غیر فطری مساوات

ایڈورڈولیم نے قرآن کے منتخب حصّوں کا انگریزی ترجمہ تیار کیاتھا جو پہلی بار1843ء میں  لندن سے چھپاتھا۔ اس کتاب کے دیبا چہ میں  انگریز مستشرق نے لکھا کہ اسلام کا سب سے کمزور پہلو اس کا عورت کو کم تر درجہ دینا (degradation of woman) ہے۔ اس کے بعد سے اب تک اس بات کو باربار دہرایاگیا ہے۔ یہ بات اتنی عام ہوئی کہ نہ صرف اسلام کے کھلے دشمن اس کو دہراتے ہیں بلکہ اسلام کا اعتراف کرنے والے نسبتاً منصف مزاج مورخین ، مثلاًجے۔ایم رابرٹس جیسے لوگ بھی اس کاتذکرہ اس طرح کرتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی ثابت شدہ واقعہ ہو۔

اس کتاب کے دوسرے مقامات پر ہم نے تفصیل کے ساتھ دکھایا ہے کہ یہ الزام سراسر بے بنیادہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس الزام کے با لکل برعکس اسلام نے عورت کے مرتبہ کو بڑھایا ہے۔زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں  صرف دو تہذیبیں ہیں۔جنھوں نے عورت کے مرتبہ کو گھٹا یا۔ ایک ،قدیم مشرکانہ تہذیب ، اور دوسرے جدید ملحدانہ تہذیب ، اول الذ کرنے نظری اور عملی دونوں حیثیت سے اور ثانی الذکرنے عملی حیثیت سے۔

 قدیم مشرکانہ تہذیب اوہام وخرافات (myths)پر قائم تھی۔ چیز وں کے بارے میں فرضی طورپرکچھ بے بنیاد رائیں قائم کرلی گئی تھیں او ر زندگی کے تمام معاملات کو انھیں مفروضات کے تابع کردیاگیاتھا۔ قدیم انسان نے کچھ چیزوں (مثلاً سورج اور چاند کو) فرضی طور پر بڑا سمجھ لیا۔ اور انھیں پوجنے لگا۔ اسی طرح اس نے کچھ چیزوں کو چھوٹا سمجھ لیا اور ان کو حقیر بنادیا۔انھیں حقیر چیزوں کی فہرست میں  عورت بھی شامل تھی۔ عورت کے یہاں ماہواری کاآنا، عور ت کا جنگ میں  نہ لڑسکنا، اس طرح کی باتوں کی توہماتی تعبیر کر کے یہ سمجھ لیاگیا کہ عورت ایک حقیر جنس ہے اور اس کے ساتھ مرد کے مقابلہ میں  کم تر درجہ کا سلوک کرنا چاہیے۔

جدید مغربی تہذیب نے نظری طور پر بظاہر عورت کا درجہ بلند کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے کہاکہ عورت اور مرد دونوں ہر حیثیت سے برابر ہیں۔ ہروہ کام جو مردکرتاہے وہی کام عورت بھی کر سکتی ہے۔اس لیے عورت کو گھر سے باہر نکل کر زندگی کےہر شعبہ میں  مرد کے برابر مقام حاصل کرنا چاہیے۔ اس نظریہ کے علم برداروں نے جو نعرے اختیار کیے،ان میں سے ایک نعرہ یہ تھا کہ کافی نہ بناؤ، پالیسی بناؤ:

Women! Make Policy not coffee.

عورت کے بارے میں  جدید تہذیب کا یہ نظریہ بظاہر عورت کا درجہ بلند کرنے کے ہم معنی ہے۔ مگرعملی طور پر وہ صرف عورت کا درجہ گرانے کے ہم معنی ثابت ہوا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ برابری کے خوبصورت دعووں کے باوجود زندگی کے تمام جدید شعبوں میں  عورت کا درجہ مرد سے کم ہے۔ اگلے باب ’’مغربی عورت‘‘ میں  ہم نے اس کو تفصیل کے ساتھ دکھا یا ہے۔

اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ ، ایک لفظ میں ، مساوات کا غلط تصور ہے۔ مردوں کے درمیان مساوات ایک تسلیم شدہ نظریہ ہے جس میں  کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن اگر ایک مرد اور دوسرے مرد کے درمیان مساوات کا مطلب یہ ہوکہ ہر میدان میں  ہر مرد دوسرے مرد کا مقابلہ کر سکتاہے تویہ نظریہ سراسر بے معنی ہوجائے گا۔

