مسلمان اپنے کو احساس کمتری میں مبتلا پاتے تھے۔ مولانا شبلی نے 1892 میں اس کی تردید میں کتب خانہ اسکندریہ پر ایک مضمون لکھا اور ثابت کیا کہ یہ مسلمانوں سے صدیوں پہلے برباد ہو چکا تھا۔ اور مسلمانوں کی فتح مصر کے زمانہ میں اس کا وجود بھی نہ تھا۔

مولانا نے بتا یا کہ یہ کتب خانہ خود عیسائیوں نے اپنے زمانہ میں برباد کیا تھا۔ بعد کو چھٹی صدی ہجری کے ایک عیسائی مورخ ابو الفرح ملطی نے عیسائیوں کو اس الزام سے بچانے کے لیے اس واقعہ کو غلط طور پر مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا مولانا کی یہ تحقیق مقبول ہوئی اور بعد کو خود یورپین محققین نے اس کی تائید کی۔ (حیات شبلی، صفحہ 220)

اسی طرح مثال کے طور پر مسلم سلطنتوں کے خلاف ایک نفرت انگیز پرو پیگنڈا وہ تھا جو جزیہ کے نام پر کیا جا رہا تھا۔ یعنی وہ محصول جو مسلمان بادشاہ صرف اپنی غیر مسلم رعایا سے وصول کرتے تھے۔ اس کو مخالفین اس بات کے ثبوت میں پیش کرتے تھے کہ اسلامی سلطنتوں میں غیر مذہب پر ٹیکس تھا۔ گویا کوئی غیرمسلم اس مذ ہبی ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر کسی اسلامی سلطنت میں اپنی جان و مال کو محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا۔ مولانا شبلی نے اس سلسلہ میں رسالہ الجزیہ لکھا جس میں تحقیق سے ثابت کیا کہ جزیہ قتل کا نہیں بلکہ نصرت کا معاوضہ ہے۔ یعنی اسلامی ملکوں میں ان غیر مسلموں سے جو فوج میں بھرتی نہیں ہوتے تھے ، اس لیے یہ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا کہ وہ ان کی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہونے کا معاوضہ تھا۔

یہ تحقیق اس وقت ایسی عجیب تھی کہ علمی دنیا پر حیرت چھا گئی۔ سرسید نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کرایا اور خود مولانا سے اس کا عربی میں ترجمہ کرایا گیا۔ بیرونی ملکوں میں بھی اس کے خلاصے اور اقتباسات شائع ہوئے۔ (حیات شبلی، صفحہ 227)

مولانا شبلی کی اس طرح کی تحقیقات سے علی گڑھ میں اسلام کی علمی بلندی کی ایسی فضاقائم ہوئی که سرسید کو خیال آیا کہ یورپ نے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت جو تاریخی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں ان کے جواب اور تصحیح کے لیے ایک مجلس بنائی جائے۔ چنانچہ 1892 میں اس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ مولا نا شبلی کے مضامین اس سلسلہ میں داخل کیے گئے اور انھیں اس صیغہ کا سکریٹری بنایا گیا۔ ان کے مضامین کے ترجمے عربی اور انگریزی میں بھی شائع کیے گئے۔ (حیات شبلی، صفحہ 161)

محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا پانچواں اجلاس 1891ء میں الہ آباد میں ہوا اس اجلاس میں بڑے بڑے باکمال جمع تھے۔ مولانا شبلی نے تجویز پیش کی :

’’اس مضمون پر ایک رسالہ لکھوایا جائے کہ مسلمانوں نے اپنے عہد عروج میں جو علم یونان و مصر و ہندستان و فارس سے حاصل کیے تھے ان پر کون سے مسائل اور علوم اضافہ کیے‘‘۔

سرسید نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا’’:یہ ایسے عمدہ امر کی تحریک ہے جس کی بہت ضرورت ہے۔ تمام علمی مجلسیں اس امر کے دریافت کرنے کی محتاج ہیں ۔ مگر بحث اس میں ہے کہ اس کو لکھے گا کون‘‘۔ ہمارے ہاں ایک مثل ہے’’ جو بولے وہی گھی کو جادے‘‘ پس مولوی شبلی ہی اس کو لکھیں گے۔

’’تمام مجمع سے بالاتفاق یہی آواز آئی کہ مولوی شبلی ہی لکھیں گے۔ مولوی شبلی ہی لکھیں گے‘‘ (رودادکا نفرنس الہٰ آباد91 بحوالہ حیات شبلی، صفحہ 165)

