عورت کا درجہ اسلام میں

قدیم دنیا میں  مختلف توہماتی خیالات کے تحت عورت کو حقیر سمجھ لیاگیاتھا۔ اس کے نتیجے میں عورت کو جن حقوق سے محروم کیاگیا ان میں  سے ایک جائداد کا حصہ تھا۔ خاندان کی جائداد میں  عورت کاحصہ ختم کردیا گیا۔ یہ اسلام تھا جس نے تاریخ میں  پہلی بار باقاعدہ طور پر عورتوں کا وراثتی حصّہ مقررکیا۔ جے ایم رابرٹس نے لکھا ہے:

‘‘Its coming was in many ways revolutionary. It kept women, for example, in an inferior position, but gave them legal rights over property not available to women in many European countries until the nineteenth century. Even the slave had rights and inside the community of the believers there were no castes nor inherited status. This revolution was rooted in a religion which—like that of the Jews—was not distinct from other sides of life, but embraced them all.’’

(J. M. Rober, The Pelican Histary of the World, New York, 1984, p. 334)

اسلام کی آمد بہت سے پہلوؤں سے انقلابی تھی۔ مثال کے طور پر اس نے عورتوں کو اگر چہ کم درجہ دیامگر اس نے عورتوں کو جائداد پر قانونی حق دیا جو کہ یورپ کے اکثر ملکوں کی عورتوں کو 19 ویں صدی عیسوی تک بھی حاصل نہ ہوسکاتھا۔ حتی کہ غلام بھی حق رکھتے تھے اور اہل ایمان کی جماعت کے اندر نہ ذات پات تھی اور نہ پیدائشی درجات۔ اس انقلاب کی جڑیں ایک ایسے مذہب میں  جمی ہوئی تھیںجو کہ یہود کی مانند صرف دوسری زندگی سے تعلق نہیں رکھتا تھا بلکہ سب کچھ اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا۔

دہلی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈچیف جسٹس مسڑراجندر سچر نے یہی بات قدیم ہند ستان کے حوالہ سے کہی۔نئی دہلی کی ایک تقریب میں  مسڑجسٹس سچرنے کہا کہ تاریخی طورپر اسلام عورتوں کو جائداد کے حقوق د ینے میں  بہت زیادہ فراخ دل اور ترقی پسند رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ 1956 میں  ہندوکو ڈبل بننے سے پہلے ہندو عورتوں کا جائداد میں  کو ئی حصہ نہ تھا، جب کہ اسلام مسلم عورتوں کو یہ حقوق 1400 سال پہلے دے چکے تھا۔

‘‘Mr. Justice Sachar said that historically Islam had been very liberal and progressive in granting property rights to women. The fact that there were no property rights t Hindu women untill 1956 when the Hindu Code Bill was passed whereas Islam had granted these rights to Muslim women over 1400 years ago.’’

(The Statesman, Delhi, April 26, 1986)

تاہم یہ صرف پہلے اور بعد کی بات نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کا دروازہ کھولا ہے۔ قدیم زمانے میں  تقریباً تما م سماجوں کا یہ حال تھا کہ ان کے یہاں عورتوں کو کوئی متعین حق حاصل نہ تھا۔ اسلام کے ذریعہ انسانی تاریخ میں  جو انقلاب آیا۔ اس کا ایک خاص پہلویہ تھا کہ عورتوں کو مساوی درجہ دیا گیا اور ان کے حقوق مقررکیے گئے۔

چوں کہ اسلام صرف ایک فلسفیانہ نظریہ نہ تھا بلکہ اس نے اس وقت کی آباد دنیا کے بیشتر حصّہ کوفتح کر ڈالا۔ اسلام کی تہذیب دنیا کی سب سے زیادہ غالب تہذیب بن گئی اور ہزارسال تک مسلسل بنی رہی۔ اس چیز نے تمام دنیا کے معاشروں کو متاثر کیا۔اسلامی تہذیب کے زیراثر تمام دنیا میں  عورت کے حقوق پر نظر ثانی ہونے لگی۔ یہاں تک کہ عمومی طورپر یہ تسلیم کر لیا گیا کہ عورتوںکوبھی اسی طرح حقوق ملنے چاہئیں جس طرح وہ مردوں کو ملے ہوئے ہیں۔

دور جدید کے جو مبصرین اسلام کی خوبیوں کا کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں۔ وہ بھی اکثر یہ جملہ دہراتے ہیں کہ اسلام میں  عورتوں کو کم تر درجہ دیا گیاہے۔ مگر یہ بات اپنی تردید آپ ہے۔ قدیم زمانے میں  اور آج بھی ، وراثت کا معاملہ اہم ترین معاشرتی معاملہ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وراثت وہ واحد معیار ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاشرےمیں  کسی کو کیا درجہ دیاگیاہے۔ اسلام کا وقت کے زمانی رواج کے سراسر برعکس جا ئداد میں  عورت کو حصّہ دار بنانا واضح طورپر اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام عورت کو کم تر درجہ دینا نہیں چاہتا۔ اگر اسلام میں عورت کو کم تر درجہ دیا جاتا تو اس کا سب سے پہلا مظاہرہ یہ ہوتا کہ وراثت میں  اس کا حصّہ مقرر نہ کیا جاتا جو کہ زمانی رواج کے مطابق عین درست سمجھاجارہا تھا۔

اس معاملہ میں  مغربی ذہن کی غلطی دوبارہ وہی ہے جس کا شکار قدیم زمانے کا انسان تھا۔ یعنی بے بنیاد عقیدہ(irrational belief)کے تحت رائے قائم کرنا۔ قدیم زمانے کے انسان نے کچھ بے بنیاد عقیدے بنالیے تھے جس کے نتیجے میں  اس کے یہاں عورت کے بارے میں  غلط قسم کے عمل رواج قائم ہوگئے۔اسی طرح جدید مغرب نے عورت کے بارے میں  ایک بے بنیاد عقیدہ بنا لیا۔ اس کے نتیجے میں عورت کا معاملہ بگڑکر رہ گیا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion