ایک عملی ضرورت
قدیم زمانے میں خرافات (myths) اور توہمات (superstitions)کے رواج نے تمام معاملات میں انسان کے نقطہ نظر کو غیر حقیقی بنارکھا تھا۔ عورتوں کے معاملہ میں ایک مزید سبب بھی شامل ہوگیا۔
انسانی معاشرہ کی جو مختلف ضرورتیں ہیں ان کو وسیع تر تقسیم میں دوضرورتیں کہا جاسکتا ہے۔ ایک گھر کے اندر کا کام۔ اور دوسرے گھر کے باہر کا کام۔ گھر انسانی معاشرہ کی ابتدائی بنیاد ہے۔یہیں آدمی کو سکون کے لمحات ملتے ہیں۔ یہیں کسی قوم کی اگلی نسل تیار ہوتی ہے۔ گھر ہی معاشرہ کی وہ اکائی ہے جس کی بہت سی تعداد کے ملنے سے معاشرہ بنتا ہے۔ گھر نہیں تو انسانی معاشرہ بھی نہیں۔ جس طرح اینٹ کی درستگی پوری عمارت کی درستگی ہے، اسی طرح گھر کی درستگی پورے معاشرہ کی درستگی ہے۔
تاہم کام کی ان دونوں قسموں کی نوعیت الگ الگ ہے۔ گھر کے اندر کے کام نرم ونازک کام ہیں۔ گھر کے معاملات کو سنبھالنے کے لیے انفعالی صلاحیتیں زیادہ مفیدہیں۔ اس کے برعکس، باہر کے کام کے لیے فعال صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔ باہر کے کام کو انجام دینے کے لیے زیادہ سخت جسم اور زیادہ طاقتور اعصاب کی ضرورت ہے۔ انسانی تمدن کے بقا اور تر قی کے لیے یہ دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں ضروری ہیں۔ چنانچہ قدرت نے اسی کے لحاظ سے مرد اور عورت کی دو الگ الگ جنسیںپیدا کی ہیں۔ اس نے عورت کے اندر انفعالی صلاحیتیں زیادہ رکھی ہیں تاکہ وہ گھر کے اندر کے کام سنبھالے۔ اور اسی طرح مرد کے اندر فعال صلاحیتیں زیادہ رکھی ہیں تاکہ وہ گھر کے باہر والے کام کی ذمہ داری اٹھاسکے۔
زندگی کی تنظیم میں اس حکمت کو ملحوظ رکھا جائے اور ہر صنف کو وہی کام دیا جائے جس کے لیے وہ پیداکیا گیا ہے تو زندگی کانظام نہایت درست اور متوازن رہے گا۔ لیکن اگر اس حکمت کو ملحوظ رکھے بغیر زندگی کی تنظیم کی جائے تو زندگی کا نظام غیر متوازن ہوکررہ جائے گا اور بربادی کے رخ پر چل پڑے گا۔
قدیم زمانے میں بہت سی قومیں اس حکمت کو سمجھ نہ سکیں۔ انھوں نے دیکھاکہ مرد معاشی شعبوںکو سنبھالتا ہے۔ وہ جنگ ومقابلے کے وقت قوم کا دفاع کرتا ہے۔ وہ تمام محنت طلب کا موںکا بوجھ اٹھاتا ہے۔ چنانچہ انھو ں نے یہ رائے قائم کرلی کہ مرد برتر مخلوق ہے اور عورت کم تر مخلوق — قدرت نے مرد اور عورت کے درمیان فرق کو برائے ضرورت رکھاتھا، انھوں نے اس فرق کوبرائے فضیلت سمجھ لیا۔
یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں کہ مرد کے مقابلے میں عورت کا درجہ گرا دیاگیا اس کو مرد کے مقابلے میں حقیر سمجھاجاتا ہے۔
