انحراف کا نقصان

خداکی اس میزان (قانون عدل ) سے انحراف ہی کا نام بگاڑہے چنانچہ قرآن میں  ارشادہواہے کہ ا ﷲنے زمین میں  اپنے اصلاحی قوانین کے ذریعہ جو توازن قائم کر رکھا ہے اس میں  فرق نہ کرو۔ورنہ زمین میں  فساد پیدا ہوجائے گا:وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا(7:56)۔يعني اور زمين ميں فساد نه كرو اس كي اصلاح كے بعد۔

کائناتی توازن کی ایک مثال زمین اور سورج کا فاصلہ ہے۔ زمین اور سورج کے درمیان تقریباً نوکروڑ میل کا فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ حد درجہ متوازن ہے۔اس کی اہمیت کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ اگر یہ درمیانی فاصلہ نصف کے بقد رگھٹ جائے یعنی سورج ہماری زمین سے ساڑھے چار کروڑمیل کی دوری پر آجائے تو زمین پر اتنی سخت گرمی پیدا ہوگی کہ اس کی ہر چیز جل جائے گی، اور یہاں زندگی جیسی چیزکا وجو دناممکن ہوجائے گا۔

یہی معاملہ زمین کی جسامت کا ہے۔ زمین کا محیط اس وقت تقریبا 25 ہزار میل ہے۔ اگر یہ محیط نصف کے بقد ر گھٹ جائے۔ یعنی وہ کم ہوکر ساڑھے بارہ ہزار میل ہوجائے تو اس کی کشش اتنی کم ہوجائے گی کہ زمین کی سطح پر ہمارا جما ؤناممکن ہوجائے گا۔ اس کے بر عکس، اگر زمین کا محیط دُگنا مقدار میں  بڑھ جائے یعنی وہ 50 ہزار میل ہوجائے تو اس کی کشش اتنی زیادہ ہوجائے کی کہ تما م نموپذیرچیزوں کی بڑھوتری(growth) رک جائے گی۔ انسان چوہوں کی مانند ہوجائیں گے۔ اور چوہے چونٹیوں کی مانند۔

زمین پرجوبے مثال توازن قائم ہے اس کی ایک عجیب مثال وہ ننھی مخلوقات ہیں جن کو کیڑے مکوڑے کہا جاتا ہے، یہ کیڑے مکوڑے انسان کی طر ح پھیپھڑے نہیں رکھتے۔ وہ نالیوں کے ذریعہ سانس لیتے ہیں۔ جب یہ کیڑے بڑے ہوتے ہیں تو ان کی یہ نالیاں ان کے جسم کی نسبت سے نہیں بڑھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی کیڑا انچوں سے زیادہ آگے نہیں بڑھتا۔اپنے اس ڈھا نچہ کی وجہ سے کبھی کو ئی کیڑا بڑے سائز کا نہیں ہوا۔ اسی نظام نے کیڑوں کو اس سے روکا کہ وہ دنیا پر چھا جائیں۔ اگر یہ طبعی روک نہ ہوتا تو زمین پر انسان کا وجود ناممکن ہوجاتا۔ ایسے انسان کا تصور کیجیے جس کا مقابلہ ایسی بھِڑسے ہوجو شیر کے بقدر بڑی ہو یا ایک ایسی مکڑی جو بڑھ کر عظیم الجثہ جانور کی مانند ہوگئی ہو:

‘‘The insects which, unlike human beings, do not possess lungs, but breathe through tubes. When insects grow large the tubes cannot grow in ratio to the increasing size of the body of the insect. Hence there never has been an insect more than a few inches long with a slightly longer wing spread. Because of the mechanism of their structure and their method of breathing, there never could be an insect of great size. This limit in their growth held all insects in check and prevented them from dominating the world. If this physical check had not been provided, man could not exist. Imagine a man meeting a hornet as big as a lion or a spider equally large.’’

(Man Does not Stand Alone, pp. 79-80)

بعض لوگوں نے دنیا کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے۔ مثلاً ایک مغربی مصنف نے لکھا ہے کہ زمین کی کشش ضرورت سے زیادہ ہے۔ چنا نچہ دس کیلو کا وزن لے کر چلنا بھی زمین کے اوپر مشکل ہوجاتا ہے۔ اگر زمین کی کشش کم ہوتی تو ہم دس کیلو کا وزن بآسانی لے کر اس پر چل سکتے تھے۔ مگر یہ ایک نادانی کا اعتراض ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی کشش کی وجہ سے زمین پر ہمارے مکانات ٹھوس چٹان کی طر ح قائم ہوتے ہیں۔ اگر زمین کی کشش کم ہوتی تو ہمارے مکانات کا غذکے گھر وندوںکی طر ح اِدھر اِدھر اڑنے لگتے اور زمین پر تہذیب کا قیام نا ممکن ہوجاتا۔

خوش قسمتی سے کائنات کا نظام انسان کے ہاتھ میں  نہیں ہے۔ ورنہ کوئی صاحب زمین کی کشش گھٹاکر زمین کے اوپر انسانی نسل کے استحکام کو ناممکن بنادیتے۔ کوئی صاحب اٹھتے اور زمین اور سورج کے فاصلہ میں  تبدیلی کر تے اور پھر یاتو ساری زمین کو برف کی طرح ٹھنڈا بنا دیتے یا آگ کی بھٹی کی طرح گرم۔ اسی طرح کوئی صاحب کہتے کہ کیڑوں کی نالیوں کا موجودہ نظام ان کے اوپر ظلم ہے۔ اس لیے ایساہونا چاہیے کہ جسم کے ساتھ ان کی نالیاں بھی بڑھتی رہیں اور اس کے بعد یہ حال ہو تاکہ ساری زمین بھینسوں اور ہاتھیوں جیسے بھیانک کیڑوں سے بھرجاتی۔

انسان بقیہ کائنات میں  اس قسم کا بگاڑ پیدا کر نے پر قادرنہ تھا ، اس لیے وہ کائنات کے نظام میں تبدیلی نہ کر سکا۔ البتہ خود اپنی دنیا میں  عمل کے لیے وہ آزاد تھا۔ اس لیے یہاں اس نے دل کھول کر ہر قسم کا بگاڑ پیداکیا حتی کہ وہ صورت حال پیدا ہوگئی جس کو قرآن میں  ان الفاظ میں  بیان کیا گیا ہے:

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (30:41)۔يعني خشکی اور سمندر میں  فساد ظاہر ہوگیا ان اعمال کے نتیجے میں  جو انسان نے کیے ہیں۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion