عورت معاشرہ میں
قدیم معاشروں میں تقریباً ساری دنیا میں یہ صورت حال تھی کہ عورت کو مرد کے مقابلے میں کم تر درجہ حاصل تھا۔ قدیم یونان میں ، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا(1984)کے الفاظ میں ، عورت کا مرتبہ اتنا گرادیا گیاتھا کہ اس کی حیثیت بچہ پالنے والی غلام کی ہو کر رہ گئی تھی۔ عورتوں کو ان کے گھروں میں بند کردیا گیاتھا۔وہ تعلیم سے محروم تھیں۔ ان کا کوئی حق نہ تھا۔ ان کے شوہر ان کو بس گھر کے سامانوں میں سے ایک سامان سمجھتے تھے:
‘‘In Athens, woman’s status had degenerated to that of slaves. Wives were secluded in their homes, had no education and few rights, and were considered by their husbands no better than chattels.”
قدیم روم میں ایک عورت کی قانونی حیثیت کامل محکومی تھی۔اولاً وہ اپنے باپ یا بھائی کی محکوم ہوتی تھی اوربعد کو اپنے شوہر کی۔ شوہرکو اپنی بیوی کے اوپر پدرانہ اختیار حاصل ہوتا تھا۔ قانون کی نظر میں عورت ضعیف العقل شمار ہوتی تھی:
‘‘In ancient Rome, a woman’s legal position was one of complete subordination, first to the power of her father or brother and later to that of her husband, who held paternal power over his wife. In the eyes of the law, women were regarded as imbeciles.”
(Encyclopedia Britannica, 19/909)
عیسائیت نے بھی صورت حال کو کچھ بہتر نہیں بنایا۔ ہر معاملہ میں ،حتی کہ مذہبی معاملہ میں بھی عورت کو کم تر درجہ دیا گیا۔ کر نتھیوں کے نام ،پولس رسول،کے پہلے خط میں درج ہےپس فرشتوں کے سبب سے عورت کو چاہیے کہ اپنے سرپر محکوم ہونے کی علامت رکھے۔)گنتی 1۔ کرنتھیوں، 11(10:
قدیم زمانے میں عورت کے ساتھ غلط سلوک کی وجہ وہی تھی جودوسرے معاملات میں قدیم انسان کے یہاں پائی جاتی ہے۔ یعنی توہماتی عقائد قدیم زمانے میں ہر معاملے میں انسان نے کوئی نہ کوئی بے بنیاد عقیدہ (irrational belief) قائم کرلیا تھا۔ یہی بےبنیاد عقائد قدیم لوگوںکے لیے مذہب کی حیثیت رکھتے تھے اور انھوں نے سارے انسانی سلوک کو بگاڑ رکھا تھا۔
مثلاً قدیم یونانیوں نے عورت کے بارے میں عجیب وغریب طور پر یہ عقیدہ بنالیا تھا کہ اس کے منہ میں کم دانت ہوتے ہیں۔ برٹرینڈرسل نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھاہے— ارسطونے دعویٰ کیا کہ عورتوں کے دانت مردوں سے کم ہوتے ہیں۔ اگر چہ اس نے دو بار شادی کی مگر ایسا کبھی نہیں ہواکہ وہ اپنی بیویوں کے منہ کی جانچ سے اپنے اس بیان کی تصدیق کرے
‘‘Aristotle maintained that women have fewer teeth than men; although he was twice married, it never occurred to him to verify this statement by examining his wive’s mouths.”
(The Impact of Science on Society, 1976, p. 17)
اسی طرح عیسائیت نے عورت کے بارے میں یہ غلط عقیدہ بنالیا کہ وہ آدم کو جنت سے نکالنے کی ذمہ دار ہے۔ عیسائیت میں عورتوں کو بہکانے والی کی نظر سے دیکھا گیا جو کہ آدم کےهبوط کی ذمہ دارتھی۔ اور وہ دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتی تھی
‘‘(In Christianity), they were regarded as temptresses, responsible for the fall of Adam, and as second class human beings.”
(Encyclopedia Britannica, 19/909)
