قانونِ توازن
ا ب دیکھیے کہ وہ کون سا دین (یا خدائی قانون) ہے جو خدا نے بقیہ کائنات میں نافذکر رکھا ہے وہ قرآن کے لفظ میں میزان (balance) کا قانون ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:
وَالسَّمَاءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيزَانَ أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ(55:7-9)۔یعنی،اور اللہ نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان رکھی کہ تم میزان میں تجاوز نہ کرو اور تول کو ٹھیک رکھو انصاف کے ساتھ اور وزن میں کمی نہ کرو۔
‘‘He raised the heaven on high and set the balance, that you might not transgress the balance. Give just weight and full measure.’’
کائنات کو ئی ایک چیز نہیں وہ بہت سی چیز وں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی تمام چیزیں متحرک ہیں۔ ایٹم سے لے کر شمسی نظام یا کہکشاں تک کوئی چیز ساکن نہیں۔ ان متحرک اجزاء کو صحیح کار کردگی پر باقی رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ ہر ایک کے عمل کی ایک حد ہو، اور مختلف چیزوں کے درمیان صحیح ترین توازن وتناسب قائم رکھا گیا ہو۔ خدانے چیزوں کو پیدا کرنے کے ساتھ ان کے درمیان باقاعدہ توازن بھی قائم کردیا۔ اسی توازن کا دوسرا نام قانون فطرت (Law of Nature)ہے۔
اسی طرح انسانی دنیا بھی بہت سے افراد کا مجموعہ ہے، یہاں بھی ہر فرد متحرک ہے، ایسی حالت میں ضروری تھا کہ ہر ایک کی حد مقرر کردی جائے۔ مختلف افراد کے درمیان وہ توازن قائم کردیا جائے جو اس با ت کی ضمانت ہوکہ فرد دوسروں کے لیے مسئلہ بنے بغیر اپنی تکمیل کر ے گا۔ وہ دوسروں سے غیر ضروری ٹکراؤ کیے بغیر اپنا سفرجاری رکھے گا۔
یہی وہ قانونِ توازن ہے جو پیغمبروں کے ذریعہ انسان پر کھولا گیا ہے۔ چنانچہ قرآن میں کہاگیاہے:
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (57:25)۔یعنی، ہم نے اپنے رسول کو واضح دلیلوں کے ساتھ بھیجااور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ا ﷲتعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ایک میزانِ مکتوب اتاری۔ اوراس کے حق میں دلائل بھی فراہم کیے تاکہ لوگ اس کی صداقت وواقعیت کا یقین کر سکیں اور پھر اپنی زندگی کو اس میزان (قانون عدل ) کے مطابق ڈھالیں۔ کائنات کی بقیہ چیزوں کے لیے خداکا جوقانون توازن ہے وہ ان کے اندر داخلی طور پر شامل ہے مگر انسان کے لیے وہ ایک خارجی کتاب میں لکھ کر اس کو دیا گیاہے۔
