درخت کلچر
قرآن میں ایمان کو درخت( 14:24-25) سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہےکہ درخت جس کلچر کو مادّی طوپراپنائے ہوئے ہے، اس کلچر کو ایک صاحب ِایمان شعوری طورپر اختیار کرتا ہے۔ مثلاً درخت مادی قانون کے تحت بیج (seed) سے ترقی کر کے اپنے آپ کو ایک پورا درخت بناتا ہے۔ یہ واقعہ مومن کی زندگی میں اس کے ایمانی شعور کے تحت پیش آ تا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہےکہ انسان جب سانس لیتا ہےتو وہ سانس کے اخراج کے وقت اپنے اندرسے ایک گیس نکا لتا ہے، جس کو کاربن ڈائی آکسائڈکہا جاتا ہے۔ یہ گیس انسان کے لیے ایک مضر گیس کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتا ہے اور آکسیجن چھوڑتا ہے۔ درخت اس چیز کو اپنی غذا بنا لیتا ہے، جس کو انسان نے ایک مضر گیس کے طورپر اپنے اندر سے خارج کیا تھا۔
یہ واقعہ جو درخت کے اندر ایک جبری قانون کے تحت پیش آتا ہے، وہی انسان کو اپنے آزاد اراد ے کے تحت کر نا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہےکہ وہ منفی تجربات کو اپنے لیے مثبت غذا بنائے۔ وہ غیرموافق خوراک کو اپنے لیے موافق خوراک میں تبدیل کرے ۔
اس کی ایک مثال قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں اہل ایمان کی ایک صفت یہ ہے:وَاِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ (42:37)۔ یعنی، مومن کو جب غصہ آتا ہےتو وہ غصہ دلانے والے کو معا ف کردیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن اعلیٰ ذہن کا ما لک ہو تا ہے، اگر کسی شخص کی طرف سے اس کو اشتعال انگیز تجر بہ پیش آئے تو وہ اپنے ذہنی ارتقا کی بنا پر اس قابل ہو تا ہے کہ اس ناخوشگوار تجربے کو مثبت انداز میں لے ، وہ غصہ کو معافی میں کنورٹ کرے، وہ غصہ کو اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کرے۔ مومن شکایت کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو تاہے۔ اس کا سبب یہ ہےکہ مومن اعلیٰ حقیقتوں میں جینے کی بنا پر ا س صلاحیت کا مالک ہو جاتا ہے کہ وہ شکایت کے ماحول میں بھی بےشکایت بن کر رہ سکے،لوگوں کے بارے میں اس کی خیر خواہی کبھی ختم نہ ہو ۔