’’محمڈن اینگلو اور ینٹل کالج میگزین‘‘ نے 1894ء میں ایک علمی رسالہ کی شکل اختیار کی تو اس کے اردو حصے کی ایڈیٹری مولانا شبلی کے سپرد کی گئی۔

بحیثیت استاد مولانا کے سپرد جو مضامین تھے ان میں بھی مولانا نے اپنی قابلیت کا سکہ جما دیا تھا۔مسعود علی صاحب محوی جو حیدر آباد دکن میں جج تھے، اور اس کے بعد دار الترجمہ کے رکن مقرر ہوئے۔ مولانا کے زمانہ میں علی گڑھ کے طالب علم تھے۔ وہ اپنے مجموعہ کلام کے مقدمہ میں لکھتے ہیں’’:علی گڑھ کالج کے بی اے کلاس کے فارسی نصاب میں قاآنی شیرازی (1808-1854) کے چند قصائد داخل تھے۔ مولانا شبلی فارسی کے پروفیسر تھے۔ مولانا مرحوم ان نادر الوجود استادوں میں تھے جو نہ صرف کسی مضمون کو پڑھا اور سمجھا دینے بلکہ اس مضمون کے ساتھ شاگردوں میں حقیقی دل چسپی پیدا کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ (حیات شبلی، صفحہ 182)

مولانا حبیب الرحمٰن خاں شروانی فرماتے ہیں’’:مجھ کو بھی اگر کچھ لکھنا آیا تو انھیں صحبتوں کے اثر سے تاریخ وادب فارسی کا ذوق یہیں نشو نما پذیرہوا ہے‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 152)

مقررہ درس کے علاوہ بھی طلبہ کے لیے کچھ کرتے رہتے تھے۔ مثلاً کالج میں عربی زبان کی ترقی اورطلبہ میں عربی تحریر و تقریر کا شوق دلانے کے لیے انہوں نے ایک لجنۃ الادب کی بنیاد ڈالی۔ اسی طرح اخوان الصفا کے نام سے ایک انجمن قائم کی جوار دو تحریر و تقریر کی مشق کے لیے تھی۔ دونوں انجمنوں میں طلبہ دل چسپی سے حصہ لیتے تھے۔ (حیات شبلی، صفحہ 159-60)

1892 میں مولانا شبلی نے ترکی اور مصروشام کا ایک علمی سفر کیا۔ یہ سفر بھی علی گڑھ کالج کی شان بڑھانے کا سبب بنا۔ کیوں کہ بقول مولانا سید سلیمان ندوی اس وقت… ’’کالج کے ایک پروفیسر کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا سفر تھا‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 218) چنانچہ واپسی کے بعدمولانا کے اعزاز میں مختلف تقریبات اور جلسے کیے گئے۔

اس سفر میں حکومت ترکی نے آپ کو ’’تمغہ مجیدی‘‘ عطا کیا جو ترکی کا ایک اعلیٰ اعزاز تھا۔ اس کے بعد جنوری 1894ء میں حکومت برطانیہ نے آپ کو شمس العلما کا خطاب عنایت کیا۔ یہ اس زمانہ کے لحاظ سے ایک خاص واقعہ تھا۔ نیز یہ پہلا واقعہ تھا جب کہ کالج کے کسی استاد کو علمی خطاب سے نوازا گیا۔ چنانچہ اس کے بعد کالج میں متعدد جلسے ہوئے اور سرسیدا اور تمام لوگوں نے زبردست خراج عقیدت مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔ (حیات شبلی، صفحہ 238)

مولانا شبلی کی وجہ سے کالج کو جو علمی وقار اور مادی فائدہ حاصل ہوا، اس کا اعتراف سرسید نے ان الفاظ میں کیا ہے :

’’اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے کالج کے پروفیسر مولوی محمد شبلی نعمانی نے اپنی تصانیف سے ملک کو بہت کچھ فائدہ پہنچایا ہے۔ المامون ، سیرۃ النعمان ، کتب خانہ اسکندریہ اور الجزیہ بے مثل اور بے نظیر کتا بیں ہیں ۔ اگر وہ نعوذ باللہ اپنے رسالہ الجزیہ کی نسبت مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ کہیں کہ فاتو ابسورة من مثلہ تو کچھ تعجب نہ ہوگا۔ جزیہ کا ایسا بیجا اور غلط الزام اسلام پر تھا جس کا آج تک کسی نے ایسی عمدگی سے جواب نہیں دیا تھا۔ بایں ہمہ انہوں نے مثل علمائے متقدمین با خدا کوئی ذاتی فائدہ ان کتابوں کی تصنیف سے نہیں اٹھانا چاہا بلکہ بالکلیہ مدرستہ العلوم کو دیدیا ‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 233-34)

