بے قیدی کے نتائج

عورت کوگھرسے باہر لانا،مرد اور عورت کا آزادانہ اختلاط اور عریانیت کی کثرت کا لازمی نتیجہ شہوانی جذبات کا اشتعال ہے۔ جدید مغرب میں  شہوانی جذبات کا اشتعال لامحدود سطح پر پیداہوا۔ اس لامحدود اشتعال کی تسکین کے لیے نکاح کا طریقہ نا کا فی تھا۔ چنانچہ دھیرے دھیرے آزادجنسی تعلق کا ذہن پیدا ہونا شروع ہو ا۔ ایک نیا لٹر یچر بہت بڑے پیمانہ پر پیدا ہوا جس میں  مرداور عورت کے درمیان آزادانہ جنسی تعلق کو اتنا ہی فطری اور بے ضرر قراردیا گیا جتنا دو دوست کاآپس میں  ہاتھ ملانا۔

اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لو گ نکاح کو بوجھ سمجھ کر اس سے دور ہونے لگے۔ نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں نے نکاح کے بغیر ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ حتی کہ اب ’’غیرشادی شدہ جوڑے‘‘ کی اصطلاح مغرب میں  اسی طرح ایک جائز اصطلاح سمجھی جاتی ہے جیسے شادی شدہ جوڑے کی اصطلاح۔

خدائی شریعت نے عورت اور مرد کے درمیان جو توازن قائم کیا تھا، اس کی بنیاد اس اصول پر تھی کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کا تکملہ (complements) ہیں، وہ ایک دوسرے کامثنیٰ (duplicates) نہیں ہیں۔ موجودہ زمانے میں  آزادیِ نسواں کی تحریک نے اس کے برعکس دعوىٰ کیا۔ اس نے کہا کہ نہیں، عورت اور مرد ایک دوسرے کا مثنیٰ ہیں۔ یعنی جو عورت ہے وہی مردہے اور جومرد ہے وہی عورت ہے۔

اس نظریہ کو موجودہ زمانہ میں  زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ حتیٰ کہ عورت اور مردکے درمیان قائم شدہ وہ توازن ٹوٹ گیا جو سیکڑوں برس سے دونوں کے درمیان پایا جارہاتھا۔ مگر اس کے نتیجے کو دیکھیے تو توازن ٹوٹنے کا کوئی فائدہ انسانیت کو نہیں ملا۔ البتہ اس کے نقصانات اتنے زیادہ ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔

عورت کے معاشی استقلال کے بطن سے سب سے پہلے جو چیز پیدا ہوئی وہ طلاق کی کثرت ہے۔عورت کے بارے میں  جدید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ وہ مرد کے مقابلےمیں  جذباتی(emotional)ہوتی ہے۔ وہ فوری تا ثر کے تحت ناعاقبت اندیشانہ فیصلہ کرسکتی ہے۔صنعتی انقلاب سے پہلے عورت کا معاشی طور پر آزاد نہ ہونا اس کی جذباتیت پر ایک قسم کا روک تھا۔ وہ جب ازدواجی زندگی سے آزردہ ہوتی تھی تو احساس اس کو روک دیتا تھا کہ اگر وہ طلاق لے لے توکہاںرہے گی۔ مگر موجودہ زمانے میں  ایک عورت کے لیے یہ اندیشہ باقی نہ رہا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا(1984)نے بتایا ہے کہ دنیا کے صنعتی ملکوں (industrialized parts of the world) میں  طلاق کی شرح میں  بہت اضافہ ہوگیا ہے، اور اس کی وجہ عورتوں کا معاشی استقلال ہے۔

(Encyclopedia Britannica, Vol. III, p. 586)

 مغربی دنیا میں  طلاقوں کی تعداد خطرناک حد تک زیاد ہ ہوگئی ہے۔ فرانس کے شہروں میں  50 فی صد شادیاں طلاق پر ختم ہوتی ہیں۔ کناڈامیں  ان کی تعداد تقریباً 40 فی صد ہے۔ اسی طرح امر یکہ میں  طلاق کی شرح50 فی صد تک پائی گئی ہے۔ امریکا 10 خواتین میں  چھ وہ هيں جو طلاق کا تجربہ کرچکی ہیں۔ (پلین ٹروتھ مئی 1986)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion