عورت کی بے بسی

جدید تہذیب نے عورت کو برابرکا درجہ دینے کی کوشش میں  یہ کیا کہ اس کو مستقل نابرابر ی کے درجہ پر پہونچا دیا۔ مغربی زندگی کے جس شعبے ميں بھی عورت آج کا م کررہی ہے،وہاں وہ مرد کے مقابلے میں  صرف دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ نیز اس نابرابری کی مزید قیمت اس کو یہ دینی پڑتی ہے کہ ہر جگہ وہ مرد کے مظالم کا شکار ہورہی ہے۔ یہاں ہم امریکا کی کارکن خواتین کے بارے میں  ایک رپورٹ کا خلاصہ درج کرتے ہیں۔يه رپورٹ انڈين ايكسپريس ميں شائع هوئي هے:

یہ ایک دہلی بس جیسا تجربہ ہے۔ ذلیل اشارے ، جارحانہ زبان ، ذاتی حملے۔ امریکا میں  کام کامقام خاتون کارکنوں کے لیے ویسا ہی ہے جیسا کہ دہلی کی بس خاتون مسافروں کے لیے۔ ایک بینک کے پریسیڈنٹ سڈنی ٹیلر نے اپنے بینک کی ایک خاتون کا رکن مائیکل ونسن کو جسمانی اذیت پہنچائی اور اس کی عصمت دری بھی کی۔ ایسا چارسا ل تک ہوتارہا۔ یہاں تک کہ مذکورہ خاتون عورتوں کی ایک تنظیم کی مددسے عدالت گئی۔ ڈسڑکٹ کورٹ نے اس کی اپیل ردکر دی۔ زیادہ تر اس بنا پر کہ وہ چار سال تک خاموش رہی اور اس نے بینک کے شکایتی نظام سے مدد کی درخواست نہیںکی۔ عدالت نے کہا کہ دونوں کے درمیان جو بھی تعلّق تھا وہ رضاکارانہ تھا۔ ہائی کورٹ سے یہ مسئلہ ختم نہ ہوسکا اور آخر کار وہ سپریم کورٹ میں  پہنچا۔ امریکا کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ کسی کو جنسی طور پر ہر اساں کرناعورت کے روزگار کے حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔ اس سے ایک مخاصمانہ ماحول پیداہوتاہے۔جس میں  وہ اپنی ملازمت چھوڑنے پر مجبورہوسکتی ہے یا اپنا کا م پوری طرح نہیں کر سکتی۔ حتیٰ کہ اگراس قسم کا نا محمود جنسی مطالبہ براہِ راست طور پر روزگار کے مفادات سے وابستہ نہ ہو تب بھی عملاً اس کا مطلب ہے— میں  جیسا کہتاہوں ویسے کرو ورنہ تمہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ طریقہ مقام عمل پر جنسی امتیاز کی ممانعت کے بارے میں  امریکی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

کام کرنے والی عورتوں کو دفتروں میں  پریشان کیا جاناایک وبا کی شکل اختیار کر گیا ہے، خواتین سے متعلق ایک تنظیم نے بتایا۔ پچھلے پانچ برسوں میں  دفاتر میں  کام کرنے والی خواتین کی تقریباً نصف تعد اد نے اس قسم کی بد سلوکی کا تجربہ کیا۔ یہ واقعات صرف کار خانوں میں  اور مزدوروں کے ساتھ کام کرنے والی خواتین کے ساتھ پیش نہیں آتے۔ بلکہ اونچی بلڈنگیں اور شاندار دفاتر بھی اپنی خاتون کارکنوں کے لیے اچھے نہیں۔ ان میں  وہ عورتیں بھی شامل ہیں جو سکریڑی ہیں یا قانون داں ہیں یا اورکسی اونچے عہدہ پر ہیں۔ مرکزی حکومت میں  کام کرنے والی خواتین کی تقریباً 42 فی صد تعداد کو اپنے دفتروں میں  پریشان کیاگیا۔ یہ بات ایک حالیہ سروے کے ذریعہ معلوم ہوئی ہے۔ ریاستی حکومتوںکے مختلف شعبوں میں  کام کرنے والی 60 فی صد خواتین نے بتایا کہ جنسی بد سلوکی ان کے لیے ایک عام تجربہ بن چکاہے۔ 1981 اور 1985 کے درمیان اس قسم کی شکایتوں کی تعداد 70 فی صدتک بڑھ گئی ہے۔

‘‘They sound like experiences in a Delhi bus. Lewd gestures, offensive language, attacks on your person— the American workplace is for its women workers what public transport is for women in Delhi.

A bank teller, Michelle Vinson, suffered physical abuse and alleged rape by the bank’s vice-president Sidney Taylor for four years until finally, assisted by a women’s organisation, she went to court. The district court rejected her appeal, largely because she had remained silent for four years and had not used the bank’s complaint procedure to ask for help. It held that any relationship between the two was voluntary. The higher court of appeal rejected every finding of the district court and the matter finally found its way to the Supreme Court. The Supreme Court of the United States ruled that sexual harassment is a direct infringement of a woman’s right to employment. It creates a hostile and abusive work environment in which she may be forced to leave her job or in which she cannot function to her full potential, even if such unwelcome sexual demands are not directly linked to concrete employment benefits. In other words, the court ruled that it violates U.S. civil laws against sex discrimination in the workplace. Sexual harassment of working women is endemic, said the friends-of-the court brief filed by numerous women’s organisations for this case. In the last five years, about half the American female working force has suffered this type of harassment at work.

This does not just happen to women in factories or at blue collar workplaces. Within the fibreglass, multi-storied sky scrapers, the American office is not as pleasant for its women secretaries, lawyers, and other professionals as its air-conditioned, carpeted and muted decor makes it appear. About 42 percent of federally employed women were harassed in their jobs, stated a recent two-year survey done by the Official Merits Protection Board. Another 60 percent of the members of the American Federation of State, Country and Municipal Employees said that sexual harassment was a frequent problem for them. And between 1981 and 1985, the number of such complaints to the Equal Employment Opportunities Commission, established to monitor employment practices, shot up by 70 percent.

The complaints vary from the physical violence of rape and assault to the insidious harassment of unwanted pushing and touching, persistent sexual demands, offensive sexual comments, constant conversations containing sexual innuendoes and coarse language.

The offender usually makes his moves swiftly and silently, when there are not witnesses around. He is usually confident that fear, embarrassment, and often the hopelessness of the situation will keep the victim from making public complaints. And when complaints are made, he can use every defence that this grey area of social attitudes and innuendoes provides. When it is so hard for a rape victim to prove she has been violated, one can imagine how much harder it is for a victim of the less dramatic forms of violence to prove her case. In such instances, if the offenders are their supervisors, women who resist or complain find themselves burdened with an increased workload, scathing work evaluation, unwarranted reprimands and sheer hostility. So many quit their jobs rather than go to court. When neither alternative seems feasible, they give in, quietly.’’

 خاتون کا رکنوں کی شکایتیں مختلف قسم کی ہیں۔ یہ عصمت دری سے لے کر دھکادینا، چھونا، مسلسل جنسی مطالبات ، جارحانہ قسم کے جنسی تبصرے اور گندی زبان استعمال کرنا ہے۔ مرد اپنی اس قسم کی حرکتیں اکثر ایسے مواقع پر کرتے ہیں جب کہ آس پاس کوئی دیکھنے والاموجود نہ ہو۔ اس کو اطمینان ہوتا ہے کہ خوف اور نا امیدی عورت کواس سے روکے رہے گی کہ وہ دوسروں سے اس کی شکایت کرے۔ حتی کہ اگرعورت شکایت کرے تب بھی مرد کو اطمینان رہتاہے کہ وہ حالات کے اعتبار سے اپنا کامیاب دفاع کر سکے گا۔ جہاں عصمت دری جیسے سنگین مسئلہ کو ثابت کرنا مشکل ہو وہاں اس سے کمتر درجہ کی بد سلوکی کو کیسے ثابت کیا جاسکتاہے۔

اس طرح کے معاملات میں  اگر ملزم وہ شخص ہوجو خاتون کارکن کا افسر ہے تو شکایت کرنے کی سزاخاتون کا رکن کو یہ ملتی ہے کہ اس کے اوپر کام کا بوجھ بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس کے کام کو بے قیمت کیا جاتاہے اور طرح طرح سے پریشان کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بہت سی عورتیں عدالت میں  جانے کے بجائے ملازمت چھوڑدیتی ہیں۔ (انڈین اکسپریس 3اگست 1986)

امریکا کے دفاتر میں  خاتون کا رکنوں کا یہ حال اس کے باوجود ہے کہ وہاں دونوں جنسوں کو مساوی درجہ دینے کے بارے میں  باقاعدہ قوانین بنے ہوئے ہیں۔ خاتون کا رکنوں کو نہ ستانے کے بارے میں بھی قوانین موجود ہیں۔ اس کے باوجود امریکی دفاتر میں  عورت مظلوم بنی ہوئی ہے۔ اس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ شوہر اور ماں اور باپ کو پہلے ہی چھوڑچکی ہے۔ اب اگر وہ دفتر کو بھی چھوڑدے تو کہاںجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی عورت کی یہ مجبوری نہ ہوتو مغربی دفاتر عورتوں سے خالی نظرآنے لگیں۔

مغربی دفاتر میں  خاتون کارکنوں کا یہ حال اتفاقی نہیں اور نہ کسی بھی قانون کے ذریعہ اس کو ختم کیا جاسکتاہے۔یہ مسئلہ اس سے زیادہ بڑاہے کہ کوئی قانون اس کی روک تھام کرسکے۔چڑیااور بیل کو مساوی قرار دینے کے لیے آپ دونوں کو یکساں طور پر مقابلے کے میدان میں  اتاردیں اوراس کے بعد چڑیا کچل اٹھے تو کیا اس’’ ظلم‘‘ کو قانون کے ذریعہ روکا جا سکتاہے۔ کیا ایسا کوئی قانون بناناممکن ہے کہ چڑیا اور بیل دونوں ٹکرائیں اس کے باوجود چڑیاکو کوئی گزند نہ پہنچے۔

حقیقت یہ ہے کہ مرد کو قدرت نے صنف قوی بنایا ہے اور عورت کو صنف نازک یہ فرق دونوں کے اس کام کی نوعیت کے اعتبار سے ہے جو قدرت دونوں سے الگ الگ لینا چاہتی ہے۔ دونوں کے تقسیم عمل میں  تبدیلی فطرت کی خلاف ورزی ہے اور فطرت کی خلاف ورزی سے جو مسائل پیداہوں، ان کا حل دوبارہ فطرت سے مطابقت ہے۔ فطرت کی خلاف ورزی کو باقی رکھتے ہوئے ان کو کسی بھی طرح حل نہیں کیا جاسکتا۔

پھول کو اگر آپ گلدستہ میں  لگائیں تو وہ ایک اونچی سطح پر اپنے لیے باعزت جگہ پالے گالیکن اگر آپ پھول کو میز کے پایے کے نیچے رکھنے لگیں تو وہ کچل کر مٹی میں مل جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ مرد اور عورت کا ہے۔ عورت کو اگر گھر کے اندر رکھا جائے تو وہ بہن اور بیوی اور ماں کی حیثیت سے نہایت باعزت جگہ کی مالک بنے گی۔ لیکن اگر اس کو گھر سے نکال دیاجائے اور باہر کی دنیامیں  اس کو مردوں کے ’’دوش بدوش ‘‘کھڑاکردیا جائے تو اس کا وہی انجام ہوگا جو مغربی دنیا میں اس کے نتیجے میں  عورت کا ہوچکا ہے۔ عورت کا صنف نازک ہونا گھر کے اندر اس کو گھر کی ملکہ بناتاہے ، عورت کا صنف نازک ہونا گھر کے باہر کی زندگی میں  اس کو مظلوم اور حقیر بنادیتا ہے۔

Maulana Wahiduddin Khan
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion