مرد اور عورت کا مسئلہ

 اس سلسلے میں  مرد اور عورت کے تعلقات کے مسئلہ کو لیجیے۔ مرد اور عورت کا با ہمی تعلق خدائی قانون میں  تقسیم کار کے اصول پرقائم کیا گیا تھا۔ یعنی مرد باہر کا کام کرے اور عورت گھر کے اندر کے کام کوسنبھالے۔ قرآن میں  ارشاد ہوا ہے:

ٱلرِّجَالُ ‌قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ(4:34)۔ يعني مرد عورتوں كے اوپر قوام هيں۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر حاکم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے نظام میں  وہ تمام کام جن کے لیے فعال صلاحیت درکار ہے ، وہ سب مرد کے ذمہ ہیں۔ مثلاً کمانا ، دفاع کرنا ، بیرونی معاملات کا انتظام کرنا، حکومت چلانا وغیرہ۔ مرد ان کاموں کے لیے فطری طور پر زیادہ موزوں ہیں۔ اس لیے یہ سب کام انھیں کے ذمہ کیے گئے ہیں۔      ’’قوام‘‘ کا لفظ تقسیم عمل کی حکمت کو بتاتا ہے ، نہ کہ ایک صنف پر دوسرے صنف کے اِمتیازی مرتبہ کو۔

 اس کے بر عکس، گھر کے اندرونی نظام کو سنبھالنے کا جو کام ہے اس کے لیے منفعل صلاحیتیں درکار ہیں۔ یہ صلاحیتیں عورت میں  زیادہ ہیں۔ اس لیے اس کو گھر کے اندرونی کاموں کا انچارج بنایاگیاہے۔

اسی تقسیم کارپر ہزاروں سال سے زندگی کا نظام چل رہاتھا۔ یورپ میں  صنعتی انقلاب کے بعد پہلی بار وہ حالات پید ا ہوئے جب کہ یہ نظام ٹوٹنا شروع ہوا۔ قدیم زمانے میں  کمانا نام تھا — شکارکرنے کا۔ کھیتی اور باغبانی کر نے کا ، تجارتی سامان لاد کر بر وبحر کا مشکل سفر کرنے کا وغیرہ اس قسم کی پر مشقت کمائی صرف مرد ہی کر سکتے تھے، اس لیے عملاً اس کے سوا کو ئی صورت ممکن نہ تھی کہ مرد کمائیں اور عورتیں گھر کے اند رونی نظام کوسنبھالیں۔

 مگر یورپ میں  صنعتی انقلاب نے بے شمار نئے نئے کام پیدا کر دیےجن کو کرنا کسی نہ کسی درجہ میں  عورتوں کے لیے بھی ممکن تھا۔ یورپ میں  پردہ کا نظام پہلے بھی موجود نہ تھا۔ چنانچہ عورتیں دفتروں اور کارخانوں میں  پہنچ کر کام کرنے لگیں۔اس طرح دھیرے دھیرے یہ صورت حال ختم ہونے لگی کہ کمائی کا انحصار صرف مرد پر ہو اور عورتیں کچھ نہ کرسکیں۔ جب عورتیں خود کفیل ہوئیں تواسی کے ساتھ ان کے اند ریہ ذہن بھی پیدا ہوا کہ وہ مردوں کی پابندی سے نکلیں اور اپنے لیے آزاداور مستقل زندگی بنائیں۔ اس طرح وہ تحریک پیدا ہوئی جس کو آزادیِ نسواں(Women's Liberation)کی تحریک کہاجاتا ہے۔ آزادیِ نسواں کی تحریک کے صنعتی انقلاب سے وابستہ ہونے ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ تحریک اولاً انھیں ملکوں میں  شروع ہوئی جہاں سب سے پہلے صنعتی انقلاب آیا تھا۔ چنانچہ آزادیِ نسواں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سب سے پہلے انگلینڈمیں  شروع ہوئی۔ عورتوں کے لیے برابری کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی پہلی قابل ذکر کتاب لندن سےچھپی جس کانام یہ تھا :

A Vindication of the Rights of Woman by Mary Wollstonecrft (1792)

امریکا میں  صنعتی انقلاب دیر سے آیا۔ اس لیے امر یکہ میں  آزادیِ نسواں کی تحریک انیسویں صدی ميں شروع ہوسکی۔ صنعتی انقلاب کی تر قی کے ساتھ آزادیِ نسواں کی تحریک بھی ترقی کرتی رہی۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں  پہنچ کروہ اپنےآخری کمال تک پہنچ گئی۔