اس زمانہ میں مولانا شبلی کی کتابوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ تین تین ماہ میں ایک ایڈیشن ختم ہو جاتا تھا۔ مگر مولانا نے علی گڑھ کے زمانہ قیام میں اپنی تصنیفات سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور تمام کتابیں کالج کی نذر کر دیں (حیات شبلی، صفحہ158-59)

اس کے علاوہ بعض ریاستوں سے کالج کو امداد ملنے میں مولانا کی ذات معاون بنی۔

علی گڑھ کی تاریخ میں دینی رنگ پیدا کرنے والے سب سے پہلے مولانا شبلی تھے۔ مولانا شبلی دینی اعتبار سے علی گڑھ کو کیا سبق دینا چاہتے تھے، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوگا۔ 1892 میں جب وہ ترکی گئے تو وہاں انہیں ایک کالج(مکتبہ ملکیہ)میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اتفاق سے اسی دوران ظہر کا وقت آگیا۔ اس وقت کوٹ پتلون میں ملبوس نوجوان ترک فوراً نماز کی تیاری میں لگ گئے۔ اس واقعہ کا والہانہ انداز میں ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

’’حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اگر مذہبی اثر سے آزاد ہو کر ترقی کریں تو ایسی ترقی سے تنزل ہزار درجہ بہتر ہے‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 202)

اسی طرح مولانا نے ایک تقریر میں فرمایا :

’’دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ آگے بڑھتے جائیں آگے بڑھتے جائیں لیکن مسلمانوں کی ترقی یہ ہے کہ وہ پیچھے ہٹیں ، پیچھے ہٹیں ۔ یہاں تک کہ صحابہ کی صف سے جاکر مل جائیں ‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 290)

محمد علی کے اندر اسلام اور قرآن کا ذوق مولانا شبلی کے درسوں سے پیدا ہوا۔ محمد علی اس وقت علی گڑھ کے ایک طالب علم تھے اور اس کا اعتراف انہوں نے اپنی خودنوشت سوانح My Life: A Fragment میں کیا ہے۔ یہ مولانا شبلی کی بیدار مغزی کا اہم ثبوت ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ مذہبی طبقہ عام طور پر انگریزی تعلیم کی صرف مخالفت کرنا جانتا تھا ۔انہوں نے اس واقعہ کومحسوس کیا کہ اصل کام لوگوں کو انگریزی تعلیم سے روکنا نہیں، بلکہ ان کے اندر اسلامی ذہن پیدا کرنا ہے۔ تاکہ وہ جدید تعلیم کو صحیح طور پر اپنے اندر جذب کر سکیں اس سلسلہ میں انہوں نے علی گڑھ کے سولہ سالہ قیام میں جو کوششیں کیں ان میں سے ایک درس قرآن کا اہتمام بھی تھا۔ جس نے مسٹر محمد علی کو مولانا محمد علی بنایا۔ سجاد حیدر یلدرم کہا کرتے تھے کہ مولانا ایسے اچھوتے انداز سے قرآن پاک کا درس دیتے تھے کہ ہم اس کو سُن کر وجد کرتے تھے۔

طلبہ میں سنت نبوی کا ذوق پیدا کرنے کے لیے عربی سیرت کا ایک مختصر رسالہ بدءالاسلام لکھا، جو کالج کے نصاب تعلیم میں داخل ہوا۔ میلاد کی مجالس کو وعظ و تبلیغ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔

مولانا شبلی اس طرح مختلف سطحوں پر طلبہ میں دینی رنگ پیدا کرنے کی جو مسلسل کوشش کر رہے تھےاس نے کیا نتیجہ دکھایا۔ اس کو خود مولانا کی زبان سے سنیے۔ ایک عزیز کے نام خط میں لکھتے ہیں :

’’اس وقت مجھ سے نہ میری طبیعت کا حال پوچھیے، نہ کوئی اور واقعہ۔ آپ سنیے اور میں دل سے اٹھتے ہوئے جوش سے ایک تازہ کیفیت سناؤں ، یوں تو مدرستہ العلوم کے قواعد میں داخل ہے کہ لڑ کے مغرب کی نماز جماعت سے پڑھیں ۔ مگر ان دنوں ہوا کا رخ ہی بدل گیا ہے۔ لڑکوں نے خود ایک مجلس قائم کی ہے جس کو وہ لجنۃ الصلوٰۃ کہتے ہیں ۔ ایک بی اے سکریٹری ہے۔ اور بہت سے تعلیم یافتہ اس کے ممبر ہیں ۔ چار بجے صبح کے بعد ایک نوجوان انگریزی خواں لوگوں کو اس پر اثر فقرے سے چونکا دیتا ہے۔ الصلوٰة خیر من النوم پانچوں وقت کی نمازیں باجماعت ہوتی ہیں ۔ اور لطف یہ کہ محض اپنی خواہش ہے۔ بیرونی دباؤ کا نام بھی نہیں ، مغرب کی نماز ، سبحان اللہ ! کیا شان و شوکت سے ہوتی ہے کہ بس دل پھٹا جاتا ہے۔ خود سید صاحب بھی شریک نماز ہوتے ہیں اور چوں کہ وہ عامل بالحدیث ہیں ، آمین زور سے کہتے ہیں ۔ ان کی آمین کی گونج مذہبی جوش کی رگ میں خون بڑھا دیتی ہے۔ میں کبھی کبھی اسلام پر لکچر دیتا ہوں ۔ مسجد بننے کی تیاری ہے۔ سید محمود صاحب کی سرگرمی نے اس کے پیمانۂ تعمیر کو نہایت وسیع کر دیا ہے… سید محمود صاحب خود ہاتھ میں پھاوڑالیں گے اور مسجد کی نیو کھو دیں گے… مجھ کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ اس نئی زندگی کے پیدا ہونے میں میرا بھی حصہ ہے اور اس جوش مذہبی کا برانگیختہ کرنا میری قسمت میں بھی تھا‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 150)

کالج کے لیے ایک یونیفارم کا تصور سب سے پہلے مولانا شبلی ہی نے دیا تھا۔ قسطنطنیہ کے سفر سے اپنے والد ماجد کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’یہاں کے کالجوں کی ایک بات مجھ کو بہت پسند آئی۔ ہر کالج کا ایک خاص لباس ہے اور کوٹ پرگریبان کے قریب کا لج کا نام لکھا ہوتا ہے۔ ہمارے کالج میں یہ طریقہ کیوں نہیں اختیار کیا جاتا۔ سید صاحب قبلہ بغیر کسی پس و پیش کے کالج کا ایک خاص لباس قرار دیں تو بہت اچھا ہے‘‘۔

مولانا حالی کے بیان کے مطابق سرسید نے اس تجویز کو پسند کیا اور اسی کے مطابق کالج میں یونیفام کاطریقہ رائج ہوا۔

اسی طرح قسطنطنیہ کے مسافر نے طلبہ میں معاشرت کی یکسانی پر زور دیا۔ سفر نامہ میں لکھتے ہیں  :

’’ہر کا لج میں غریب طالب علموں کی متعدد تعداد ہے اور دولت مند ترکوں کی طرف سے ان کو اس قدر امداد دی جاتی ہے کہ وہ کالج کے تمام مصارف ادا کر سکتے ہیں ۔ اس کا یہ اثر ہے کہ کالج کے احاطہ میں جا کر کوئی شخص تمیز نہیں کر سکتا کہ فلاں طالب علم غریب اور کم مقدور ہے۔ طلبہ کی یکساں حالت ان میں اتحاد اور قومیت کا نہایت قوی خیال پیدا کرتی ہے۔ اور غرباء کو اعلیٰ درجہ کی معاشرت حاصل ہونا ان میں حوصلہ مندی اور بلند نظری پیدا کرتا ہے۔ بورڈنگ کا یہ طریقہ دیکھ کر مجھ کو اپنا مدرستہ العلوم یاد آتا تھا اور میں اس کے بورڈنگ کے اختلاف مراتب پر افسوس کرتا تھا… میں علانیہ کہتا ہوں کہ ہمارے قومی کالج میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ تمام طالب علموں کا لباس، وضع، خوراک ، مکان، فرنیچر کلیۃً ایک کر دیا جائے اور جو مختلف سطحیں آج کا لج میں قائم ہیں ، بالکل مٹادی جائیں ۔ اگر یہ نہیں تو کالج میں قومیت کی روح نہیں ‘‘۔ (صفحہ 202)

جس طرح شبلی نے علی گڑھ کو بہت کچھ دیا، اسی طرح خود شبلی کو بھی علی گڑھ سے بہت کچھ ملا۔ اور انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کا اعتراف کیا جائے۔

