تخلیقی منصوبہ
ایک قاری الرسالہ نے یہ سوال لکھا ہے:کریشن پلان آف گاڈ جاننا کیوں ضروری ہے، کیا اس کو جاننے سے انسان کی زندگی کا سفر آسان ہوجائے گا، یا انسان کے اشکالات دور ہوجائیں گے، آخر اس کی اتنی اہمیت الرسالہ مشن میں کیوں ہے؟ (حافظ سید اقبال احمدعمری، عمرا ٓباد، تامل ناڈو)
قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال ایک بنیادی سوال ہے۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنا ہر انسان کی ذمے داری ہے۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنے سے آدمی اپنے لیے راہ راست کو پالیتا ہے، اور اگر وہ اس راہ راست کو نہ پائے ، تو وہ زندگی کی راہوں میں بھٹکتا رہے گا، وہ اپنے لیے صراط مستقیم (right path) کو دریافت نہ کرسکے گا۔
یہ حقیقت قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے:الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ (67:2)۔ یعنی جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔
قرآن کی اس آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق سے خالق کا مقصد کیا ہے۔ وہ ہے احسن العمل افراد کا بذریعہ امتحان انتخاب کرنا۔ افراد کو امتحان کے حالات میں ڈال کر یہ دیکھنا کہ لوگوں میں وہ فرد کون سا ہے، جس نے امتحان میں احسن العمل کردار کا ثبوت دیا ۔مثلاً وہ کون ہے جو اصولوں پر قائم رہ کر اپنے ہمسایوں کے لیے قابلِ پیشین گوئی کردار کا حامل بن گیا ہے۔ یعنی اس کےہمسائیگی میں رہنے والے یہ یقین کرسکتے ہیں کہ اس سے کوئی نزاع پیدا ہوجائے، تو وہ حق کے راستے سے کبھی نہیں ہٹے گا۔ وہ اس اصول کا حامل بنا رہے گا، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى(5:8)۔یعنی،کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔
یہی وہ منتخب لوگ ہیں، جن کو آخرت کی دنیا میں جنت میں داخلہ ملے گا۔