 آزادیِ نسواں کے علم برداروں کے دلائل کا خلاصہ یہ تھا کہ قدیم سماجوں میں عورت اور مرد کے درمیان جو فرق تھا اس کاسبب فطرت میں نہ تھا بلکہ سماج میں  تھا۔ عورت ہر وہ کام کرسکتی ہے جو مرد کرتاہے یا کر سکتا ہے۔ مگر قدیم سماجی حالات نے عورت کو ابھرنے کا موقع نہیں دیا۔ اگر یہ سماجی دباؤ ختم کردیاجائے تو عورت ہر میدان میں  مرد کے شانہ بشانہ کام کرے گی۔ وہ کسی اعتبار سے مرد کے پیچھے نہیں رہے گی۔

 اس تحریک کو اب پورے دو سو برس ہوچکے ہیں۔ جدید ترقی یافتہ ممالک میں  وہ اس مقصد میں  پوری طرح کامیاب ہوچکی ہے کہ وہاں وہ سماجی حالات باقی نہیں ہیں جو اس تحریک کے علم برداروں کے نزدیک عورت کی مساویانہ حیثیت کو حاصل کرنے میں  رکاوٹ تھے۔ ہر ملک میں  برابر ی کے قوانین بنائے جاچکے ہیں قانون یا رواج کے اعتبار سے آج عورت کی راہ میں  مطلق کوئی ر کاوٹ باقی نہیںہے۔ اس کے باوجود عورت ابھی تک مرد سے پیچھے ہے۔ وہ کسی بھی شعبہ میں  مرد کی برابری حاصل نہ کر سکی۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) نے جدید معاشرہ میں  عورت کے بارے میں  جو کچھ لکھا ہے اس کاخلاصہ یہ ہے کہ اقتصادی میدان میں  گھر سے باہر کا م کرنے والی عورتیں بہت زیادہ تعداد میں  کم تنخواہ والے کاموں میں  ہیں۔ اور ان کا درجہ سب سے نیچا ہے۔ حتی کہ عورتیں ایک ہی کام میں  مرد سے کم تنخواہ پاتی ہیں۔ امریکا میں  خاتون کا رکنوں کی اوسط تنخواہ مردوں کے مقابلہ میں  20 فیصد ہے جاپان میں  یہ اوسط 55 فیصد ہے۔ سیاسی طورپر عورتیں بہت بڑے پیمانے پر نمائندگی سے محروم ہیں۔ قومی اور مقامی حکومتوں میں  نیز سیاسی پارٹیوں میں :

‘‘In the economic sphere women who work outside the home are heavily concentrated in the lowest paying work and that having the lowest status. Women also earn less than men in the same kinds of jobs. The median pay of women workers in the U.S. was 60 percent that of men in 1982. In Japan the percentage of average pay was 55. Politically, women are greatly underrepresented in national and local government and in political parties.’’

(Encyclopedia Britannica, X/732).

آج قدیم طرز کی سماجی حدبندیاںٹوٹ چکی ہیں۔ ہرملک میں  برابری کے قوانین بن گے ہیں۔ اس کے باوجودجدید عورت کو مرد کے مقابلہ میں  بد ستور کم تردرجہ حاصل ہے۔ وہ کسی بھی شعبہ میں  مرد کے برابر درجہ حاصل نہ کر سکی۔یہ صورت حال بتاتی ہے کہ عورت اور مرد کی حالت میں  فرق کی وجہ وہ نہ تھی جس کوآزادیِ نسواں کے علم برداروں نے سمجھ لیا تھا۔ اگر وہ وجہ ہوتی تو اب بیسویں صدی کے نصف آخرمیں  عورت کو کامل طور پر مرد کے برابر درجہ مل جانا چاہیے تھا۔ جب ایسا نہ ہوسکا تو اب ہمیں  اس کی توجیہ کے لیے کوئی دوسرا سبب تلاش کرنا ہوگا۔

یہ دوسرا سبب آج خود علم انسانی نے دریافت کر لیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دونوں صنفوں کے درمیان فرق سماجی حالات کی بنا پر نہ تھا بلکہ دونوں کی پیدائشی بناوٹ کی بناپر تھا۔ اس کا سبب حیا تیات میں  تھا ، نہ کہ سماجی حالات میں ۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس سلسلے میں  کافی تحقیقات ہوئی ہیں اور اب یہ بات آخری طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی اعتبار سے بنیادی فرق ہے اور جب تک یہ فرق باقی ہے ، دونوں کی سماجی حیثیت میں  بھی فرق باقی رہے گا۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion