عورت کے بارے میں تو ہمات
عورتوں کا مرتبہ مردوں سے کم سمجھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ معاشرہ میں حقیر قرار دیدی گئی۔اس کو خاندانی جائیداد میں حصہ کا مستحق نہیں سمجھا گیا۔ قانون کی نظر میں وہ اس قابل نہ رہی کہ اس کووہ حق دیاجائے جو مردوں کو حاصل ہے۔ اس کو عملاً غلام کا درجہ دے دیاگیا۔ حتىٰ کہ بعض انتہا پسند قبیلوں میں اس طرح کی مثالیں ملنے لگیں کہ ایک شخص کے یہاں لڑکی پیدا ہوئی تواس نے بچپن ہی میں اس کو مار کر زمین میں گاڑدیا۔
انسان کا عام مزاج یہ ہے کہ اگروہ کسی کو بڑا سمجھ لے تو اس کے بارے میں وہ فضیلت اورتقد س کی جھوٹی کہانیاں گھڑنا شروع کردیتا ہے۔ اسی طرح اگر کو ئی چیز اس کے ذہن میں نیچے درجہ کی قرارپاجائے تو اس کے بارے میں وہ اپنے ذہن کو ایسے انسانوں کی صورت میں ظاہر کرتا ہے جس میں وہ چیز واقعاتی طور پر ذلیل اور حقیر دکھائی دینے لگے۔
یہی معاملہ عورت کے ساتھ پیش آیا۔ قدیم زمانے میں اکثر قوموں میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور ہوئیں۔ یہ کہانیاں سراسر جھوٹی تھیں مگر قدیم ماحول میں ان کو اتنا زیادہ رواج حاصل ہوا کہ لوگ ان کو حقیقت سمجھ کر ان پر یقین کرنے لگے۔ عور ت کے بارے میں تحقیری کہانیاں ہر ملک اور ہر قوم میں پھیلیں۔ ان میں سے دو مشہورکہانیوں کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔
ان جھوٹے افسانوں میں سے ایک وہ ہے جو قدیم یونانیوں اور ان کے اثر سے یورپ کی دوسری قوموں میں بہت مشہور ہوا۔ یہ افسانہ’’ پہلی عورت ‘‘ کے بارے میں تھا۔ یعنی وہ ابتدائی عورت جو پہلی بار زمین پر آئی۔ اس پہلی عورت کے بارے میں طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے جو زبان اور لٹریچرمیں اس طرح پھیلے کہ لو گ ان کو حقیقت سمجھنے لگے۔
اس پہلی عورت کا نام پانڈورا (Pandora) تھا۔ پانڈورا ایک یونانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں۔ سب کچھ دینے والا ، مگر استعمال کے اعتبار سے یہ لفظ ایک برا مفہوم رکھتا تھا۔ یعنی ہر قسم کی خرابیاں دینے والا، مفروضہ کہانی کے مطابق ایک دیوتا پرومی تھیس (Prometheus) نے آسمان سے آگ چرائی اور اس کو زمین میں بسنے والے انسانوں تک پہونچا دیا۔ دیوتاؤں کے بادشاہ زیوس (Zeus)کو یہ بات ناپسند ہوئی۔ اس نے زمینی مخلوقات سے اس نعمت کو کالعد م کرنے کے لیے یہ تدبیر کی کہ اس نے ایک عورت بنائی جس کا نام پانڈورا تھا۔ اس کے بعد اس نے اس پہلی عورت کو زمین پر بھیج دیا۔زمین پر اس وقت ایم پی تھیس (Epimetheus) آباد تھا۔ اس نے پانڈورا کی ظاہری کشش سے متاثر ہو کر اس کو اپنی بیوی بنا لیا اور وہ اس کے ساتھ رہنے لگی۔ اس پہلی عورت کے ساتھ ایک باکس تھا جس کو فرضی طور پر پانڈورا کا باکس (pandora's box)کہا جاتاہے۔ پانڈورانے زمین پر قیام کرنے کے بعد ایک روز اپنا یہ باکس کھول دیا۔ اس باکس کے اند ر ہر قسم کی برائیاں(Evils) بھری ہوئی تھیں۔ باکس کھلتے ہی تمام برائیاں زمین پر پھیل گئیں۔ اس کے بعد پھر یہ زمین کبھی برائیوں سے خالی نہ ہوسکی۔)ملاحظہ ہو، انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، اور کولنس انسائیکلوپیڈیا، تحت لفظ”Pandora” (۔
اسی قسم کا افسانہ کسی قدر مختلف شکل میں یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان مشہور ہوا۔ یہ افسانہ خاتونِ ا ول حضرت حو ّاکے بارے میں تھا۔ اس افسانہ کی اصل خود بائبل کے اندر شامل کر دی گئی۔ چنانچہ موجودہ بائبل میں یہ الفاظ ملتے ہیں:
’’اور خداوند خدانے زمین کی مٹی سے انسان (آدم)کو بنایا۔ اور خداوند خدانے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ توباغ کے ہر درخت کا پھل بے روک ٹوک کھا سکتا ہے۔ لیکن نیک وبد کی پہچان کے درخت کے پھل کو کبھی نہ کھانا۔ کیوں کہ جس روز تونے اس میں سے کھا یا تو مرا۔ اور خداوند خدانے آدم پر گہری نیندبھیجی اور وہ سوگیا۔ اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک کو نکال لیا۔ اور خداوند خدا اس پسلی سے ایک عورت بناکر اسے آدم کے پاس لایا۔ اور سانپ کل دشتی جانوروں سے چالاک تھا اوراس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدانے کہا ہے کہ اس درخت کا پھل تم نہ کھانا۔ سانپ نے عورت سے کہا کہ درخت کا پھل کھانے سے تم ہرگز نہ مروگے۔ عورت نے اس کے بعد اس کے پھل میں سے لیا اور کھایا اور اپنے شوہر (آدم) کو بھی دیا اور اس نے کھایا۔ تب دونو ں کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں۔ تب خداوند نے آدم کو پکار ا اور اس سے کہا کہ تو کہاں ہے۔ آدم نے کہا کہ جس عورت کو تونے میرے ساتھ کیا ہے اس نے مجھے اس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔ تب خداوند خدا نے عورت سے کہا کہ تو نے یہ کیا کیا۔ عورت نے کہا کہ سانپ نے مجھ کو بہکایا تومیں نے کھایا۔اور آدم سے اس نے کہا چوں کہ تونے اپنی بیوی کی بات مانی اور اس درخت کا پھل کھایا۔جس کی بابت میں نے تجھے حکم دیا تھا کہ اسے نہ کھانا۔ اس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھا ئے گا اور وہ تیرے لیے کانٹے اور اونٹ کٹارے اُگائے گی۔ (پیدائش،باب3-2)
یہ قصہ بتاتا ہے کہ انسان اوّل (آدم) آرام کے ساتھ جنت میں تھے۔ وہاں سے ان کے نکلنے کا سبب جو چیزبنی وہ خاتون اوّل (حوّا) تھیں۔ حوّاکو سانپ (شیطان ) نے بہکایا اور حوّا نے آدم کو بہکایا۔ اس طر ح انسان اس ابتدائی گناہ (original sin) کا مرتکب ہو اجس میں ساری نسلِ انسانی شریک ہوگئی۔
یہ افسانہ یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ مگر وہ اتنا مشہور ہوا کہ نہ صرف یہودیوں اور عیسائیوں میں بلکہ دنیا کی اکثر قوموں میں کسی نہ کسی طرح پھیل گیا۔ وہ زبان اور لٹریچر میں شامل ہوکر ہرطبقے کے لوگوں تک پہنچ گیا۔
قرآن نے جس طرح بائبل کی دو سری بہت سی تحریفات کی تصحیح کی ہے، اسی طرح اس نے بائبل کے اس تحریفی بیان کی بھی تردید کی ہے۔ اس سلسلے میں حسبِ ذیل آیات کا مطالعہ کیجیے:
فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَنْ تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ۔ وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ۔ فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَرَقِ الْجَنَّةِ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِينٌ۔قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔(7:20-23)يعني پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا تاکہ وہ کھول دے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمھارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس ليے روکا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتہ نہ بن جاؤ یا تم کو ہمیشہ کی زندگی حاصل ہوجائے۔اور اس نے قسم کھاکر کہا کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ پس مائل کرلیا ان کو فریب سے۔ پھر جب دونوں نے درخت کا پھل چکھا تو ان کی شرم گاہیں ان پر کھل گئیں۔ اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تمھیںاس درخت سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ انھوں نے کہا، اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔
ان آیات میں دیکھیے ، ہر موقع پر تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ ہر بات میں آدم وحوا دونوں کویکساں طور پر برابر کے درجے میں شر یک کیا گیا ہے۔ اس سے بالکل واضح ہے کہ شیطان نے ایک ساتھ دونوں کو بہکایا۔ دونوں بیک وقت شیطان کی باتوں سے متاثر ہوئے اور دونوں نے ایک ساتھ ممنوعہ درخت کا پھل کھایا، دونوں یکساں طور پر اس کے انجام سے دوچار ہوئے۔ پھرا ﷲنے دونوں کو برابر کے درجے میں ذمہ دار ٹھہرایا اور دونوں سے یکساں حیثیت میں خطاب کیا۔
