آفاقی نقطۂ نظر
موت ہر ایک کے اوپر اچانک آتی ہے۔ اس بنا پر انسان مجبور ہے کہ موت کے معاملے میں غیر یقینی حالت میں جیے۔ یہ غیر یقینی حالت صرف موت کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ زندگی کے ہر معاملے کے بارے میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ فطرت کے اس قانون کو وہ قبول کرے، ورنہ وہ اس معاملے میں اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا۔
انسان کا ہر عمل اتنا زیادہ وسیع الاطراف ہوتا ہے کہ اس کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ اس کو ساری کائنات کی موافقت حاصل ہو۔ ساری کائنات کی کامل موافقت کے بغیر کوئی بھی انسان اپنے کسی منصوبہ کو پورا نہیں کرسکتا۔اس لیے ضروری ہے کہ آدمی ہر آن عالمی نظام فطرت کے تحت سوچے۔ وہ کبھی یہ نہ سمجھے کہ وہ اپنے محدود وسائل کے ذریعے اپنے کسی منصوبے کو بطور خود مکمل کرسکتا ہے۔
آدمی جب بھی کوئی منصوبہ بناتا ہے، خواہ وہ بظاہر چھوٹا ہو یا بڑا۔ لیکن وہ اپنے دائرے کے اعتبار سے عملا ًایک عالمی منصوبہ ہوتا ہے۔ پورے عالم کی مشارکت کے بغیر وہ اپنے کسی بھی منصوبے کو پورا نہیں کرسکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر آفاقی نقطہ نظر پیدا کرے۔