مولانا شبلی ایک خالصۃً قدیم طرز کے عالم تھے۔ چنانچہ تعلیم کے بعدا بتدائی زمانہ میں اس قسم کے مشاغل میں دل چسپی لینا شروع کیا جو اس زمانہ میں ان کے جیسے لوگوں کا عام مذاق تھا۔ مثلاً خاص طرح کی منطقی بحثیں اور مناظرہ وغیرہ۔ مولانا کی کتاب اسکات المعتدی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔ معاشی مسائل بھی مختلف سمتوں میں کھینچتے رہے۔ کبھی وکالت کا امتحان دیا، کبھی ملازمت کی، کبھی نیل کی تجارت اور زمینداری کا کام دیکھا ۔(حیات شبلی، صفحہ 96) علی گڑھ سے تعلق نے ایک طرف مولانا کو موقع دیا کہ وہ معاش کے لیے سوچنا چھوڑ دیں ۔ دوسری طرف یہاں کے ماحول نے انھیں وقت کی علمی ضرور یات کا احساس دلایا اور ان کی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر کام کی طرف موڑ دیا۔

مولانا شبلی نے جس زمانہ میں علی گڑھ میں قدم رکھا، یہ وہ زمانہ تھاجب یورپ مسلمانوں کے اوپر سیاسی غلبہ حاصل کر چکا تھا۔ اس غلبہ کو مزید ذ ہنی تقویت پہنچانے کے لیے یورپ کے اہل قلم یہ طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے علوم کو بگاڑ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کریں ۔ مسلمان اب تک اپنی تاریخ پر ناز کرتے چلے آرہے تھے۔ اس کے جواب کے لیے مغربی مصنفین نے یہ کیا کہ اسلام ، سلاطین اسلام اور علوم اسلامیہ کی طرح طرح کی برائیاں لکھ کر پھیلا نا شروع کردیں۔ تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل خود اپنی قوم سے نفرت کرنے لگے اور ان کے قومی غرور کو ایسا صدمہ پہنچے کہ ان کے دماغی قویٰ ہمیشہ کے لیے مضمحل ہو جائیں۔

علی گڑھ کی فضا میں مولانا شبلی کو وقت کے اس فتنہ کا احساس ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضامین اور کتابوں نیز گفتگوؤں اور تقریروں میں ایسی اعلیٰ علمی سطح پر اس کا ردّ پیش کیا کہ مستشرقین کا پھیلایا ہوا کنفیوزن دور ہوگیا۔ ان کا یہ جذبہ یہاں تک بڑھا کہ قدیم کتب اسلامیہ سے استفادہ کے لیے انہوں نے اسلامی ممالک کے سفر کیے تاکہ وہ کتا بیں جو ابھی تک چھپ نہیں سکی تھیں۔ ان کے قلمی نسخوں کو دیکھ کراپنی تصنیفات کے لیے مواد حاصل کریں ۔ حالانکہ یہ بھی زمانہ کی نیرنگی ہے کہ جن نادر کتابوں کی خاطر مولانا نے سفر کی محنت اٹھائی تھی وہ بعدکو انہیں کے زمانہ میں خودمخالفین کے ہاتھوں چھپ کرعام ہو گئیں ،اور اب ان کی پسندیدہ کتابوں میں سے شاید ہی کوئی کتاب ہو جو چھپ نہ چکی ہو۔

مولانا شبلی نے جو تحریری کام کیا ہے، اس کا مشترک خصوصی موضوع غالباً ان لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے— اسلامی تاریخ کی عظمت کو نمایاں کرنا۔ اسلامی مسائل کو علمی سطح پر مدلل کرنا، اسلام کی عظمت رفتہ کو یاد دلا کر مستقبل کا حوصلہ پیدا کرنا۔ اور یہ وہی چیزیں ہیں جن کا احساس انہیں علی گڑھ کے ماحول میں ہوا۔ کیونکہ وہیں یہ صدائیں زیادہ گونج رہی تھیں۔

علی گڑھ کے قیام سے شبلی کو دوسرا اہم فائدہ یہ ملاکہ انھیں جدید تعلیم کی اہمیت کا احساس ہوا۔ مولانا شبلی نے ایک تقریر میں اپنا یہ واقعہ بیان کیا۔

’’جب میں ترکی سے واپس آیا تو اتفاق سے گھر میں علالت تھی۔ ایک رات کو 12 بجے تار آیا۔ میں نے اس کو کھولا۔ دل میں دبدھا پیدا ہوا کہ کیا واقعہ ہے۔ خدا جانے کیساتا رہے۔ خیر میں دوڑا ہوا سرسید مرحوم کے نواسہ کے پاس گیا۔ انہوں نے پڑھ کرسنا یا کہ یہ تار نواب علی حسن خاں صاحب نے بھوپال سے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو ترکی سے بخیریت واپس آنے پر مبارک باد دیتے ہیں ۔ یہ حال ہم مولویوں کا ہے‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 135)

علی گڑھ میں مولانا کو اندازہ ہوا کہ اسلام پر انگریزی زبان میں جو کتا بیں آرہی ہیں وہ نہایت غلط ہیں۔ اس سے انھیں خیال ہوا کہ علمائے دین کو انگریزی اور دوسری یورپین زبانیں جاننی چاہئیں۔ تا کہ وہ مغربی زبانوں میں اسلام کا صحیح لڑ پچر فراہم کر سکیں۔ اس سلسلہ میں مولانا سید سلیمان ندوی نے ایک بار ان سے عرض کیا کہ عربی کے ہر طالب علم کے لیے آپ انگریزی پڑھنا کیوں ضروری قرار دیتے ہیں۔ مثلاً جو لوگ فقیہ بننا چاہتے ہیں ان کو انگریزی کیا کام دے گی۔ فرمایا— ’’ عجیب بات کہتے ہو۔ اگر آج ہمارے فقہا انگریزی جانتے اور ہماری فقہ کو انگریزی میں منتقل کر سکتے تو ہدایہ وغیرہ کے انگریزوں اور غیر مسلموں کے کیے ہوئے غلط سلط ترجمے آج عدالتوں میں سند نہ قرار پاتے‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 135) مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں غالباً مولانا شبلی کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اگر وہ انگریزی جانتے ہوتے تو کیا کچھ اسلام کی خدمت کر سکتے تھے۔ اس لیے من نکردم شما حذر بکنید کے اصول پر وہ چاہتے تھے کہ اب علما ایسے ہوں جو دینی علم کے ساتھ وقت کی زبان بھی جانتے ہوں تاکہ وقت کے ذہنوں پراسلام کا سکہ بٹھایا جاسکے۔

علی گڑھ میں عمومی طور پر مولانا شبلی کو جو کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک چیز خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ یہ شبلی اور آرنلڈ کے تعلقات ہیں ۔ پر وفیسر آرنلڈ ایک نہایت لائق انگریز عالم تھے۔ دونوں کے علمی ذوق نے ایک دوسرے کو بے حد قریب کر دیا تھا۔ مولانا حبیب الرحمٰن خاں شیروانی لکھتے ہیں :

’’بڑی خوش قسمتی علامہ شبلی کی یہ تھی کہ اس عہد میں پروفیسر آرنلڈ سا علم دوست استاد کالج میں تھا۔ یہ دونوں دلدادگان علم باہم ملے اور اس طرح ملے کہ جس طرح مختلف اللون نور کی شعاعیں باہم مل کر عالم کی روشنی کا باعث بنتی ہیں ۔ پروفیسر آرنلڈ نے علامہ شبلی کو جدید اصول سے آگاہ کیا۔ یہ بتا یا کہ جدیدعلمی مجلس کے کیا ساز و سامان ہیں ۔ قدیم علوم پر کیا کیا اعتراض اور حملے ہیں ۔ علامہ شبلی کی صداقت اور قوت دماغی یہ تھی کہ وہ جدید اصول کے طمطراق سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان پر اطمینان سے غور کیا… پر وفیسر آرنلڈ نے عربی کا استفادہ علامہ شبلی سے کیا اور یہ دیکھا کہ پرانی زمینوں میں بھی جواہر آبدار موجود ہیں ۔ اس واقفیت کا نتیجہ پروفیسر آرنلڈ کی بے نظیر تصنیف پر پچنگ آف اسلام کی صورت میں عیاں ہوا۔ علامہ شبلی نے پر و فیسر آرنلڈ سے کسی قدر فرنچ زبان سیکھی تھی۔ علامہ ممدوح کی زندگی کا یہ دور بہت کچھ سبق آموز اور ایک بڑے تعلیمی مسئلہ کا حل کرنے والا ہے ‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 140)

علی گڑھ کے تعلق سے جدید تعلیمی ضرورت کا احساس جس کی طرف مولانا شروانی نے اشارہ کیا ہے وہ اس وقت اور زیادہ پختہ ہو گیا جب مولانا شبلی اسلامی ممالک کے سفر سے واپس آئے۔ یہ سفر آپ نے علی گڑھ کے زمانہ ملازمت میں کیا تھا۔ اور راستہ میں پورٹ سعید تک آرنلڈ بھی مولانا کے ساتھ تھے۔ اب مولانا کو پختہ یقین ہوگیاکہ مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لیے نئے نظام تعلیم کی شدید ضرورت ہے۔

یہاں ہم مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ مستعار لیں گے :

