شادی نہ کرنا غلطی
گریٹا گاربو(Greta Garbo)کسی زمانہ میں ہالی وڈ کی مشہور ترین ایکٹرس تھی۔ مگر اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچنے کے بعد فلمی دنیا میں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس کے پرانے دوست بھی سب کے سب اس کا ساتھ چھوڑچکے ہیں۔18 ستمبر1980کو اس نے اپنی75ویں سال گرہ تنہا منا ئی۔ گریٹا گاربو کے سوانح نگار نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس بات پر افسوس ہے کہ آپ نے شادی نہیں کی جس کی وجہ سے آج آپ کی تنہائیوں کا کوئی ساتھی نہیں۔ گریٹا گاربونے غمگین لہجہ میں جواب دیا كه میرا خیال ہے کہ میرا شادی نہ کرنا ایک غلطی تھی :
‘‘Not getting married was a mistake.’’
(Hindustan Times, 21 September 1980)
خدانے انسان کو جوڑے کی صورت میں بنا یا ہے۔ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے سے مل کر انسانیت کی تکمیل کرتے ہیں۔ پھر زندگی کی نوعیت کچھ اس قسم کی ہے کہ اس کا مستقل ہونا بھی ضروری ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خدانے نکاح کا طریقہ مقرر کیا ہے۔ نکاح ایک مرد اور عورت کو مستقل خا ندانی تعلق میں جوڑتا ہے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے سے جڑ کر خود اپنے تقاضوں کی تکمیل بھی کرتے ہیں اور سماج کے تقاضوں کی بھی۔
مغربی زندگی میں آزادی کے غلط تصور کا یہ نتیجہ ہوا کہ شادی کو بند ھن خیال کیا جانے لگا۔ اس کے نتیجے میں جو آزادانہ زندگی پیداہوئی اس نے بے شما ر خاندانی اور سماجی مسائل پیدا کردیے۔ انھیں میں سے ایک وہ ہے جس سے گریٹا گاربوجیسی عورتیں دوچار ہوتی ہیں۔ جوانی کی عمر میں جب کہ ان کے اندر مردوں کے لیے کشش ہوتی ہے وہ ہر جگہ رونق محفل بنی رہتی ہیں۔ ان کو روزانہ ایسے تفریحی پروگرام ملتے رہتے ہیں جن میں مصروف رہ کر وہ اپنے صبح وشام گزارتی رہیں۔مگر جب عمر زیادہ ہوتی ہے اور جنس مخالف کے لیے اپنی نسوانی کشش کھو دیتی ہیں تو اچانک ان کو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی کی تما م سرگرمیاں محض مصنوعی سر گرمیاں تھیںدوستیاں اور تعلقات اس طرح چھوٹ جاتے ہیں جیسے خزاں کے موسم میں درخت کے پتے۔ اس وقت انھیں معلوم ہوتا ہے کہ مستقل وفاداری کو بندھن سمجھنا ان کی کتنی بڑی غلطی تھی۔
ان پر یہ کھلتا ہے کہ اب تک وہ خوابوں کی دنیا میں جی رہی تھیں۔ ان کی رونقوں سے بھری زندگی اچانک ایک سُونے گھر میں تبد یل ہوجاتی ہے جہاں ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہوتی کہ کتے اور بلی پال کر دل بہلاتی رہیں۔ ان کا کوئی رفیق حیات نہیں ہوتا جو خوشی اور غم میں ان کا شریک ہو۔ ان کے سامنے اپنے بچوں کا وہ ’’باغ‘‘ نہیں ہوتا جن کی صورت میں ایک آدمی ا پنی ختم ہوتی ہوئی زندگی کے تسلسل کو دیکھ کر مطمئن ہوتا ہے۔ ان کے آس پاس کوئی ’’ اپنا‘‘ نہیں ہوتا جس کو اپنی زندگی کا اثاثہ سونپ کر وہ سمجھیں کہ انھوںنے دنیا میں بے کار محنت نہیںکی ان کو گوشت پوست کی کوئی ایسی دنیا نظر نہیں آتی جس کو وہ اپنا سمجھیں اور جو انھیں اپنا سمجھے۔ ایسے لوگ بھری ہوئی کائنات میں بالکل تنہا ہوکر رہ جاتے ہیں اور یقیناًکسی آدمی کے لیے تنہا ئی سے بڑی کوئی سزا نہیں۔