انسانی مساوات کا مطلب اگرکچھ لوگ یہ سمجھ لیں کہ ہر آدمی کو ہر شعبہ میں  کام کرنا چاہیے تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس قسم کی غیر فطری مساوات کا کوئی علم بردار آئن سٹائن کو ایک ایسی آبادی میں لے جائے گا جہاں صرف باکسر (boxers)بستے ہوں اور وہاں وہ آئن سٹائن کو باکسروں کے ساتھ ’’عمل‘‘ میں  لگا دے گا۔ ظاہرہے کہ اس قسم کی مساوات کا نتیجہ صرف غیرمساوات کی صورت میں  برآمد ہوگا۔ یونیورسٹی یا سائنس کانفرنس میں  جو آئن سٹائن ٹاپ پر نظر آرہا تھا وہ باکسروں کی مقابلہ گاہ میں  کم تردرجہ کا انسان بن کر رہ جائے گا۔

اس سے معلوم ہواکہ مساوات کا مطلب عمل میں  مساوات نہیںبلکہ حیثیت میں  مساوات ہے۔مساواتِ انسانی یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی وہی کام کرے جو کام دوسرا آدمی کررہا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہرآدمی کو یکساںعزت ملے، ہر ایک کو یکساں احترام کی نظر سے دیکھا جائے۔ ہر ایک کے ساتھ یکساں اخلاقی سلوک کیاجائے۔

مرد اور عورت کے معاملہ میں  مغرب کی غلطی یہی ہے کہ اس نے دونوں جنسوں کے درمیان مذکورہ بالاقسم کی غیر فطری مساوات قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ مرداور عورت کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی عدم مساوات قائم ہوگئی۔

مرد اور عورت دوالگ الگ جنسیں ہیں اور دونوںکی تخلیق الگ الگ مقاصد کے تحت ہوئی ہے۔ دونوں کو اگر ان کی تخلیق کے اعتبار سے ان کے اپنے میدان میں  رکھا جائے تو دونوں اپنے اپنے میدان میں  مساوی طور پر کامیاب رہیں گے۔ اور اگر مرد اورعورت دونوں کو ایک ہی میدان میں  ڈال دیا جائے تو عورت وہ کام نہ کر سکے گی جو مرد اپنی تخلیقی صلاحیت کے اعتبار سے زیادہ بہتر طورپر کر سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ عورت مرد کے مقابلے میں  کم درجہ کی جنس بن کر رہ جائے گی۔

ایک لڑکی اپنے گھر سے بگڑکر بھاگ گئی۔ وہ ایک شہر میں  پہنچی۔ وہ سمجھتی تھی کہ وہاں وہ مردوں کی طرح کمائی کر کے اپنی آزاد زندگی بنا سکے گی۔ مگر مردانہ شعبوں میں  سے کسی شعبہ میں اسے جگہ نہ مل سکی۔ اس کے بعد جو چیز اس کے پاس باقی رہ گئی تھی وہ اس کی نسوانیت تھی۔ اس نے اپنی نسوانیت کو بازار کا سودا بنا دیا۔اس کو آزاد زندگی مل گئی۔ مگر یہ آزاد زندگی اپنے آپ کو مرد کا سامان تفریح بنانے کی قیمت پرتھی ، نہ کہ سماجی زندگی میں  ’’برابری ‘‘ کا درجہ حاصل کرنے کی قیمت پر۔

یہی حال زیادہ بڑے پیمانہ پر مغربی عورت کا ہوا ہے۔ مغرب نے اپنی عورتوں میں  یہ مزاج بنایا کہ وہ باہر اگر مردوں کی طرح کمائیں۔ مگر عورت جب گھر سے نکل کر باہر آئی تو اس کو معلوم ہوا کہ مو جودہ شعبوں میں  وہ مرد کی طرح کام کر کے اپنی قیمت حاصل نہیں کرسکتی۔ اب کمائی اور آزادانہ زندگی حاصل کرنے کی خاطر اس کے پاس دوسرا بدل صرف ایک تھا اور وہ اس کا نسوانی جسم تھا۔ مذکورہ لڑکی کی طرح اس کو بصھی اپنے نسوانی جسم کو بازار کا سودا بناناپڑا۔ اس غیر فطری اور غیراخلاقی عمل سے عورت کو نام نہاد برابر ی کا درجہ تو نہیں ملا۔ البتہ اس کے نتیجے میں  بے شمار نئے نئے مسائل پیداہوگئے۔ ان ميں ایک مسئلہ وہ ہے جس کو عریانیت (pornography)کہاجاتاہے۔ عریانیت کو ئی علاحدہ مسئلہ نہیں ، یہ بے قید آزادی کا وہ لازمی نتیجہ ہے جس کو اس سے جدانہیں کیا جا سکتا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion