ایڈز کی لعنت
فطرت کی خلاف ورزی سے کیسے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں اس کی ایک تازہ مثال وہ بیماری ہے جس کو ایڈز کہا جاتا ہے۔ ایڈز فطرت کی خلاف ورزی کی سزاہے۔ چنانچہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ مرض غلط عادتوں، خاص طورپر ہم جنسی کے فعل کے سبب سے پیداہوتاہے:
‘‘The group of people who run the high-risk of contracting the disease are promiscuous homosexuals, bisexual men, intravenous drug-abusers and those having multiple sexual partners. Its highest incidence is among male homosexuals.’’
ایڈز (AIDS)ایک اشاراتی نام ہے۔ یہ لفظ حسب ذیل انگریزی فقرہ کا مخفف ہے:
Acquired Immune Deficiency Syndrome
اس کا مطلب ہے — جسم کے مدافعتی نظام کی تباہی کی علامت۔ یہ ایک عجیب وغریب قسم کا متعدی مرض ہے جو صرف ملیریا کے بعد نمبر 2 پر سمجھا جاتا ہے۔ کہا جاتاہے کہ ساری انسانی تاریخ میں مجموعی طور پرجو موتیں ہوئی ہیں ان میں سے نصف موتیں صرف ملیریا کے ذریعہ ہوئی ہیں۔ اب موجودہ زمانے میں ایڈز کی بیماری ظاہر ہوئی ہے جو بعض اعتبار سے غالباً ملیریا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
اس مرض کے جراثیم (Virus)آدمی کے اندر خاموشی سے داخل ہوجاتے ہیں۔ حتی کہ ابتداء ًآدمی کو معلوم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کسی مہلک مرض کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ مرض آدمی کے جسم کے فطری دفاعی نظام کوبالکل تباہ کردیتاہے۔ ایڈزکے بعد تباہ شدہ مدافعتی نظام (Shattered Immune System) کااب تک کوئی علاج دریافت نہ ہوسکا۔ کیوں کہ یہ بیماری خون میں شامل ہوجاتی ہے اورآدمی کے پورے جسم کو متاثر کر کے رکھ دیتی ہے۔
ایڈز کے مریض کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کا جسمانی نظام اند رسے بالکل کھوکھلا ہوجاتاہے۔ اس کو چوٹ لگ جائے تووہ کسی طرح اچھی نہیں ہوتی۔ بخار ہوتو کوئی دواکام نہیں کرتی۔ انجکشن لگایا جائے تووہ بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ اس کا خون کسی بھی دوایا غذاکو قبول نہیں کرتا۔ بیمار کا وزن دن بدن گھٹتارہتا ہے۔ وہ بے حد کمزور ہوجاتا ہے۔ وہ کوئی کھانے کی چیز کھا نہیں سکتا۔ اس کےجوڑ جوڑمیں درد ہونے لگتاہے۔ وہ کوئی کام نہیں کرسکتا۔ اس کے اوپر ہر وقت بددلی اور اداسی چھائی رہتی ہے، وغیرہ۔
ایڈز کے مریض ایک قسم کے عالمی اچھوت بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ کسی کو تحفہ دیں تو ان کا تحفہ قبول نہیں کیا جاتا۔ کیوں کہ سخت اند یشہ ہوتا ہے کہ اس میں اس مہلک مرض کے جراثیم موجود ہوں گے وہ سیاحت کے لیے جائیں تو کال گرلس اور ہوٹلوں کے ملازم ان کے قریب آتے ہوئے ڈرتے ہیں ایسے لوگوں کے دوست لڑکے اور لڑکیاں ان سے دور بھاگتے ہیں۔امریکا کے محکمہ صحت نےڈاکٹر وں کے نا م سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ جب وہ بلڈبینک سے خون کا بوتل منگوائیں تو اس کو باضابطہ ٹیسٹ کے بغیر کسی مریض کو نہ دیں۔ کیوں کہ یہ معلوم ہوا ہے کہ ہزاروں امریکی صرف اس لیے ایڈز کے مریض بن گئے کہ آپریشن یا خون کی کمی کے وقت ان کے جسم میں بلڈبینک کا خون داخل کیا گیا تھا۔ 1985-86 کے درمیان صرف ایک سال میں امریکا میں ایسے ایڈز کے مریضوں کی تعداد تقریباً 50 ہزار تھی جو خود اس مرض کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ مگر کسی مریض کے ربط کے نتیجے میں ان کو یہ مرض لگ گیا۔
1986ء کے اعداد وشمار کے مطابق ایڈز کی مہلک بیماری اور اس سے تعلق رکھنے والی بیماریاںامریکا میں اس سے بہت زیادہ ہیں جتنا کہ عام طور پر سمجھاجاتا ہے۔ یہ بات امریکا وال اسٹریٹ جرنل میں بتائی گئی ہے جرنل نے بتایا کہ جو امریکی ایڈز کا شکار ہیں ان کی تعداد 21 ہزار ہے اور ان میں سے نصف کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ مرجائیں گے۔ ایک لاکھ سے دولاکھ تک ایسے لوگ ہیں جو ایڈزسے تعلق رکھنے والی مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہے:
‘‘AIDS IN AMERICA: The dreaded AIDS disease and related diseases are far more prevalent in the U.S. than is generally realised, according to a report in the Wall Street Journal. The paper said the number of Americans who suffer from AIDS is 21,000 and nearly half of them are expected to die. About 100,000 to 200,000 have AIDS-related diseases including lymphadenopathy, thrombocytopemia, candidiasis, diarrhoea, fever, hairy leukoplakia, dementia, neuropathy and Hodgkins.’’
(The Times of India, June 1, 1986)
جولائی 1986 کے پہلے ہفتہ میں پیرس میں ماہرین طب کی ایک کانفرنس ہوئی۔ اس کا مقصد ایڈز کے مسائل پر غور کرنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اگر ایڈز کے جراثیم امریکا کی طرح بقیہ دنیا میں پھیلتے ہیںتو 1991میں تین لاکھ مزید ایڈز کے مریض پیدا ہوچکے ہوں گے۔ ماہرین کی پیشین گوئی کے مطابق اس وقت تک امریکا میں 74 ہزار نئے افراد ایڈز کے مرض میں مبتلا ہوں گے۔ اندازہ ہے کہ1991 تک ایک چوتھائی ملین سے زیادہ امریکی باشندوں کو یہ بیماری لگ چکی ہوگی اور 179 ہزار افرادمرجائیں گے۔ امریکی اسپتالوں کا ایڈز کا بل اس وقت تک آٹھ بلین ڈالر ہوچکا ہوگا۔ اِس وقت یورپی ملکوں میں فرانس سب سے زیادہ اس مر ض سے متاثر ہوا ہے۔ دوسرے نمبر پر مغربی جرمنی ہے۔ تیسرے نمبر پر برطانیہ اور چوتھے نمبر پر اٹلی:
‘‘According to experts participating in a conference on AIDS held in Paris last week, there will be 300,000 new cases of AIDS in 1991 alone if the virus spreads in the rest of the world as it has in the U.S. In the U.S., 74,000 new AIDS cases are forecast for the same year. It was estimated that by then more than a quarter of a million Americans would have caught the disease and 179,000 would have died. The U.S. hospital bill for AIDS for 1991 is forecast to be $ 8 billion. At present, France is the worst affected European country and had recorded about 700 cases by the first quarter of this year. West Germany is next with 457, Britain third with 340 and Italy fourth with 219.’’
(The Times of India, New Delhi, July 5, 1986)
ایڈز کا مرض کیسے لگتا ہے، اس کے سلسلےمیں معلوم کیاگیا ہے کہ اس کی وجہ جنسی انارکی، خاص طورپرہم جنسی کا فعل (homosexual practice) ہے۔ موجودہ زمانے میں مغرب کے آزاد لڑکوںاور لڑکیوں میں اس کا رواج بہت بڑھ گیا تھا۔ حتیٰ کہ وہ کھلم کھلا ہم جنسی کا فعل کرنے لگے تھے۔ مگر اس غیر فطری فعل کی سزا انھیں ایک ایسے مہلک مرض کی صورت میں ملی کہ وہ خود ایک دوسرے سے بھاگنے لگے۔
تحقیقات کے دوران مزید معلوم ہواہے کہ افریقی جنگوں میں بندروں کی ایک نسل پائی جاتی ہے جس کو عام طورپر ہرا بندر (green monkey)کہتے ہیں۔ ان بندروں میں بھی ایڈز کی قسم کامرض پایا جاتا ہے۔ یہ بندر تمام معلوم جانوروں میں ایک استثنائی مثال ہیں جو عین وہی ہم جنسی کافعل کرتے ہیں جس میں آج مغرب کی نوجوان نسل مبتلا ہے۔ اور اس فعل کے نتیجے میں وہ اسی مرض کا شکار رہتے ہیں جس کو موجودہ زمانے میں ڈاکٹر وں نے ایڈز کا نام دیا ہے۔ ہرے بندروںکو شایدا ﷲتعالیٰ نے عبرت کے طورپر دنیا میں رکھا تھا۔ تاکہ انسان ان کو دیکھ کر سبق لے اور ہم جنسی کا مہلک فعل نہ کر ے۔ مگر انسان کی بڑھی ہوئی آزاد روی نے اس کو یہ سبق نہ لینے دیا۔
سان فرانسسکو کو ہم جنسوں کی عالمی راجد ھانی کہاجاتاتھا۔ اس امریکی شہر کے بارے میں ایک طبی رپورٹ بتاتی ہے کہ یہاں بہت تیزی سے ایڈز کی بیماری پھیل رہی ہے۔ 1986کے ابتدائی چھ مہینوں میں ایڈز کے 520 نئے کیس معلوم کیے گئے ہیں۔ ان میں ہرتین میں سے دوکیس سخت مہلک ہیں۔یعنی کل تعداد کا 67 فی صد۔ پچھلے سال مہلک مریضوں کی تعداد 58 فی صد تھی:
‘‘AIDS is sweeping San Francisco, the city known as the ‘gay capital of the world,’ according to medical statistics published on Wednesday. Of the 520 new cases of AIDS recorded in the first six months of the year, more than two out of three—67 per cent—proved to be fatal. This compared with the previous record of 58 per cent fatalities last year.’’ (The Times of India, July 4, 1986)
جب سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایڈز کی بیماری کا ابتدائی سبب ہم جنسی کا فعل ہے، ہم جنسی کے دل دادہ لڑکے اور لڑکیاں اس فعل سے اس طرح دور بھاگ رہے ہیں جیسے کوئی شخص طاعون کے مریض کو دیکھ کر اس سے دور بھاگے۔ بعض علاقے جو اس سے پہلے ہم جنسی کا فعل کرنے والے’’ رندوں‘‘ سے معمور رہتے تھے۔ اب وہ سنسان ہوتے جارہے ہیں۔
انسائیکلوپیڈیابرٹانیکا (1984) کے مقالہ ہم جنسی(Homosexuality) میں بتایا گیاہے کہ ہم جنسی کا فعل اگر چہ مغربی ملکوں میں پہلے سے موجود رہاہے۔ تاہم اس فعل کا سائنسی مطالعہ دوسری جنگ عظیم کے بعد ہی کیا جاسکا۔ پروفیسر کنسے (A.C. Kinsey) نے 1948-1952 کے درمیان امریکا میں باقاعدہ اعداد شمار جمع کیے۔ ان کی تحقیق کے مطابق اُس وقت امریکی مردوں کی37 فی صد اورامریکی عورتوں کی 13 فی صد تعداد ہم جنسی کا تجربہ کر چکی تھی۔ دوسرے مغربی ملکوں میں بھی کم وبیش یہ رواج پایا گیا ہے۔ (ایڈز کی طبی تفصیلات کے لیے ملا حظہ هو، ٹائم 3 نومبر 1986)
مغربی ملکوں میں عام طور پر ہم جنسی کے خلاف قانون موجود نہیں ہیں۔ البتہ اگر مفعول کم عمر ہو یا فاعل نے اس کے ساتھ جبراًیہ فعل کیا ہو تو وہ غیرقانونی قرار پائے گا۔ اس سے پہلے مغرب میں ہم جنسی کے مرتکب کو تحقیری طور پر لوطی (Sodomy)کہاجاتاتھا۔ مگر اب اس کے لیے ایک بے ضررلفظ رائج ہوگیا ہے، اور وہ گے (Gay)ہے۔ اس انگریزی لفظ کا مفہوم تقریباً وہی ہے جس کو اردو زبان میں رندیا رندمنش کہتے ہیں۔ جو چیز پہلے عمل قوم لوط تھی۔ وہ اب محض خوش طبعی کے ہم معنی بن گئی۔
برطانیہ میں 1967 میں ہم جنسی کو ازرو ئے قانون جائز قرار دیا گیا تھا۔ اب مزید ترقی ہوئی ہے اور عام طور پر اس کو نکاح کی طرح ایک جائز ادارہ سمجھا جانے لگا ہے۔ ڈنمارک میں ہم جنسی کا فعل کرنے والے جوڑوں کے لیے وراثت کا وہی قانو ن منظور کیا گیا ہے جو شادی شدہ جوڑوں کے لیے ساری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر رائے شماری ہوتی تو ممبران کی اکثریت نے اس کے حق میں رائے دی کہ جو ہم جنس جوڑے اس کا ثبوت دے دیں کہ وہ ایک ساتھ رہتے ہیں وہ ایک دوسرے کی وارثت میں میاں بیوی کی طرح حصہ دار قرار پائیں گے:
‘‘Denmark has granted homosexual and lesbian couples the same rights of inheritance as married couples, reports Reuter. The Danish parliament on Friday voted by 78 votes to 62 in favour of a law granting inheritance rights to couples who can prove they are living together. The new inheritance rights will also apply to brothers and sisters who share a home.’’
(The Times of India, New Delhi, June 1, 1986)
موجودہ زمانے میں آزادی کے لا محدود تصور نے جو خرابیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہم جنسی ہے۔ قدیم زمانے سے یہ طریقہ چلاآرہا تھا کہ ایک مرد اور عورت نکا ح کے رشتہ میں بندھ کر باہم ازدواجی تعلق قائم کرتے تھے۔ موجودہ زمانے میں پہلے نکاح کے رشتہ کو غیر ضروری قرار دیاگیا۔ اس کے بعد لوگوں کی آزاد مزاجی یہاں تک بڑھی کہ انھوں نے کہا کہ ازدواجی تعلق کے لیے مخالف جنس کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ مرد مرد اور عورت عورت بھی ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کرسکتے ہیں۔ اس کو موجودہ زمانے میں خوبصورت طور پر جنسی اختیار(sexual preference)کا نام دیا گیا۔ مگر نتائج نے بہت جلد بتایا کہ فطرت کے نظام سے انحراف ہمیشہ فساد پیدا کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے لیے ایک ہی صحیح راستہ ہے۔ یہ کہ وہ پیغمبروں کے بتائے ہوئے نظام فطرت پر عمل کرے۔ اگر اس نے اس سے انحراف کیا تو وہ کسی حال میں اس کے برُے انجام سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
مغرب کو فطرت سے انحراف کی بیک وقت دو قیمت دینی پڑی۔ ایک یہ کہ اس نے صنفِ نازک کو صنف قوی کے میدان میں کھڑا کر کے یہ کیا کہ صنف نازک کو مستقل طور پر کم تر حیثیت میں پہنچادیا۔ امریکا میں قانون کے اعتبار سے عورت کو مکمل مساوات کا درجہ حاصل ہے۔ مگر قانونی مساوات ابھی تک عملی مساوات کی صورت اختیارنہ کر سکی۔ ایلن گڈمین (Ellen Goodman) کے الفاظ میں ، امریکی خواتین ابھی تک مساوی درجہ پانے کا انتظار کر رہی ہیں۔
We’re still waiting for equal status (Time, July 1987, p.45)
امریکا کی خاتون پروفیسرڈاکٹر مانٹ گومری (Dr Louise F. Montgomery) نے جو بات امریکی صحافت میں عورت کے درجہ کے بارے میں کہی، وہی بات امریکی زندگی کے تمام شعبوں میں عورت کے درجہ کے بارے میں صحیح ہے۔ انھوں نے کہا
‘‘Women in the United States remain in the lower ranks in the newspaper hierarchy. Even in TV news programmes, the leaders who influence Americans are males.’’
(The Hindustan Times, New Delhi, August 23, 1986 p. 3)
امریکا کی اخباری دنیا میں عورتیں اب بھی نچلے درجہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ حتیٰ کہ ٹی وی خبروں کے پروگرام میں جو لوگ لیڈر ہیں اور امریکنوں پر اثر انداز ہوتے ہیں وہ مردہی ہیں۔عورت کے معاملہ میں فطرت سے انحراف کا دوسرا نقصان جدید ترقی یافتہ ملکو ں کو یہ ملاکہ ان کا پورا معاشرہ جنسی آوارگی کا شکار ہوگیا اور اس کے نتیجےمیں اتنے بے شمار مسائل پیدا ہوگئے جن کا شمار بھی آسان کام نہیں۔
