فطرت سے جنگ
کسی ڈاکٹر کو ایک روز خیال آجائے کہ منہ کا مقام چہرہ پر نہیں بلکہ پیٹ پر ہونا چاہیے اور اس کے بعد وہ آپریشن کے ذریعہ منہ کو چہرہ سے ہٹاکر پیٹ پر منتقل کرنا شروع کردے۔ تودنیا اس کی بیوقوفی پر ہنسے گی۔ کیوںکہ فطرت نے کسی چیزکا جو مقام متعین کردیا ہے وہاں سے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔ ہماری کا میا بی یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھ کر معاملہ کریں، نہ کہ خودساختہ نظر یہ کے تحت اشیاء کی ترتیب بد ل کر ایک نیا نقشہ بنانے کی مہم شروع کردیں۔
اسی تخیل پسند ی کی ایک مثال عورت کا مسئلہ ہے۔ جدید تہذیب نے زندگی کا نیا نقشہ بنا نا شروع کیا تو اس میں اس کا ایک نعرہ یہ تھا کہ عورت اور مرد کے درمیان کا مل مسا وات ہونی چاہیے۔ اس خوشنما تخیل کو وجود میں لانے کے لیے خاندان اور معاشرت کا ساراڈھا نچہ الٹ پلٹ دیا گیا۔ مگر آخر میں جو چیزحاصل ہوئی وہ یہ کہ عورت گھر سے باہر تو آگئی ،مگر عملی زندگی میں وہ مرد کی ہم سرنہ ہوسکی۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ یہاں فطرت نے انسانی تخیل کا سا تھ دیا۔ ایک روسی سائنس داں انٹون نملوف (Anton Nemilov)جو خواہش کی حد تک خود بھی عورت اور مرد میں کامل مساوات دیکھنا چا ہتا ہے۔ اس بات کا اعتراف کر تا ہے کہ حیاتیات میں ہماری اس خواہش کے لیے بنیاد موجود نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ عملاًیہ چیز اب تک حاصل نہ ہو سکی۔
وہ سائنس کے تجر بات اور مشاہد ات پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے:
’’آج کل اگر یہ کہاجا ئے کہ عورت کو نظام تمدن میں محدود حقوق دیے جائیں تو کم سے کم آدمی اس کی تائید کر یں گے۔ ہم خود اس تجویز کے سخت مخالف ہیں مگر ہمیں اپنے نفس کو یہ دھوکا نہ دینا چاہیے کہ مساوات مردو زن کو عملی زندگی میں قائم کرنا کو ئی سادہ اور آسان کام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی عورت اور مرد کو برابر کردینے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی، جتنی سوویت روس میں کی گئی ہے۔ کسی جگہ اس باب میں اس قدر غیر متعصبانہ اور فیاضانہ قوانین نہیں بنائے گئے۔ مگر اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ عورت کی پوزیشن خاندان میں بہت کم بدل سکی ہے۔‘‘ (صفحہ 76)
’’ اب تک عورت اور مرد کی نامساوات کا تخیل ، نہایت گہر اتخیل ، نہ صرف ان طبقوں میں جو ذہنی حیثیت سے ادنیٰ درجہ کے ہیں، بلکہ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ سوویت طبقوں میں بھی جما ہوا ہے۔ اور خود عورتوں میں اس تخیل کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر ان کے ساتھ ٹھیٹھ مساوات کا سلوک كيا جائے تو وہ اس کو مرد کے مرتبہ سے گرا ہوا سمجھیں گی۔ بلکہ اسے مرد کی کمزوری اور نامردی پر محمول کر یں گی۔ اگر ہم اس معاملہ میں کسی سائنس داں، کسی مصنف ، کسی طالب علم، کسی تاجر یا کسی صد فیصد کمیونسٹ کے خیالات کا تجسس کریں تو بہت جلد یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ عورت کو وہ اپنے برابر کا نہیں سمجھتا۔ اگر ہم زمانہ حال کے کسی ناول کو پڑھیں۔ خواہ وہ کیسے ہی آزاد خیال مصنف کا لکھا ہوا ہو، یقیناً اس میں ہم کو کہیں نہ کہیں ایسی عبارتیں ضرور ملیں گی جو عورت کے متعلق اس تخیل کی چغلی کھا جائیں گی۔ ‘‘(صفحه194-95)
عورت کو مساوات کا درجہ نہ ملنا کوئی وقتی اور عملی خرابی نہیں بلکہ اس کی وجہ حیاتیات تک جاتی ہے۔ چنانچہ مصنف لکھتا ہے:
’’ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انقلابی اصول ایک نہایت اہم صورت واقعی سے ٹکراتا ہے۔ یعنی اس حقیقت سے کہ حیاتیات (Biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں ہے اور دونوں پر یکساں بارنہیں ڈالا گیا ہے۔‘‘
(Anton Nemilov, The Biological Tragedy of Woman (London, 1932).
فطرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہی نہیں ہوتا کہ وہ چیز عملاًحاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ یقینی طور پر اس کی وجہ سے کئی نقصان سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ فطرت نے کسی چیز کو جہاں رکھا ہے وہی اس کی اصل جگہ ہے۔ اور جب کسی چیز کو اس کے واقعی مقام سے ہٹایا جائے تو اس کے نتیجہ میں خرابی کا پیدا ہونا لازمی ہے۔
یہی چیز عورت کے معاملہ میں ہوئی۔ عورت کو مرد کے مساوی بنا نے کے لیے گھر سے باہر نکالا گیا۔ اس سے یہ تو نہیں ہوا کہ عورت فی الو اقع مرد کے مساوی ہوجاتی۔ البتہ اس کو زندگی کے ہر موڑ پر مردوں کے ساتھ کھڑا کردینے کا انجام یہ ہوا کہ فواحش کا سیلاب امنڈ آیا۔
مذکورہ بالا مصنف لکھتا ہے:
’’سچی بات تویہ ہے کہ تمام عُمال (workers) میں صنفی انتشار (sexual anarchy) کے آثار نمایا ں ہوچکے ہیں۔ یہ ایک نہایت پُر خطرحالت ہے جو سو شلسٹ نظام کو تباہ کر نے کی دھمکی دے رہی ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس محاذ پر جنگ کرنے میں بڑی مشکلات ہیں۔ میں ہزار ہا ایسے واقعات کا حوالہ دے سکتا ہوں جن سے ظا ہر ہوتا ہے کہ شہوانی بے قیدی (sexual licentiousness) نہ صرف ناواقف لوگوں میں بلکہ طبقہ عُمال کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عقلی حیثیت سے تر قی یافتہ افراد میں بھی پھیل گئی ہے۔ (102-3) ‘‘
روسی مصنف نے یہ بات پچاس سال پہلے کہی تھی۔ مگر بعد کے سالوں نے اس کی مزید تصدیق کی ہے۔ اس کے الفاظ آج مزید اضافے کے ساتھ جدید معاشرہ کے لیے صحیح ہیں وہ کسی اعتبار سے غلط ثابت نہیں ہوئے۔
جدید انسان نے عورت اور مرد کے قدیم تصور کو دقیانوسی قرار دیا۔ اور عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات قائم کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ فطرت (Nature) سے جنگ کرنا تھا۔ یہ حقیقت واقعہ سے ٹکرانا تھا، اس کا نتیجہ الٹا ہوا۔ اس کے نتیجے میں دونوں صنفوں کے درمیان مساوات کا مقصد توحاصل نہیں ہوا۔ البتہ اس مصنوعی کوشش کا یہ نقصان ہوا کہ معاشرہ کے اندر نئی نئی برائیاں پیداہوگئیں۔
چند مثالیں
مغربی تہذیب نے عورت کے معاملہ میں فطرت سے جو انحراف کیا، اس کے بڑے عجیب اور مہلک نتائج پیدا ہوئے۔ذیل میں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں جن سے اس معاملہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑے گی۔
