تجردکا معاملہ
اسلام سے پہلے تقریباً تمام مذاہب میں تجرد کو پارسائی کا اعلیٰ معیار سمجھاجاتا تھا۔ اس کی وجہ بھی وہی تھی جس کا اوپر ذکر ہوا۔ عورتوں کو حقیر اور گناہ کا سر چشمہ سمجھنے کی وجہ سے یہ ہوا کہ عورتوں کواپنی زندگی میں شامل کرنے والا شخص لوگوں کی نظر میں کم تر ہوگیا۔ اس کے برعکس، وہ شخص لوگوں کی نظر میں مقدس بن جاتا تھا جوتجرد کی زندگی اختیار کیے ہوئے ہو۔ انسائیکلوپیڈیا برٹا نیکا کے الفاظ میں :
‘‘Celibacy has existed in some form or another through-out man's religious history and has appeared in virtually all the major religious traditions of the world’’
(Encyclopedia Britannica, 3/1040)
تجرد کسی ایک یادوسری شکل میں انسان کی پوری مذہبی تاریخ میں موجود رہا ہے۔ عملی طور پر وہ دنیاکے تمام بڑے مذہبوں میں پایا جاتا رہاہے۔
انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ تجرد (Celibacy)میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے کہ کس طرح تمام مذاہب اس سے متاثر رہے ہیں۔
تجرد کا خاص مقصد یہ ہے کہ مذہبی شخصیتوں میں تقدس کی شان پیدا کی جائے۔ مذہبی شخصیت کو روحانی طور پر خود کفیل ہونا چاہیے، جب که عورت کے ساتھ تعلق بتاتا ہے کہ اپنی تکمیل کے لیے وہ اپنے سے باہر بھی کسی چیز کا محتاج ہے۔ ابتدائی مذاہب کے مطالعہ سے معلوم ہواہے کہ ان کے یہاں بھی مذہبی شخصیتوں کے لیے عورت کے ساتھ ازدواجی تعلق ممنوع تھا۔ کیوں کہ اس کے بغیر اس کا روحانی تزکیہ نہیں ہوسکتا تھا۔ بعد کو جو مذہبی لٹریچر تیار ہوا اس میں زور و شور کے ساتھ دکھایا گیا کہ تجردکی زندگی اختیار کرنے سے آدمی کی اخلاقی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔ اس لیے جو لوگ اخلاقی اور روحانی ارتقار چاہتے ہیں وہ نکاح نہ کریں اور اگر ان کا نکاح ہوچکا ہے تو بیوی سے جنسی تعلق مطلق طور پر چھوڑ دیں۔ جنسی عمل کو مذہب کا سب سے بڑا دشمن سمجھا گیا۔ عورتوں کے لیے بھی سب سے اونچا روحانی تصور یہ تھا کہ وہ ساری عمر کنواری رہیں اور اسی حال میں مرجائیں۔ قدیم رومی مذہب میں فلسفیوں اور مذہبی لوگوں کے بارے میں اعلیٰ تصوریہ تھا کہ وہ ہمیشہ مجرد زندگی گزارتے ہیں۔ ایسا ہی شخص آئیڈیل روحانی معلم بن سکتا ہے۔ جین مذہب کے مطابق عورت کو دیکھنے سے بھی پرہیز کرنا چاہیے۔ یہی حال بدھزم اور دوسرے تمام مذاہب کا ہے۔ (ملاحظہ ہو، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، 1984 ،جلد 16 ، صفحہ599)
تاریخ کی معلوم شخصیتوں میں پیغمبر اسلام پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے اپنے قول وعمل سے ان باتوں کی تردید کی۔ آپ نے بتایا کہ تقدس کی علامت تجردنہیں، تقد س یہ ہے کہ آدمی بیوی بچوں کے درمیان ہواور پھر بھی وہ خدا کی مقرر کی ہوئی حد پر قائم رہے۔ عورت زندگی کی بھلائی ہے ، نہ کہ زندگی کی برائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف خود نکاح کیا بلکہ اپنے ساتھیوں کو باربار ترغیب دی کہ تم بھی نکاح کرو۔ حتی کہ ماضی کے تقد س کو توڑنے کے لیے آپ نے یہاں تک فرمایا کہ عورت کو میرے لیے محبوب بنایاگیاہے:حُبِّبَ إِلَيَّ النِّسَاء(سنن النسائي، حدیث نمبر 3940)۔ قدیم زمانے میں عورت سے تعلق کسی مذہبی شخصیت کے لیے اتنی معیوب چیز سمجھی جاتی تھی کہ آپ اگر اس باب میں اتنا زیادہ زورنہ دیتے تولوگ بد ستورسابقہ رواج پر قائم رہتے۔
موجودہ زمانے کی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ تجرد کا نظریہ سراسر غیر فطری اور غیر واقعی نظریہ تھا۔اس کے مقابلے میں اسلام کا تصور عین فطری اور عین مطابق حقیقت ہے۔ آج یہ ثابت ہوگیا ہے کہ انسان کے اند ر جنسی اعضاء صرف جنسی عمل میں مددگار نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی اہمیت اس سے بہت زیادہ ہے۔ وہ انسان کے اندر تما م عضویاتی ، ذہنی ، روحانی سرگرمیوں کو تیزتر کر تے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی مخنث آدمی کوئی بڑا فلسفی یا بڑا سائنس داں نہیں بناہے۔ حتیٰ کہ وہ بڑامجرم بھی نہ بن سکا۔ جنسی اعضاء کی اہمیت انسانی اعمال کے لیے بہت زیادہ ہے :
‘‘The sexual glands have other functions than that of impelling man to the gesture which, in primitive life, perpetuated the race. They also intensify all physiological, mental, and spiritual activities. No eunuch has ever become a great philosopher, a great scientist, or even a great criminal. Testicles and ovaries possess functions of overwhelming importance.’’
(Dr. Alexis Carrel: Man, The Unknown, 1948, p. 91)
ماضی میں مذہب کے دائرہ میں عورت سے نکاح کو معیوب چیز سمجھ لیا گیاتھا۔ اسلام نے اس کے برعکس عورت کے ساتھ نکاح کے تعلق کو پسندیدہ چیز قراردیا۔ جدید سائنسی تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ پہلا ذہن فطرت کے خلاف تھا اور اسلام کا ذہن فطرت کے عین مطابق۔یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی تعلیمات سراسر مبنی برحقیقت ہیں۔
