عورت جدید تہذیب میں
جدید مغربی انسان کی اصل مشکل یہ ہے کہ اس نے بے بنیاد طور پر عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات کا عقیدہ بنالیا۔ اس عقیدہ کی بناپر اس کے نزدیک عورت کو مساوی درجہ دینے کے معنی یہ بن گئے کہ اس کو زندگی کے تمام شعبوں میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑا کردیا جائے۔ چوں کہ اسلام عورت اور مرد كا دائره كار الگ الگ قرار ديتا هے، اس ليے جديد انسان يه فرض كرليتا هے كه اسلام نے عورت کوکم تر درجہ دیا ہے۔ اس کے برعکس مغرب میں یہ کہا جارہا ہے کہ عورت کو ہر شعبہ میں مرد کے برابر جگہ دو۔ اس بنا پر جدید انسان نے یہ رائے قائم کرلی کہ مغرب میں اس کو برتردرجہ دیا جارہا ہے۔
مگر عملی صورت حال کیا ہے۔ مغرب کے انتہائی ترقی یافتہ سماج میں بھی عورت کو ایک اعتبارسے عملاً وہی درجہ ملاہوا ہے جو قدیم معاشرہ میں اسے حاصل تھا۔ آج بھی مغرب میں مرد اور عورت کے درمیان عملی تقسیم ہے۔ عورت کے شعبے الگ ہیں اور مر د کے شعبے الگ۔ پچھلے باب میں ہم نے تفصیل سے دکھا یاہے کہ جدید مغرب کے کسی بھی شعبہ میں عورت اور مرد کو عملی طور پر برابری کا وہ درجہ حاصل نہیںجس کا مغرب کے مفکرین نظری طور پر اعلان کرتے رہے ہیں۔
چودہ سوسال پہلے اسلام نے بھی آزادیِ نسواں کی ایک تحریک چلائی تھی۔اس تحریک کا مقصد یہ تھا کہ عورت کو مصنوعی بند شوں سے نکالا جائے اور اس کو وہ مقام دیاجائے جو ازروئے حقیقت اس کو ملنا چاہیے۔ (مثلاً گھر کی جائداد میں دوسرے اہل خاندان کی طرح اس کا وراثتی حصّہ مقرر کرنا)۔ اسلام کی اس تحریک نے عورت کا درجہ بلند کیا۔ بغیر اس کے کہ سماج میں کوئی نیامسئلہ پیداہوا ہو۔ اسلام کا تجربہ وحی کی روشنی میں کیا گیا، اس لیے وہ حدود کے اندر تھا۔ اس کے بر عکس جدید مغرب کا تجربہ عقل کی روشنی میں (زیادہ صحیح الفاظ میں جذبات کے تحت ) کیاگیا، اس لیے وہ حدود کا پابند نہ رہ سکا۔ اس تجربہ نے نئے نئے سماجی مسائل پیدا کردیے۔
