چند مثالیں

یہاں ہم دو مثالیں نقل کرتے ہیں۔ اس سے بیک وقت دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اوہام و خرافات میں  اور علم میں  کیا فرق ہے۔ نیز یہ کہ اوہام و خرافات کے قدیم دور کو ختم کر کے نیا دور لانے کا کام اصلاً اور اولاً جس نے انجام دیا وہ اسلام ہے۔

ہماری دنیا میں  جو واقعات ہوتے ہیں ان میں  سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو گرہن کہا جاتا ہے کبھی سورج کو گرہن لگتا ہے اور کبھی چاند کو۔ موجودہ زمانے میں  اس کے فلکیاتی اسباب معلوم کر لیے گئے ہیں۔ مگر قدیم زمانےمیں  انسان اس کی حقیقت سے ناواقف تھا۔ اس لیے اس نے فرضی قیاس کے تحت عجیب عجیب نظریے قائم کر لیے۔ مثلاً قدیم چین کے لوگوں کا خیال تھا کہ گرہن کا سبب ایک آسمانی اژدها ہے۔ جب کبھی سورج گرہن لگتا تو چینی لوگ سمجھتے کہ سورج کو ایک بہت بڑا اژدہا نگل رہا ہے۔ اس کے بعد ساری آبادی اس کے ساتھ مل کر آخری ممکن حد تک شور کرتی تاکہ وہ سورج کو بچا سکے اور وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے:

When an eclipse occurred, the Chinese thought that the sun was being swallowed by a huge dragon. The whole population joined in making as much noise as possible to scare it away. They always succeeded! (Iain Nicolson, Astronomy, London, 1970. p. 7)

گرہن ختم ہونے کا مقرر وقت ہوتا ہے۔ وہ آخرکا ر اپنے وقت پر ختم ہوجاتا ہے۔ شور کرنے والے لوگ جب دیکھتے کہ کچھ دیر کے بعد گرہن ختم ہو گیا تووہ سمجھتے کہ وہ ان کے شور کرنے کی وجہ سے ختم ہواہے۔ چنانچہ اگلے گر ہن کے موقع پر وہ مزید یقین کے ساتھ شور کرنے میں  لگ جاتے۔

یہی وہ زمانہ ہے جب کہ اسلام آیا۔ مگر اسلام نے سورج گرہن کے بارے میں  زمانے کے بالکل خلاف وہ بات کہی جو آج کی تحقیقات کے عین مطابق قر ار پاتی ہے۔

 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صاحبزادےکا نام ابراہیم تھا۔ تقریباً ڈیڑھ سال کی عمرمیں  شوال 10 ھ میں  ان کا انتقال ہوگیا۔ روایات میں  آتا ہے کہ جس روز ابر اہیم کا انتقال ہوا۔ اسی روز سورج گرہن واقع ہوا۔ قدیم قومو ں میں  سورج گرہن کے بارے میں  عجیب عجیب اعتقادات تھے۔ایک عقیدہ یہ تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت پر واقع ہوتے ہیں۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ جس دن پیغمبر کے صاحبزادے ابراہیم کا انتقال ہوا اسی دن سورج گرہن پڑا تومدینہ میں  کچھ لوگوں نے کہا کہ ابر اہیم کی موت کی وجہ سے یہ سورج گرہن ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور اس کی حقیقت بیان فرمائی:

فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: ‌إِنَّ ‌الشَّمْسَ ‌وَالْقَمَرَ ‌آيَتَانِ ‌مِنْ ‌آيَاتِ ‌اللهِ، لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللهَ وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا(صحيح البخاري، حدیث نمبر1004)۔

آپ نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ آپ نے اللہ کی حمد کی اور اس کی تعریف بیان کی۔ پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں  سے دو نشانی ہیں۔ ان میں  گرہن کسی شخص کی موت اور اس کی زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ پس جب تم اس کو دیکھو تو اللہ کو پکارو، اور اس کی تکبیرکرو اور صلٰوۃ و سلام بھیجو اور صدقہ کرو۔

قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم:هَذِهِ الآيَاتُ الَّتِي يُرْسِلُ اللهُ، لاَ تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنْ يُخَوِّفُ اللهُ بِهِ عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ وَدُعَائِهِ وَاسْتِغْفَارِهِ (صحيح البخاري،حدیث نمبر1059، صحيح مسلم، حديث نمبر 912)۔

رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ نشانیاں جو اللہ بھیجتا ہے وہ کسی شخص کی موت یا زندگی کے سبب سے نہیں ہوتیں۔ بلکہ اللہ ان کے ذریعہ سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ پس جب تم ایسی چیز دیکھو تو اللہ سے ڈر کر اس کا ذکر کرو اوراس سے دعا کرو اور اس سے استغفار کرو۔

اس قسم کے بے بنیاد اوہام وخرافات کو تاریخ میں  پہلی باراسلام نے ختم کیا۔

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے جو تاریخ کی کتابوں میں  حسب ذیل طریقہ سے آیا ہے:

رُوِينَا مِنْ طَرِيقِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَالَ:لَمَّا افْتُتِحَتْ مِصْرُ أَتَى أَهْلُهَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ - حِينَ دَخَلَ بُؤْنَةُ مِنْ أَشْهُرِالْعَجَمِ – فَقَالُوا: أَيُّهَا الْأَمِيرُ، لِنِيلِنَا هَذَا سُنَّةٌ لَا يَجْرِي إِلَّا بِهَا. قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: إِذَا كَانَتِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ هَذَا الشَّهْرِ، عَمَدْنَا إِلَى جَارِيَةٍ بِكْرٍ مِنْ أَبَوَيْهَا، فَأَرْضَيْنَا أَبَوَيْهَا، وَجَعَلْنَا عَلَيْهَا مِنَ الْحُلِيِّ وَالثِّيَابِ أَفْضَلَ مَا يَكُونُ، ثُمَّ أَلْقَيْنَاهَا فِي هَذَا النِّيلِ. فَقَالَ لَهُمْ عَمْرٌو: إِنَّ هَذَا مِمَّا لَا يَكُونُ فِي الْإِسْلَامِ، إِنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا قَبْلَهُ. قَالَ:فَأَقَامُوا بُؤْنَةَ وَأَبِيبَ وَمِسْرَى وَالنِّيلُ لَا يَجْرِي قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، حَتَّى هَمُّوا بِالْجَلَاءِ، فَكَتَبَ عَمْرٌو إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِذَلِكَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ:إِنَّكَ قَدْ أَصَبْتَ بِالَّذِي فَعَلْتَ، وَإِنِّي قَدْ بَعَثْتُ إِلَيْكَ بِبِطَاقَةٍ دَاخِلَ كِتَابِي، فَأَلْقِهَا فِي النِّيلِ. فَلَمَّا قَدِمَ كِتَابُهُ أَخَذَ عَمْرٌو الْبِطَاقَةَ فَإِذَا فِيهَا: مِنْ عَبْدِ اللهِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى نِيلِ أَهْلِ مِصْرَ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا تَجْرِي مِنْ قِبَلِكَ فَلَا تَجْرِ، وَإِنْ كَانَ اللهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ هُوَ الَّذِي يُجْرِيكَ، فَنَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُجْرِيَكَ. قَالَ: فَأَلْقَى الْبِطَاقَةَ فِي النِّيلِ فَأَصْبَحُوا يَوْمَ السَّبْتِ، وَقَدْ أَجْرَى اللهُ النِّيلَ سِتَّةَ عَشَرَ ذِرَاعًا فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ، وَقَطَعَ اللهُ تِلْكَ السُّنَّةَ عَنْ أَهْلِ مِصْرَ إِلَى الْيَوْمِ (البداية والنهاية،ج10،ص 97)۔

ابن لہیعہ نے کہا کہ قیس بن حجاج نے ایک صاحب سے سنا ہوایہ واقعہ بیان کیا کہ جب مصرفتح ہوا تو اس کے باشندے حضرت عمروبن العاص کے پاس آئے اور وہ وہاں امیر تھے۔ جب عجمی مہینو ں میں  سے بوونہ کا مہینہ آیا تو انھوں نے کہا کہ اے امیر، ہمارے اس دریائے نیل کے لیے ایک رواج ہے ، وہ اس کے بغیر نہیں بہتی۔ انھوں نے پوچھا وہ کیا ہے۔ اہل مصر نے کہا کہ جب اس مہینہ کی بارہ راتیں گزرجاتی ہیں تو ہم ایک ایسی کنواری لڑکی کا قصد کرتے ہیں جو اپنے ماںباپ کے درمیان اکیلی ہو۔ پھر ہم اس کے ما ں باپ کو راضی کرتے ہیں اور اس کو زیور اور کپڑا پہناتے ہیں جو سب سے اچھا ممکن ہو۔ پھر ہم اس کو دریائے نیل میں  ڈال دیتے ہیں۔ حضرت عمر وبن العاص نے ان سے کہا کہ اسلام میں  ایسا نہیں ہوسکتا۔ اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں کو ختم کر دیتا ہے۔

پھر اہلِ مصر بوونہ کے مہینہ میں  رکے رہے مگر دریائے نیل میں  پانی نہیں آیا۔ یہاں تک کہ انھوں نے ارادہ کیا کہ اس علاقہ کو چھوڑ کر چلے آئیں۔ اب عمروبن العاص نے اس کی بابت حضرت عمر بن الخطاب کو لکھا۔ حضرت عمر نے ان کو لکھاکہ جو تم نے کیا صحیح کیا۔ اور میں  اپنے اس خط کے ساتھ تمہارے لیے ایک پرچہ بھیج رہاہوں تم اس کو نیل میں  ڈال دو۔

جب خلیفہ کا خط پہو نچا تو حضرت عمر وبن العاص نے پر چہ کو لے کر اسے کھولا تو اس میں  لکھا ہواتھا:

خدا کے بند ے عمر امیر المومنین کی طرف سے مصر والوں کے دریائے نیل کے نام، امابعد ، اگر تو خود اپنی طرف سے جاری ہوتا تھا تو تو نہ جاری ہو۔ اور اگرا ﷲ واحد و قہار تھا جو تجھ کو جاری کرتا تھا تو ہم اﷲسے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تجھ کو جاری کر دے۔

راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر وبن العاص نے یہ پرچہ دریائے نیل میں  ڈال دیا۔ لوگوں نے اگلے دن صبح کو دیکھا توا ﷲنے نیل کو جاری کردیا تھا۔ ایک ہی رات میں  اس کے اندر 16 ہاتھ اونچا پانی آگیا اس سال اﷲنے مصر والوں سے اس رواج کو ختم کر دیا اور وہ اب تک ختم ہے۔ (البداية والنهاية،ج10،ص 97)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion