فطرت کا نظام

پتھر وغیرہ کو تراش کر اسٹیچو (مورت ) بنانا ایک بہت پرانا فن ہے جس کو بت تراشی (sculpture) کہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ زندہ انسان میں  اور پتھر کی مورتوں میں  ظاہری طور پر کافی مشابہت ہوتی ہے اب اگر کوئی شخص انسان کے معاملے کوا سٹیچوکا معاملہ سمجھ لے اور انسان کا مطالعہ فن بت تراشی کے تحت کرنے لگے توایسی حالت میں  کیا ہوگا۔ یہ طریق مطالعہ بڑے عجیب و غریب نتائج پیداکرے گا۔ تراشی ہوئی مورت کو کھانے اور پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے ایسا عالم یہ فرض کرلے گاکہ انسان کے لیے بھی کھانے پینے کا انتظام کر نا ضروری نہیں ہے۔ ایک مورت کو مہینوں اور سالوں کے لیے کمرے میں  بند کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ایسا عالم انسان کو بھی ایک اندھیرے کمرے میں  بند کر دے گا اور اسے کوئی پریشانی نہ ہوگی خواہ سالوں تک بھی کمرہ کھولنے کی نوبت نہ آئے۔

سابق صدر مصر جمال عبد الناصر کے زمانے میں  ایک منصوبے کے تحت پتھر کی ایک قدیم مورت ابوسمبل(Abu Simbel) کو اپنی جگہ سے ہٹانا تھا۔ یہ مورت 20 میٹر اونچی تھی اور پہاڑ میں  جمی ہوئی تھی چنانچہ اس کو اس طرح ہٹایا گیا کہ 1964-66 ءمیں  خصوصی مشینوں کے ذریعہ کا ٹ کر اس کے کئی ٹکڑے کیے گئے۔ یہ ٹکڑے اس کی پرانی جگہ سے ہٹاکر دوسری محفوظ جگہ لائے گئے اور پھر دوبارہ جوڑ کر کھڑے کر دیےگئے۔ اب مذکورہ عالم یہ بھی کر سکتا ہے کہ وہ اپنے کسی منصوبہ کی تکمیل کے لیے انسان کے جسم پربھی آرہ چلانا شروع کر دے۔

بظاہر ایسا کو ئی سنگ تراش (sculptor)دنیامیں  موجود نہیں ہے۔ مگر ایک اورشعبۂ علم میں  موجودہ زمانے میں  اسی قسم کے ماہرین پیداہوگئے ہیں۔ وہ ’’انسان‘‘ کو اسٹیچوفرض کرکے اس کے سا تھ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو صرف اسٹیچو کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔ یہ وہ علم ہے جس کو موجودہ زمانے میں  علم الانسان (Anthropology)کہا جاتا ہے۔ انتھراپالوجی کا علم انیسویں صدی کے آغاز میں  پیداہوا۔ اس کا مقصد انسانی سماج کا مطالعہ خارجی معلومات کی روشنی میں  کرنا تھا۔ انھوں نے قدیم انسان کے حالات ، اس کے عقائد ، اس کی روایات اور اس کے مروجہ طر یقوں (customs)کوجمع کیا اور ان کی روشنی میں  انسان کے بارے میں  رائیں قائم کیں۔

 ان کے مطالعے کے دائرے میں  قدرتی طور پر مذہب بھی آتا تھا۔ چنانچہ انھوں نے مختلف فرقوںاور قبیلوں میں  موجود مذہب کے بارے میں  معلومات جمع کیں۔ ہر وہ رواج جو مذہب کے نام پر کہیںپایا جاتا تھا وہ سب انھو ں نے اپنی فہرست میں  اکٹھاکر لیا۔

 اس طر یق مطالعہ کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب ایک سماجی مظہر (social phenomenon) بن گیا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو انسانی توہمات (myths) اور رواج (customs)اور سماجی حالات کے اثر سے بنتی ہے— مذہب اپنی اصل حقیقت کےاعتبار سے ایک خدائی حکم تھا مگر انتھراپالوجی کے مخصوص طریق مطالعہ کے نتیجے میں  وہ محض ایک انسانی رواج بن کر رہ گیا۔

اس طریق مطالعہ کا زبر دست نقصان یہ ہواکہ مذہب نے موجودہ زمانے میں  اپنی اعتباریت (credibility) کھودی۔ وہ ایک غیراہم چیز بن کر رہ گیا۔ مذہب ایک خدائی حکم کی حیثیت سے ایک ایسی چیز کی حیثیت رکھتا تھا جو اپنی ذات میں  مستند ہو۔جس کے بارے میں  پیشگی طور پر یہ یقین کیا جاسکے کہ اس کا ہر بیان امر واقعی کا بیان ہے۔ اور اس قابل ہے کہ اس کو بالکل درست سمجھ کر مان لیا جائے۔اس کے برعکس، مذہب کو جب محض ایک سماجی مظہر (social phenomenon)مان لیا جائے تو اس کی ساری اعتباریت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ ایک ایسی چیز بن جاتا ہے جس کو نا واقف انسانوں کے رواج نے وضع کیا ہو، نہ کہ اس خدانے جو ہر چیز سے براہِ راست واقف ہے۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے کيمسٹری (Chemistry)کی سائنس کو گھٹا کر کیمیاگری (Alchemy)کادرجہ دے دیا جائے یا فلکیات (Astronomy) کو فنِّ جوتش (Astrology) کے ہم معنی سمجھا جانے لگے۔

حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے بارے میں  یہ طر یقِ مطالعہ سراسر غلط ہے۔ اس طریقِ مطالعہ نے ایک حقیقی جزءکو غیر حقیقی جزءبنادیا۔ اس نے ایک خدائی چیز کو ایک انسانی چیز کا درجہ دے دیا۔مذہب کی حقیقت سمجھنے کے لیے قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے:

أَفَغَيْرَ دِينِ اللهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ(3:83)۔ یعنی،کیا وہ اللہ کے دین کے سوا کوئی اوردین چاہتے ہیں حالاں کہ اسی کے تابع ہے وہ سب کچھ جو زمین اور آسمان میں  ہے۔ خوشی سے یاناخوشی سے۔ اور اسی کی طرف لوگ لوٹنے والے ہیں۔

اس آیت کے مطابق مذہب عین وہی خدا کا دین ہے جو بالفعل ساری کائنات میں  قائم ہے۔ خدا نے جس دین (یاقانون) کا پابند بقیہ دنیا کو بنا رکھا ہے، اسی کا پابند وہ انسان کو بھی بنانا چاہتا ہے اور اسی آفاقی قانون کا نام مذہب ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion