کم سِن مجرمین

جدید دور میں  عورت کو گھر سے باہرنکال کر زندگی کے ہر شعبہ میں  داخل کیا گیا۔ اس کا یہ فائدہ تو نہیں ہواکہ عورت کو فی الواقع زندگی کے ہرشعبہ میں  مرد کے برابر مقام مل گیا ہو۔ البتہ اس کے نتیجے میں  بے شمار نا قابلِ حل مسائل پیدا ہوگئے۔ ان میں  سے ایک نا جائز جنسی تعلقات کا مسئلہ ہے۔عورت اور مرد کا آزادانہ اختلاط اور نا جائز جنسی تعلقات بالکل لازم وملزوم ہیں۔ ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

نا جائز جنسی تعلق ابتداء ً ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر جب ایک مرد اور ایک عورت کے تعلق سے ایک تیسرابچہ پیداہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی سادہ فعل نہ تھا۔ بلکہ اپنے بعد سنگین نتائج رکھتا تھا۔ مغربی ملکوں کے نوجوان عام طورپر منع حمل کی تد بیرپر عمل کرتے ہیں۔

اس کے باوجود وہاں کثیر تعداد میں  ناجائز بچے پیداہورہے ہیں۔ برطانیہ میں  جو بچے پیداہورہے ہیں۔ان میں  ہر پانچ میں  ایک بچہ و ہ ہوتا ہے جوناجائز جنسی تعلق کے نتیجے میں  پیدا ہوتاہے۔ اسی طرح ہر تین حمل میں  سے ایک حمل غیر شادی شدہ جوڑوں کے ذریعہ قرار پارہا ہے۔ یہ بات لندن سے چھپنے والی 1985کی رپورٹ میں  بتائی گئی ہے:

ILLEGITIMATE KIDS: "Nearly one in five children born in Britain was illegitimate and that nearly one in three had been conceived by unmarried parents, an official report in 1985 revealed in London." reports AFP.

(The Times of India, May 17, 1986, p. 9)

یہ نا جائز بچے اس حال میں  دنیا میں  آتے ہیں کہ انھیں نہ اپنے باپ کا علم ہوتا ہے اورنہ اپنی ما ں کا۔ وہ سرکاری اداروں میں  پلتے ہیں اورپھر جانور کی طرح سماج میں داخل ہوجاتے ہیں۔مغربی ملکوںمیں  طلاقوں کی کثرت نے بھی یہی صورت حال پیدا کی ہے۔ مغربی ملکوں میں نکاح کارشتہ بے حد کمزورہوگیا ہے۔ معمولی معمولی باتوں میں  عورت اور مرد کے درمیان طلاق ہوجاتی ہے۔ان طلاقوں نے بہت بڑے پیمانہ پر وہ مسئلہ پیداکیاہے جس کو اجڑے ہوئے گھر (broken homes) کامسئلہ کہاجاتا ہے۔ عورت اور مرد ،جب طلاق لے کر جد ا ہوتے ہیں تو عین اسی وقت وہ اپنے بچوں کوبھی ماں اورباپ کے سایہ سے محروم کر دیتے ہیں۔ یہ تمام بچے معاشرہ میں  جانوروں کی طرح پلتے ہیں اور پھرانھیں کے اند ر سے وہ مجرمانہ کردار ابھرتے ہیں جن کا ایک تجربہ" شوبھراج "کی صورت میں 1986 میں  ہند ستان میں  کیا گیاہے۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) نے کم سن مجرمین کے موضوع پربحث کرتے ہوئے لکھاہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے بوکھلادینے والے سماجی روگوں میں  سے ایک روگ وہ ہے جس کوکم سنی کا جرم کہا جاتاہے۔یہ ایک عالمی مظہر ہے۔ اگر چہ کیفیت اور رفتار کے اعتبار سے ایک ملک اور دوسرے ملک میں  فرق پایا جاتا ہے

‘‘Among the most baffling social maladies of the 20th century is that of juvenile delinquency. A world-wide phenomenon, it varies in quality and frequency from country to country.’’ (11/913).

یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ انسان کا بچہ سب سے زیادہ کمزوربچہ ہوتا ہے۔ وہ تمام زندہ چیزوں میں سب سے زیادہ اپنے ماںباپ کی محبت اور سر پرستی کا محتاج ہوتا ہے۔مگر عورت کے معاملہ میں  مغربی تہذیب کی غیرفطری روش کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ بچے اس نعمت سے محروم ہوگئے جس کو قدرت نے ماں باپ کی شکل میں ان کے لیے پیدا کیا تھا۔ کہیں وہ اس لیے محروم ہیں کہ باپ کے ساتھ ماں بھی سارے دن دفتر میں  کام کرتی ہے۔ کہیں وہ اس لیے محروم ہیں کہ ان کے ماں باپ نے انھیں پیداکر کے باہم علاحدگی اختیار کرلی اور کوئی ایک طرف چلاگیا اور کوئی دوسری طرف۔کہیںوہ اس نعمت سے اس لیے محروم ہیں کہ جومرد اورعورت ان کو وجود میں  لانے کے ذمہ دار ہیں انھوں نے رشتہ نکاح میں  اپنے آپ کو باندھے بغیر جنسی فعل کیا تھا۔ اس لیے ان کے پروگرام میں  یہ شامل ہی نہ تھا کہ وہ پیدا ہونے والے بچہ کو اپنا بچہ سمجھیں اوراس کی دیکھ بھال کریں۔

یہی والدین سے محروم بچے ہیں جو بالآ خر چارلس شو بھراج جیسے انسان بنتے ہیں۔ چارلس شو بھراج کا باپ ہند ستانی تھا اور ماں یوروپین تھی۔انھوں نے نکاح کیا اور پھر ایک بچہ پیداکرنے کے بعد ایک دوسرے سے الگ ہوگئے۔چارلس شوبھراج کی پرورش ایک آزاد لڑکے کی حیثیت سے ہوئی۔ اس کی مناسب تعلیم بھی نہ ہوسکی۔ دھیرے دھیرے وہ مجرم بن گیا۔ اس نے عالمی سطح پر ڈاکے ڈالے اور قتل کیے۔ اب وہ بے حد خطرناک مجرم کی حیثیت سے ہند ستان کی جیل میں  ہے۔

 مغربی ممالک میں  کم سن مجرمین کے مسئلہ کا وسیع پیمانہ پر مطالعہ کیاگیا ہے اور بہت سے نتائج نکالے گئے ہیں۔ ان میں سب سے خطرناک نتیجہ یہ ہے کہ کم سنی کا جرم اکثر وہ بچے کرتے ہوئے پائے گئے ہیں جو ماں باپ سے محرومی کی وجہ سے جھنجھلاہٹ اورمنفی ذہنیت میں  مبتلا تھے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکاکے اڈیشن 1984 میں  بتایا گیا ہے کہ اس قسم کے بچے اکثر نفسیاتی بے اعتدالی (psychological abnormality)میں  مبتلا ہوجاتے ہیں اور پھر ان سے طرح طرح کے سماجی جرائم ظہور میں  آتے ہیں۔ ٹائم (19اکتوبر 1987) کی ایک رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ امریکا میں  ہر سال تقریباًتین سو بچے اپنے باپ یا ماں کو قتل کر دیتے ہیں۔ (صفحہ 60)

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion