باب اوّل

ایک جائزہ

سر جیمزجینز (1877-1946) کی ایک کتاب ہے جس کا نام انھوں نے پُراسرار کائنات (The Mysterious Universe) رکھا ہے۔ یہ موجودہ کائنات کی صحیح ترین تعبیر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری محدودعقل کی نسبت سے پوری کائنات ایک پُراسرار کائنات ہے۔انسان اپنی عقل سے صرف قیاسات قائم کرسکتا ہے، وہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔

کائنات کی اسی پراسراریت نے قدیم زمانے میں  وہ چیز پیدا کی جن کو اب خرافات (Myths) کہاجاتا ہے۔ انسان نے محض قیاس و گمان کے تحت بہت سے فر ضی عقیدے بنا لیے۔یہ قیاسات بڑھتے رہے یہاں تک کہ پوری انسانیت پرچھا گئے۔

ہر زمانے میں  انسان کا ایک نظامِ عقائد ہوتا ہے۔ اسی نظامِ عقائد کے مطابق اس کی سوچ اور اس کے عمل کا نقشہ بنتا ہے۔ قدیم زمانہ میں  عقائد کا یہ نظام اوہام و خرافات (Myths) پر قائم تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں  پہلی بار انسان کا نظامِ عقائد بدلا اور اوہام کے بجائے حقائق کو اہمیت دی جانے لگی۔ یہ انقلاب اسلام کے زیر اثرہوا۔

یہ اوہام کائنات کی توجیہ کے لیے وجود میں  آئے۔ خداؤں نے کس طرح آسمانوں، زمین، نباتات اورجانوروں اور انسانوں کو پیدا کیا۔ انسانی اداروں اور عالمی نظام کی خدائی اصل کیا ہے۔کامیابی اور ناکامی کے خدائی ضابطے کیا ہیں۔ ان بنیادی سوالوں کے جواب کے لیے توجیہی اوہام وجود میں  آئے۔ مثال کے طور پر مرد اور عورت کے درمیان کشش اور اس کے نتیجے میں  شادی کا ادارہ وجود میں  آنا۔ اس کی توجیہ اس فرضی قصہ سے کی گئی کہ ابتداء میں  مرد ہی واحد مخلوق تھا۔اس کے بعد وہ دو حصوں میں  تقسیم ہوگیا— ایک مرد اور دوسرے عورت۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی طرف کھنچتے ہیں تاکہ اپنی ابتدائی وحدت کو دوبارہ حاصل کر سکیں۔ ارسٹوفین نے جنسی کشش کے اسی نظر یہ کو اپنی کتاب میں  بیان کیا ہے۔ با ئبل کے باب پیدائش میں  بھی یہی نظریہ مشہور افسانہ کی صورت میں  بیان ہوا ہے کہ آدم کے جسم سے ایک پسلی نکالی گئی اور اسی سے ان کی بیوی حوّا بنائی گئیں۔ اور چوں کہ عورت کو مرد کے اندر سے نکالا گیاہے، مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑ دیتا ہے اور اپنی بیوی سے مل جاتا ہے تاکہ دونوں دوبارہ ایک جسم ہوجائیں:

Myths were developed to account for the cosmos. How did the gods bring heavens, earth, plants, beasts and men into existence? What is the divine origin of human institutions and of the ecumene? What divine process is responsible for prosperity or failure? To explain such basic questions etiological (origin or causal) myths were developed. For example, the attraction between man and woman (and the consequent institution of marriage) is explained by the myth that primeval man was one creature, subsequently divided into two parts, male and female, which are attracted to one another to regain their pristine unity. Aristophanes expresses this theory of sexual attraction in Plato’s Symposium. Genesis has the same theory in the familiar myth that a rib, taken out of Adam, was fashioned into Eve; and precisely because woman was taken out of man, man forsakes his father and mother to cleave unto his wife so that they become    ‘‘one flesh’’. (Gen. 2:23-24)

(Encyclopedia Britannica, 1984. V- 12, pp. 919-20)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion