فطرت کا فیصلہ
مغربی تہذیب کے مخصوص نظریات میں سے ایک نظریہ مرد اور عورت کی مساوات تھا۔ مغربی دنیا میں پچھلے سوسال سے اس نظریہ کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ مگر یہ تجربہ سراسر نا کام ثابت ہوا ہے کسی بھی شعبہ میں یہ ممکن نہ ہوسکا کہ مرد اور عورت کو برابر کا درجہ دیا جا ئے۔ قانون کے اعتبار سے برابر کا درجہ پانے کے باوجود عملی طورپر دونوں سماج کے اند ربرابر کا مقام حاصل نہ کر سکے۔
اس فرق کے بارے میں ابتداء ًیہ کہا گیا کہ یہ فرق ماحول (Environment) کا پیداکردہ ہے۔مگر جدید تحقیقات اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر رہی ہیں۔مختلف شعبوں میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ یہ فر ق حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام تر پیدائشی ہے ، نہ کہ تاریخی۔
نیویارک کے نیوزویک (18مئی 1981)میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس میں مختلف امریکی محققین کے نتائج تحقیق درج ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی۔ عورت اور مرد کی بناوٹ کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد محققین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مرد کا مسائل کو حل کرنے میں زیادہ بہتر ثابت ہونا، عورتوں کا جذباتی طور پر سوچنا ، لڑکیوں کے مقابلہ میں لڑکوں کا زیادہ بہادرانہ انداز سے کھیلنا، ریاضیات میں مردوں کا زیادہ برتر رہنا، یہ سب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے ، نہ کہ محض ماحول کا۔
محققین کا خیال ہے کہ قائدانہ خصوصیتیں (leadership capacities)مردوں میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ جدید تحقیقات لوگوں کو اس عقیدہ کی طرف لے جارہی ہیں کہ سابقہ خیال کے برعکس، پرورش (Nurture)نہیں بلکہ فطرت (Nature) وہ اصل عامل ہے جس نے مرد اور عورت کے عمل میں فرق پیدا کیا ہے۔ عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لڑنے بھڑنے کی صلاحیت عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے اندرزیادہ ہوتی ہے۔ محققین کا خیا ل ہے کہ دونوں کے ہارمون(Hormone) جدا جدا ہوتے ہیں اور وہی دونوں کے درمیان فرق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ محققین نے نَر کے ہارمون (Hormone Testosterone) کو مادہ کے جسم میں داخل کیا تو مادہ کے اندرنرکی خصوصیات محسوس کی جانے لگیں۔ کچھ لڑکیوں میں پیدائش سے پہلے مردانہ ہارمون داخل کردیے گئے۔ چنانچہ پایا گیا کہ پیدائش کے بعد ان میں گڑیوں سے کھیلنے کا شوق بہت کم تھا، ان میں لڑکوں کی طرح جارحیت کا مزاج زیادہ پایا گیا۔
محققین نے پایا ہے کہ ہارمون خود دماغ کے ڈھانچہ کو بد ل دیتے ہیں۔نر اورمادہ کے دماغ (brain)میں فرق پایا گیا ہے اور اس کا سبب دونوں کے ہارمون کا فرق ہے۔ ان تحقیقات کے ذریعہ دونوں صنفوں کے درمیان ناقابلِ انکا ر فرق (undeniable difference) موجود ہے۔
یہ تحقیقات واضح طور پر ثابت کر رہی ہیں کہ عورت اور مرد کی تخلیق میں فرق ہے اور جب دونوں میں فرق ہے تو دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہونا چاہیے۔ مگر جو لوگ لمبی مدت تک پچھلے خیال کے ساتھ وابستہ رہے ہیں وہ ابھی اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ایک مغربی عالم نے کہا
‘‘Whether these physiological differences destine men and women for separate role in society is another and far more delicate question.’’
کیا یہ عضویاتی فرق مردوں اور عورتوں کے لیے سماج کے اندر الگ الگ کردار مقرر کرتے ہیں، یہ ایک علاحدہ اور زیادہ پیچیدہ سوال ہے۔ (ریڈرس ڈائجسٹ ،اکتوبر 1981)
اس سے پہلے امریکا کے ایک اور ہفتہ وار میگزین ٹائم (20 مارچ 1976ء)نے اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ میگزین کے وسیع ادارتی اسٹاف میں 20 تعلیم یافتہ خواتین کو مقرر کیاگیا کہ وہ’’جدید امریکا میں عورتوں کی حالت ‘‘ کا جائزہ لیں۔انھوں نے ہر میدان میں اس کا جائزہ لیا اور ہرشعبہ کے ماہرین سے مددلی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک مفصل رپورٹ تیار کی جو خصوصی نمبر کے طور پرمذکورہ میگزین میں شائع ہوئی۔ اس رپورٹ کا خلاصہ یہ تھا کہ سائنس کے تمام متعلقہ شعبوں کی تحقیق کے مطابق مرد جنس غالب (Dominant Sex) ہے۔
ٹائم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سوسالہ جدوجہد کے باوجود امریکی عورت ابھی تک اسی مقام پر ہے جہاں وہ سوسال پہلے تھی۔ مرد اب بھی عملاً امریکا میں جنس برتر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ قدیم نظر یہ کے مطابق ، سماجی نہیں ہے بلکہ تمام تر حیاتیا تی اور نفسیاتی ہے۔ مغرب میں آزادی ِنسواں کی تحریک سوسالہ تجربہ کے بعد اب اس رائے پر پہنچی ہے کہ حیاتیاتی حقائق عورت کو مرد کے برابر مقام دینے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ قدرت کا ظلم ہے ، نہ کہ سماج کا ظلم۔ اس لیے اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ سائنس آف ایوجینکس کے ذریعہ رحم مادر میں جینٹک کوڈ کو بدل دیا جائے اور اس طرح نیا حیاتیاتی نظام وجود میں لایا جائے جس میں نئے قسم کی عورتیں پیدا ہوں اور مردوں کی برتری ختم ہوکر یکساں صنفی صلاحیت کا سماج بن سکے— یہ تجویزایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص بطور خود یہ نظر یہ قائم کرے کہ مچھلی اور بکر ی دونوں ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے مچھلی کو بھی دودھ دینا چاہیے جس طرح بکری دودھ دیتی ہے۔ اور جب کوشش کے باوجود مچھلی دودھ نہ دے تو وہ کہے کہ ہم میڈیکل سائنس کے ذریعہ نئی قسم کی مچھلیاں پیدا کریں گے جو بکری کی مانند دودھ دینے لگیں۔