’’مولانا شبلی کے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کے لیے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ مسلمانوں کی تعلیم کا ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جس میں ایک طرف یورپ کے تمام جدید علوم و فنون کی تعلیم ہو اور دوسری طرف خالص اسلامی علوم کی۔ اور طریقہ تربیت اور درس گاہوں کا ماحول تمام تر مذہبی ہو۔ اگر ساری قوم کی تعلیم کا یہ بند وبست نہ ہو تو کم از کم عربی درس گاہوں میں ایسی اصلاح کی جائے کہ یونان کے بوسیدہ علوم کا سارا دفتر ہٹ کر اس کی جگہ نئے علوم کی تعلیم لے لے اور خالص مذہبی علوم اپنی جگہ پررہیں اور نصاب میں متاخرین کے شروح و حواشی کے بدلے قدماء کی اصل کتا بیں جو فن کی جان ہیں پڑھائی جائیں۔ درس گا ہیں عالی شان، کمرے صاف ستھرے اور تربیت ایسی ہو کہ طلبہ میں اولوالعزمی، حوصلہ مندی، بلند نظری اور خود داری پیدا ہو۔ لیکن یہ چیزان کو نہ قسطنطنیہ میں ملی، نہ شام میں اور نہ مصر میں۔ سفرنامہ میں لکھتے ہیں— ’’اس سفر میں جس چیز کا تصور میری تمام مسرتوں اور خوشیوں کو برباد کر دیتا تھا وہ اسی قدیم تعلیم کی ابتری تھی‘‘۔ (سفر نامہ روم و مصر وشام)

مولانا شبلی کے اس تجربہ اور مطالعہ نے انھیں ایک نئے تعلیمی تصور تک پہنچایا۔ یہ کہ ایسی درس گاہیں قائم کی جائیں جہاں جدید و قدیم دونوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔ مولاناسید سلیمان ندوی آگے چل کر لکھتے ہیں:

’’مولانا شبلی کا یہی احساس تھا جو ندوۃ العلما کے قیام کے بعد دار العلوم ندوۃ العلما کے نظام و دستور العمل کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس نے دارالعلوم کا یہ مرقع (مسودہ)، جس کو سیاح روم و شام نے اپنے قلم سے کھینچا ہے، دیکھا ہے۔ اس کو نظر آئے گا کہ روم وشام میں جو کچھ محسوس ہوا ہے اس کی تصویر ہندستان میں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔ (حیات شبلی، صفحہ 217)

علی گڑھ سے مولانا شبلی کا تعلق 1883ء میں قائم ہوا اور صدی کے آخر تک جاری رہا۔ اس مدت میں مولانا کا تجربہ اور مطالعہ ان پر واضح کر چکا تھا کہ قوم کی اصلاح و ترقی کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف وہ خود ایسی علمی اور تاریخی کتا بیں تصنیف کرنا چاہتے تھے جو قوم کے لیے ذہنی انقلاب کی بنیاد بن سکیں ۔ دوسری طرف ان کے ذہن میں کم از کم دو ایسے اداروں کا نقشہ آچکا تھا جو اگلی نسل میں شبلی جیسے انسانوں کا تسلسل باقی رکھنے والا ہو۔ ایک ایسی درس گاہ جو جدید وقدیم کی تعلیم کا مرکز ہو۔ اور دوسرے ایک ایسا تصنیفی ادارہ جو اسلامی موضوعات کے لیے اعلیٰ درجہ کے اہل قلم تیار کرے۔ ان کے پہلے خواب کی تعبیر دارالعلوم ندوۃ العلماء تھا اور دوسرے کی تعبیر دارالمصنفین۔ یہ دونوں ادارے آج بھی قائم ہیں ۔ اگر چہ یہ کہنا مشکل ہے کہ انہوں نے شبلی کے مطلوب انسان تیار کر نے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

مولانا شبلی اب جو کام کرنا چاہتے تھے اس میں کالج کی ملازمت ایک رکاوٹ تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ درس و تدریس کی ذمہ داریوں سے یکسو ہو کر مندرجہ بالاقسم کے کام پر لگ جائیں۔

خوش قسمتی سے حیدر آباد نے ان کے لیے یہ موقع فراہم کر دیا۔ مولوی سید علی بلگرامی اور نواب وقار الملک کی کوششوں سے ریاست نے ان کے لیے ایک مستقل وظیفہ جاری کر دیا تاکہ وہ یکسو ہو کر اپنے مشن کی تکمیل میں لگ جائیں ۔ اس سلسلے میں حیدر آباد کی طرف سے جو فرمان جاری ہوا اس کے ابتدائی الفاظ یہ تھے:

’’مولوی شبلی صاحب جو اس وقت علی گڑھ کالج میں عربی اور فارسی کے پروفیسر ہیں، ایک نہایت قابل اور لائق شخص ہیں اور تصنیف میں ایک خاص مذاق رکھتے ہیں ۔ اب ان کی تمنا ہے کہ اپنے پورے وقت کو تصنیف کے کام میں صرف کریں اور معمولی درس و تدریس کو ترک کر دیں۔ مولوی صاحب موصوف کو تصنیف کے کام میں فارغ البالی کے ساتھ مصروف کرنا ایک قومی کام ہے اور اس وقت کوئی عالم ہندستان میں ایسا نہیں ہے جو پرانے ذخیروں سے اس طرح کام لے‘‘۔

اس تمہید کے بعد فرمان میں کہا گیا تھا کہ چونکہ سرکار سے ایسے شخص کی اعانت ضروری ہے، اس لیے ان کے لیے وظیفہ جاری کرنے کی منظوری دی جاتی ہے۔ یہ وظیفہ ابتداءً سوروپے ماہوار تھا اور آخرمیں بڑھا کر تین سو کر دیا گیا۔

شبلی نے علی گڑھ میں جو کام کیا اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور چیز کو شامل کیا جائے۔ اس کے بغیر یہ مطالعہ خالص علمی اعتبار سے ناقص رہے گا۔ اور وہ ہے وہ زمانہ جس میں شبلی کو کام کرنے کا موقع ملا۔

شبلی کا زمانہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ہندستان اس سے بہت مختلف تھا جو آج ہمیں نظر آتا ہے۔ اس وقت مسلم غلبہ کا تسلسل نوابوں اور زمینداروں کی سطح پر بدستور جاری تھا۔ اردو ملک کی زبان تھی، حتیٰ کہ اس وقت کے بیرونی حکمراں (انگریز)بھی عام طور پر اردو کو سمجھتے تھے۔ ماضی کے نتیجہ میں شعروشاعری کی عظمت ابھی تک لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھی۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے اسباب تھے جنہوں نے شبلی کو وہ اعلیٰ مواقع کار دیے جن کی مثالیں ان کی زندگی میں ملتی ہیں ۔

اسی کے ساتھ ایک اہم بات یہ تھی کہ قدیم روایات کے نتیجہ میں ابھی تک قدر دانی کا ماحول موجود تھا۔ ایک شخص کے اندر جو ہر دیکھ کر وقت کے بڑے لوگ کھلے طور پر اس کا اعتراف کر سکتے تھے۔ یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو آج کل بالکل ختم ہو چکی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج شبلی جیسی شخصیتیں بھی کہیں نظر نہیں آتیں ۔

مضمون کو ختم کرتے ہوئے میں کہوں گا کہ شبلی کو علی گڑھ کا بہترین انتخاب کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح شبلی کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہو گا کہ ان کے سولہ سال جو علی گڑھ میں گزرے وہ ان کی زندگی کے بہترین سال تھے۔ اس طرح دونوں کو وہ چیز ملی جس کی دونوں میں سے ہر ایک کو ضرورت تھی۔ شبلی نے علی گڑھ کے اوپر اسلام کی تاریخی اور علمی عظمت قائم کی جس کا وہ اس وقت بے حد محتاج تھا۔ اسی طرح علی گڑھ نے شبلی کو جدید کا عرفان دیا جس کے نتیجہ میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے درمیان وہ اسلامی شخصیت ابھر سکی جس کو مولانا سید سلیمان ندوی نے’’ عہد جدید کا معلّم اول‘‘ کا لقب دیا ہے۔ شبلی اور علی گڑھ کے دو مختلف دھاروں کا ملنا اس امتزاج کو وجود میں لا سکا جس نے اسلامی تاریخ پر اعلیٰ ترین کتا بیں تخلیق کیں جس نے دارالعلوم ندوۃ العلما کی بنیا درکھی، جو دارالمصنفین کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جس نے قوم کی اگلی نسلوں کو وہ ہیجان اور شعور دیا جو آج بھی جدید پر قدیم کو غالب کرنے کی امانت اپنے سینوں میں لیے ہوئے ہے۔ جو زمانہ کی وقتی قدروں پر اسلام کی دائمی قدروں کو بالا کرنے کے لیے بے چین ہے۔ جس طرح علی گڑھ زندہ ہے ، اسی طرح شبلی بھی زندہ ہے اور دونوں پھر اسی طرح ایک دوسرے سے ملیں گے جس طرح وہ ماضی میں با هم ملے تھے۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے اور تاریخ کا فیصلہ بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔

نوٹ’’:شبلی ڈے‘‘ کے موقع پر 3 مارچ1968 کو یونین ہال مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا۔ (الرسالہ، ستمبر 1986)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion